ہتھوڑے کے حملے اور برطانوی پریس کی سان کے درمیان!

فیصل جے عباس
فیصل جے عباس
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

لندن کے وسط میں واقع ایک ہوٹل میں تین اماراتی بہنوں پر ہتھوڑے سے حملے کے واقعہ کی نشر واشاعت کے حوالے سے برطانوی ذرائع ابلاغ کا پچھلے ہفتے کے دوران مشاہدہ دلچسپ رہا ہے۔ اکثر اوقات ایسے واقعات اخباری اور ابلاغی دنیا میں ''پروفیشلزم ''کا ایک حوالہ بن جاتے ہیں۔ برطانوی روزناموں اور نیوز چینلز کی اکثریت نے اپنے دفاتر سے محض چند میل کے فاصلے پر پیش آنے والے اس سنگدلانہ واقعے کو کور کیا ہے لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ برطانوی ذرائع ابلاغ نے اس واقعہ کو سنسنی خیزی اور مبالغہ آمیزی سے ہٹ کر پیش کیا ہے۔

یہ بات بہت سوں کے لیے سوچنے کا موقع فراہم کرتی ہے کہ اگر ایسا ہی واقعہ متحدہ عرب میں تین برطانوی سیاحوں کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو پھر برطانوی اخبارات اور نیوز چینلز کس انداز میں ردعمل ظاہر کرتے؟مفروضے پر مبنی اس سوال کا جواب بڑا سادہ اور سیدھا ہے کہ برطانوی ذرائع ابلاغ پوری دنیا کو اپنے مفروضاتی حملوں سے تہ وبالا کر دیتے۔ بلا شبہ یہ ایک نامناسب واقعہ ہوتا لیکن برطانوی ذرائع ابلاغ اس واقعے کو بنیاد بناتے ہوئے اسے امارات میں سیاحت کے خاتمے کی شروعات سے تعبیر کرتے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان تمام عرب باشندوں اور مسلمانوں کو روایتی انداز میں دھوکے باز، چور اور قاتل کے القابات سے نواز دیا جاتا جو مغربی اقدار سے خار کھاتے ہیں۔

ہمارے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ برطانوی ذرائع ابلاغ خصوصاً ''ٹیبلائڈز'' نے اس طرح کے واقعات کو ماضی میں اس انداز سے پیش کیا تھا تاکہ جرم دار فریق متاثرہ اور مظلوم بن جائے۔ اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ آپ نے متحدہ عرب امارات میں مقیم برطانوی تارکین وطن کے بارے میں اکثر ایسے مضامین پڑھے ہوں گے جن میں ان کی اکثریت کو قانون کا پابند، معزز، محنتی اور کامیاب ترین افراد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اگرچہ آپ نے یہ بھی پڑھا یا سنا ہو گا کہ ایک برطانوی جوڑے کو اس لیے جیل میں بند کر دیا گیا کہ وہ دبئی میں دن دہاڑے سمندر کنارے سر عام جنسی اختلاط کا مرتکب ہو رہا تھا بالکل ایسے جیسے انھیں ہائیڈ پارک میں کھلے عام قابل اعتراض اخلاق باختہ حرکات کا حق حاصل ہو گیا ہو۔

اس موقع پر یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ برطانوی پریس اپنی مرضی کے مطابق آزادانہ لکھنے کا حق رکھتا ہے لیکن برطانوی حکومت نے اماراتی بہنوں پر ہتھوڑے سے حملے کی مذمت کرنے میں دیر نہیں کی اور برطانیہ کے وزیر مملکت برائے خارجہ اور دولت مشترکہ امور ہیو رابرٹسن نے متاثرہ خواتین کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا۔ میٹرو پولیٹن پولیس نے مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا اور ان میں سے ایک کے خلاف صرف چند روز میں مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کی یہ کامیابی یقیناً اہم اور قابل ذکر پیش رفت ہے۔

اس کے ساتھ ہی امارات حکومت کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا تعلق خواہ خارجہ پالیسی سے ہے جس کے تحت برطانیہ کے ساتھ دو طرفہ احترام پر مبنی تعلقات استوار ہیں یا امارات کی اندرونی پالیسیوں سے ہے جن کے تحت امارات کے شہری، ان کے مفادات اور خوشیاں دیگر تمام امور سے بالا تر ہیں۔ اماراتی حکومت کے برطانوی حکام سے روابط کی وجہ سے اس واقعہ کی تحقیقات کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا گیا ہے ورنہ تو اس کو بھی دیگر بہت سے ایسے ہی ناخوشگوار واقعات کی طرح نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔

یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ اس واقعے کی معافی یا اس واقعے کی بنیاد پر سزا ان تینوں اماراتی خواتین کو ہتھوڑے کے حملے سے پہنچنے والے نقصان کا ازالہ نہیں ہو سکتی ہے۔ اس لیے اہم تر بات یہ ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس مقدمے کو مختلف قانونی پہلوؤں کے حوالے سے دیکھا جانا چاہیے تاکہ اس طرح کے واقعات کے رونما ہونے کی روک تھام ہو سکے۔

مزید برآں وکلاء کو اس معاملے کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ مذکورہ ہوٹل کی سکیورٹی کا نظام کیسا ہے۔ اگر ہوٹل اس سلسلے میں کوتاہی کا مرتکب پایا جاتا ہے تو اس معاملے کو بھی قانونی حوالے سے دیکھا جانا چاہیے ۔ یہ بھی اہم ہو ا کہ مقدمے سے متعلق پیش رفت انگریزی ذرائع ابلاغ کو جاری کی جائیں، تاہم یہ پیشہ ورانہ بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ یکطرفہ اور عمومی انداز میں۔

میں برطانوی ٹیبلائیڈز میں کام کرنے والے احباب سے بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر اماراتی اخبارات نے بھی برطانوی اخبارات کی طرح سنسنی خیزی پر مبنی انداز اختیار کیا ہوتا تو آپ کے احساسات کیا ہوں گے؟ یہ سوچیے کہ امارات کے تمام اخبارات اگر اسی انداز میں لکھنا شروع کر دیں کہ'' تمام برطانوی لوگ چور اچکے ہیں''، یا اس طرح کی سرخیاں جمانا شروع کر دیں کہ ''برطانیہ عظمیٰ اب منافرتِ عظمیٰ بن گیا'' اور اس سب کچھ کی بنیاد محض ایک سب ایڈیٹر کی تخلیقی لیاقت کا اظہار ہو۔ ان تمام صورتوں میں کیا کوئی ابلاغی ادارہ کسی معاملے کو غیر جانبدارانہ انداز میں دیکھنے کا حق رکھے گا۔

سادہ بات یہ ہے کہ اس حوالے سے پیشہ ورانہ اعتبار سے مانے ہوئے معیارات اور اخلاقیات ہی کوئی ضمانت ہو سکتے ہیں تاکہ دوسرے فریق کو بھی اپنا نقطہ نظر سامنے لانے کا موقع دیا جائے۔ لیکن ایسے معیارات کو تب کیا ہوا تھا جب گارجین ایسے موقر اخبار نے ایک جھوٹی سٹوری شائع کر دی۔ اس پر کوئی شخص کسی طرح کی مدد کرنے کے بجائے محض حیران ہی ہو سکتا ہے۔ اس اخبار نے حقائق کو جانچے بغیر ہی لکھا:''متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم اور نائب صدر، دبئی کے حکمراں عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے اٹلی سے ایسی ساٹھ خواتین کارکنوں کی بھرتی کے لیے اشتہار شائع کرایا ہے جو خریداری میں ان کی معاونت کر سکیں۔'' ایسی بے بنیاد خبر کی اشاعت کے بعد مذکورہ اخبار کو معذرت کرنا پڑی ہے۔

پورے ادب اور احترام کے ساتھ عرض ہے کہ گارجین کو اپنی اسٹوری کو شائع کرنے سے پہلے اس سے متعلق تمام حقائق کی جانچ کرنا چاہیے تھی اور متعلقہ میڈیا آفس سے رجوع کرنا چاہیے تھا یا ایسا اشارہ دینا چاہیے تھا کہ اس نے رابطے کی کوشش کی تھی۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس طرح کا عمل ''صحافت 101''شمار کیا جاتا ہے بلکہ اس طرح میڈیا کسی ایک خبری ذریعے پر منحصر اسٹوری کے جال میں پھنسنے سے بھی بچ جاتا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں