.

ماضی کی غلطیاں

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’کیا آپ کا پرویز مشرف کے ساتھ کوئی ذاتی عناد یا شکایت ہے؟ اگر ہے تو بتا دیں ہم آپ کی شکایت دور کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘ یہ الفاظ پرویز مشرف کے ایک غیر سیاسی دوست کے ہیں۔ پچھلے تین ماہ میں انہوں نے دوسری مرتبہ مجھ سے رابطہ کیا۔ پہلا رابطہ آئین سے غداری کے مقدمے میں فرد جرم عائد ہونے سے قبل کیا گیا۔ مجھے کہا گیا کہ کوئی کچھ بھی کر لے لیکن پرویز مشرف نہ تو عدالت میں پیش ہونگے نہ ان پر کوئی فرد جرم عائد ہوگی اس لئے بہتر ہے کہ آپ بھی اس معاملے میں خاموش ہو جائیں۔ میں نے جواب میں کہا کہ میری مشرف صاحب کے ساتھ کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہئے۔ رابطہ کرنے والے صاحب نےایک رعونت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ سگار کا دھواں اپنے ہونٹوں سے میری طرف پھینکا اور ہماری ملاقات ختم ہوگئی۔

دوسری ملاقات میں ان کا رویہ قدرے عاجزانہ تھا۔ میں نے انہیں بتایا کہ پرویز مشرف کے ساتھ میری پہلی ملاقات 1998ء میں نوازشریف کے ایک قریبی ساتھی نے کرائی تھی۔ مشرف کور کمانڈر منگلا تھے اور آرمی چیف بننے کیلئے باقاعدہ لابنگ کررہے تھے۔ آخری ملاقات جون 2007ء میں آرمی ہائوس راولپنڈی میں ہوئی جس میں انہوں نے لال مسجد کی صورتحال کے بارے میں کچھ دعوے کئے جنہیں میں نے غلط ثابت کیا اور انہیں بتایا کہ لال مسجد میں ایک ڈبل گیم کی جارہی ہے اور حکومت مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتی۔ اس ملاقات کےبعد طارق عزیز صاحب نے مجھے بتایا کہ صدر صاحب آپ سے ناراض ہیں۔ مشرف کے دوست نے کہا کہ ماضی کی باتیں چھوڑیئے۔ اب تو آپ کو پتہ چل گیا کہ پوری فوج مشرف کے ساتھ ہے۔ ہماری لڑائی نوازشریف کے ساتھ ہے آپ کے ساتھ نہیں بس آپ ہمارے ساتھ صلح کرلیں۔ میں نے دوبارہ مؤدبانہ انداز میں گزارش کی کہ جناب میرا موقف یہ ہے کہ قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہئے اور یوں یہ ملاقات بھی ختم ہوگئی۔

مشرف صاحب کے حامیوں کو یہ خاکسار یاد دلانا چاہتا ہے نوازشریف صاحب کے دوسرے دور حکومت میں احتساب بیورو کے سربراہ سینیٹر سیف الرحمان نے میرے ساتھ جو کچھ کیا اس کے بعد ذاتی عناد تو نوازشریف کے ساتھ ہونا چاہئے تھا لیکن اگر صحافی ذاتی عناد اور ذاتی دوستیوں کوپالنا شروع کردیں تو پھر صحافت نہیں کرسکتے۔ 12 اکتوبر 1999ء کے دن میرا جو کالم شائع ہوا اس میں آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ضیاء الدین بٹ پر تنقید کی گئی اور کہا گیا تھا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کا افغان پالیسی میں مرکزی کردار نہیں ہونا چاہئے۔ میرے اس کالم پر حکومت کے ایک میڈیا ایڈوائزر بڑے سیخ پا ہوئے۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ کل کے کالم میں آپ نے جنرل ضیاء الدین سے معافی نہ مانگی تو سینیٹر سیف الرحمان آپ سے نمٹ لے گا۔ سیف الرحمان اس زمانے میں جھوٹے مقدمات گھڑنے میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔

اسلام آباد پولیس اور انٹیلی جنس بیورو کے ذریعہ مجھے کافی مزا چکھا چکے تھے۔ مزید مزے سے بچنے کیلئے میں نے ملک چھوڑنے میں عافیت سمجھی۔ خاموشی سے ایک دوست کے ذریعے دبئی کے ٹکٹ کا بندوبست کیا۔ اس شام دبئی کی فلائٹ صرف کراچی سے تھی۔ میں کراچی سے دبئی روانہ ہونے کی تیاریوں میں تھا کہ نوازشریف حکومت کی چھٹی ہوگئی۔ نوازشریف حکومت کے خاتمے پر کہیں کوئی احتجاج نہ ہوا۔ وجہ یہ تھی کہ نوازشریف حکومت ایک طرف میڈیا کے پیچھے پڑی ہوئی تھی، دوسری طرف عدلیہ سے لڑ رہی تھی، تیسری طرف اپوزیشن جماعتوں کی قیادت پر مقدمات بنا رہی تھی اور چوتھی طرف فوج سے لڑائی شروع کردی۔ ہمیں مشرف نے یہ تاثر دیا کہ وہ کشمیر آزاد کرانا چاہتے تھے اور نوازشریف نے کشمیر کا سودا کردیا۔ ہمیں یہ بتایا گیا کہ کوئٹہ کے کور کمانڈر طارق پرویز کے ذریعہ فوج کےاندر آرمی چیف کے خلاف بغاوت کرائی جارہی تھی لہٰذا خانہ جنگی سے بچنے کیلئے نوازشریف کو حکومت سے نکالا گیا۔

دو دن تک ہمیں کہا گیا کہ اسمبلیاں برقرار ہیں اورپارلیمنٹ کے اندر سے تبدیلی آجائے گی۔ 13 اکتوبر 1999ء کے کالم میں اس خاکسار نے لکھا کہ فوج کی سیاست میں مداخلت کے منفی آثار مرتب ہونے کا خطرہ ہے لیکن یہ خطرہ خود نوازشریف حکومت نے پیدا کیا ۔ 14 اکتوبر 1999ء کے کالم میں بھی نوازشریف پر تنقید کی گئی ۔ یہ بات بڑی اہم ہے کہ فوجی بغاوت 12 اکتوبر کو ہوئی لیکن پی سی او 14 اکتوبر کی رات کو جاری ہوا جس میں مارشل لا نہیں لگایا گیا بلکہ اسمبلیاں معطل کی گئیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ شہباز شریف، اعجاز الحق یا میاں اظہر میں سے کوئی ایک نیا وزیراعظم بن جائے گا۔ 15 اکتوبر 1999ء کے کالم میں ہم اسمبلیوں کی بحالی کی صورت میں نئے وزیراعظم کا نام تلاش کررہے تھے۔ مشرف چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی بجائے چیف ایگزیکٹو بن گئے۔ انہوں نے فوری طور پر عدلیہ کو پی سی او کا حلف لینے کیلئے نہیں کہا۔ اخبارات پر پابندیاں نہیں لگائیں۔ پیپلز پارٹی نے ان کا خیرمقدم کیا کیونکہ پیپلز پارٹی کا خیال تھا کہ پارلیمنٹ کے اندر سے تبدیلی آنے والی ہے اور مڈٹرم الیکشن ہونے والا ہے۔ کچھ ہی دنوں میں یہ غلط فہمیاں دور ہونے لگیں۔

پتہ چلا کہ فوجی جرنیلوں نے شہباز شریف کو وزیراعظم بننے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ پھر نوازشریف سے استعفے اور اسمبلیوں کی تحلیل کا مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے بھی انکار کردیا۔ مشرف حکومت نے نوازشریف پر پی آئی اے کا طیارہ اغوا کرنے اور ملک سے غداری کا مقدمہ درج کر کے انہیں پھانسی پر لٹکانے کا فیصلہ کرلیا۔ میں نے 20 نومبر 1999ء کے کالم میں نوازشریف کو پھانسی دینے کے مطالبات کی مذمت کی۔ 14 دسمبر 1999ء کو میں نے اپنے کالم میں مشرف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اقتدار سنبھالنے دو ماہ ہوئے ہیں لیکن آپ کی کارکردگی تسلی بخش نہیں آپ نے کوئی وعدہ پورا نہیں کیا۔ میں نے عباس سرفراز خان نامی شخص کو وزیر امور کشمیر بنانے پر تنقید کی تھی جس کے کاروباری مفادات بھارت سے وابستہ تھے۔

اس دوران مشرف کے وزیر خارجہ عبدالستار نے سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے کی حمایت شروع کردی۔ 2 جنوری 2000ء کا کالم عبدالستار کے عزائم کے خلاف تھا۔ 12 جنوری 2000ء کے کالم میں سینیٹر پرویز رشید پر جیل میں ہونے والے وحشیانہ تشدد کیخلاف دہائی دی۔ جیسے ہی مشرف حکومت کو احساس ہوا کہ میڈیا اور عدلیہ کے تیور بدل رہے ہیں تو سپریم کورٹ کے ججوں کو نئے پی سی او پر حلف لینے کیلئے کہا گیا۔ چھ ججوں نے انکار کردیا۔ عدلیہ پر اس شب خون کی مخالفت کرنے پر مشرف بہت ناراض ہوئے۔ مجھ سمیت کچھ صحافیوں کو بلایا اوراپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ انہی دنوں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایک ملاقات میں کچھ ایسی باتیں کہیں کہ بہت مایوسی ہوئی اور 4 مئی 2000ء کے کالم میں جنرل مشرف کو میں نے اولیورکرامویل کے انجام سے ڈرایا جیسے برطانیہ میں قبر سے نکال کر پھانسی دی گئی۔ میں نے لکھا کہ بہتر ہےمشرف کرامویل نہ بنیں اور فوج کو سیاست سے نکال دیں۔

مشرف نے ہماری نہیں سنی۔ عام تاثر یہ ہے کہ مشرف کی پالیسی گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد بدلی۔ یہ بالکل غلط تاثر ہے۔ کشمیر پالیسی اور ایٹمی پروگرام پر پالیسی گیارہ ستمبر سے بہت پہلے بدل گئی تھی۔ مشرف نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد کچھ دن تک غلط بیان کے ذریعہ ہم جیسے کئی صحافیوں کو بے وقوف بنایا لیکن ہمیں جلدی سمجھ آگئی تھی اور ہم نے فوراً اپنی غلطی کا ازالہ شروع کردیااور آج تک کررہے ہیں۔ 1999ء اور 2014ء کے حالات میں بہت فرق ہے۔ آج عدلیہ، میڈیا اور اپوزیشن کسی فوجی بغاوت کی حمایت نہیں کریگی لیکن اگر نوازشریف حکومت نے پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کو آمرانہ انداز میں استعمال کیا تو حالات بگڑ سکتے ہیں۔ ماضی کی غلطیوں سے سب کو سبق سیکھنا چاہئے۔ فوج سیاست سے دور رہے۔ حکومت بدانتظامی اورکرپشن سے دور رہے۔ میڈیا سنسنی خیزی سے دور رہے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.