.

مادر پدر آزاد انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا

انصار عباسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج اسلام آباد کے ایس ایس پی سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ماہ 18 مارچ کو میری طرف سے بھیجی گئی ایک درخواست پر کوہسار پولیس اسٹیشن میں قانون ناموس رسالت کے تحت ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے۔ پولیس نے معاملہ ایف آئی اے کے سپرد کر دیا ہے تا کہ پتا لگایا جا سکے کہ کس نے، کہاں سے مجھے وہ ای میل بھیجی جس میں مسلمانوں کی ایک انتہائی مقدس شخصیت کے بارے میں نازیبا بات لکھی گئی تھی۔ اللہ کرے ایف آئی اے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اُس ملعون کو قانون کی گرفت میں لانے میں کامیاب ہو جس نے میرے ایک کالم کے نتیجے میں اسلام مخالف کلمات بک دیے۔ اگر مجھ سے اختلاف تھا تو اپنی اختلافی رائے مجھے بھیج دیتے۔

ویسے تو ہم اخبار نویسوں کو ہمارے کام کی وجہ سے اگر بہت سے لوگ پسند کرتے ہیں توکئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہم سے شدید اختلاف کرتے ہیں۔ ہمیں ناپسند بھی کیا جاتا ہے۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اختلاف کی بنیاد پر ہمیں اور ہمارے عزیزوں تک کو گالیاں لکھ کر بھیجتے ہیں جسے عمومی طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مگر کچھ ایسے بدقسمت جاہل بھی ہوتے ہیں جو دینی معاملات میں اختلاف کرتے ہوئے مقدس شخصیات کو ہی نشانہ بنا ڈالتے ہیں جسے کسی بھی مسلمان کے لیے برداشت کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ویسے تو کہا جاتا ہے کہ انٹر نیٹ، ای میل، سوشل میڈیا وغیرہ کا تعلق عمومی طور پر پڑھے لکھے طبقہ سے ہے مگر میڈیا کے ان ذرائع کو استعمال کرنے والوں میں بھی جاہلوں کی کوئی کمی نہیں۔ یو ٹیوب کو کیسے اسلام مخالف پروپیگنڈہ کے لیے استعمال کیا گیا، اس کی ہمارے سامنے کئی مثالیں موجود ہیں۔ میں نے چند دن قبل سوشل میڈیامیں (@AnsarAAbbasi) twitter کو استعمال کرنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں بھی ایسے جاہل موجود ہیں جو گالم گلوچ اور بے بنیاد الزامات لگانے کا دھندہ کرتے ہیں۔ جب میں اپنا ٹویٹر اکاونٹ کھولنے لگا تو پتا چلا کہ میرے نام سے منسوب کئی ٹویٹر اکاونٹ پہلے سے ہی چل رہے ہیں۔ یہی حال فیس بک کا ہے۔ میرا کوئی فیس بک پیج نہیں مگر میرے نام سے کئی فیس بک پیچ جو چاہے پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔

انٹر نیٹ میں آپ کوئی بھی بلاگ کھول کر کسی کے خلاف جو چاہے لکھیں۔ کسی کو گالی دیں، کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائیں، کسی کی پگڑی اچھالیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کی اس مادر پدر آزادی کو کنٹرول کرنا ضروری ہے۔ جو لوگ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ کا غلط استعمال کرتے ہیں، انہیں اس وقت کوئی پوچھنے والا نہیں۔ نہ ہی ہماری حکومت نے کوئی قانون سازی کی تا کہ ایسے افراد کو پکڑ کر سزائیں دلوائی جا سکیں اور نہ ہی حکومتی ذمہ داروں نے کوئی ایسا فلٹریشن سسٹم لگایا جو اسلام مخالف، فحش اور دوسرے بیہودہ مواد کو روک سکے۔ یہاں تو ہندوستان تک نے گوگل کے ساتھ ایسے معاہدے کیے ہوے ہیں کہ وہ متنازعہ مواد کو یوٹیوب پر ہندوستان میں انٹر نیٹ استعمال کرنے والوں کے لیے روک سکتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل جب ایک اسلام مخالف ویڈیو کی وجہ سے پاکستان میں یو ٹیوب کو ہی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو ہندوستان میں وہاں کی حکومت کی درخواست پر گوگل نے اُسی ویڈیو کو ہندوستان کے لیے روک دیا۔ اب اس معاملہ کو تقریباً دوسال ہو چکے مگر ہماری حکومت نے نہ تو فلٹریشن سسٹم لگایا اور نہ ہی گوگل اور دوسری متعلقہ کمپنیوں کے ساتھ کوئی معاہدہ طے کیا۔ آج کے دور میںانٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کی اہمیت اتنی بڑھ چکی ہے کہ کوئی شعبہ ہائے زندگی اس سے اب جدا نہیں رہ سکتا۔ مگر ایک محدود تعداد کے جاہلوں، غیر ذمہ داروں، جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے والوںنے میڈیا کے ان ذرائع کو داغدار کرنا شروع کر دیا ہے۔ جنہیں قانون سازی اور دوسرے اقدامات سے روکا جانا بہت ضروری ہے۔ پاکستان کے ٹی وی چینلز نے کئی معاملات میں جہاں بہت اچھا کردار ادا کیا وہیں حکومتی اداروں کی خاموشی اور بددیانتی کی وجہ سے فحاشی و عریانیت کے فروغ کا بھی سبب بن رہے ہیں۔

اب حالات یہ ہیں کہ ہم گھر میں بیٹھ کر خبریں تک نہیں سن سکتے۔ یہاں تو کئی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے گھروں سے ٹی وی سیٹ ہی اٹھوا دیئے ہیں۔ پاکستان کا آئین تو ریاست پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ معاشرہ کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلائے اور یہاں رہنے والے مسلمانوں کو قرآن و سنت کے مطابق ماحول فراہم کرے۔ اسی طرح اسلامی اصولوں کے مطابق یہاں رہنے والی اقلیتوں،عورتوں اور بچوں کے حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ مگر ہماری بدقسمتی دیکھیں کہ پاکستان کے آئین کا ہماری حقیقی زندگیوں سے کوئی تعلق نہیں۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.