’’کیا چھپّن چھپّن لگا ر کھّی ہے؟‘‘

اثر چوہان
اثر چوہان
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

الیکٹرانک میڈیا سے لمحہ بہ لمحہ نشر / ٹیلی کاسٹ ہونے والی خبروں اور 24 گھنٹے بعد منظرِعام پر آنے والے قومی اخبارات کی معلومات سے بیک وقت خُوشی اور پریشانی ہوتی ہے۔ جو لوگ خبریں سُننا یا پڑھنا نہیں چاہتے۔ وہ کیا کریں؟ مرزا غالبؔ مجلسی شخصیت تھے۔ شعر کہتے اور داد بھی طلب کرتے تھے لیکن انہوں نے ایک دِن کہہ دیا تھا کہ

’’رہئیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو!
ہم سُخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو!‘‘

تو معزز قارئین! میں تو اپنے ہم سُخن اور ہم زباں خواتین و حضرات کے درمیان رہ کراُن کے لئے کالم لِکھتا ہُوں۔ خبروں کی ہر روز بھرمار ہوتی ہے لیکن مَیں تو دِن میں صِرف ایک ہی کالم لِکھ سکتا ہُوں۔

الطاف بھائی کی آمد آمد

خبر ہے کہ 22 سال دیارِ غیر میں گُزارنے کے بعد جناب الطاف حسین نے وطن واپس آنے کا فیصلہ کر لِیا ہے۔ پاکستان میں ایم کیو ایم کے قائدِین خُوش ہیں۔ وزارتِ داخلہ پاکستان نے کہا ہے کہ ’’الطاف صاحب کو پاکستانی پاسپورٹ بنوانے کے لئے پہلے قومی شناختی کارڈ بنوانا ہوگا اور اِس کے لئے اُنہیں لندن میں پاکستانی ہائی کمشن میں خُود جانا ہوگا اور اپنے فنگر پرنٹس بھی دینا ہُوں گے۔ الطاف بھائی آئِین، قانون، اصُول اور ضابطے کے بندے ہیں تو کیوں نہیں جائیں گے؟ مرزا غالبؔ تو اپنے رقیب کے دَر پر بھی چلے گئے تھے اور ہزار بار جب انہوں نے کہا تھا کہ

’’جانا پڑا رقیب کے دَر پر ہزار بار‘‘

میری الطاف بھائی سے گذارش ہے کہ وہ وطن واپسی کے لئے صِرف اور صِرف قومی ائر لائنز پی آئی اے سے سفر کریں بے شک راستے میں کتنا ہی ’’کھجل خراب‘‘ ہونا پڑے۔ مجھے تو اِس طرح کھجل خراب ہونے میں بہت مزا آتا ہے۔ ہندوئوں کے دیوتا ’’بھگوان وِشنو‘‘ کے اوتار شری رام 14 برس کی جلا وطنی کاٹ کر لنکا کے راجا ’’راون‘‘ کو شکست دے کر اور قتل کر کے اپنے بھائی ’’لکشمن‘‘ اور مغویہ بیوی ’’سِیتا‘‘ کو اُڑن کھٹولے میں بٹھا کر اپنی راجدھانی ’’ایودھیا‘‘ واپس آئے تو ایودھیا کے راجا (شری رام کے سوتیلے چھوٹے بھائی) ’’بھرت‘‘ نے تاج و تخت بڑے بھائی کے حوالے کر دِیا تھا۔ جناب الطاف حسین کو پاکستان کا تاج و تخت حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرنا پڑے گی۔ بہرحال جب بھی وہ وطن پہنچیں گے تو ائر پورٹ پر قصور کے بابا بُلھّے شاہ القادریؔ کا یہ مصرع گونج رہا ہو گا کہ

’’مورا پِیا گھر آیا، ہو لال نی‘‘
علّامہ طاہر اُلقادری کا انقلاب؟

علّامہ طاہر اُلقادری کے پاکستان آنے اور کینیڈا واپس جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ موصوف پاکستان سے باہر رہ کر، ویڈیو لنک کے ذریعے پاکستان کے عوام کے لئے ’’ویڈیو گیم انقلاب‘‘ لانا چاہتے ہیں لیکن کیا کِیا جائے کہ ’’حضرتِ انقلاب‘‘ مان کر ہی نہیں دے رہے۔ اُدھر علّامہ القادری ہر روز دُوربِین سے دیکھتے ہُوئے انقلاب کے انتظار میں فرما رہے ہیں کہ

’’گلّاں دِل دیاں دِل وِچ رہ گئیاں
شاماں پَے گئیاں
کدوں آویں گا دِلاں دیا جانِیاں؟‘‘

خبر ہے کہ علّامہ القادری نے انقلاب کے لئے نئی تاریخ دے دی ہے 11مئی2014ئ۔

عمران خان کی انگریزی

جناب الطاف حسین علّامہ طاہر اُلقادری اور جناب عمران خان کئی معاملات میں ہم آہنگ ہیں۔ جناب الطاف حسین 22 سال لندن میں رہے اُن کی انگریزی تو یقیناً بہت عُمدہ ہو گی۔ علّامہ طاہر اُلقادری فروری 2013ء میں جب الیکشن کمیشن کو تحلیل کرانے کی درخواست لے کر سپریم کورٹ گئے تو وہاں انہوں نے انگریزی بولنے کا عملی مظاہرہ بھی کِیا تھا لیکن یہ ’’کمالِ نَے نوازی‘‘ اُن کے کچھ کام نہیں آیا اور اب جناب عمران خان نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ’’مَیں اپنی بیوی سے علیحدگی کے بعد انگریزی بھُول گیا ہُوں۔‘‘ کئی دوستوں نے بذریعہ ٹیلی فون اور ایس ایم ایس مجھ سے پوچھا ہے کہ جنابِ عمران خان کے اِس بیان میں ’’وِچلی گلّ کِیہہ اے؟‘‘ اب میں کیا بتاوں؟ مجھے تو جناب فیض احمد فیضؔ یاد آ رہے ہیں کہ جنہوں نے کہا تھا.

’’تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں‘‘
’’کیا چھپّن چھّپن لگا رکھی ہے؟‘‘

سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف مقدمۂ غدّاری کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے جناب پرویز مشرف کے وکیل جناب فروغِ نسیم کی یہ درخواست مُسترد کر دی ہے کہ ’’23 مارچ 1956ء سے لے کر اب تک آئِین شِکنی کے تمام مقدمات کی سماعت کی جائے۔‘‘ عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ ’’ہمارا اختیارِ سماعت صِرف موجودہ غدّاری کیس تک محدود ہے۔ ہم 1956ء سے اب تک آئِین شِکنی کے تمام مقدمات نہیں کھول سکتے۔‘‘ 1956ء کے آئِین سے مجھے جناب ذوالفقار علی بھٹو یاد آ گئے۔ صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک کے دوران حزبِ اختلاف کے اکثر سیاستدانوں کا مطالبہ تھا کہ ’’1956ء کا آئِین بحال کیا جائے۔‘‘ ذوالفقار علی بھٹو اُن سب سیاست دانوں کا مذاق اڑاتے ہُوئے کہا کرتے تھے کہ ’’کیا چھپّن چھپّن لگا رکھی ہے؟ آئِین روٹی اور نان نہیں بن سکتا۔

آئِین چپّل کباب بھی نہیں بن سکتا۔‘‘ ذوالفقار علی بھٹو سِویلین چِیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر صدرِ پاکستان اور وزیرِاعظم رہے اور اُن کے بعد بہت سے لوگ بھی لیکن پاکستان کا کوئی بھی آئِین عوام کے لئے نان روٹی اور چپّل کباب نہیں بن سکا۔ موجودہ دَور میں بھی نہیں۔ جب ڈالر سستا اور آٹا مہنگا ہے۔ مجھے جنوری 1970ء میں مشرقی پاکستان کے مختلف سیاست دانوں سے ملاقاتیں کرنے اور عام جلسوں میں اُن کی تقریریں سُننے کا موقع بھی مِلا۔ مشرقی پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ غُربت کا تھا۔ غُربت کی وجہ سے پاکستان کی بہو بیٹیاں اپنی عِصمتیں فروخت کرنے پر مجبور تھِیں۔ وہاں یہ جملہ مشہور تھا کہ ’’مُرغی مہنگی عورت سستی۔‘‘

بشکریہ روزنامہ ' نوائے وقت '

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں