کیتھی گینن کی افغانستان کے لئے خدمات

کشور ناہید
کشور ناہید
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

وہ پچیس سال سے افغانستان کے سیاسی معاملات پہ لکھ رہی تھی۔ افغانستان پہ پہلی کتاب بھی اسی نے لکھی تھی جس پر بے شمار انعامات ملے تھے۔ یہ خاتون جنوبی ایشیا کے لئے اے پی کی نمائندہ خصوصی تھی اور ہے کہ صدارتی انتخابات افغانستان سے صرف ایک دن پہلے، وہ اپنی جرمن فوٹو گرافر دوست کے ہمراہ خوست میں ووٹوں کے ڈبے لے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی کہ ایک دم بہت تیز بارش نے آ لیا۔ کیتھی گینن نے اپنی دوست آئینا کو کہا ’’چلو بارش بہت تیز ہے۔ گاڑی میں بیٹھتے ہیں‘‘۔ جیسے ہی یہ دونوں گاڑی میں بیٹھیں جو ان کا پولیس گارڈ تھا۔ اس نے اپنی کلاشنکوف کی ساری گولیاں ان پر تاڑ دیں۔ آئینا فوٹو گرافر تو اسی وقت ڈھیر ہوگئی اور کیتھی کی بائیں ہاتھ کی پوری کہنی تک کی ساری ہڈیاں چورا ہوگئیں اور دائیں کندھے میں گولیوں نے گڑھا ڈال دیا۔ دنیا بھر کے صحافیوں نے اس لرزہ خیز حملے کو ہیڈ لائن میں رپورٹ کیا اور اب کیتھی جرمنی کے خصوصی اسپتال میں زیرعلاج ہے۔

میں جب بھی کیتھی کو کہتی کہ تم بلٹ پروف جیکٹ پہنا کرو، ہیلمٹ پہنا کرو تو وہ ہنس کر کہتی۔ میں 25 سال سے افغانستان جارہی ہوں مجھے وہاں کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ افغانستان میرا دوسرا گھر ہے۔ کیتھی نے ہمارے آرکیٹکٹ نعیم پاشا سے شادی کی ہوئی ہے۔ اس نے ہم سب سے دوستی قائم رکھنے کے لئے اردو سیکھی۔ بقول ہمارے چند دوستوں کے، خدمت گزاری میں وہ پاکستانیوں سے بھی بڑھ کر تھی اور ہے۔ امریکہ سے لے کر افغانستان تک کے سب سربراہان نے پاشا کو فون کیا اور کینیڈا کی حکومت نے تو تمام تر ایئر ایمبولینس کا اہتمام کیا۔ دنیا بھر کے صحافیوں نے پاشا کو فون کئے اور ہمت بڑھائی مگر ہمت تو کیتھی کی ہے کہ مشکل ترین زمانوں میں بھی افغانستان جاتی رہی مگر یہ اس کے ساتھ پہلا حادثہ ہے۔

ایسے حادثات ٹی وی اینکر پرسن کے ساتھ ہو کہ سیفما کے سیکرٹری جنرل امتیاز عالم کو بھی دھمکیاں دی جارہی ہوں۔ یہی کیا ہر اخبار اور کالم نگار کے ساتھ ایسا ہی مرحلہ ہے۔ کیتھی تو بہت خوش تھی اور کہتی تھی کہ طالبان کا زور نہیں چلے گا۔ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ برقعہ تو ان کی روایت کا حصہ ہے۔ نوجوان بچیاں مگر برقعہ نہیں اوڑھتی ہیں۔ کیتھی اسپتال میں ہے اور خوش ہوگی کہ اس کی پچیس سالہ محنت کا ثمر نظر آرہا ہے۔ کیتھی کے کہنے پر ہی حامد کرزئی نے ویمن پولیس قائم کی تھی۔ وہ تو اس کا فائنل پاس آئوٹ دیکھنے کے لئے گئی تھی۔ ڈیئر کیتھی! تم اسپتال میں لیٹی ہوئی ٹی وی دیکھ کر خوش ہوگی کہ تمہاری کوششیں، افغان افسران سے ملاقاتیں اور عورتوں کو آزادی دینے کے تمام تر اقدامات، بحسن و خوبی ایسے سر انجام پائے کہ آج ساری دنیا حیران ہے کہ طالبان کے بار بار اعلان کے باوجود کہ لوگ انتخابات کا بائیکاٹ کریں۔ لوگوں نے پرامن طریقے پر ووٹ ڈالے۔ پاکستان ہی ہے جو طالبان سے خوفزدہ ہے۔ ان کے لوگ رہا کئے جارہا ہے اور اپنے لوگوں کی رہائی کے لئے صرف مطالبہ ہی کئے جا رہا ہے۔

2014ء سیاسی تبدیلیوں کا سال ہے۔ پہلے بنگلہ دیش میں انتخابات ہوئے۔ وہی حسینہ واجد جو پاکستان بھی آئی تھیں اور پاکستانیوں سے محبت کی باتیں کرتی تھیں۔ انتخابات اور وہ بھی نئے انتخابات جیت کر پاکستان دشمن قوتوں کو مہمیز دے رہی ہیں۔ کھیل کے دوران جھنڈا لہرانے پہ ممانعت کرنے کے بعد، خود ہی شرمسار ہو کر اپنے حکم نامے کو واپس لیا۔ ڈھائی لاکھ بہاری جو کہ اب پانچ لاکھ ہو گئے ہوں گے، ان کو نہ حکومت پاکستان قبول کرتی ہے اور نہ بنگلہ دیش کی حکومت، کیمپوں میں رہ کر، سائیکل رکشہ چلا کر زندگی گزارنے والوں کو اپنا مستقبل ویسے ہی نظر آرہا ہے، جیسے برما کے مسلمانوں کا ہے۔ ان کو ووٹ ڈالنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ جو بات ہمارے ذرائع ابلاغ نے نہیں دکھائی کہ افغانستان میں بھی امریکی طرز پر صدارتی امیدواروں کے درمیان موضوعاتی مقابلہ بھی دکھایا گیا تھا۔

سنا ہے انڈونیشیا اور الجزائر میں بھی جو تازہ انتخابات ہوئے ہیں وہاں بھی عوام کو دکھایا گیا کہ آخر امیدوار کتنے ذہن ہیں اور کون سے منصوبے عمل میں لانا چاہتے ہیں۔ ہمارے ملک کی طرح نہیں کہ ہر مصیبت کو کہہ دیا جائے کہ یہ تو پچھلی حکومت کا تحفہ ہے۔ ہم کیا کریں۔ یہ بالکل اس طرح ہے کہ شدت پسند سبزی منڈی میں بم چھپائیں۔ پھٹنے اور سیکڑوں لوگوں کے مارے جانے کے بعد کہہ دیں کہ ہم نے نہیں کیا، ایسا کرنا تو حرام ہے۔ اب تک جو ہمارے فوجی جوانوں اور سیدھے سادے مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کو مرواتے رہے اور بالاعلان قبول بھی کرتے رہے کہ یہ کارنامہ تو ہم نے کیا ہے۔

ہمارے معصوم لوگوں اور جوانوں کی جان لینے کے بعد، اب یہ کہنا۔ اللہ معاف کرے، کون قبول کرے گا۔ سرکار کے ساتھ تو وہ آنکھ مچولی کھیلتے رہیں کہ لفظوں کی بال اُدھر سے بھی پھینکی جارہی ہے اور ادھر سے بھی۔ باتوں کی جلیبیاں بنانے سے آخر ہماری قوم کو کیا فائدہ ملے گا اب جبکہ جھوٹ پکڑنے والی مشین بھی نکل آئی ہے۔ ہم کب تک جھوٹ کو قومی شعار بنائے رکھیں گے۔ 1971ء سے تو ہم مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں۔ اس لئے تو ہمارے ملک میں تاریخ نہیں پڑھائی جاتی ہے۔ اگلے دن مجھے ایک یونیورسٹی نے گفتگو کرنے کے لئے بلایا۔ سوال و جواب کے سیشن میں، میں نے جب بچیوں سے پوچھا کہ قرارداد پاکستان کس نے پیش کی تھی۔ صرف ایک لڑکی کو جواب آتا تھا۔ بیگم محمد علی جناح کا نام بھی ایک لڑکی کو معلوم تھا اور پاکستان کا آئین کب نافذ ہوا، تو سوئے اتفاق ایک لڑکی کو معلوم تھا، یہ گریجویٹ کلاسز کی بچیاں تھیں۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں