بدترین غربت کیا ہوتی ہے؟

منو بھائی
منو بھائی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پوچھا گیا کہ ’’بدترین غربت‘‘ کیا ہوتی ہے؟ بتایا گیا کہ غربت اور امارت کے درمیان ناقابل عبور فاصلے کو ’’بدترین غربت‘‘ کہا جاتا ہے ۔ جب غربت بدنصیبی کی انتہائیں دریافت کر رہی ہو اور امارت معاشرے اور معیشت کے تمام ذرائع اور وسائل پر قبضہ کر چکی ہو جیسے کہ ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان میں ہے جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہلاتا ہے اور دنیا کی ایک تہائی غربت بھی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اگر دنیا کی سب سے بڑی غربت اور کرپشن بھی ہو گی تو اس سے بڑی جمہوریت کی بدنامی اور کیا ہو سکتی ہے؟ مگر بتایا گیا ہے کہ بالی ووڈ کی فلموں اور عالمی میڈیا پر ہندوستان کو عام طور پر ماڈرن بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کا حکمران طبقہ بھی پوری کوشش کرتا ہے کہ آسمان کو چھوتی ہوئی عمارتوں (امارتوں) اور عالی شان پلازوں کے سائے میں سانس لیتی ہوئی کچی آبادیوں اور جھونپڑیوں میں حیوانوں سے بھی بدترین زندگی بسر کرنے والے کروڑوں لوگوں پر کسی کی نظر نہ پڑے اور اس کے ساتھ ہی اس بے پناہ غربت کو عالمی سطح پر فروخت بھی کرتے ہیں اور یوں نام نہاد جدیدیت کی مصنوعی تہمت ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی معاشی و سماجی بدحالی کو چھپانے سے قاصر ہے۔

ہندوستان کے سماج اور معیشت کا یہ غیر ہموار ارتقا حالیہ انتخابات میں بھی واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ وہاں کے بڑے سرمایہ داروں کی مالیاتی اور سیاسی پشت پناہی نے سات اپریل سے بارہ مئی 2014ء تک متعدد مراحل میں ہونے والے عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی فتح کو بڑی حد تک یقینی بنا دیا ہے اور بھارتی حکمران طبقے کے انتہائی دائیں بازو کی نمائندگی کرنے والی یہ ہندو بنیاد پرست پارٹی ہندوستان کو مستقل طور پر سیکولرازم کی تہمت سے محروم کردے گی اور نئی حکومت ایک مذہبی جنوبی انسان کی سربراہی میں اب ہندوستان کو مزید ’’ماڈرن آئز‘‘ کرنے اور چین کے مقابلے میں لانے کی کوشش کرے گی۔ اس سے بڑا مذاق اور کوئی نہیں ہوسکتا۔

ہندوستانی اور عالمی میڈیا پر نریندر مودی کی متوقع فتح پر پیشگی بجائے جانے والے شادیانوں کے برعکس عوام کی وسیع بلکہ غالب اکثریت میں وہاں کے حالیہ انتخابات اور جمہوریت سے متعلق کوئی خوش فہمی یا امید موجود نہیں ہے۔ سماج میں مجموعی طور پر پوے نظام کے خلاف نفرت اور بغاوت کے جذبات بھڑک رہے ہیں۔ امریکہ کے مشہور ’’تھنک ٹینک‘‘ PEW RESERCH کی جانب سے کئے جانے والے ایک سروے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کے ستر فیصد لوگ کسی بہتر مستقبل کے امکان کی توقع نہیں رکھتے اور ہر دس میں سے آٹھ لوگ خاص طور پر معاشی صورتحال سے بری طرح تنگ ہیں۔ بھارتی ووٹر کے لئے ہر معاملہ ایک مسئلہ بن چکا ہے جو ناقابل حل دکھائی دیتا ہے۔

بھارت میں ارب پتی لوگوں کی تعداد جاپان کے ارب پتی لوگوں کی تعداد سے بڑھ چکی ہے۔ خوفناک حد تک یہ امیر لوگ اگرچہ مٹھی بھر ہیں مگر پوری معیشت کو اپنی مٹھی میں لئے ہوئے ہیں اور نریندر مودی کو وزیر اعظم بنانے کے لئے بے تاب ہیں۔ اوپر بیان کئے گئے تھنک ٹینک کے ایک سروے کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستان کے سو امیر ترین لوگوں میں سے 74 مودی کے پرجوش حامی ہیں جو سرمایہ داروں کے شرح منافع میں اضافہ کے لئے مزید ڈی ریگولیشن، منڈی کی آزادی اور ٹیکسوں میں چھوٹ اور عوام پر معاشی حملوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو دی جانے والی ’’سب سڈی‘‘ کا خاتمہ کر دیں گے۔

بھارت کے محنت کش طبقے نے جو حقوق و مراعات کئی دہائیوں کی جدوجہد سے حاصل کئے ہیں انہیں مودی کی حکمرانی واپس چھین لے گی اور یوں ہندوستان کو خونی انقلاب کے اور خونی انقلاب کو ہندوستان کے اور قریب لے آئے گی۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں