.

امریکہ اور بھارت، افغانستان سے نہیں نکل رہے

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ میں افغانستان کے حالیہ الیکشن کے بعد ایک نئی سوچ پیدا ہورہی ہے اور یہ اصطلاح استعمال ہو رہی ہے کہ ’’افغانستان کافی اچھا ہے‘‘۔ اِس سے پہلے افغان صدر نے امریکی مخالفت کر کے باہمی تحفظ کا معاہدہ (BSA) پر دستخط نہ کر کے یہ ثابت کیا جیسے وہ امریکہ سے نبردآزما ہے، چاہے اس میں امریکی اور افغان صدر حامد کرزئی کی ملی بھگت ہی کیوں نہ رہی ہو، اس طرح اس نے طالبان کے اثر کو کافی حد تک محدود کیا، یہی وجہ ہے کہ 2009ء میں صرف 25 لاکھ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا مگر اس دفعہ بارش اور طالبان کے دبائو کے باوجود 70 لاکھ ووٹروں نے الیکشن کے عمل میں حصہ لیا۔

یاد رہے کہ افغانستان میں ووٹروں کی کل تعداد ایک کروڑ 20لاکھ ہے۔ افغان صدر کی اِس حکمت عملی نے امریکہ زیروآپشن یعنی افغانستان میں امریکہ فوج نہیں رکھے گا کے تجویز کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کردیا ہے پھر امریکیوں کے بقول،روس کی توسیع پسندانہ عزائم امریکہ کو شاید افغانستان میں اپنی فوج کے رکھنے پر مجبور کردے۔ پاکستان میں امریکی سفیر نے بات واضح کر دی ہے کہ امریکہ افغانستان سے نہیں نکل رہا،البتہ اپنی افواج کی تعداد کم کر رہا ہے۔ افغان صدر نے پینترے بدل بدل کر پاکستان، ایران، روس، چین کے علاوہ امریکہ ، برطانیہ اور بھارت کا بندوبست کیا اور سب کو اُن کی حد میں رکھا اور ان سے فوائد حاصل کئے۔ اِس طرح انہوں نے اپنے آپ کو مدبر سیاستدان کے روپ میں پیش کیا، اگرچہ کرپشن اِس صورتِ حال میں بھی اُن کا تعاقب کرتی رہے گی۔ امریکہ اور ساری دُنیا کے ممالک افغانستان کے الیکشن کو تاریخی الیکشن قرار دے رہے ہیں، مگر یہ خطرہ موجود ہے کہ افغانستان کے جاہ پسند صدر کی نئی حکومت کو اقتدار منتقل کرنے میں دھاندلی کو بہانہ بنا کر روک سکتے ہیں۔

اگرچہ یہ انتخابات دھاندلی سے پاک نظر نہیں آتے۔ دھاندلی کی بارہ سو شکایتیں موصول ہوئیں مگر یہ شکایات اُن خدشات سے بہت کم ہیں جن کا اظہار الیکشن سے پہلے کیا جا رہا تھا۔ اس کے علاوہ انتخابی تشدد کے واقعات بھی برائے نام ہوئے ،اس کے بعد اب یہ کہا جا رہا ہے کہ طالبان ایک دیہی پشتون طاقت بن کر رہ جائیں گے اور یہ تصور کہ جس روز امریکہ افغانستان سے نکلے گا وہ کابل میں قابض ہوجائیں گے، درست نہیں رہا کیونکہ افغان فوج اور افغان حکومت اِس کی اہل ہے کہ وہ طالبان سے مقابلہ کرسکے۔ اگرچہ افغانستان کے عوام دو خدشات سے اس وقت بھی دوچار ہیں ایک کرزئی کی وراثت یا اُن کا حکمرانی میں اثرورسوخ اور دوسرا امریکہ کا وہاں سے نکل جانا جو وہاں امریکہ کی پیدا کردہ نئی اشرافیہ کو لاحق ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو افغانستان عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان پچھلے چالیس برسوں سے حالت جنگ میں ہے، 1973ء میں ایک انقلاب آیا، 1978ء میں دوسرا، 1979ء میں سوویت یونین نے قبضہ کرلیا اور دس سالہ جنگ میں 15 لاکھ افغانی شہید ہوئے پھر 1992-96ء میں طالبان کی حکومت رہی جس میں جنگ ہوتی رہی، جب 1999ء میں امریکہ نے قبضہ کیا اور اب تک کوئی ایک لاکھ سے زیادہ افغانی شہادت پا چکے ہیں۔ طالبان کی حکومت کو ایک فرسودہ اور پرانے زمانے کی حکومت کہا جاتا ہے، جس کے بطن سے القاعدہ نے جنم لیا مگر 14 سالہ امریکی قبضہ نے جہاں افغانستان میں افغانیوں کی ازلی سرکشی کو کم کیا وہاں انہوں نے اقلیتی غیر پشتون لوگوں کو متحد کیا اور اُن پر مشتمل ایک فوج بنا ڈالی اور اِس طبقہ کو جو ہمیشہ سے محروم و محکوم رہا کو حکمران بنا کر پشتونوں کو دبا دیئے جانے کا پروگرام پر امریکہ روبہ عمل ہے۔ اس طبقہ کے امراء پر مشتمل حکومت قائم کر رکھی ہے اور اس کے لڑاکا افراد پر مشتمل ایک امریکی تربیت یافتہ فوج ہے اس طرح سابقہ شمالی اتحاد کے لوگوں کو حکمرانی کا تجربہ بھی حاصل ہو گیا ہے۔ یوں افغانستان میں ایک توازن قائم ہوتا نظر آ رہا ہے۔

امریکہ جہاں بھی گیا اس نے اپنی طاقت کے بل پر معاشرے کو تبدیل کردیا۔ جس ملک نے برطانیہ اور سوویت یونین جیسے ملکوں کو شکست دی مگر امریکہ نے بظاہر شکست کا احساس ضرور دلایا مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ افغانستان اب بھی پہلے والا سرکش افغانستان ہے، یہ بھی اب یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ افغانستان سے نکل رہا ہے۔ امریکہ نہ صرف افغانستان سے نہیں نکل رہا بلکہ اس نے افغانستان میں بھارت کی مدد حاصل کرلی ہے کہ وہ افغانستان میں امریکہ کے کبھی بھی نکلنے کی صورت میں یا اس کے افغانستان میں موجود رہنے کی حالت میں اس کے وضع کردہ نظام کی حفاظت کرے اور افغانستان کی ضروریات کا خیال رکھے جس میں وہ اُس کو ہیلی کاپٹر اور دوسرے ہتھیار فراہم کررہا ہے اور بھارت امریکہ کے اتحادی کے طور پر افغانستان میں موجود رہے گا، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 9 اپریل 2014ء کو دہلی میں نئی دہلی پالیسی گروپ میں دو تجزیاتی رپورٹ کا افتتاح کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ سجاتا سنگھ نے کہا کہ بھارت افغانستان میں ایک طویل عرصے تک قیام کرنے کی منصوبہ بندی کر چکا ہے، بھارت کی وہاں سے نکلنے کی کوئی اسٹرٹیجی نہیں ہے۔

اِس موقع پر افغانستان اور افغانستان کے سارے پڑوسیوں کے سفراء موجود تھے۔ جن میں پاکستان، چین، بھارت، ایران، قازقستان، کرغیزستان، روس، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان اور ازبکستان کے سفراء شامل تھے۔ پاکستان کے سفیر نے اِس موقع پر کہا کہ افغانستان کی خوشی پاکستان کی خوشی ہے اور افغانستان کا مفاد پاکستان کا مفاد ہے۔ اِس کانفرنس میں یہ طے ہوا کہ افغانستان میں امن کے لئے تمام پڑوسی ممالک مل کر مدد کریں۔ تعاون کا ماحول پیدا کرنا چاہئے اور نئے انتخابات نئی افغان حکومت کو نہ صرف افغانستان بلکہ تمام پڑوسیوں کے لئے بھی قابل قبول ہوگی۔ نئے منتخب صدر کی مکمل حمایت کی جائے تاکہ وہ سلامتی کو بہتر بنا سکیں اور کوئی ملک افغانستان میں مداخلت نہ کرے۔ جو استنبول عمل کی روح ہے اور اس عمل کے ذریعے افغانستان میں تعمیری، ثقافتی اور سیاحت کو پروان چڑھانے کا نقشہ بنایا تھا جو دہشت گردی کے سدباب کا نظام بھی فراہم کرتا ہے۔ 9 اپریل کی کانفرنس میں کہا گیا کہ اِس عمل میں چین، روس، بھارت زیادہ مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

استنبول عمل یہ سمجھتا ہے کہ جنوبی ایشیا دُنیا کے وسائل کی گزرگاہ اور دُنیا کی سخت ضرورت ہے۔ اِسی وجہ سے افغانستان میں امن اور افغانستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے لئے ساری دُنیا کو کوشاں ہونا چاہئے۔ استنبول عمل کی چوتھی سربراہی کانفرنس 2016ء میں چین میں منعقد ہوگی۔ پاکستان اس وقت افغانستان میں اپنا وہ اثرورسوخ قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ امریکی دانشور کہتے ہیں کہ پاکستان خود صلیب پر چڑھنے کی حالت میں ہے، اُن کے بقول کوئٹہ شوریٰ اور فاٹا میں طالبان کا ہونا پاکستان کے لئے ایسا ہی ہے کہ وہ کسی آتش فشاں پہاڑ پر بیٹھا ہو۔ اُن کا یہ تبصرہ درست بھی ہے اور نہیں بھی۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی پالیسی میں تحریک نہیں ہے اور وہ افغانستان میں وہ کچھ حاصل نہیں کر سکا جو وہ چاہتا تھا کہ وہ افغانستان میں پاکستان دوست حکومت کا قیام عمل میں آئے، وہ مقام اب بھارت کو مل گیا ہے اور بھارت اِس معاملے میں پُرعزم ہے کہ وہ افغانستان میں اپنا قائم شدہ اثرورسوخ برقرا رکھے گا۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.