.

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

بشریٰ اعجاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگر مجھ سے کوئی پوچھے خفیہ والے کون ہیں اور ان کے اعمال کی ’’دست درازیاں‘‘ کہاں تک پھیلی ہوئی ہیں تو شاید اس کا جواب کبھی بھی نہ دے سکوں! وجہ صاف ظاہر ہے جب آنکھوں کے ’’ظاہر‘‘ میں دہشت گردی کی جنگ کے عفریت، اژدھے اور ایناکونڈے منہ سے دھواں اور آگ اگلتے ہوئے ہمہ وقت موجود ہوں اور ان کی پھنکاریں جانداروں کو بھسم کرتیں تیزی سے پتہ پتہ بوٹا بوٹا مٹانے کو آگے بڑھ رہی ہوں تو پھر خفیہ اور چھپے ہوؤں کی طرف توجہ بعید از امکان نہ ہو تو اور کیا ہو؟

حامد میر پر قاتلانہ حملہ جب خبر کی صورت موصول ہوا تو اس کا دھچکہ ایسا ہی تھا جیسا اک بڑی انہونی کا ہوتا ہے جو چند چند لمحوں کے لئے اعصاب کو شکستہ اور زبان گنگ کر دیتی ہے۔۔۔ اس دھچکے سے سنبھلنے سے پہلے ہی دوسرا دھچکا قاتلانہ حملے کے ’’نامزد ملزم‘‘ کے طور پر آئی ایس آئی کے سربراہ کے نام کا ڈھنڈورا تھا جس نے ہر جانب سنسنی پھیلا دی، خفیہ اور اس کے سابقہ اور حالیہ کردار کی حاشیہ آرائیوں نے حامد میر پر قاتلانہ حملے کے پہلے گھنٹے میں ہی جنگل کی آگ کی طرح یہ خبر ہر جانب نشر کر دی کہ ملک کے بے باک صحافی اور نڈر اینکرپرسن کو خفیہ والوں نے بزدلانہ حملے کے ذریعے موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔! جس کے بعد چند ہی گھنٹوں میں خفیہ اور خفیہ والے اتنے شرمناک، گھناؤنے، ظالم اور قابل مذمت ٹھہرا دیئے گئے کہ یہ ادارہ ملک کے وجود اور اس کے کردار پر اک دھبے کے مانند قرار دے کر اس کے کردار کو محدود اور کارروائیوں کو مختصر کرنے بلکہ صاف لفظوں میں اسے سزا دے کر کونے میں کھڑا کرنے کی جوشیلی آوازوں نے ملک کے طول و عرض میں اک ہلچل مچا دی، ظاہر ہے سرحدوں کے اس پار تو پہلے ہی خفیہ والوں یعنی آئی ایس آئی کے خلاف منتر پڑھنے، جاپ کرنے اور اسے کالی مئیا کی بھینٹ چڑھانے کی خواہش، سارے پنڈتوں، لالوں اور رام بھلی کرے گا، کا جاپ کرنے والوں کے منہ سے رال کی طرح ٹپکتی رہتی تھیں، سو اس موقع کو سنہری جان کر پروپیگنڈہ کے میڈیا ماسٹروں اور آکاش وانی کے پرانے اشلوک پڑھنے والوں نے اسے یوں کیچ کیا کہ پھر چل سو چل، لمحوں میں یہ تیر کمان سے نکل کر پورے گلوب میں پیوست ہو گیا! پورے اور آدھے دانشوروں، آزادئِ اظہار کے علم برداروں اور انسانی حقوق کے خودساختہ سالاروں نے تو پھر خفیہ والوں کے خلاف شروع کے چند گھنٹوں میں وہ غبار اڑایا کہ اس کی دھند میں آئی ایس آئی کا نہ صرف چہرہ دھندلا گیا بلکہ کردار بھی، چنانچہ آئی ایس آئی کے خلاف غیض و غضب کی اس فضا میں کسی صاحب الرائے نے یہ سوچنے کی زحمت گوارہ نہ کی کہ اس وقتی ہیجان کے بہاؤ میں قومی سلامتی کے اس اہم ادارے کو جو سامنے دکھائی دینے والے اژدھوں اور عفریتوں سے ہمیں بچانے کی ذمہ داریاں خاموشی سے نبھا رہا ہے اسے بستہ ب کے مجرموں کی سطح پر کھڑا کر کے ہم کسی مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کر رہے ہیں؟ اور یہ غفلت پاکستان، افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کے امیج اور کریڈیبلٹی کے لئے کس حد تک نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، جس میں خسارہ ہمارا اور فائدہ سراسر دشمنوں کا ہو گا!!

حامد میر پر قاتلانہ حملہ جس اناڑی پن سے ہوا ہے اور قاتلوں نے ڈرائیور کو گاڑی بھگانے اور گاڑی کو بھاگنے کا موقع دے کر حامد میر کو ہاسپٹل پہنچانے کی سہولت فراہم کر کے جس طرح اپنی ’’وسیع القلبی اور رحم دلی‘‘ کا ثبوت دیا ہے، اسے دیکھ کر زندگی کا پہلا پہلا جرم کرنے والے گلی کے آوارہ لونڈوں لپاٹوں کا خیال آتا ہے، جن کی منصوبہ بندی ناقص اور تجربہ نِل ہوتا ہے۔۔۔ آئی ایس آئی سے ایسی ناقص منصوبہ بندی اور ناتجربہ کاری کا مظاہرہ خود اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ واردات کسی کی بھی ہو سکتی ہے مگر آئی ایس آئی کی نہیں، جس نے پاکستان کے دشمنوں کو اتنا عاجز اور زچ کر رکھا ہے کہ چاہے امریکہ ہو یا بھارت۔۔۔ یا پھر چالیس سے زیادہ پاکستان دشمن طاقتوں کی ملک میں موجودگی۔۔۔ سبھی آئی ایس آئی سے نجات چاہتے ہیں تاکہ اقتدار کے سوداگر ٹولے یہ ملک پلیٹ میں رکھ کر آقاؤں کو پیش کر دیں اور خود کورنش بجاتے اُلٹے قدموں ان کی خلوت گاہوں سے باہر آ جائیں!

ہم جانتے ہیں میر جعفروں اور میر صادقوں کی اس ملک میں کوئی کمی نہیں اور ہم یہ بھی جانتے ہیں ان کے اصل کرداروں کا ریکارڈ اگر کسی ادارے کے پاس مکمل شہادتوں کے ساتھ موجود ہے تو وہ صرف آئی ایس آئی ہے، جس کا وجود مٹانے کی کوشش امریکہ اور اس کے حسین حقانی ٹائپ نمک خوار زرداری صاحب کی آشیرباد سے پہلے بھی کر چکے ہیں، یہ ادارہ اغیار کی آنکھوں میں شہتیر کے مانند کھٹکتا ہے۔۔۔ یہ ادارہ ایران و افغانستان اور بھارت سمیت یہودیوں کی خفیہ ایجنسیوں کو بھی بلائے جان لگتا ہے اور یہ ادارہ طالبان اور ان جیسے دیگر مزاحمتی شرپسند گروہوں کی بھی ہٹ لسٹ پر ہے۔۔۔ کیوں۔۔۔؟؟؟؟ کیا موجودہ واقعہ اور اس واقعے سے قبل افواجِ پاکستان کے کردار پر اعتراضات جڑنے والی سیاسی حکومت کے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟؟ وزیراعظم پاکستان جو ہمارے پسندیدہ صحافی کی عیادت کو ’’ننگے پاؤں‘‘ چل کر آغا خان پہنچ گئے۔۔۔ کیا ان کے ریکارڈ پر کراچی میں ہونے والے ہولناک بم دھماکوں، دہشت گردی کی وارداتوں اور لیاری گینگ وار کا نشانہ بننے والے معصوموں کی اشک شوئی کا کوئی ایک آدھ واقعہ بھی موجود ہے؟ بلوچستان میں ہزارہ برادری کے معصوم لاشے، شدید سردی میں ان لاشوں کے سرہانے سر نگوں بیٹھے ان کے مظلوم لواحقین اور دیگر دہشت گردی کے متاثرین کے ہاں بھی کبھی قدم رنجہ فرمایا، ہمارے پیارے وزیراعظم نے جو ہمارے صحافی بھائی کی خبر گیری کے لئے تڑپتے ہوئے آغا خان جا پہنچے؟ اگر یہ محض انسان دوستی اور رحم پروری ہے تو صرف مجروح صحافی کے لئے ہی کیوں؟ اور اگر ایسا نہیں تو پھر جنابِ وزیراعظم آپ کی مظلوم و بے کس رعایا آپ کے اس حسنِ سلوک سے اب تک کیوں محروم ہے؟؟

آج حکومت، تمام میڈیا پرسنز اور حامد میر کا ادارہ آئی ایس آئی کو جس شدومد سے قومی سلامتی کا اہم ترین ادارہ قرار دے کر آئی ایس آئی کے خلاف پروپیگنڈے سے مکر کر سارا الزام حامد میر کے سر تھوپ رہاہے اسے دیکھ کر کیا یہ ماننا ضروری نہیں ہو گیا کہ اس وقت ہمارا قومی منظرنامہ انتہائی غیرمحتاط، جذباتی، سابقہ غلطیوں سے کچھ نہ سیکھنے والے حکمرانوں، شعبۂ خبر کے نادانوں اور دشمن ایجنسیوں کے خریدے ہوئے ایسے مہربانوں سے لبالب بھرا ہوا ہے جو اپنے نام، شہرتیں اور نیک نامیاں بیچ کر ملک کی سلامتی اور بقا کے لئے ایسے خطرات پیدا کر رہے ہیں ماضی میں جن کی مثال نہیں ملتی۔! ہم کب سیکھیں گے، شاید کبھی نہیں۔۔۔ کہ جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کلہاڑی سے کاٹ رہے ہیں۔۔۔ اللہ کیسے ہماری مدد کرے گا جبکہ ہم خود اپنے آپ پر ذرا برابر مہربانی کرنے کو تیار نہیں۔! حامد میر پر قاتلانہ حملے میں کون ملوث ہے اور اس کی پشت پناہی کس نے کی۔۔۔ یہ راز تو وقت کے ساتھ ہی کھلے گا۔۔۔ یا شاید کبھی بھی نہ کھلے، مگر افواجِ پاکستان اور آئی ایس آئی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوؤں کے کردار اس حد تک ضرور کھل چکے ہیں کہ اب قوم چاہے جتنی بھی جذباتی اور جلدباز ہو وہ کم از کم اس ضمن میں مزید دھوکہ کھانے کو تیار نہیں، تصویر کا دوسرا رُخ جسے شروع کے آٹھ گھنٹوں میں چھپا کر صرف اپنی مرضی کی کہانی دیکھنے والوں کے سامنے ایک ہی اینگل سے پیش کی گئی، اس کہانی کے کئی دیدہ نادیدہ کردار تو سامنے آ گئے اور ان پر انگلیاں بھی اٹھنا شروع ہو گئیں۔۔۔ اب دیکھنا یہ ہے ’’وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا‘‘ کب سامنے آتی ہے۔! کچی پکی خبروں اور مرضی کے نتائج کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے والا میڈیا اور ہمارے یک سطحی سوچ کے حامل حکمرانوں کی کیا اس نازک موقع پر یہ ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ کہانی کے ماسٹر مائنڈ کو سامنے لائیں تاکہ حامد میر کو بھی انصاف مل سکے اور آئی ایس آئی کے دامن پر لگے چھینٹے بھی دھل سکیں، کیونکہ اس ایشو پر جس طرح میڈیا دو واضح دھڑوں میں تقسیم دکھائی دیتا ہے اسی طرح حکومتی ارکان بھی دو واضح حصوں میں نظر آ رہے ہیں۔

ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ملک کے حساس اداروں کے معاملے میں عوام الناس کی بے چینی مقتدر طبقوں اور میڈیا تک پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔۔۔جو اس امر کا اعلان ہے کہ اب پانی سر تک آن پہنچا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم اک مخصوص دشمن لابی کے مذموم عزائم کا شکار ہو جائیں ، ہمیں اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کی نشاندہی کرنا ہو گی!!

بشکریہ روزنامہ" نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.