پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور ابھرتی میڈیا اسٹیبلشمنٹ

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
12 منٹ read

انیس اپریل کی شام ملک کے معروف اینکر پرسن حامد میر کے ساتھ ہونے والی واردات کی ہر فرد نے مذمت کی ہے کہ یہ بنیادی انسانی تقاضا ہے۔ اب وہ کافی حد تک رو بصحت ہیں اور اپنے نیم پیشہ ورانہ فرائض کی طرف جلد مکمل طور پر پیش رفت شروع کر دیں گے۔ پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں ہو سکتا ابھی انہیں کچھ توقف کرنا پڑے لیکن اس دوران جس جذبے اور رفتار سے وہ اپنے نیم پیشہ ورانہ امور انجام دینا چاہتے ہیں اس سے کافی حد تک ان کے پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی ہوتی رہنے کا امکان ہے۔ ویسے بھی جس مقام اور مرتبے پر وہ فاَئز ہیں یا جن مقاصد کے لیے وہ سر گرم ہیں جیسا کہ اپنے ہوش میں آنے کے بعد انہوں نے پہلے باضابطہ بیان میں بھی اشارہ دیا ہے ان کی وہی لڑائی ہے جو ان کے والد گرامی مرحوم پروفیسر وارث میر نے لڑی تھی۔

ان کے والد محترم کی لڑائی کا ایک پہلویہ تھا جو انہیں یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کی چئیر مین شپ کیلیے طویل عرصہ جاری رکھنی پڑی۔ کبھی چئیر مین بننے کیلیے اور کبھی اس منصب جلیلہ کو بچانے کیلیے انہیں تگ و دو کرنا پڑی۔ سچی بات ہے کہ ان کی زندگی کا یہ پہلو ان پر ایک آسیب کی طرح چھایا رہا۔ اسی تگ و دو نے ان کی شخصیت کو ناراضی کا اسلوب دیا، اسی کے سوتے سے کالم آڑائی پھوٹی اور پھر ایک ایسی لڑائی کا شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ حصہ بن گئے جس کے ثمرات ان کےلیے تو نہیں البتہ ان کے صاحبزادگان کے لیے موسمی پھلوں کی طرح دستیاب ہو گئے۔

وارث میرکو مرحوم ہوئے تقریبا اڑھائی عشرے ہو رہے ہیں۔ اس دوران ان کی خدمات کا ایک ثمر ابھی پچھلے ہی برس ان کے بڑے صاحبزادے اور ممتاز اینکر پرسن حامد میر نے بنگلہ دیش جا کر وصول کیا۔ یہ ثمر پرو فیسر وارث میر مرحوم کی ان خدمات کا بدلہ تھا جو انہوں نے حسینہ واجد حکومت کے مطابق بنگلہ دیش کی آزادی کی جدو جہد کیلے قلم کے میدان میں انجام دی تھیں۔ اسے حریت فکر کے نام سے کالم لکھنے والے وارث میر اور ان کے خاندان کیلیے تمغہ حریت بھی کہا جانا چاہیے۔ بنگلہ دیش بن گیا تو بھی حریت کا یہ سفر وارث میر کے قلم اور زبان سے جاری رہا۔ اس ناطے بعد ازاں ان کی اہمیت و افادیت کو تسلیم کیا جانے لگا۔

روس کا افغانستان پر حملہ اس سال امریکی حملے کی طرح انجام کو پہنچ رہا تھا کہ واپڈا ہاوس کے آڈیٹوریم میں جنگ لاہور کی طرف سے ایک غیر معمولی سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس سیمینار میں اس وقت کے افغان مجاہد گلبدین حکمت یار کے علاوہ پاکستان کے سیاستدان اور دانشور بھی تھے۔ ان میں ہی وارث میر بھی شامل تھے۔ اسی سیمینار میں مرحوم وارث میر نے افغانستان کے حوالے سے بظاہر ایک طبع زاد قسم کی تجویز پیش کی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بفر زون بنادی جائے۔ اس پر آڈیٹوریم میں موجود حاضرین کو پروفیسر وارث میر کے ویژنری ہونے کا علم ہوا لیکن کچھ رقیبوں نے اس دور کی کوڑی کا موقع پر ہی پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے اسی سٹیج سے حاضرین کو یہ مخبری کر دی کہ یہ تجویز تو ایک غیر ملکی طاقت پہلے ہی پیش کر چکی ہے۔ اس پر سیمینار کے شرکاء حیرت و استعجاب میں چلے گئے کہ حریت فکر کے ٹائٹل سے شائع ہونے والی تحریروں میں بھی کہیں تصورات کا ایسا ہی چربا تو نہیں ہوتا۔ بہر حال پروفیسر وارث میر اپنی حد تک اس لڑائی کو لڑتے رہے اس مقصد کیلیے جنگ کے صفحات ان کے لیے موجود رہے اب ان کی اسی لڑائی کو ان کے بیٹے لڑرہے ہیں۔

