.

سعودی عرب میں مزدورغلامی اور قانون کا اطلاق

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہم نے سعودی عرب میں اس وقت تک انسانی غلامی سے متعلق غیر ملکی الزامات کو درخور اعتناء نہیں سمجھا جب تک ہم نے مزدوروں اور گھریلو ملازماؤں سے ان کے حقوق دیے بغیر کام لینے سے متعلق زبان زد عام ہونے والی کہانیوں کو نہیں سنا تھا۔ دو سال قبل ایک بھارتی چرواہے کی خوفناک کہانی سامنے آئی تھی۔ وہ سعودی عرب کے شمال میں واقع ایک قصبے کے پولیس اسٹیشن میں پہنچ کر فریاد کناں ہوا تھا کہ اس کو گذشتہ اٹھارہ سال سے صحرا کے وسط میں مویشیوں کے ایک باڑے میں قید رکھا گیا ہے۔

ہم نے اس غریب چرواہے کے بارے میں جو کچھ سنا،اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ باڑے کے مالک کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت مزدوری کے لیے سعودی عرب آیا تھا لیکن اس مالک نے اس کی اجرت میں سے صرف تین سو ڈالرز کے لگ بھگ اس کو رقم ادا کی تھی۔اس مالک نے اس کو اس عرصے کے دوران اپنے خاندان سے ملنے کے لیے آبائی وطن بھارت واپس نہیں جانے دیاتھا۔حتیٰ کہ اس کو اپنے خاندان سے فون پر بات تک کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

وہ بھارتی بے چارہ اس چنگل سے بھاگ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ باڑا النفوذ صحرا کے وسط میں واقع تھا اور اسے یہ خدشہ تھا کہ اگر وہ بھاگا تو صحرا ہی میں گم ہو کر رہ جائے گا اور یوں اپنی جان ہی گنوا بیٹھے گا۔اس بھارتی کی کہانی نے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

اس کے بعد ہم یہ جانتے ہیں کہ اس باڑے کے مالک نے اس بھارتی ورکر کو اس کی اجرت کی بقایا رقم ادا کر دی تھی اور اس کی کل مالیت قریباً پچاس ہزار امریکی ڈالرز بنی تھی لیکن کیا اس بھارتی کو بیس سال تک جبری غلامی اور زیرحراست رکھنے کا بھی کوئی معاوضہ ادا کیا گیا؟ اور کیا اس غلط کار مالک کو سزا دی گئی؟ ہم اس کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتے بلکہ بعد میں تو ہم نے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں پڑھا حالانکہ اس ایشو کی تو پیروی کی جانی چاہیے تھی۔

ایسے سنگین جرائم پر کارروائی

میں نے وکیل عبدالرحمان آل لہام سے پوچھا کہ کیا سعودی مملکت میں ایسے سنگین فعلوں پر کوئی قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ انسانی اسمگلنگ سے متعلق جرائم کی بیخ کنی کے لیے قانون موجود ہے اور اس کا اس کیس میں بھی اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ سعودی کابینہ نے چھے سال قبل اس قانون کی منظوری دی تھی۔ اس کے تحت غلط کار کو پندرہ سال تک قید یا دس لاکھ ریال تک جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے یا یہ دونوں سزائیں بیک وقت بھی دی جا سکتی ہیں۔

اب منطقی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس بھارتی مزدور کے کیس کو اس کے خاندان کے پاس واپس جاتے ہی بھلا دیا گیا ہے۔ اس کیس میں تو قانون پر عمل درآمد کرانے کے ذمے دار حکام اور ادارے مورد الزام ٹھہرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے فرائض کماحقہ پورے نہیں کیے۔اس لیے انھیں تو سزا دی جانا چاہیے۔

میں دو سال پرانے اس مسئلہ کو ایک خاص وجہ سے سامنے لایا ہوں اور لوگ شاید بھول گئے ہیں کہ ایسے جرائم کا ابھی تک شعور نہ ہونے اور سزاؤں کے نفاذ میں نرمی برتنے کی وجہ سے ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ انسانی اسمگلنگ کے خلاف قانونی نظام کو ان لوگوں کے خلاف بھی بروئے لایا جا سکتا ہے جو اپنے ملازموں اور گھریلو خادماؤں کو ان کی اجرتیں ادا نہیں کرتے ہیں۔

یہ قانون نابلد لوگوں یا کسی بھی طرح کا جواز پیش کرنے والوں کو تحفظ مہیا نہیں کرتا ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ ایک مرتبہ ریاض پولیس نے ایک سعودی سفارت کار کو محض اس وجہ سے بیرون ملک سے واپس آنے پر مجبور کر دیا تھا کہ اس نے اپنی گھریلو خادمہ کو اس کی اجرت ادا نہیں کی تھی۔ اس سفیر نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وہ اس ملازمہ کی اجرت ادا کرنا بھول گیا تھا۔

اس طرح کے جرائم کے رونما ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے بلکہ وہ جاری وساری ہیں کیونکہ سعودی عرب میں ایک کروڑ سے زیادہ غیر ملکی تارکین وطن روزگار کے سلسلہ میں مقیم ہیں اور یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ لوگوں کی اخلاقیات اور انسانیت پسندی کا احساس انھیں دوسروں کو غلام بنانے سے باز آنے پر مجبور کر دے گا۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اپنی گھریلو خادمہ سے ہمدردی جتانے والی بیوی کی کہانی کا اعادہ شاذ ہی ہو سکتا ہے جو اس خادمہ کی حمایت میں پولیس اسٹیشن جا پہنچی تھی کیونکہ اس کے خاوند نے دو سال سے اس کی اجرت ادا نہیں کی تھی۔

یہ قومی سوسائٹی برائے انسانی حقوق کی ذمے داری ہے کہ وہ غیر ملکی ورکروں کے استحصال کے واقعات کو رپورٹ کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرے اور ان کو تحفظ مہیا کرے اور یہ سماجی اداروں کی بھی ذمے داری ہے اور ان کی بھی جو خود معاشرے کے ذمے دار ہیں۔
--------------
صاحب طرز کالم نگار عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینیجر ہیں۔ موقر اخبار الشرق الاوسط میں شائع ان کے کالم کو امتیازاحمد وریاہ نے اردو کے قالب میں ڈھالا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.