.

راہول گاندھی کو سیاسی حقائق کا سامنا

گیتا پانڈے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی کانگرس پارٹی کی تمام امیدوں کا دارومدار راہول گاندھی کی قیادت پر ہے جو نہرو اور گاندھی کی سیاست کے وارث ہیں۔ نہرو خاندان کی سیاست کئی عشروں سے بھارت پر چھائی ہوئی ہے، اتر پردیش کے ایک قصبے پرتاپ گڑھ کے رام لیلا میدان میں ہونے والے انتخابی جلسے میں سات ہزار کے قریب افراد موجود تھے۔ راہول گاندھی کے مسکراتے ہوئے چہرے والا بینر آنے والے افراد کا استقبال کر رہا تھا۔ جب مقامی امیدوار تقریر کرتے تو شرکاء مقامی پارٹی کے جھنڈے لہراتے ہوئے تالیاں بجاتے۔ بھوج پوری زبان کی فلموں کے ایک سٹار اداکار روی کشن نے بھی جلسے سے خطاب کیا۔ جو نپور سے کانگرس کے امیدوار ہیں۔

43 سالہ راہول گاندھی کے پاس ابھی سیاسی میدان میں قسمت آزمائی کے لیے بہت وقت موجود ہے۔ اس لیے یہ ان کے لیے فیصلہ کن انتخابات نہیں۔ اپنے خطاب میں روی کشن نے کہا کہ "راہول گاندھی کے پاس تفریح سے بھرپور آرام دہ زندگی بسر کرنے کے مواقع موجود تھے۔ وہ اٹلی یا یورپ کے کسی ساحل پر سکون سے لیٹ کر نیم دا آنکھوں سے اپنے اردگرد خوبصورت مناظر دیکھ سکتے تھے لیکن انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہمارے ساتھ اس دھرتی کےلیے کام کریں گے"

روی کش کے نزدیک راہول گاندھی کی سب بڑی قربانی یہی ہے کہ انہوں نے پرتعیش زندگی تج دی اور بھارت کی انتخابی سیاست کی ابتلا میں قدم رکھنے کا جوکھم اٹھایا۔

جب راہول گاندھی سٹیج پر آئے تو شرکاء ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے آگے بڑھے۔ اپنے بیس منٹ کےخطاب میں انہوں نے گزشتہ دہائی کے دوران کانگرس کے کارناموں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے عوامی جذبات کے تار چھیرتے ہوئے کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں زیادہ خواتین دیکھنا چاہتے ہیں، نوجوانوں کو اقتدار میں شریک کیا جائے گا، انہیں ملازمتیں دی جائیں گی اور بھارت کو معیشت اور صنعت کا مرکز بناتے ہوئے چین کے مقابلے پر کھڑا کرنا ان کا خواب ہے۔ تقریر کے بعد وہ سیکورٹی حصار کو قدرے نرم کرتے ہوئے عوام کی طرف بڑھے۔ بہت سے خواتین اور مردوں نے ان سے ہاتھ ملایا۔ جلسے کے شرکار میں ساٹھ سالہ محنت کش رام کمار کا کہنا تھا "میں یقیناً راہول کو ووٹ دوں گا۔ کانگرس نے یہاں کے لوگوں کےلیے بہت کچھ کیا ہے۔ ہمارے پاس پانی، بجلی اور سڑکیں ہیں اور یہ سب کچھ کانگرس کی وجہ سے ہے"۔

راہول گاندھی کا تعلق بھارت کے پہلے سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے پردادا پنڈت جواہر لال نہرو تقسیم کے بعد بھارت کے پہلے وزیرعظم بنے۔ ان کی دادی اندرا گاندھی اور والد راجیو گاندھی بھی بھارت کے وزیراعظم بنے۔ ان کی والدہ سونیا گاندھی اس وقت گانگرس کی صدر ہیں۔ گزشتہ سال راہول گاندھی کو پارتی کا نائب صدر مقرر کیا گیا کیونکہ ان کی والدہ کو کچھ عرصے سے صحت کے مسائل نے گھیرا ہوا ہے اور وہ سیاسی و تنظیمی معاملات پر توجہ نہیں دے پا رہیں۔ سینئر صحافی راشد قدوائی کا کہنا ہے کہ "سونیا کانگرس سے راہول کانگرس تک تبدیلی کا مرحلہ بہت خیرو عافیت سے طے ہو گا۔"

گزشتہ ہفتوں کے دوران راہول گاندھی نے ملک کے طول و عرض کا دورہ کیا، پارٹی کارکنوں سے ملے اور انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔ پرتاپ گڑھ کے جلسے کے چند ہفتوں بعد ان کا ضلع "امیٹھی" میں والہانہ استقبال کیا گیا۔ اس حلقے سے وہ تیسری مرتبہ الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اس مرتبہ یہاں ان کا مقابلہ بی جے پی کی امیدوار سمریتی سے ہے جو ٹی وی اداکارہ ہے۔ اس کےعلاوہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار کمارشواس بھی اسی حلقے سے امیدوار ہیں، وہ ایک شاعر ہیں۔ عام آدمی پارٹی کی انتخابی مہم چلانے والے پنکج شکلا کا کہنا ہے کہ " اس حلقے کے لوگ کانگرس سے ناراض ہیں کیونکہ یہاں ترقیاتی کام نہیں ہوئے۔ دراصل اگر آپ کسی چائے کے کھوکھے پر بیٹھ کر عام افراد کی باتیں سنیں تو وہ غربت، لوڈ شیڈنگ، بے روزگاری اور خستہ انفراسٹرکچر کی شکایتیں کریں گے، تاہم ان میں سے کوئی راہول گاندھی کو ذاتی طور پر ہدف تنقید نہیں بناتا بلکہ اکثر لوگ کانگرس سے بھِی باراض نہیں کیونکہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ کانفتس نے بی جے پی کے برعکس ہندو مسلم جذبات کو ابھارتے ہوئے سیاست نہیں کی اور نہ ہی وہ مذہبی بنیادوں پر انتخابی مہم چلا رہی ہے۔ بہت سے لوگ معروضی حالات سے قطع نظر گاندھی خاندان سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں ایسے افراد کےلیے دیگر عوام درخور اعتنا نہیں ہوتے۔

یہاں کے ایک مقامی دیہاتی باشندے ایس مشرا کا کہنا ہے کہ ان کے گاوں کا ہر فرد کانگرس کو ووٹ دے گا۔ وہ اس بات کی گارنٹی دیتے ہیں کہ ان کے گاوں کے انتخابی بوتھ سے راہول گاندھی کو بھاری اکثریت سے کامیابی ملے گی۔ جب 2004ء کے انتخابات میں راہول گاندھی نے پہلی مرتبہ عملی سیاست میں قدم رکھا تو امیٹھی کے لوگوں نے راہول کو ووٹ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایم پی، ممبر پارلیمنٹ کو نہیں بلکہ وزیراعظم کو منتخب کر رہے ہیں۔ ایک ہندو اخبار Smita Gupta نے لکھا کہ جب راہول گاندھی نے یہاں سے پہلی مرتبہ الیکشن لڑا تو عوام میں بہت جوش و خروش پایا جاتا تھا ، انہیں نوجوان رہنما سے بہت سے امیدیں تھیں ، وہ انہیں ان کے باوقار خاندان کے پس منظر میں دیکھ رہے تھے"۔

2009ء میں بھی ان کے حامیوں میں یہی جوش و جذبہ پایا جاتا تھا۔ آج پانچ سال بعد جب ایک اور انتخابات کو معرکہ درپیش ہے تو لوگوں کے یہ جذبات سرد نہیں ہوئے۔ بھارت کے مجموعی سیاسی حالات جو بھی ہوں، یہاں لوگوں کو امید ہے کہ بھارت کا اگلا وزیراعظم ان کے حلقے سے ہو گا، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ باقی بھارت"امیٹھی"نہیں اور وہاں حقائق کانگرس کے حق میں زیادہ سازگار نہیں ہیں۔

ڈاکٹر من موہن سنگھ کی سربراہی میں کانگرس کی کارکردگی کی وجہ سے آج اس طاقتور جماعت کو ووٹ لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔ ان کے دور میں بدعنوانی، مہنگائی اور معیشت کی دگرگوں صورت حال کے باعث کانگرس کی حریف جماعت بی جے پی کا پلڑا بھاری ہے۔ مس گپتا کا کہنا ہے کہ " کانگرس کی نااہلی کا راہول سے کوئی تعلق نہیں"۔ لیکن دوسرے بہت سے سیاسی ناقدین کہتے ہیں کہ راہول بطور ایک رہنما عوام کےلیے بہت زیادہ کشش نہیں رکھتے ہیں۔ بی جے پی کے ایک سینئر رہنما ارون جیٹیلی کا کہان ہے کہ " راہول ایک مرکزی رہنما کے طور پر دھماکہ خیز انداز میں سامنے نہیں آ سکتے ہیں وہ اس ملک کے لیے ناقابل قبول ہیں، ان کے پاس اظہار کی قوت ہے نہ عام آدمی کو متاثر کر سکے ہیں۔ عوام کو شک ہے کہ انہیں معیشت کے متعلق بھی سوجھ بوجھ نہیں"۔

مسٹر قدوائی کا کہنا ہے کہ "راہول اوباما نہیں ہیں لیکن ان کی کارکردگی اتنی بھی بری نہیں ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کانگرس کی خراب کارکردگی کی ذمہ داری راہول کے کندھوں پر ڈالنا مناسب نہیں ہو گا۔ وہ گزشتہ دس برس سے انتخابات میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں اور ان کا نام کسی سکینڈل میں نہیں آیا"

بھارتی پارلیمان میں ارکان کی اوسط عمر 65 سال ہے جبکہ کچھ ارکان 80 سے بھی تجاوز کر چکے ہیں۔ اس حوالے سے 43 سالہ راہول گاندھی ابھی اپنے "سیاسی لڑکپن" میں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے سامنے طویل سیاسی کیرئیر موجود ہے۔ وہ اگلے تین انتخابات میں بھی سیاسی جوانی کے ساتھ موجود ہوں گے۔ مس گپتا کا کہنا ہے کہ کانگرس خود کو ایک ذہنی طور پہر شکست کے لیے تیار کر چکی ہے لیکن یہ راہول گاندھی کےلیے کوئی بڑا سیاسی دھچکہ نہیں ہو گا۔ بھارت جہاں موروثی سیاست کی جڑیں بہت گہری ہیں، یہ گمان کرنا بھی دشوار ہے کہ خاندان سے باہر کا کوئی شخص بھی کانگرس کی قیادت کرے، اس لیے انتخابی نتیجہ کچھ بھی ہو کانگرس پر راہول کا حکم ہی چلے گا۔
بشکریہ روزنامہ":دنیا"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.