.

میڈیا، عسکری ادارے اور حکومت

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مجھ سمیت وہ سب لوگ غلطی پر ہیں جو یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ موجودہ حکمرانوں نے ماضی سے سبق نہیں لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ماضی سے سیکھا ہے اور بہت سیکھا ہے۔ ماضی میں وہ خود لڑتے تھے اور اب دوسروں کو لڑواتے ہیں۔ پرویز مشرف کے معاملے کو دیکھ لیجئے۔ حکمران خود فوج اور عالمی ضامنوں کو یقین دلاتے رہے کہ وہ کسی قسم کا انتقام نہیں لیں گے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی آڑ لے کر عدلیہ کے کاندھوں پر بندوق رکھ کر پرویز مشرف سے بدلہ لینے کا پروگرام بنایا گیا اور پھر خود ڈٹ کر مدعی یا فریق بننے کی بجائے پوری کوشش کی گئی کہ اس معاملے پر عدلیہ اور فوج ہی ایک دوسرے سے نمٹیں۔ وزیردفاع کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ ٹی وی کیمروں کے سامنے بیٹھ کر دھمکیاں دیتے رہیں اور وزیرداخلہ سے کہا گیا کہ وہ پرویز مشرف کو عدالت میں پیشی سے بچانے کے لئے عسکری اداروں کے منصوبے میں تعاون کرتے رہیں۔ یوں پرویز مشرف کے کیس کے ذریعے عدلیہ کو بھی زیردبائو لایا گیا ‘ فوج کو بھی اور میڈیا کا بھی فوج کے ساتھ تنائو پیدا کر دیا گیا۔ اب فوج اور عالمی ضامنوں سے کہا جا رہا ہے کہ حکومت تو پرویز مشرف سے جان چھڑانا چاہتی ہے لیکن عدلیہ اور میڈیا کے خوف سے وہ ایسا نہیں کر سکتی۔ طالبان کے معاملے کو دیکھ لیجئے۔ اس حکومت نے اگر مذاکرات کرنے تھے تو ابتدائی چھ سات ماہ کیوں ضائع کر دئیے۔ پھر جب مذاکرات کررہی تھی تو کمیٹی بنانے سے صرف چند روز قبل عسکری قیادت کے ساتھ بیٹھ کر آپریشن کا منصوبہ کیوں تیار کرایا۔ اب جب مذاکرات کر رہی ہے تو اس میں غیرضروری تاخیر سے کام لے کر وقت کیوں ضائع کیا جا رہا ہے ۔

طالبان کے پاس جانے یا کمیٹیاں بنانے سے قبل ضروری تھا کہ فوج کے ساتھ تمام معاملات صاف کردئے جاتے۔ اب وہاں پر بھی طالبان کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ حکومت تو ان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتی لیکن فوج رکاوٹ بنی ہوئی ہے جبکہ فوج سے یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت کوئی بھی قدم آپ کی مرضی کے بغیر نہیں اٹھائے گی۔ گویا حکمران ذمہ داری لینے کی بجائے یا تو وقت ضائع کر رہے ہیں یا ایسی صورت حال پیدا کرنا چاہتے ہیں جس میں فوج اور طالبان تو لڑ پڑیں لیکن خود حکمران فریق اور مدعی نہ بنیں۔ یہی صورت حال بلوچستان میں ہے۔ وہاں پر نہ تو ایف سی کو ہٹانے کے لئے کوئی قدم اٹھایا جا رہا ہے اور نہ عسکری اداروں کے اقدامات کو اون (Own) کیا جا رہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ سال پورا ہونے کے باجود بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات میں کیا پیش رفت ہوئی اور اگر مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں تو پھر عسکری اداروں کو لائن دے کر ان کے اقدامات کے حوالے سے حکومت ڈرائیونگ سیٹ پر کیوں نہیں آجاتی؟

حقیقت یہ ہے کہ وہاں پر بھی حکمران اپنے روئیے سے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جو کچھ ہے بلوچ عسکریت پسندوں اور فوج کے درمیان ہے اور وہ خود فریق نہیں ہیں۔ اب میڈیا اور فوج کا معاملہ دیکھ لیجئے۔ اگر واقعی آئی ایس آئی کے ساتھ زیادتی ہوئی تو سوال یہ ہے کہ آئی ایس پی آر کے انتظار کی بجائے وزارت دفاع نے تردید یا وضاحت کیوں جاری نہیں کی؟ جب جیو پر یہ سب کچھ چل رہا تھا تو اس وقت پیمرا نے مداخلت کیوں نہیں کی؟ پھر اگر جیو نے زیادتی کی تھی تو وزیر اطلاعات کی طرف سے میڈیا اور جیو کے حق میں بیانات کیوں جاری کئے گئے اور اگر آئی ایس آئی کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی تو آرمی چیف کی بجائے وزیراعظم نے آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیوں نہیں کیا۔ پھر اگر حامد میر صاحب اور جیو کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اسی حکومت کی وزارت دفاع نے اب جیوکے خلاف کارروائی کا نوٹس پیمرا کو کیوں بھجوایا؟

یہ کیا تماشہ ہے کہ وزیراطلاعات میڈیا کے حق میں بیان دیتے ہیں اور وزیرداخلہ اس کے خلاف۔ وزیراعظم جا کر حامد میرصاحب اور جیو سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور وزیردفاع ان کے خلاف کارروائی کا نوٹس پیمرا کو بھجواتے ہیں۔ کیا حکومت صرف ڈاک خانے کا کام کرتی ہے؟ اگر آئین کی بات کرنی ہے تو پھر افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر جناب ممنون حسین صاحب ہیں۔ وہ یا تو سپریم کمانڈر بنیں یا پھر گھر چلے جائیں۔ پاکستان ایک گھر ہے تو وزیراعظم اس کا سربراہ ہے۔ اس کا کام یہ نہیں ہے کہ بچوں کو لڑواکر تماشہ دیکھتا رہے۔ وہ زیادتی کرنے والے کا ہاتھ روکتا ہے اور اگر وہ زیادتی سے نہیں رکتا تو پھر وہ اس کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ یہ بھی نہیں کر سکتا تو پھر بچوں کو بٹھا کر ان کی صلح تو کرواتا ہے۔ جیو ٹی وی پر اگر افواج پاکستان یا اس کے سابق سربراہ کے خلاف سخت زبان استعمال ہوئی ہے تو وہ سب سے زیادہ موجودہ حکومت کے اس وزیردفاع نے کی ہے جنھوں نے جیو کے خلاف نوٹس پیمرا کو بھجوایا ہے۔ اب جیو کے خلاف پیمرا کو نوٹس بھجوانے سے قبل اخلاقی طور پر کیا یہ ضروری نہیں تھا کہ ان سے استعفیٰ لیا جاتا لیکن یہاں تو جیو کے خلاف نوٹس ان میں سے ایک وزیر صاحب کے دستخط سے پیمرا کو بھجوایا گیا ہے۔ نوٹس کے مندرجات سے ثابت ہوتا ہے کہ آئی ایس آئی پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ سے اس قدر ناراض ہے کہ وہ اس کی حب الوطنی پر بھی شک کر رہی ہے اور اب ثابت ہو گیا کہ اسی کی شہہ پر بعض لوگ ایک عرصے سے جنگ اور جیو کے خلاف مہم چلا رہے تھے ۔ یہ حکومت کا فرض تھا کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کرتی۔ اگر واقعی جنگ گروپ کا کوئی قدم ملکی مفادات کے خلاف تھا تو اس کے خلاف کارروائی کرتی اور اگر نتیجہ دوسرا نکلتا تو وزیراعظم اپنے ماتحت ادارے کو جنگ گروپ کے خلاف پروپیگنڈے اور دیگر اقدامات سے روکتے۔

محترم حامد میر صاحب ملک کے نمبرون اینکر اور کالم نگار ہی نہیں وزیراعظم صاحب کے ذاتی دوست بھی ہیں۔ وزیردفاع خواجہ آصف کے ساتھ تو ان کی دوستی ربع صدی پر محیط ہے اور حامد میر پر سیکورٹی اداروں کی برہمی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ بار بار خواجہ آصف ہی کو اپنے پروگرام میں بلاتے تھے۔ حامد میر صاحب نے اپنے بیان میں جن خدشات اور الزامات کا اظہار کیا ہے‘ ان کا وزیراعظم کو بھی علم تھا۔ وزیردفاع خواجہ محمد آصف اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق سے وہ متعدد بار اس موضوع پر بات کر چکے تھے ۔ سوال یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران وزیردفاع صاحب نے اپنے ایک ماتحت ادارے سے اپنے اس عزیز ترین دوست کے ایشو پر کیا بات کی؟ وہ اور کچھ نہ کرسکتے تو کیا اس ادارے کے متعلقہ لوگوں اور حامد میر صاحب کو آمنے سامنے بٹھا کر غلط فہمیوں کا ازالہ بھی نہیں کر سکتے تھے؟۔ جو ہوا اچھا نہیں بلکہ بہت برا ہوا لیکن بہر حال جو ہوا سو ہوا۔ اب حکومت کو یہ لاتعلقی اور تماش بینی کا سلسلہ ترک کر دینا چاہئے۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ گھر کے سربراہ کی طرح آگے بڑھیں۔ میڈیا اور عسکری اداروں کے معاملات کا جائزہ لیں۔ جو فریق زیادتی کر رہا ہو‘ اسے زیادتی سے روکیں۔ وہ اس ملک کے چیف ایگزیکیٹو ہیں۔ فوج ہو یا آئی ایس آئی، یہ سب اس ملک کی دفاع کے ذمہ دار اور اس وزیراعظم کے ماتحت ادارے ہیں ۔ ان کی عزت و وقار کو یقینی بنانا بھی ان کے فرائض میں شامل ہے اور اگر کہیں وہ تجاوز کر رہے ہیں تو انہیں اس تجاوز سے روکنا بھی ان کی ذمہ داری ہے ۔ میڈیا برائے نام آزاد ضرور سہی لیکن اس ریاست کا ایک ادارہ ہے۔ اس کا کوئی حصہ اگر واقعی ملکی مفادات کے منافی کام کر رہا ہے تو اسے اس سے روکنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اگر کہیں اس کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے تو زیادتی کرنے والے کا ہاتھ روکنا بھی حکومت وقت ہی کا فرض ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.