.

افغانستان میں انتخابات کے جزوی نتائج

حسن اقبال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں 5اپریل 2014ء کو انتخابات ہوئے۔ اس کے بعد سے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ ابھی تک افغانستان کے کل 34 صوبوں میں سے 26 صوبوں کے دس فیصد ووٹوں کے غیر حتمی نتائج کا اعلان کیا گیا ہے۔ شیڈول کے مطابق افغانستان کا آزاد الیکشن کمیشن پورے ملک کے انتخابات کے غیر حتمی نتائج کا اعلان 24 اپریل کو کرے گا۔ اس کے بعد آزاد الیکشن شکایات کمیشن الیکشن کے بارے میں شکایات کی سماعت کرے گا۔ ان شکایات کے فیصلے کے بعد آزاد الیکشن کمیشن الیکشن کے حتمی نتائج کا اعلان کر دے گا جس کے لیے 14 مئی کی تاریخ رکھی گئی ہے۔ اب تک 90 فیصد بیلٹ پیپر جن پر ووٹ ڈالے گئے الیکشن کمیشن کے ہیڈ کوارٹر کابل میں جمع کرائے جا چکے ہیں۔

اگرچہ جن 10 فیصد نتائج کا اعلان کیا گیا ہے وہ غیر حتمی اور غیر سرکاری ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی اپنی اہمیت ہے جو کہ الیکشن نتائج کے بارے میں کچھ نشاندہی ضرور کرتے ہیں۔ ان نتائج کے مطابق ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اب تک سب سے زیادہ ووٹ لیے ہوئے ہیں۔ ان کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد 212,312 ہے جو کہ تناسب کے لحاظ سے 41.9فیصد بنتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر آنے والے صدارتی امیدوار اشرف غنی ہیں جنہوں نے 140,561ووٹ حاصل کیے ہیں جن کا تناسب 37.6 فیصد بنتا ہے۔ تیسرے نمبر پر آنے والے امیدوار ڈاکٹر زلمے رسول ہیں جن کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد 49,821یعنی 9.8فیصد ہے۔ اب تک الیکشن کمیشن نے 500,000 سے زائد ووٹوں کی گنتی کی ہے۔ جن صوبوں سے ابھی تک کوئی ووٹوں کی گنتی موصول نہیں ہوئی ان میں بدخشاں، وردک بغلان، دائی کنڈی، غور، نورستان، غازی اور پکتیکا شامل ہیں۔ افغان الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان نتائج سے حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کون امیدوار مضبوط ہے۔ گنتی مکمل ہونے تک ان اعداد و شمار میں بڑی حد تک غیر متوقع تبدیلی واقع ہو سکتی ہے اور کوئی بھی امیدوار جیتنے کی پوزیشن میں آسکتا ہے۔ شکایات کمیشن کے مطابق انہیں اب تک تحریری طور پر 1892ء شکایات موصول ہوئی ہیں۔ جن میں فراڈ اور الیکشن قوانین کی خلاف ورزی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں 870شکایات سنگین نوعیت کی ہیں جنہیں کیٹیگری اے میں رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 1400 شکایات بذریعہ ٹیلی فون بھی موصول ہوئی ہیں۔ جنہیں صرف بطور اطلاع تسلیم کیا گیا ہے لیکن ان پر کوئی مزید کارروائی شاید نہ کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبائی کونسلوں کے بھی انتخابات ہوئے ہیں جن کے نتائج کا اعلان 7 جون کو کیا جائے گا۔

اب تک کے نتائج کے مطابق ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ عبداللہ عبداللہ اس سے قبل افغانستان کے وزیر خارجہ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے سابقہ انتخابات میں حامد کرزئی کے خلاف بھی حصہ لیا تھا لیکن دوسرے مرحلے میں رن آف الیکشن میں بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اس طرح وہ کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ موجودہ صورت حال میں انہوں نے افغانستان اور امریکہ کے درمیان لٹکے ہوئے سکیورٹی معاہدے کی تائید کی ہے۔ عام طور پر وہ اسلامی طرز جمہوریت کے دعویدار بتائے جاتے ہیں لیکن پاکستان کے حوالے سے ان کا کردار قدرے خوشگوار نہیں رہا بلکہ انہوں نے بعض اوقات منفی رویوں کا بھی اظہار کیا۔ اب انہیں امریکہ کا حمایتی قرار دیا جا رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انہیں افغانستان میں کثرت سے ووٹ مل رہے ہیں۔ انتخابات سے قبل ہونے والے مختلف سروے میں لوگوں نے انہیں اسی بنیاد پر پذیرائی دی تھی کہ وہ امریکی پالیسیوں کے تسلسل اور افغانستان میں امن کے خواہش مند ہیں لیکن ریکارڈ کے مطابق ستمبر 1985ء میں عبداللہ عبداللہ کو پنجشیر میں محکمہ صحت کا سربراہ لگایا گیا تھا۔ ان کی ذمہ داری میں روسی فوجوں کے خلاف نبرد آزما لوگوں اور سول آبادی کو صحت کی سہولتیں بہم پہنچانا تھا۔ اس کے بعد عبداللہ عبداللہ کمانڈر احمد شاہ مسعود کے ایڈوائززاور قریبی ساتھی بن گئے اور افغانستان جنگ میں روس کے خلاف ان کی مدد کی۔ عبداللہ عبداللہ اب بھی جون 2006ء سے مسعود فاؤنڈیشن کے سیکرٹری جنرل ہیں جو کہ لوگوں کی ویلفیئر کے لیے کام کر رہی ہے۔ دوسرے نمبر پر اب تک آنے والے امیدوار اشرف غنی عالمی بینک میں کافی عرصہ کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے عالمی بینک کے حوالے سے چین، بھارت، روس میں کام کیا ہے۔ خلیجی جنگ میں انہوں نے میڈیا کے ساتھ مل کر بڑے مؤثر طریقے سے کام کیا۔ اس سے قبل وہ افغانستان کے وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے بھی 2009 ء کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تھا لیکن کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔

2014ء کا سال افغانستان کے حوالے سے بہت ہی اہم ہے۔ اس سال حامد کرزئی طویل عرصہ حکومت کرنے کے بعد سبکدوش ہونے والے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی اور نیٹو افواج کارواں سال کے اختتام تک انخلا ہونے والا ہے لیکن امریکہ کی دلچسپی ہے کہ وہ مزید کافی عرصہ اپنی فوجیں افغانستان میں رکھے کیونکہ روس چین اور خطے کے دیگر ممالک کی وجہ سے امریکی مفادات کے لیے یہ ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے لیے امریکہ نے افغانستان سے 10 سالہ سکیورٹی معاہدہ طے کیا تھا۔ اس معاہدے کے تمام لوازمات اور تفصیلات طے ہونے کے بعد اس کی منظوری لویہ جرگہ سے بھی لے لی گئی لیکن حامد کرزئی نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ امریکہ کی بسیار کوششوں کے باوجود اور مختلف ممالک کی طرف سے دباؤ آنے کے باوجود حامد کرزئی نے ابھی تک اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ امریکہ کو اس لیے اس انتخاب کا شدت سے انتظار ہے تاکہ نیا صدر آکر اس پر دستخط کرے۔ اس وقت تک عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی جو کہ جیتنے کی پوزیشن میں ہیں اس معاہدے کے حق میں ہیں۔ وہ الگ بات ہے کہ حکومت میں آنے کے بعد وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ پاکستان کی صورت حال میں بھی افغانستان کا یہ الیکشن اہم ہے کیونکہ افغانستان کے صدر کی اگر پالیسیاں مثبت نہ ہوں تو اس کا براہ راست اثر پاکستان کی داخلی صورت حال پر پڑتا ہے۔ ماضی قریب میں حامد کرزئی کی منفی پالیسیوں کی بدولت اس سلسلے میں پاکستان کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہرحال افغانستان کے لوگوں کا جمہوری حق ہے کہ وہ جس کو چاہیں صدر منتخب کریں لیکن اگر منفی رویوں کا صدر آ گیا تو اس سے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ افغانستان میں پاکستان کی حامی حکومت نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ خطے کے لیے بہتر نوید ہو سکتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.