اس لڑائی کا پس منظر اور تمہید اس لیے ضروی تھا کہ لڑائی کے اہداف کا اندازہ ہو سکے۔ بلا شبہ پاکستان میں اس لڑائی کیلیے کندھے پیش کرنے والوں کی کمی نہیں ہو سکتی ہے۔ غیر ملکی طاقتیں پاکستان میں موجود اس سہولت سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ یہ سہولت اب اداراتی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اسی سہولت اور لڑائی کی کوکھ سے قوت کے نئے مراکز جنم لے رہے ہیں ۔ جن میں سے سب سے نیا طاقتی مرکز میڈیا ہے۔ ماضی میں پاکستانی پریس اپنی بقاء کی جنگ لڑتا رہا ہے۔ ا ب کے برسوں میں یہ ایک تنومند کھلاڑی ہے۔ ریاست کا چوتھا ستون بننے کے لیے سالہا سال تک کوشاں رہنے والا یہ پریس پاکستان کے اندر اور باہر ایسا ریاستی ستون تسلیم کیا جانے لگا ہے۔ جو دوسرے تین ستونوں میں سے جس کو اور جب چاہے چیلنج کر سکتا ہے۔ ماضی میں جو طاقت یہاں کی اسٹیبلشمنٹ کو اکیلے حاصل تھی اس کا استعارہ ماضی کا پریس اور آج کا میڈیا بن چکا ہے۔ مقننہ ، انتظامیہ تو باقاعدہ اس کے زیر اثر ہونے کا جوہر رکھتے ہیں جبکہ عدلیہ پر بھی سوار ہونے کی اس کی کوشش مثبت یا منفی انداز میں جاری رہنے کی علامات نظر آتی رہتی ہیں۔

اس ابھرتی ہوئی میڈیا اسٹیبلشمنٹ نے ''ایشوز جنریٹ'' کرنے سے لے کر ماحول ہموار کرنے تک اور معاشرتی اقدار پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ آج کے پاکستانی معاشرے کی تبدیل ہوتی اقدار اسی میڈیا کی طاقت کے مرہون منت ہیں۔ بول چال کے اسلوب، لباس، وضع قطع کے معاملات، سوچ اور فکر کے پیرائے، خاندانی نظام کے خدوخال، رشتوں کا تقدس، آمدنی اور خرچ کے انداز، شادی بیاہ کے رسم و رواج، تعلیم کے اہداف، سیاسی و حکومتی نظریات، دستوری تعبیرات اور ہر موقع پر پیش کیا جانے والا نظریہ ضرورت اسی طاقتور پاکستانی میڈیا کی بدولت ہے۔ پاکستان جہاں ماضی میں نظریہ ضرورت عدلیہ سے منسوب تھا، اب صبح شام اس کی نمود پاکستانی میڈیا میں ہوتی ہے۔ اس نظریہ ضرورت اور نظریہ ضرورت مندی نے خبروں اور موضوعات کے چناو اور پیشکاری کے اسلوب بھی بدل کر رکھ دیے ہیں۔ اسے ملکی معاملات میں فوجی مداخلت، نا اہل حکومتوں، حادثاتی سیاست، مفاد پرستانہ اور تاجرانہ ذہنیت اور نظریات کی طوائف الملوکی نے پوری طرح سہولت دی ہے۔ میڈیا کے لیے ان بڑھتے امکانات کا ہونا برا نہیں تھا لیکن پاکستانی ریاست کے نظریات اور سماجی وسیاسی نظریات کے سانچے میں ڈھلے میڈیا کو طاقت ملتی تو اس کا کردار زیادہ مثبت، موزوں اور مفید ہونا فطری تھا۔ لیکن ہوا یہ کہ وہ رہے وضو کرتے کے مصداق جن کا یہ کام تھا وہ دولت سمیٹنے اور محرومیاں دور کرنے میں لگ گئے۔ ایسے میں موقع پرست اور ابن الوقت قسم کی مافیا نے میڈیا کو اپنا ہتھیار بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ باہر کی طاقتوں سے بھی طاقت لینے کے فسانے کبھی حقیقت لگے اور کبھی ان کے اثرات و علامات کی نقرئی کرنیں اس طرح ہن بن برسیں کہ میڈیا کی دنیا ایک افسانوی اور رومانوی دنیا کی طرح پرکشش ہوتی گئی۔

پھر اس راستے سے جو کچھ بھی آیا قبول ہوا، تسلیم کیا گیا، خوش آمدید کہا گیا، چاہا گیا، پوجا گیا۔ اس پر جو کچھ بھی ہوتا رہا ہضم کیا جاتا رہا۔ حکمران اس کے ساتھ الجھنے سے بھاگنے والے، سیاستدان جی چرانے والے اور علما آنکھیں بچا کر ادھر ادھر ہو جانے والے بن گئے۔ مقامی صنعتوں کو ملٹی نیشنل کے اشتہارات نے میٹھے زہر کی طرح خاموش کر دیا، معاشرہ ثقافتی اور سیاسی حوالے سے نہیں اقتصادی اور معاشی اعتبار سے بھی ایسے اتار چڑھاو کی زد میں رہا، بے روز گاری اور افراط زر دونوں بڑھنے لگے۔ کبھی ریاست کے ایک ادارے نے تو کبھی دوسرے نے، کبھی ایک جماعت نے اور کبھی دوسری جماعت نے۔ کبھی ایک شخصیت نے اور کبھی دوسری شخصیت نے، کبھی لینڈ مافیا نے، بھتہ مافیا نے، کبھی قبضہ مافیا نے اس ابھرتی ہوئی طاقت اور اسٹیبلشمنٹ کو دامے، درمے، سخنے اپنے لیے مفید بنانا شروع کر دیا۔ پھر اس میں عالمی سیاست کے ستون بھی آموجود ہوئے۔ ذرا سوچیے تو یہ سارا کھیل کس کس کی ''ہز ماسٹر وائس'' اور کس کی آشا کیلیے ہوتا رہا۔ خبروں تک میں غیر ملکی ثقافت کی یلغار گانوں اور ناچ کی صورت در آئی۔ لسانی تراکیبب تک متاثر ہوئیں، اور اب اس نئی تنومند میڈیا اسٹیبلشمنٹ نے ملک کی دیرینہ اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کر دیا ہے۔

یہ چیلنج عوام کے حقوق کیلیے نہیں۔ عوام کی طرف سے نہیں، عوام کے روز گار کیلیے نہیں، تعللیم اور صحت کے لیے نہیں، تحفظ کیلیے نہیں، عزت و ناموس کے لیے نہیں، قومی ایجنڈے یا مفادات کیلیے بھی ہرگز نہیں بلکہ یہ اس وجہ سے ہے ملکی اسٹیبلشمنٹ اپنی اطلاعات اور تجزیے کی بنیاد پر جن عناصر کو غیر ملکی امداد کے سہارے پر پاکستان کو ایک مرتبہ پھر توڑنے کیلیے متحرک سمجھتی ہے یہ ان کے ساتھ محبت کی بنیاد پر ہے، یا جس تسلسل سے امن کی آشا جاری رکھی گئی ہے، ذرا سوچیے تو عوام کے اور کونسے مسئلے پر اتنا زور لگایا گیا ہے۔ کیا کراچی کے عوام پر برسہا برس سے مسلط خونریزی کے لیے ایسی کمٹمنٹ موجود ہے، کیا توانائی کے بحران سے نمٹنے کیلیے کوئی سیر حاصل بحث مباحثہ شروع کرایا گیا، کیا اس کے لیے کسی نے پوزیشن لی ؟

مختصرا یہ کہ اب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ ایک نئی اسٹیبلشمنٹ تشکیل پا چکی ہے۔ اس کے بارے میں اگر قانون اور ضابطے کے مطابق بھی کوئی کارروائی ہوئی تو بالکل اسی طرح مزاحمت ہوگی جس طرح ماضی میں پاکستانی ریاست کے دیگر بااثر ستون یا اسٹیبلشمنٹ کرتی رہی ہے۔ اس لیے قاعدے اور قانون کے تحت کی گئی کارروائی کے شروع ہونے سے پہلی ہی یہ آوازیں سامنے آگئی ہیں کہ اگر ایسا کیا تو نہیں مانیں گے۔ گویا فیصلے ان کی مرضی کے ہونے چاہیں جن کے بارے میں ہوں۔ یہ عارضہ پرانا ہے، اس لیے آگے بڑھنے کے خواہشمند پاکستان اور اس کے عوام اسٹیبلشمنٹس کی ابھرتی ڈوبتی دنیا میں کوئی منزل پا سکے تو یہ معجزے سے کم نہ ہوگا۔ کہ یہاں پل کر جوان ہونے والا ہر بیٹا ماں کے سینے پر چڑھ کر کھڑا ہونا اپنا حق سمجھتا ہے ، ہر فرد ایک ادارہ کہلاتا ہے اور ہر اداراہ اسٹیبلشمنٹ کا روپ دھار لیتا ہے۔ افسوس کہ پاکستان کے یہ بیٹے آپس میں دست و گریبان رہنے کے عادی ہو چکے ہیں یہی وجہ ہے ادارے مضبوطی کا جوہر پارہے ہیں اور جوہری ملک کمزور ہو رہا ہے۔ اے کاش امن کی کوئِ آشا اپنے ملک کے لوگوں کیلیے بھی بروئے کار آجائے اور ملک کے اداروں کے درمیان قومی بھلائی کی خاطر ایسا تعاون ابھارنے کیلیے کوششیں شروع کر دی جائیں جو ایک عرصے سے مسنگ ہے۔ فکری اعتبار سے ایسی حریت پر فخر کیا جائے جوکسی تمغہ حریت کیلیے نہ ہو، جو بعد از مرگ ہمارے بچے تو وصول کرتے رہیں لیکن پاک وطن حریت کے بجائے شکست وریخت سے ایک مرتبہ پھر دوچار ہوجائے، اس مقصد کیلیے لڑائی نہیں باہم مل کر منزل کا تعین کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ اسٹیبلشمنٹوں کی بھرمار ملکی استحکام کے حق میں نہیں ہوگی۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں