.

ایک مرتبہ پھر محاذ آرائی

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگلے دن مجھے ایک محترمہ ، جو اپنے وقت میں ایک اہم سیاسی شخصیت ہوا کرتی تھیں، نے فون کرتے ہوئے پوچھا کہ یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، کیا یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے یا محض وقتی ابال ، جو بہت جلد پانی کی جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا؟ میں نے سرسری انداز میں چند الفاظ میں کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ انگریزی محاورے کے مطابق چائے کی پیالی میں اٹھنے والا طوفان ہے ، اس لئے بہت جلد صورت ِ حال معمول کے مطابق آ جائے گی۔ تاہم اب مجھے زیادہ خوش گمانی نہیں کیونکہ طرفین نہ صرف اپنے اپنے موقف ، جو بھی ہے، پر ڈٹے ہوئے ہیں بلکہ کوئی بھی لچک دکھانے کے موڈ میں نہیں۔ اس لئے اگر ان میں سے کسی نے اپنے موقف میںنرمی نہ دکھائی تو طوفان کو روکنا دشوار ہو گا۔ اب اگر ایسا ہوا۔۔۔ اور ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ معاملات سدھار ، نہ کہ بگاڑ، کی طرف بڑھیں۔۔۔ تو صورت ِ حال بہت بگڑ جائے گی کیونکہ اس وقت ہمیں راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان رسہ کشی کی ہرگز ضرورت نہیں۔ اگر یہ صورت ِ حال جاری رہی تو ماضی کو دہرانے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

اس سے پہلے ہم 1999 میں بھی یہی ہنگامہ آرائی دیکھ چکے ہیں۔ اس کہانی کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جس مرکزی کردار کے گرد یہ واقعات گھومتے ہیں وہ نواز شریف ہی ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر ِ اعظم ماضی سے کچھ بھی سیکھنے کے لئے تیار نہیں، اور نہ ہی اُنھوںنے معاف کرنا یا فراموش کرنا سیکھا ہے۔ دوسری طرف فوج بھی اپنی برتری کے احساس سے باہر آنے کے لئے تیار نہیں کہ ریاست میں سب سے اہم کردار اسی کا ہے۔اس کے علاوہ یہ بات بھی ظاہرہوتی ہے کہ فی الحال ہمارا سیاسی طبقہ اتنا صاحب ِ نظر نہیں ہوا کہ وہ طاقت کے اس کھیل میں دکھائی دینے والے سطحی اختیارات اور کھوکھلے جذبات سے ہٹ کر کوئی سنجیدہ نتیجہ نکالنے کا اہل ہو۔ اگر کشمکش کی موجودہ وجہ، مشرف ٹرائل، پر نظر ڈالیں تو ایک واجبی سی عقل رکھنے والا شخص بھی سمجھ سکتا ہے کہ جب پاکستان اتنے عقربی مسائل میں گھرا ہوا ہو تو ماضی کا حساب کتاب برابر کرنے کے لئے موجودہ حکمرانوں کے پاس یہ مناسب وقت نہیں ۔ اس کے باوجود وہ پوری دھن سے اس معاملے کو انجام تک پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے وہ اس آرمی چیف کے ساتھ الجھ بیٹھے ہیں جن کا چند ماہ پہلے اُنھوںنے چنائو کیا تھا۔ اس وقت ان افراد کی بھی کمی نہیں جن کا کہنا ہے کہ یہ حساب کتاب برابر کرنے کا یا انتقامی کارروائی کا نہیں بلکہ آئین اور قانون کی بالا دستی کا معاملہ ہے۔ یہ دعویٰ یقینا مناسب معلوم ہوتا اگر کارروائی کے دائرے سے محدود اور من پسند ہونے کا تاثر نہ ملتا ۔۔۔ کہ کارروائی پرویز مشرف کے علاوہ ان کے معاونین کے خلاف بھی ہوتی۔ یہ بات اور بھی احمقانہ دکھائی دیتی ہے کہ نیہ کیس نومبر 2007 کے اقدامات کی پاداش میں اٹھایا جا رہا ہے جبکہ اس وقت لگائی گئی ایمرجنسی کا دورانیہ صرف پنتالیس دن پر محیط تھا لیکن اکتوبر 99 کے شب خون ، جب ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر ملک پر طویل عرصے کے لئے فوجی آمریت مسلط کردی گئی، سے صرف ِ نظر کیا جا رہا ہے۔

