.

افغانستان، الیکشن کے بعد

جاوید حفیظ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں حالیہ الیکشن ہوا کے تازہ جھونکے کی مانند تھے۔ لوگ بڑی تعداد میں ووٹ دینے نکلے۔ خواتین نے بھرپور حصہ لیا۔ تین بڑے امیدواروں میں سے کسی نے دھاندلی کا الزام نہیں لگایا۔ پاکستان نے بہت اچھے طریقے سے بارڈر کو سیل کیا اور عملا یہ ثابت کر دیا کہ ہمارا کوئی فیوریٹ امیدوار نہیں۔ افغان عوام جو فیصلہ کریں گے ہمیں قبول ہو گا۔ بندوق اور بیلٹ کی جنگ میں عوام کی اکثریت نے فیصلہ بیلٹ اور جمہوریت کے حق میں دیا ہے۔ یہاں یہ بات محلِ نظر رہے کہ ووٹرز میں سے دو تہائی لوگ پچیس سال سے کم عمر ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے حالتِ جنگ میں آنکھ کھولی اور ساری عمر جنگ ہی دیکھتے رہے۔ اب یہ لوگ امن کے شدت سے متمنی ہیں۔

افغانستان کی سب سے بڑی نسلی اکائی پشتون ہیں لیکن انکی تعداد پچاس فیصد سے کم ہے۔ تاجک تیس سے پینتیس فیصد ہیں مگر تاجک ازبک اور ہزارہ اکثر اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ اس مرتبہ اصلی اور خالص پشتون امیدوار ڈاکٹر اشرف غنی نے معروف ازبک وارلارڈ رشید دوستم کو اپنے پینل میں رکھا ہے جس سے انکی کامیابی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ میں نے انہیں اصلی و خالص پشتون اس لیے کہا ہے کہ انکا تعلق احمدزئی قبیلے میں ہے اور وہ پشتو میں خوب روانی سے تقریر کرتے ہیں۔ ڈاکٹرز لمے رسول بھی پشتون ہیں لیکن مادری زبان انکی فارسی ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نصف پشتون ہیں لیکن چونکہ وہ وادئ پنج شیر میں پلے بڑھے لہٰذا انکی پشتو کمزور ہے۔ اس الیکشن میں پھر ثابت ہوا ہے کہ اکثر افغان نسلی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں۔ بادی الامر میں لگتا ہے کہ شاید کوئی امیدوار پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ نہ لے سکے اور اگلے ماہ الیکشن کا دوسرا رائونڈ ہو جس میں مقابلہ دو امیدواروں کے درمیان ہو گا جن کے ووٹ پہلے رائونڈ میں دوسروں سے زیادہ ہوں گے۔

اس الیکشن میں سکیورٹی ڈیوٹی افغان نیشنل آرمی اور پولیس نے دی اور اس پہلے ٹیسٹ میں وہ پاس ہو گئے ہیں۔ آپ اندازہ لگائیں کہ اتنے بڑے اور پہاڑی ملک میں بیس ہزار انتظامی مراکز کا انتظام آسان نہیں تھا۔ کئی جگہ بیلٹ پیپرز گدھوں اور خچروں کی مدد سے پہنچائے گئے اور لوگ اتنی تعداد میں ووٹ دینے آئے کہ چند ایک مقامات پر بیلٹ پیپر کم پڑ گئے، نیٹو افواج الیکشن مراکز سے دور رہیں لہذْا حملے بھی کم ہوئے اور انتخابات پر امن طریقے سے ہو گئے۔

چند ماہ میں قابل میں نئی جمہوری حکومت ہو گی۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ پر امن انتقال اقتدار ممکن نظر آ رہا ہے اور یہ ایک بہت بڑی پیش رفت ہو گی۔ 1989ء میں افغانستان سے جاتے ہوئے سوویت یونین کابل میں اپنا آدمی ڈاکٹر نجیب اللہ کی شکل میں چھوڑ کر گیا تھا۔ نجیبب اللہ کی قانونی حیثیت بہت ہی کمزور تھی۔ اب جو حکومت کابل میں آئے گی اسکی قانونی حیثیت مضبوط ہو گی۔ ایک اور بات جسکا نوٹس لینا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ تمام امیدواروں نے امریکہ کے ساتھ دو طرفہ سکیورٹی معاہدے کہ حمایت کی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان میں طالبان کی وقت کم ہو گئی ہے۔؟

میرا خیال یہ ہے کہ طالبان اب بھی افغانستان میں بہت بڑی قوت ہیں اور افغان طالبان کا کمانڈ اور کنٹرول سسٹم پاکستانی طالبان سے بہتر ہے۔ دوسرے افغان طالبان کو اپنی رائے عامہ کا بہت خیال ہے، اس لیے وہ اندھی دہشتگردی نہیں کرتے۔ ایک مغربی تھنک ٹینک نے حال ہی میں طالبان کی نفری کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سوویت افواج کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کی تعداد موجودہ طالبان لڑاکا فورس سے پانچ گنا تھی۔ یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ سابق مجاہدین لیڈران میں سے اکثر اب امریکہ دبئی اور پاکستان میں کاروبار کرتے ہیں اور کابل کے پوش علاقہ وزیر اکبر خان میں بڑے بڑے گھروں کے مالک ہیں۔ افغان طالبان چونکہ اپنے پاکستانی ساتھیوں کے ساتھ زیادہ متحد اور منظم ہیں لہٰذا عین ممکن ہے کہ الیکشن کے دوران افغان سکیورٹی فورس پر حملہ نہ کرنا سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہو۔ اس لیے کہ اب طالبان کی نظر صرف جنگ پر نہیں بلکہ اقتدار میں شراکت پر بھی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ طالبان نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تو وہ اقتدار میں کیسے شریک ہو سکتے ہیں اس مسئلے کا حل دوطرح سے ممکن ہے۔ ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ جیتنے والا صدارتی امیدوار، ہارے ہوئے امیدوار اور طالبان کے ساتھ مل کے نیشنل حکومت بنا لے اور اسی طرح طالبا کو قومی سیاسی دھارے میں شامل کر لیا جائے۔ اس صورت میں مشکل یہ پیش آئے گی کہ طالبان جو وزارتیں اور مناصب مانگیں گے وہ شاید انکو نہ مل سکیں۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ افغان پارلیمنٹ کے الیکشن اگلے سال ہونا ہیں۔ طالبان اگلے سال الیکشن میں بطور سیاسی قوت حصہ لیں اور نشستیں جیت کر قومی سیاسی دھاری میں شامل ہو جائیں۔ اس بات کا اب واضع امکان ہے کہ امریکی اور نیٹو فوجو محدود تعداد میں دس سال تک افغانستان میں رہیں گے۔ طالبان کو یا تو اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کابل حکومت کا حصہ بننا پڑے گا یا پھر انکی مضاہمت جاری رہے گی لیکن کابل کی منتخب حکومت کو گرانے کیلئے درکار قوت اب شاید افغان طالبان کے پاس نہیں ہے۔

آج کے حالات میں افغانستان میں بین الاقوامی مفادات 1989ء کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ چین نے معادنیات میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے ۔ بھارت نے خام لوہا نکالنے کیلئے تین بڑے بلاک خریدے ہیں۔ روس نہیں چاہے گا کہ چیچنیا اور داغستان میں دہشتگرد افغانستان سے جائیں۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ افغانستان دوبارہ القاعدہ کا محفوظ ٹھکانہ بنے، ایران یہ چاہتا ہے کہ افغان میڈیا اور دینی مدارس میں اسکا غلبہ رہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ افغانستان کے راستے ترکمانستان کے راستے گیس آئے جو لامحالہ پاکستان سے ہی گزرے گی۔ پاکستان کا مفاد ہے کہ اسکی افغانستان اور وسط ایشیا سے تجارت ہو اور افغان سرزمین سے ہمارے خلاف کوئی منصوبہ بندی یا تخریبی کارروائی نہ ہو ۔ اگر یہ تمام ممالک سر جوڑ کر بیٹھیں اور ایک غیر جانبدار افغانستان کو یقینی بنائیں تو مسئلے کا بین الاقوامی حل نکل سکتا ہے۔

افغانستان کے بارے میں پاکستان کی موجودہ قیادت کے اخلاص کا اعتراف صدر حامد کرزئی کو بھی کرنا پڑا تھا۔ صدر کرزئی کے بہت سے مسائل تھے۔ موصوف کا اقتدار خصوصا 2009ء کے بعد متنازع رہا کہ اس انتخاب میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی تھی۔ موصوف طالبان سے مصالحت کرنا چاہ رہے تھے مگر کامیابی نہیں ہوئی۔ طالبان کے کئی قیدی صدر کرزئی نے رہا کر کے امریکی ناراضگی مول لی۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں انکی ساکھ بحال ہو جائے لیکن موصوف کی گرتی ہوئی ساکھ کا واضع سبوت یہ ہے کہ انکے درپردہ حمایت یافتہ ڈاکٹرز لمے رسول تیسرے نمبر پر لگتے ہیں۔ افغانستان میں جو بھی صدر آئے شاید پاکستان کیلئے کرزئی سے بہتر ہی ہو اس لیے کہ حضرت بہت ہی سیماب صفت انسان ہیں۔ گھڑی میں تولا اور گھڑی میں ماشا۔ اس الکشن میں افغان عوام نے آگے کی جانب بڑا قدم اٹھایا ہے ویسے بھی آج کا افغانستان طالبان کے دور جیسا نہیں ہے۔ آج وہاں 70 سے زیادہ آزاد ٹی وی چینل ہیں۔ خواتین پارلیمان میں ہیں اور کئی مناسب پر فائز ہیں۔ یہ ملک اب دوبارہ طالبان دور کی طرف کسی صورت نہیں لوٹے گا۔ موجودہ صورت حال میں مغربی ممالک کی خواہش ہو گی کہ ڈاکٹر اشرف غنی جیت جائیں کہ انہیں ورلڈ بینک کا لمبا تجربہ ہے۔ اقتصادی اصلاحات سے منسلک رہے اور مغربی مالی امداد کا صحیح استعمال کر سکتے ہیں۔

افغانستان میں ممکنہ قومی مصالحت پاکستان کیلئے نیک فال ہو گی۔ اس مرتبہ الیکشن میں پاکستان پر کوئی پابندی نہ اٹھی۔ ہم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمسایہ ملک میں ہمارا کوئی فیورٹ نہیں۔ ہمیں صرف اور صرف افغانستان میں امن و استحکام عزیز ہے۔ پاکستان کو ایسا افغانستان چاہیے جو ہمارے کسی دشمن کا آلہِ کار نہ بنے۔ صحیح معنوں میں جڑواں بھائی بن کر دکھائے، خود بھی ترقی کرے اور پاکستان کو بھی استحکام حاصل کرنے میں ممدو معاون ہو۔ افغان الیکشن واقعی تازہ ہوا کا جھونکا تھا جس سے خطے میں امن و استحکام کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "دنیا"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.