.

افغان انتخابات اور پاکستان

احمد رشید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں ہونے والے حالیہ صدارتی انتخابات میں پاکستان کا ذکر منفی انداز میں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ گزشتیہ تیرہ برس کے دوران افغانستان کے حوالے سے اسلام آباد کی طرف سے مختلف داو پیچ آزمانے اور طالبان کی ایک بڑی تعداد کے پاکستان کے مختلف حصوں میں محفوظ ٹھکانے بنانے کے عمل نے بہت سے افغان باشندوں کو پاکستان سے ناراض کر دیا۔ چنانچہ تمام صدارتی امیدواروں نے پاکستان پر تنقید کو اپنا مرکزی انتخابی نعرہ بنا لیا۔

شاید تاریخی طور پر پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ پاکستان نے کسی بھی افغان صدارتی امیدوار کی حمایت نہیں کی۔ درحقیقت تینوں مرکزی امیدوار پاکستان کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ روایتی طور پر غیر پشتون، عموما تاجک امیدوار پاکستان کے بارے میں جارحانہ رویہ رکھتے ہیں لیکن اس مرتبہ تو پشتون امیدوار بھی پاکستان پر تنقید کرتے دکھائی دیئے کہ اسے انکے ملک میں مداخلت کی پالیسی ترک کرنا ہو گی۔

حامد کرزئی کی صدارت کے تیرہ برسوں میں افغانستان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں تناو دیکھنے میں آیا۔ اگرچہ اس تناو کی ذمہ داری دونوں ممالک کی پالیسیوں پر عائد ہوتی تھی لیکن غیر جانبدارانہ جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ اس میں پاکستان کا ہاتھ قدرے زیادہ تھا۔ اس میں اب بہت کم افراد کو شک ہے کہ طالبان کی اعلیٰ قیادت پاکستان میں موجود ہے۔ ان کے جنگجو پاکستان کے علاقوں میں محفوظ ٹھکانے رکھتے ہیں اور وہاں سے نکل کر افغان علاقے میں کارروائیاں کر کے واپس اپنی پناہ گاہوں میں آ جاتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ 1970ء کے عشرے میں جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت تھی، پاکستان نے افغانستان کی اسلام پسند قوتوں کی تربیت دی۔ اس حقیقت سے مفر ممکن نہیں کہ پاکستان مختلف افغان دھڑوں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتا رہا ہے۔ افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے کے دوران یہ عمل اپنی انتہا تک پہنچ گیا جب سی آئی اے اور پاکستان نے افغان مجاہدین کی مدد کی۔ سوویت انخلا کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ اس دوران ایران اور بھارت نے شمالی اتحاد کو سپورٹ کیا جبکہ پاکستان نے ان گروہوں کو جو آج طالبان کہلاتے ہیں۔ اس میں "کامیابی" نے پاکستان کے قدم چومے اور افغانستان پر طالبان کی حکومت قائم ہو گئی۔ باقی تاریخ ہے۔

امریکیوں کی سب سے بڑی غلطی عراق پر فوج کشی تھی کیونکہ اس مہم نے افغانستان پر سے اسکی توجہ کا ارتکاز توڑ ڈالا۔ ابتدائی دور میں جب طالبان نے زیادہ زور نہیں پکڑا تھا اور نہ ہی انکی طرف سے قابل ذکر مزاحمت ہو رہی تھی، امریکی افغانستان میں ترقیاتی کاموں جن کا وعدہ تھا کے لیے رقم مہیا نہ کر سکے۔ اسکے بعد امریکیوں کی اصل توجہ عراق اور مشرقِ وسطیٰ کی طرف مرکوز ہو گئی۔ اگر امریکیوں نے تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر سماجی کاموں پر رقم خرچ کی ہوتی تو افغان معاشرہ یقینی طور پر طالبان کو رد کر دیتا۔
اسی طرح امریکہ کی پاکستان کے حوالے سے پالیسی بھی درست خطوط پر نہیں بنائی گئی۔ یہ بات افغان رہنما بجا طور پر کہتے ہیں کہ امریکہ پاکستان پر دبائو ڈالنے میں ناکام رہا کہ وہ اپنی سرزمین کو افغانستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ کابل میں پاکستان کے خلاف بڑھتے ہوئے اشتعال کی بڑی وجہ یہی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کی ایک اور غلطی طالبان سے مذاکرات نہ کرنا تھا۔ درحقیقت 2008-09ء میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کچھ ممالک جیسا کہ قطر اور جرمنی کے تعاون سے امریکیوں اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی امید پیدا ہو گئی تھی لیکن امریکی انتظامیہ اس مسئلے میں داخلی طور پر اختلاف کا شکار ہو گئی۔ امریکی اور افغان دونوں مل کر اپنی ناکامی کا الزام پاکستان پر لگاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ کہ امریکیوں کی طرف سے کیے گئے غلط فیصلوں اور روا رکھی گئی ناقص پالیسیوں کی ذمہ داری اسلام آباد پر عاید نہیں ہوتی۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکیوں کی روانگی کے بعد طالبان اپنی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی لائیں گے؟ یہاں امید افزا پہلو موجود ہے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد طالبان کابل پر چڑھ دوڑنے کی بجائے قائم ہونے والی افغان حکومت سے بات چیت کو ترجیح دیں گے۔ اسکے لیے پاکستان بھی انکی حوصلہ افزائی کرے گا۔ یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ طالبان کے تمام دھڑے جنگ و جدل کے حق میں نہیں۔ درحقیقت ان کے ہاں بھی" امن پسند لابی" موجود ہے۔ وہ افغان شوریٰ جو ملا عمر کے زیرِ اثر ہے ، اسکی بڑی تعداد اب امن کی خواہاں ہے۔ ان کو احساس ہو چلا ہے کہ اگرچہ امریکی افواج یہاں سے انخلا کر رہی ہیں لیکن انکی حیثیت فاتحین جیسی نہیں۔ اب وہ شاید کابل پر بزور طاقت قبضہ کرنے کا خیال دل سے نکال چکے ہیں۔اس لیے انکے سامنے بہترین آپشن یہ ہے کہ وہ نئی افغان حکومت کے ساتھ افہام و تفہیم سے اپنے لیے حکومت میں کردار حاصل کریں۔

لاکھوں افغان باشندے پاکستان میں مہاجرین کے طور پر رہ رہے ہیں۔ نئے افغان صدر کو انکا احساس بھی کرنا ہو گا تاکہ ملک میں امن قائم کرتے ہوئے ان افراد کی وطن واپسی کی راہ ہموار کی جا سکے۔ پاکستان اب مزید بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ اس لیے وہ بھی چاہے گا کہ افغانستان میں امن ہو تاکہ وہ بھی سکون سے رہ سکے۔ اسکے علاوہ طالبان قیادت کو بھی محفوظ راستہ دینا ہو گا تاکہ ملک کو مزید انتشار سے بچایا جا سکے۔ اس وقت پاکستان میں نواز شریف حکومت پاکستانی طالبان کے مسئلے کو مذاکراتی عمل کے ذریعے حل کرنے کی کوشش میں ہے۔ اگرچہ اس ضمن میں سیاسی جماعتوں اور دفاعی اداروں میں ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ کچھ جماعتیں طالبان کے خلاف بھرپور فوجی آپریشن کے حق میں ہیں۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ اب کوئی بھی افغانستان میں تشدد نہیں چاہتا۔ جہاں تک امریکی انخلا کا پاکستان پر پڑنے والے اثر کا تعلق ہے تو پہلے تو پاکستان چاہے گا کہ کم ازکم دس ہزار کے قریب امریکی فوجی افغانستان میں موجود رہیں تاکہ وہ افغان فوج کو کنٹرول کر سکیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو آخر کار وزیرستان میں آپریشن کرنا پڑے گا۔ ایسی صورت میں یہاں سے انتہا پسند بھاگ کر افغانستان میں پناہ لے لیتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کی خواہش ہے کہ ایسی صورت حال کے تدراک کے لیے امریکی افواج وہاں موجود رہیں۔ لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ امریکی وہاں موجود نہیں رہیں گے۔ دو تین سال پہلے تک پاکستان کے پاس ایک اچھا موقع تھا کہ وہ انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کر کے اپنے معاشرے کو ان سے نجات دلا سکے لیکن اب وقت اسکے ہاتھوں سے نکل گیا ہے۔ اب شاید کوئی بھی پاکستان کی مدد کرنے کیلئے تیار نہ ہو۔ امریکیوں کے جانے کے بعد اس خطے میں سعودی عرب کا کردار بھی اہم ہو گا۔ مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال تبدیل ہو رہی ہے اور اس میں بھی سعودی عرب کا کردار بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ پانچ سال سے حامد کرزئی سعودی عرب پر زور دے رہے تھے کہ وہ یہاں قیام امن میں اپنا کردار ادا کریں۔ تاہم اس وقت سعودی عرب اس پر راضی نہ ہوا لیکن دیگر عوامل تبدیل ہونے سے ہو سکتا ہے کہ ریاض اپنا فیصلہ بدل لے اور ایک اہم کھلاڑی بن کر سامنے آئے۔

بہ شکریہ روزنامہ "دنیا"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.