سعودی عرب میں انگریزی زبان کی تعلیم وتدریس کے مسائل

خالد المعینا
خالد المعینا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

سعودی دارالحکومت الریاض کے علاقے میں محکمہ تعلیم نے سرکاری اسکولوں میں انگریزی زبان کی تدریس میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔

میرے نزدیک یہ ایک اچھی علامت ہے۔مسئلے کا اعتراف اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ اب حل ممکن ہیں۔''جہاں چاہ وہاں راہ'' کے مصداق اگر مسئلے کے حل کے نفاذ کی کوشش کی جائے گی تو اس کی کوئی راہ بھی نکل آئے گی۔ محکمہ تعلیم نے انگریزی زبان کی تدریس میں جن منفی پہلوؤں کی نشان دہی کی ہے،ان میں لفظوں کی کم زور یا غلط ادائی ،انگریزی کی تدریس میں عربی کا استعمال، (طلبہ وطالبات کو) گھر کا کام نہ دیا جانا، لکھائی میں بے احتیاطی اور انگریزی لکھنے کی مہارت کا عملی استعمال نہ ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

انگریزی زبان کی تدریس میں معاون ان کتب سے بھی استفادہ نہیں کیا جاتا جو ان لوگوں کے لیے لکھی گئی ہیں جن کی مادری زبان انگریزی نہیں ہے۔اس کے علاوہ تلفظ کی ادائی ،مکالمے یا باہمی گفتگو پر کوئی زور نہیں دیا جاتا ہے۔دراصل ہمارے اسکولوں میں انگریزی بنیادی اور سادہ انداز میں پڑھائی جاتی ہے۔اس پر طرہ یہ کہ سعودی عرب کے انگریزی زبان پڑھانے والے اساتذہ بھی بہتری کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔

میں ان تمام حاصلات سے کوئی زیادہ حیران نہیں ہوا ہوں کیونکہ اوّل، میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ اساتذہ کو یہ سکھایا جانا چاہیے کہ انھوں نے کیسے پڑھانا ہے۔انھیں تربیت اساتذہ کے اداروں میں تربیتی پروگراموں میں شرکت کرنا چاہیے اور وہاں جو لوگ انھیں سکھانے یا ان کی تربیت پر مامور ہوں،وہ انگریزی زبان کی تدریس کے جدید طریقوں سے بخوبی آگاہ ہوں۔ہمارے اسکولوں میں انگریزی پڑھانے والوں کو ابلاغ کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونا چاہیے۔اس کے لیے ان کی انگریزی زبان بہت مضبوط ہونی چاہیے مگر بدقسمتی سے بہت سے اساتذہ کرام اس صلاحیت کے حامل نہیں ہیں۔

ایک مرتبہ میری اپنے ایک جاننے والے سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان صاحب سے پوچھا کہ وہ کیا کررہے ہیں تو انھوں نے بتایا کہ وہ الاولیٰ میں ثانوی تعلیم کے ایک اسکول میں انگریزی زبان کے استاد ہیں۔''لیکن آپ تو کیمسٹری میں گریجوایٹ ہیں؟''میں نے سوال داغا۔

وہ مسکرایا اور اس نے بتایا کہ صرف انگریزی کی تدریس کے لیے ہی اسامی خالی تھی اور نظامت تعلیمات نے اس کو وہاں انگریزی پڑھانے کے لیے بھیج دیا۔اس کی انگریزی خوف ناک حد تک کمزور تھی اور مجھے اس کے شاگردوں پر تر س آرہا تھا۔ہمارے مدارس میں انگریزی مؤثر طریقے سے پڑھائی نہیں جارہی ہے اور ہم اس صورت حال پر مطمئن نہیں ہوسکتے ہیں اور ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت بھی نہیں بچا ہے۔

ایک اور موقع پر مجھے جدہ کے ہوائی اڈے پر انگریزی زبان پڑھانے والے سعودی اساتذہ کے ایک گروپ سے ملاقات کا موقع ملا۔میں نے ان سے انگریزی زبان بولنا شروع کی تو وہ مجھ سے گلابی انگریزی میں گفتگو کرنے لگ گئے جس کا کوئی معنی و مفہوم نہیں تھا۔پھر میں نےان سے پوچھا کہ کیا وہ انگریزی زبان میں شائع ہونے والے کسی اخًبار کا بھی مطالعہ کرتے ہیں۔ان میں سے کسی نے بھی کًبھی کوئی انگریزی اخبار خرید کیا تھا اور نہ اس کا مطالعہ کیا تھا۔یہ بہت ہی پریشان کن معاملہ تھا۔

میں نے ایک مرتبہ پھر اپنے تعلیمی نظام کے نتائج کے بارے میں سوچا۔اب ایسے اساتذہ کے زیر تعلیم رہنے والے طلبہ بیرون ملک کالج کی تعلیم کیسے حاصل کر پائیں گے۔وہ تو ان کے لیے ایک بڑا بوجھ بن جائے گی۔یہی وہ سب سے بڑی وجہ ہے کہ ہمارے طلبہ غیرملکی جامعات میں تعلیمی اعزازات کے حصول میں ناکام رہتے ہیں۔

انگریزی زبان کی مناسب طریقے سے تدریس میں ناکامی سے ہماری اپنی جامعات میں بھی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ سعودی عرب کے تمام اسکینڈری اسکولوں میں انگریزی پڑھائی جارہی ہے۔بعض طلبہ اسکول کے آخری امتحان میں انگریزی میں امتیازی نمبر لینے میں تو کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن جب یہی طلبہ جامعات میں داخلہ لیتے ہیں تو وہاں انھیں پتا چلتا ہے کہ وہ تو اس زبان میں درکار صلاحیت کے حامل ہی نہیں ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سعودی جامعات انگریزی زبان سکھانے کے اداروں کو چلانے اور طلبہ کی انگریزی دانی کی مہارت بہتر بنانے کے لیے بھاری رقوم خرچ کرتی ہیں حالانکہ ایسے طلبہ نے ہمارے اسیکنڈری اسکولوں میں چار سال تک پہلے بھی انگریزی پڑھی ہوتی ہے۔

یہ صرف ہمارے اسیکنڈری اسکولوں کے اساتذہ ہی کا مسئلہ نہیں ہے کہ وہ انگریزی زبان کی تدریس میں مہارت نہیں رکھتے بلکہ انھیں پڑھانے میں بھی کوئی زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔اس سے نہ صرف ہمارے طلبہ کا تعلیم میں حرج ہوتا ہے بلکہ وہ بعد میں جب عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو ان کا کام بھی متاثر ہوگا۔انھیں ایک اچھی تعلیم سے محروم کردیا گیا ہے۔وہ پڑھ لکھ کر بھی ناخواندہ ہوتے ہیں۔وہ انگریزی میں کتب اور دوسرے مواد تک رسائی نہیں رکھتے۔چنانچہ جب وہ بیرون ملک جاتے ہیں تو وہاں ان میں سے بہت سوں کو خفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بہت سے لوگوں کی یہ دلیل کہ انگریزی زبان کی تدریس سے ہماری اپنی زبان عربی پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،غلط ہے۔مطالعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غیرملکی زبان کے جاننے سے اپنی مقامی یا مادری زبان کی ترقی میں مدد ملتی ہے۔

حاصل کلام یہ کہ ہمیں ان نتائج کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے؟پہلی ترجیح تو یہ ہونی چاہیے کہ ان اساتذہ کا انگریزی زبان کی تدریس کے لیے تقرر کیا جائے جو انگریزی میں ڈگری کے حامل ہیں۔ان کی شناخت کی جائے،تربیت دی جائے اور انھیں برقرار رکھا جائے۔ تدریسی عمل میں ان کے رجحانات اور دلچسپیوں کا بھی تعین کیا جائے۔

دوسری بات یہ کہ وزارت تعلیم کو اس امر سے آگاہ ہونا چاہیے کہ کوئی بھی ذہن کو ''سعودیا'' نہیں سکتا ہے۔انگریزی زبان کی تدریس کے لیے اصل بولی بولنے والوں کو سعودی عرب لایا جائے جیسا کہ 1960ء اور 1970ء کے عشروں میں کیا گیا تھا۔اس سے ثقافت کی ترویج میں بھی مدد ملی تھی۔اس سے ہم اپنے طلبہ کے تناظر کو وسیع تر کرسکیں گے اور ان کے ذہنی نشوونما کے عمل میں بھی تبدیلی رونما ہوگی۔

تیسرا یہ کہ زبان کی تدریس پر مامور اساتذہ کو جدید مہارتوں اور طریق ہائے تدریس سے روشناس کرایا جائے۔اس وقت ہمارے اساتذہ انگریزی بطور غیرملکی زبان (ای ایف ایل) اور انگریزی بطور ثانوی زبان (ای ایس ایل) کی تدریس کے جدید طریقوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ہیں۔

ہمارے بہت سے کلاس رومز میں انگریزی زبان سے متعلق گفتگو کے لیے عربی استعمال کی جاتی ہے اور ہمارے طلبہ شاذونادر ہی اس زبان کو سنتے ہیں اور یوں انھیں اس کو عملی طور پر استعمال کرنے کا بھی کم ہی موقع میسر آتا ہے۔زبان کی لیبارٹریوں کا کوئی موثر استعمال نہیں کیا جارہا ہے۔ان میں طلبہ نمونے کے اسباق کو سن سکتے ہیں اور اپنی زبان دانی کی مہارت کو جانچنے کے لیے اپنی آواز ریکارڈ کرکے اس کو دوبارہ سن سکتے ہیں۔انٹرنیٹ پر ای ایف ایل اور ای ایس ایل سے متعلق بہت سا مواد موجود ہے لیکن اساتذہ کو اس کے استعمال کی تربیت دی جانی چاہیے۔

ہمارے اسکولوں مِیں انگریزی موثر انداز میں پڑھائی نہیں جارہی ہے۔ہم اس صورت حال پر مطمئن نہیں رہ سکتے اور ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت بھی نہیں بچا ہے۔چین نے انگریزی زبان کی تدریس میں معاونت کے لیے ہزاروں اساتذہ کو درآمد کیا ہے۔وہ 2018ء تک چینی نوجوانوں کو بھی عالمی سطح پر انگریزی بولنے کے لحاظ ان کے ہم عمروں کے ہم پلہ لانا چاہتے ہیں۔ہمیں بھی ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم ہمیں اس معاملے میں کسی قسم کی سُبکی محسوس کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہم نے مسائل کا ادراک کر لیا ہے۔ہمیں اب ان کو نشان زد کرکے ماضی کی غلطیوں کے ازالے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ اب کچھ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

------------------------------------
(سعودی عرب کے معروف صحافی، تجزیہ کار اور کاروباری شخصیت خالد المعینا کی یہ فکر انگیز تحریر انگریزی اخبار سعودی گزٹ میں شائع ہوئی تھی جسے العربیہ اردو کے لیے امتیاز احمد وریاہ نے اردو کے قالب میں ڈھالا۔ خالد المعینا سے ٹویٹر پر @KhaledAlmaeena پر رابطہ کیا جاسکتا ہے)

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں