افغانستان کی ایک دھندلی تصویر

محمد عامر خاکوانی
محمد عامر خاکوانی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

پچھلے سال انہی دنوں میں مجھے افغانستان جانا پڑا۔ کابل ایک عجیب شہر ہے، مختلف روپ بدلنے والا۔ کابل کا پہلا منفی تاثر تو وہاں سخت ترین امیگریشن اور اہلکاروں کا بے لچک رویہ ہی قائم کردیتا ہے۔ کابل میں خاصے غریب غریب قسم کے علاقے ائیرپورٹ کے قریب واقع ہیں۔ ہوٹل میں پہنچے تو پہلے سکیورٹی والوں کی طرف سے لمبی چوڑی بریفنگ کہ فلاں کام نہیں کرنا، فلاں جگہ نہیں جانا، کمرے کو لاک کے ساتھ زنجیر بھی چڑھا کر سونا، اگر رات کو حملہ ہو جائے تو یہ کرنا ہے، وہ کرنا ہے۔ ہم ہکے بکے سنتے رہے، یا خدایا ہم کہیں صومالیہ میں تو نہیں آگئے؟ افغان سکیورٹی والے جدید ترین لباس میں، بلٹ پروف جیکٹ پہنے اور گھٹنوں تک پر حفاظتی کیپ چڑھائے ڈیوٹی دیتے ہیں، گویا ابھی طالبان کا حملہ ہوگا اور انہیں گھٹنوں کے بل رینگ رینگ کر پناہ لینی پڑی۔ کہیں سے ظاہر نہیں ہو رہا تھا کہ اس شہر میں نیٹو افواج دس برسوں سے مقیم ہیں اور اربوں ڈالر انفراسٹرکچر پر خرچ ہوچکے ہیں۔ ہمیں سمجھ آگئی کہ حامد کرزئی حکومت پر کرپشن کے الزامات کیوں لگتے ہیں۔

کابل میں گھومنے کی بھی کچھ زیادہ جگہیں نہیں، شہر نو، باغ بابر (جہاں مغل بادشاہ بابر کی قبر ہے) اور چکن سٹریٹ جسے کوچہ مرغاں کہا جاتا۔ باغ بابر کے بارے میں سنا تھا کہ وہ بڑا خوبصورت ہے، ہوگا، مگر ہمارا واسطہ تو نہایت بنجر بڑے قطعات اراضی والے پارک سے پڑا۔ سنا ہے کہ مئی، جون میں یہ بہت خوبصورت نظر آتا ہے، جب حد نگاہ حسین پھول کھلتے ہیں۔ کبھی مئی میں گئے تو امید ہے افغان دسمبر میں یہ جگہ حسین ہونے کی خبر سنائیں۔ بابر کی قبر بھی عبرت کی ایک اعلیٰ مثال نظر آتی تھی۔ ویسے تو اسکے پڑپوتے جہانگیر کا لاہور میں بھی یہی حال ہے، غریب اپنی ملکہ کے ساتھ لاہور کے ایک کونے میں پڑا ہے، جہاں خستہ حال عمارت اور بری طرح تباہ شدہ پلاٹ اسکا مقدر ہیں۔ بابر صاحب بھی تنہا ہی پڑے تھے، دو تین گھنٹے ہم وہاں رہے، ایک بھی فاختہ خواں نصیب نہ ہوا، اگر میں جا کر فاتحہ نہ پڑھتا تو اس دن کا سکور صفر ہی رہنا تھا۔ چکن سٹریٹ یعنی کوچہ مرغاں دنیا کے مہنگے ترین کھلونوں، چیزوں اور سووینئر کا مرکز ہے۔ جہاں ہر چیز ڈالروں میں گنی، تولی اور سوچی سمجھی جاتی ہے۔ دکان دار غالباْ یہی سمجھتے ہیں کہ آنے والا ہر شخص ڈالروں کی گڈیاں جیب میں ڈالے پھرتا اور انہیں اڑانے کا مصمم ارادہ کر کے ہی گھر سے نکلا ہے۔ بعض ایسے سوختہ بخت بھی تھے جنہیں جب علم ہوا کہ یہ پاکستانی ہیں تو انہوں نے اپنے نرخ مزید بڑھا دیئے۔ ہم نے جوابا کوچہ مرغاں سے وہی سلوک کیا جو وہ ہمارے ساتھ کرنے پر تلا ہوا تھا، یعنی اتنی ہی سرد مہری اور بے حسی سے اسے دیکھا اور کچھ بھی خریدنے سے انکار کردیا۔ دکانداروں کی تضحیک آمیز مسکراہٹ کا ہم نے ایک باوقار مسکراہٹ اور سنجیدہ گھوری سے مقابلہ کیا۔ کابل کا نہایت حسین روپ اگرچہ ابھی باقی تھا۔ اگلی صبح میں اٹھا، کھڑکی سے پردہ ہٹایا تو حقیقتا دم بخودرہ گیا۔ باہر مبہوت کردینے والا حسن بکھرا تھا۔ رات گئے کہیں برفباری شروع ہوئی، سفید چادر ہر طرف پھیلی تھی۔