یہاں شاید کچھ یادداشت کی کمی بھی کارفرما ہے کیونکہ یہ وہی نواز شریف ہیں جو پاکستان کی تاریخ کی بدترین آمریت ، ضیا دور کے پروردہ ہیں لیکن اب اس حقیقت کو نہایت معصومیت سے نظر انداز کیا جارہا ہے۔ کیا کوئی اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ شریف برادران کے لئے کاروبار کواتنی وسعت دینا اور موجودہ سیاسی معراج تک پہنچنا ضیا کی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہ ہوتا۔ کچھ اور بھی پریشان کن معاملات ہیں ، جیسا کہ آئی ایس آئی کی طرف سے ایک بینکار کی مدد سے 1990 کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لئے کچھ سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کی گئی تھیں ۔ رقم لینے والوں کی فہرست میں لفظ ’’شریف ‘‘ بھی آتا ہے۔ اگرچہ سیاسی رُت بدلنے سے وہ بینکار کہتے سنائی دیئے کہ ان کو یکایک احساس ہوا کہ ان کی یادداشت نے اُنہیں چکمہ دیا تھا اور وہ نام دراصل ایک اور ’’شریف ‘‘ کا تھا جو دریائے جہلم کے نزدیک سرائے عالمگیر میں ایک ہوٹل کا مالک ہے۔

اس گفتگو کا مقصد گڑے مردے اکھاڑنا نہیں بلکہ بہت عاجزی سے گوش گزار کرنا ہے کہ جب اپنا دامن داغدار ہو تو کسی کی آستین پر لگے دھبے کی طرف انگشت نمائی نہ کریں، بلکہ بہتر ہے کہ قانون اور اصول کے اسپ ِ تازی سے نیچے اتر کر پائوں کی گرد جھاڑتے ہوئے دوسروں کے ہم قدم ہولیں۔ دراصل اس کیس میں پسند ناپسند کی جھلک اور آنے والے انتقام کی بو نے دفاعی اداروں کو تیور دکھانے پر مجبور کیا…خواہش تھی کہ آئندہ ان کی نوبت کبھی نہ آتی۔ اس مسئلے پر ہمیں ایک بات واضح دکھائی دیتی ہے فوج حکومت کے ساتھ محاذآرائی کی طرف نہیں بڑھنا چاہتی۔ اس کو پہلے ہی بہت سے مہیب مسائل کا سامنا ہے۔ سب سے سلگتا ہوا ایشو وہ انتہا پسندی اور دہشت گردی ہے جس کی وجہ سے عام شہریوں کے علاوہ فوج کے بھی ہزاروں جوانوں کا خون بہہ چکا ہے۔ وہ مشرف ٹرائل کی وجہ سے اپنی توجہ اہم امور سے ہٹانا نہیں چاہتی ، الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ وہ حکمران ہیں جن کو قدرت نے فراموش اور معاف نہ کرنے کی بے بدل صلاحیت سے بہرہ مند فرمایا ہے، چنانچہ وہ بیٹھے بٹھائے دفاعی اداروں کے ساتھ الجھ بیٹھے۔ اس کے علاوہ فوج یہ محسوس کر رہی ہے کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ دراصل یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ایک مرتبہ مشرف کو عدالت میں پیش کر کے باضابطہ طور پر فرد جرم عائد کر لی جائے، پھر اعلیٰ سطح پر ہونے والے کسی معاہدے کے تحت اُنہیں پاکستانی اشراف کے دوسرے گھر، دبئی، جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔ عدالت کی طرف سے ان کے ملک چھوڑنے پر کوئی قدغن نہیں تھی ، یہ وزارت ِ داخلہ پر منحصر تھا کہ وہ مشرف پر لگائی گئی پابندی ختم کرتی ۔ اس کے لئے ، جیسا کہ طے کیا جا چکا تھا ، ایک درخواست دی گئی لیکن پھر وہاں سے صورت ِ حال یک لخت تبدیل ہوگئی اور انہیں باہر جانے کی اجازت نہ ملی۔

اپنے گزشتہ مضمون میں شاہین صہبائی لکھتے ہیں۔۔۔’’یہ وہ لمحہ جب فوج غصے میں آگئی اور اسی رات سول حکام کو خبر دیے بغیر مشرف کو اے ایف آئی سی سے ان کے گھر چک شہزاد منتقل کر دیا گیا اور ان کی حفاظت ان کے ’’لڑکوں ‘‘ کے سپرد کر دی گئی۔‘‘ہم یہ تو سنتے چلے آئے تھے کہ کسی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیے دیا جائے لیکن یہ پہلی مرتبہ سنا کہ کسی رہائش گاہ کو ’’سب اسپتال ‘‘، اور وہ بھی فوجی اسپتال، قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی سادہ لوح کو اس سے بھی فوج کے ارادے واضح دکھائی نہیں دے رہے تو پھر اُن کی بصیرت ہی نہیں بصارت بھی مشکوک ہے۔

محاورہ ہے کہ ’’عقل مند کو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے‘‘ ۔ اب صورت ِ حال یہ ہے کہ فوج کی صفوں میں جذبات برہم ہیں(کسی بھی عام فوجی افسر سے بات کر کے دیکھ لیں، صورت ِ حال کا اندازہ ہو جائے گا) اور یہ چیز خطرناک حالات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ لکھ رکھیں، اب فوج مشرف کے ٹرائل کو اس سے آگے نہیں بڑھنے دے گی۔ اس سے پہلے بھی اس مقدمے کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئی تھیِں، اب بھی ایسا ہی ہو گا۔ اس وقت وزیراعظم خود کو ایک کھائی میں پاتے ہیں… اس کھائی کو انھوں نے سابق صدر سے ملاقات کرکے مزید گہرا کھود لیا۔ بظاہر اس ملاقات کا مقصد وزیر ِ اعظم کے ہاتھ مضبوط کرنا تھا لیکن اس کے نتیجے میں ان کے لئے صورت ِ حال مزید مشکل ہوسکتی ہے، کیونکہ وہ ان کو حوصلہ ملا ہے کہ وہ ڈٹے رہیں اور ہر گز لچک نہ دکھائیں(اگر میں زرداری ہوتا تو میں دل ہی دل میں ہنس رہا ہوتا)۔ مختصر یہ کہ نہ ہی فوج اور نہ ہی نواز شریف پیچھے ہٹنے کے لئے تیار ہیں۔ اُنھوں نے خود کو اس مشکل میں پھنسا لیا ہے کہ کوئی ماہرجادوگر بھی اس سے نکلنے کے لئے خود کو بے بس پاتا۔ اگر یہ چائے کی پیالی میں اٹھنے والا طوفان ہے تو پھر یہ چائے کی پیالی دیومالائی حمام ِ گرد باد سے کم نہیں اور اس میں ڈالے گئے پانی کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔

اسلام آباد میں کوئی نہیں جانتا کہ اس مشکل کی گھڑی میں دو انتہائوں کے درمیان مفاہمت کا راستہ کیسے تلاش کیا جائے اور ضد کی جگہ ذہن میں دانائی او ر معاملہ فہمی کو جگہ کیسے دی جائے۔ کیسی مضحکہ خیز ، لیکن خطرناک، صورت ِ حال ہے کہ ایک طرف تو حکومت ریاست کے دشمنوں کے ساتھ لچک دکھانے کی حد یں پھلانگتے ہوئے انہیں خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف دفاعی اداروں کے ساتھ معاملہ فہمی کی طرف قدم بڑھانے کے لئے تیار نہیں۔ اس وقت معاملہ آئین کی سربلندی کا نہیں، ضدی طبیعت کا ہے۔

اس کشمکش کا جو بھی انجام ہو، اس کے نتیجے میں دو اہم امور میں ہونے والی پیش رفت دکھائی دی…(1)طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اپنے منطقی انجام تک پہنچے کیونکہ فوج کے ساتھ محاذآرائی کا مطلب مذاکرات کی موت ہی ہو سکتی ہے۔(2) آرمی چیف کو بادل ِ نا خواستہ اپنے ادارے کے وقار کے تحفظ کے لئے کھڑا ہونا پڑا۔ قنوطی سوچ رکھنے والوں کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمران فوج کے ساتھ الجھے بغیر رہ نہیں سکیں گے لیکن یہ محاذآرائی اتنی جلدی شروع ہو جائے گی، اس کا کسی کوبھی اندازہ نہ تھا۔ پتہ نہیں ہم تاریخ سے کب سیکھنا شروع کریں گے؟

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.