.

بنگلہ دیش میں پاکستان دشمنی کا سونامی

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی نئی پود بنگلہ دیش کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی مگر ڈھاکہ میں کرکٹ کے حالیہ میچ ہوئے جن میں بنگلہ حکومت نے اسٹیڈیم میں پاکستان کے پرچم لہرانے پر پابندی لگا دی تو اس سے ہمارے دس سال کے بچوں کو بھی نفرت کا ایک پیغام ملا۔

بنگلہ دیش نے نسل در نسل پاکستان دشمنی کے جذبات ابھارنے کے لئے سائنٹیفک کام کیا ہے، ان کی درسی کتابیں پاکستان کے خلاف نفرت کے زہر سے آلودہ ہیں۔ مجھے بھی اس حقیقت کا ادراک نہ ہوتا اگر میری ملاقات ایک دوست سے نہ ہوتی جو تین سال ڈھاکہ گزار کر ابھی واپس آئے ہیں۔ میں نے ان سے یہی پوچھا تھا کہ چالیس سال گزرنے کے بعد بھی اکہتر کا سانحہ، بنگلہ دیشی بھول کیوں نہیں سکے۔ جو نسل پاکستان کے خلاف لڑتی بھڑتی رہی، وہ تو قبروں میں پہنچ چکی،اور جو بچے اس وقت سن شعور کو نہیں پہنچے تھے، وہ بھی عالم پیری میں ہونے چاہئیں، وہاں کی نوجوان نسل تو وہ ہے جو کہیں نوے کے عشرے میں پیدا ہوئی، یعنی سانحے سے بیس پچیس برس بعد، ان کے ذہن کیوںکر پاکستان دشمنی سے آلودہ ہیں۔ میرے دوست نے بتایا کہ وہاں تعلیم اور میڈیا کے شعبوں میں ہمیشہ کی طرح ہندووں کا غلبہ ہے۔اسی لابی نے متحدہ پاکستان میں نفرتوں کا الائو بھڑکایا، اور اب بھی اس کی ریشہ دوانیاں جاری ہیں۔ وہاں کی نصابی کتابوں میں پاکستانی فوج کے مظالم کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے اور مغربی پاکستان کے ہاتھوں استحصال کے افسانے تراشے گئے ہیں۔

میرا سوال یہ تھا کہ کیا عام بنگلہ دیشی بھی پاکستان سے نفرت کرتا ہے، دوست نے بتایا کہ ایسی بات نہیں، گلی محلے کے لوگوں کو اس سے کوئی سرو کار نہیں، مگر تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر اور میڈیا کے اندر نفرت کا الائو بھڑکا دیا گیا ہے اور سب سے بڑھ کر اب وہاں کی دو سیاسی شخصیات کی باہمی چپقلش کی وجہ سے عام لوگوں کے ذہنوں کو پراگندہ کر نے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حسینہ واجد اور بیگم خالدہ ضیا دونوں کے خاندان پاکستان کے کھلے دشمن تھے مگر بنگلہ بندھو کی بیٹی ہونے کے ناطے، حسینہ واجد اس پراپیگنڈے میں کامیاب رہیں کہ خالدہ ضیا پاکستان کی حامی ہیں اور ان کی پشت پناہی آئی آیس آئی کی طرف سے کی جا رہی ہے۔ خالدہ ضیا کو کارنر کرنے کے لئے حسینہ واجد کی حکومت نے گڑے مردے اکھاڑے اور اکہتر کے سانحے میں جماعت اسلامی، البدر اور الشمس کے کردار کے حوالے سے انہیں بنگلہ دشمن قرار دے دیا، جماعت کے لیڈروں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی، بعض کو عمر قید میں ڈال دیا گیا اور ایک لیڈر کو تو پھانسی دے دی گئی۔ان پر کیا الزام ہے، پاک فوج کے ساتھ ساز باز۔

یہ سن کر میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف ڈھاکہ، نئی دہلی، کابل،واشنگٹن، لندن، پیرس اوریروشلم میں ایک جیسی پخت و پز جاری ہے۔ ان ملکوں میں کوئی پٹاخہ بھی چل جائے تو بلا سوچے سمجھے اس کا الزام پاکستان ،اس کی فوج اور خاص طور پر آئی ایس آئی پر دھر دیا جاتا ہے۔ نائن الیون کی تباہی کے لئے گو اسامہ بن لادن کو ذمے دار ٹھہرایا گیا اور اس کے خلاف وسیع پیمانے پر جنگ کا آغاز ہوا جو اصل میں پاکستان کے خلاف جنگ میں بدل گئی۔ اس سانحے کا کوئی ملزم ایسا نہیں تھا جس کا تعلق پاکستان سے ہو ، سارے عرب تھے مگر پاکستان میں ساٹھ ہزار بے گناہ افراد شہید کر دیئے گئے اور ابھی اس جنگ کا کوئی منطقی انجام نظر نہیں آ رہا۔ بھارت میں ممبئی سانحہ رونما ہوا تو اس کا الزام بھی چند منٹ کے اندر پاکستان ا ور اس کی آئی ایس آئی پر عائد کر دیا گیا، بھارت نے مطالبہ کیا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ دہلی حاضر ہوں اور اپنی وضاحت پیش کریں۔ کابل میں کوئی دھماکہ ہو جائے تو کرزئی حکومت کے دماغ کی پھرکی گھوم جاتی ہے اور جھٹ آئی ایس آئی کومورد الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے۔

بنگلہ دیش نے پاک فوج اور آئی ایس آئی کے مظالم کو نصاب کا حصہ بنا دیا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو بچہ اسکول سے فارغ ہوتا ہے، اس کا ذہن پاکستان کے خلاف نفرت سے بھر جاتا ہے۔ جماعت اسلامی کو لوگوں کی نظروں میں مجرم ثابت کرنے کے لئے اس کی ذیلی تنظیموں البد اور الشمس پر قتل عام کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ اکہتر سے بہت پہلے ڈھاکہ اس پراپیگنڈے سے گونج رہا تھا کہ پٹ سن کے سنہری ریشے کی آمدنی سے اسلام آباد، کراچی اور لاہور کو ترقی دی جا رہی ہے۔ زبان کے جھگڑے نے جلتی پر تیل کا کام کیا، شہید مینار تعمیر کیا گیا۔ اور مغربی پاکستان کی لوٹ مار کی فرضی داستانوں میں رنگ بھرا گیا۔ کلکتہ کے ہندو پریس نے جھوٹ کا طوفان کھڑا کر دیا اور وہ خطہ جو اصل میں پاکستان کی جدو جہد کا مرکز تھا اور جس کے لیڈروں نے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی تھی اور لاہور میں قرارداد پاکستان پیش کی، وہ پاکستان دشمنی کا گڑھ بن گیا۔ ہماری اس وقت کی لیڈر شپ سے جیسے بن پڑا، اس آگ کو فرو کرنے کی کوشش کی مگر اسو قت تک لوگوں کے ذہنوں کو اس قدر زہر آلود کر دیا گیا تھا کہ وہ پاک فوج کے مقابل آن کھڑے ہوئے۔ بھارت نے اپنی فوج ان کی پشت پناہی کے لئے جھونک دی اور یوں یہ خطہ ہم سے جدا ہو گیا۔

سوال یہ ہے کہ کیا بنگلہ دیش نے علیحدگی کے بعد جنت ارضی کا نمونہ بن کر دکھا دیا ہے، کیا وہاں بھوک ، جہالت اور امراض کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اس کا جواب نفی میں ہے۔ پورے ملک میں ایک بھی موٹر وے نہیں بلکہ کوئی ایکسپریس وے بھی نہیں بن سکی۔ ڈھاکہ سے قریبی شہروں کا فاصلہ عام حالات میں تین گھنٹے کا ہے مگر آٹھ گھنٹوں میں بھی طے نہیں ہو پاتا۔ اور جو سڑکیں ہیں بھی، وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل کا چرچا بہت کیا جاتا ہے۔ پاکستانی سرمایہ کار بھی ڈھاکہ ضرور گئے مگر اس سے عام بنگالی کی حالت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی، پچھلے سال ایک ٹیکسٹائل یونٹ میں آگ بھڑکی تو پتہ چلا کہ اس فیکٹری میں آگ بجھانے کا کوئی انتظام تو دور کی بات ہے، ہنگامی حالت میں متبادل راستہ بھی نہیں رکھا گیا۔ گرامین بنک کے انقلاب کے شاہنامے بھی پڑھے جاتے ہیں مگر اس کا قرضہ سود در سود کے نظام میں جکڑا ہوا ہے۔

پاکستان نے ایک نیک کام کا آغاز کیا ہے۔ ایک فنڈ قائم کیا گیا ہے جس کے تحت نوجوانوں کے وفود آ جا رہے ہیں، بنگلہ دیش سے آنے والے نوجوانوں کا ہر جگہ تپاک سے استقبال کیا جاتاہے۔ کوئی ان کے خلاف ایک لفظ تک نہیں بولتا مگر جب ہمارے نوجوان ڈھاکہ پہنچتے ہیں تو جہاز کی آخری سیڑھی سے اترتے ہی بنگالی خفیہ پولیس ان کا تعاقب کرتی ہے۔ اس سے بنگالی تعصب کی قلعی کھل جاتی ہے۔

بنگلہ دیش سے ہمارے ہاں کی جماعت اسلامی کو بھی کچھ سبق سیکھنا چاہئے، پہلے تو بنگالیوں کے خلاف پاک فوج کی مدد، پھر بنگلہ دیش حکومت میں شمولیت اور اب ان کی قسمت میں پھانسیاں۔ اسلام آباد میں جماعت اسلامی ضیا الحق کی حکومت کا حصہ، فوج کے ساتھ کشمیر اور افغان جہاد میں شمولیت اور اب پاک فوج کو شہید ماننے سے انکار۔ یہ دھما چوکڑی کیا رنگ اختیار کر ے گی۔

بشکریہ روزنامہ"نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.