کابل کا ایسا ہی روپ ہم نے ان کے لیڈروں کی صورت میں دیکھا۔ ان کے تین چار اہم لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ڈاکٹر اشرف غنی جوٹرانزیشن کونسل کے سربراہ تھے انکی بڑی اہمیت تھی کہ وہ نیٹو کے جانے سے لے کر افغانستان کے معاملات سنبھال لینے تک کے انچارج تھے۔ ان سے ملاقات دلچسپ تجربہ ثابت ہوئی۔ وہ چھوٹتے ہی پاکستان پر برس پڑے کہ آپ لوگوں کی معیشت کا بیڑاغرق ہوچکا ہے، آپ سے تو افغانستان ہی فلاں فلاں شعبوں میں آگے جا چکا ہے۔ ہر بات کی تان آئی ایس آئی پر توڑنا تو افغان لیڈروں میں فیشن سا ہے، اشرف غنی نے بھی ویسا ہی کیا۔ البتہ انہوں نے افغان معیشت کو جی بھر کر کوسا، کہنے لگے کہ کابل واشنگٹن سے بھی زیادہ مہنگا شہر بن گیا ہے۔ لوگوں کی تنخواہیں غیر معمولی ہیں، مگر یہ بلبلہ معیشت ہے، لوگ نیٹو کے جانے سے پریشان ہیں کہ انکے بعد بیروزگاری بڑھے گی، مسائل پیدا ہوں گے ، مگر میں خوش ہوں کہ چلو افغانستان اپنے وسائل میں رہنا تو سیکھ لے گا۔

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نہایت نفیس شخص ثابت ہوئے۔ انکا دفتر بہت خوبصورتی سے سجا تھا، دیواروں پر حسین منی ایچر پینٹنگ انکے صاحب زوق ہونے کا پتہ دیتی تھیں۔ وہ بڑی خوشدلی سے ملے، ملاقات میں مسکراتے رہے اور سخت سوالات کو بھی تحمل سے برداشت کیا۔ کہنے لگے کہ جنرل مشرف نے میرے بارے میں صدر بش سے کہا کہ ڈاکٹر عبداللہ کا ایک گھر دہلی میں ہے، یہ انڈیا نواز ہے۔ صدر بش نے یہ سنا تو اپنی مخصوص مسکراہٹ سے کہنے لگے، یہ تو بڑا اچھا ہے، دہلی تو رہنے کیلئے اچھی جگہ ہے۔ انکا خیال تھا کہ افغانوں کے معاملے افغانوں کو سلجھانے دیں۔ مشہور تاجک لیڈر احمد شاہ مسعود کے بھائی احمد ضیاء مسعود سے ملاقات بھی روکھی پھیکی رہی، ہمارے سفارت خانے کے بعض احباب کے خیال میں احمد ضیاء مستقبل کا حکمران ہوسکتا ہے کیونکہ ہزارہ لیڈر استاد محقق اور ڈاکٹر عبداللہ اور جنرل دوستم اشرف غنی کے ساتھ جاملے، احمد ضیا کے پاس زلمے رسول زاد کے پاس جانے کے سوا کوئی آپشن نہ بچی۔

احمد ضیا مسعود نے بھی کھل کر آئی ایس آئی پر الزام دھر دیا۔ دراصل ان تمام افغان لیڈروں کا اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر طالبان آگئے تو سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا۔ چونکہ طالبان نے ان کے لئے ابھی تک کچھ جگہ نہیں چھوڑی، اس لئے وہ بھی طالبان کے لئے جگہ نہیں چھوڑ رہے تھے۔ ڈاکٹر عبداللہ نے اصرار کر کے کہا کہ اگر طالبان آئین کو مانتے ہیں تو انکو قبول کیا جاسکتا ہے، ورنہ ہر گز نہیں۔ کم و بیش یہی خیالات دیگر لیڈروں کے تھے۔ آخری شام ایک دوست کے توسط سے کچھ افغان نوجوانوں سے ملاقات ہوئی، دو تین گھنٹے تک ہم اکٹھے رہے، یہ سب نوجوان اس وقت کابل کے مختلف اداروں اور محکموں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ باہر کے پڑھ کر آئے ان پرجوش افغان نوجوانوں سے ملنا خوشگوار تجربہ تھا۔ ان میں زیادہ تر تاجک تھے، دو تین پشتوں بھی تھے۔ طالبان سے انہیں کوئی کد نہی تھی، مگر وہ جنگ و جدل سے اکتائے ہوئے تھے۔

ایک نوجوان نے دل گرفتگی سے کہا کہ ہر چھٹی والے دن کہیں نہ کہیں پر کوئی دھماکہ ہوجاتا ہے، لوگ اعصابی مریض بن چکے ہیں۔ ہم سب افغانی ہیں، مل کر کام کرنا چاہیے۔ اپنے ملک کو مستحکم کرنا چاہیے۔ تاہم انہیں اندازہ تھا کہ طالبان اہم قوت بہرحال ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان سے ان سب کو شدید شکوے تھے، دو تین گھنٹے شکوے ہی ہوتے رہے، تاہم آخر میں بعض نے برملا اعتراف کیا کہ ہم پاکستان کے بارے میں بہت زیادہ بحث مباحثے کرتے ہیں۔ مگر کبھی پاکستانی موقف ہم نے قریب سے سنا ہی نہیں تھا۔ غلط فہمیاں بہت ہیں، مگر ایک بڑی وجہ معلومات کی شدید کمی بھی ہے۔

افغانستان ہنوز ایک پیچیدہ ملک ہے، اسکے مستقبل کے حوالے سے بہت سے اگر مگر ہیں۔ صدارتی انتخاب اپنے نتیجے کی طرف بڑھ رہا ہے، مگر اسکے بعد مسائل ختم نہیں بلکہ شروع ہوں گے۔ نئے افغان صدر کے لئے بہت سے چیلنجز ہیں، سب سے اہم کہ تمام فریقوں کو اکٹھا کرے۔ اسے مینڈیٹ طالبان کے خلاف ملا ہے، مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ اسے طالبان ہی سے مذاکرات کرنے اور انہیں مین سٹریم میں لانا ہے، اس کے بغیر افغانستان میں امن قائم ہوسکتا ہے نہ ہی معاملات آگے بڑھ سکتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ ' دنیا '

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں