.

بھارت: متذبذب رائے دہندگان!

سیما مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں دنیا کا سب سے بڑا جمہوری تماشا شروع ہو چکا ہے جس کے دوران بھارت کے کروڑوں ووٹر نئی لوک سبھا کے لیے ووٹ دیں گے۔ انتخابی عمل مئی کے وسط تک جاری رہے گا اور جون تک بھارت کے نئے وزیراعظم حلف اٹھائیں گے۔ اس وقت بھارت کے انتخابی عمل میں دو بڑی سیاسی جماعتیں، کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی حصہ لے رہی ہیں جب کہ نوزائیدہ عام آدمی پارٹی بھی اس کوشش میں ہے کہ وہ ان دونوں سیاسی جماعتوں کے ووٹ بنک پر نقب لگا سکے۔ یہ بھی درست ہے کہ بھارت کا ہمسایہ پاکستان بھی ان انتخا بات کو دلچسپی کی نظر سے دیکھ رہا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اہم معاملات صرف اسی وجہ سے زیرالتواہیں کہ بھارت کی نئی حکومت ان معاملات کے ضمن میں کیا رویہ اختیار کرتی ہے۔ جب بھی نئی دہلی یا اسلام آباد میں نئی حکومت قائم ہوتی ہے، قیاس آرائیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کس کروٹ بیٹھیں گے؛ کیا یہ تعلقات بہتر ہوں گے یا پھر ان میں بگاڑ پیدا ہوگا؟ اس دفعہ یہ خدشات کہیں زیادہ ہیں کیونکہ بھارت میں بھی سیکولر اور ترقی پسندانہ گروہ جو بی جے پی مخالف سیاسی نظام پر مشتمل ہیں، داخلی اثرات کے متعلق فکرمند ہیں کہ نئی دہلی میں نریندرامودی کی حکومت کے باعث کس قسم کے بین الاقوامی اثرات مرتب ہوں گے۔

اس وقت شایدبی جے پی کا منشور زیربحث ہے جس میں جموں و کشمیر میں آئین کی شق 370 کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، اور پھر بی جے پی کی طرف سے پاکستان مخالف پراپیگنڈا، انتخابی مہم کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے؛ اور اس کے باعث ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ مودی کی طرف سے بھارت سے ملحق ریاست کے علاوہ ہمسایہ ملک کو نمائندے روانہ کیے گئے۔ یہ معلوم ہوا کہ کشمیرمیں مودی کے یہ نمائندے اپنے ہی انداز کے مالک لائٹ ویٹ سیاستدان ہیں جو حال ہی میں مودی کے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔ یہ امر تو نہایت ہی واضح ہے کہ مودی کے یہ نمائندے کشمیری راہنماؤں سے راہ ورسم بڑھانے کی کوشش میں ہیں کیونکہ ان کی نظریں کشمیر میں آئندہ ریاستی انتخابات پر ہیں۔

انہیں یہ بھی امید ہے کہ اگر قسمت نے یاوری کی تو وہ دہلی کی نئی حکومت اور کشمیری علیحدگی پسندوں کے درمیان مصالحت کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ بلاشبہ، مودی اس وقت تیز رفتار انتخابی مہم میں مصروف ہیں، مزیدبرآں وہ بہت سے انتخابی جلسوں سے خطاب بھی کر رہے ہیں، اور سب سے بڑھ کر بھارتی ووٹر بھی اس وقت تذبذب میں مبتلا ہیں ۔۔۔ اس لیے ان کے پاس اس قدر وقت ہی نہیں کہ وہ اس ملک کو اپنا نمائندہ روانہ کریں جو ان کی ترجیح میں آخری نمبر پر ہے۔ ممکن ہے کہ یہ وجہ نہ ہو بلکہ اس وجہ سے کہ وہ ایک روایتی بی جے پی آر ایس ایس راہنما ہیں اور انہیں پاکستان سے تعلقات میں بہتری لانے کی جلدی نہیں۔

ان سوچے سمجھے انکشافات کے پیچھے صرف ایک وجہ یہ ہے کہ بی جے پی کی طرف سے چلائی جانے والی نفرت انگیزمہم کو اب بھارتی رائے دہندگان زیادہ دیر تک برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ اب بھارتی عوام اس توجیہہ کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ’’اگر مودی اقتدار میں آ جاتے ہیں تو کوئی فکرنہیں کرنی چاہیے اور وہ ایک غیرمناسب قائد ثابت نہیں ہوں گے۔‘‘ بھارت سے ملحق ریاست اور ہمسایہ ملک کو مودی کی طر ف سے نمائندوں کی روانگی، واقعی سچ نہیں لیکن یہ اطلاعات اس لیے پھیلائی جا رہی ہیں کہ تاکہ بھارتی عوام کو یہ تاثردیا جا سکے کہ مودی کی طرف سے ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں اس وقت بھی جاری ہیں جب ایک تیز رفتار انتخابی مہم جاری ہے جس کا نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

مختصر یہ کہ اگر مودی کی طرف سے نمائندے ہمسایہ ملک اور ملحق ریاست کی طرف بھجوانے کی خبریں سچ ہیں تو ان کا مقصد نہ تو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری ہے اور نہ ہی ملحق ریاست کے عوام کے مسائل کو حل کرنا ہے، بلکہ اپنے آبائی انتخابی حلقے کی حفاظت کرنا ہے۔ اس وقت بھارت اپنی تاریخ کے نہایت ہی نازک موڑ پر ہے کیونکہ بھارتی عوام کی اکثریت غیرمطمئن اور فکرمند ہے۔ بھارت میں میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آنے والے بہت سے مضامین، خبروں اور اطلاعات کے ذریعے یہ صورت حال واضح ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ بھارتی فلمی صنعت، بالی ووڈ کے نمائندے، اداکار، ڈائریکٹر، سکرپٹ رائٹر اور نغمہ نگار، جو اس سے پہلے خاموش رہتے تھے، عوام سے اپیل کرتے نظر آ رہے ہیں کہ وہ اپنے قائدین کا انتخابات نہایت سوچ سمجھ کر کریں اور یہ امر یقینی بنائیں کہ ان کو ووٹ ملک میں سیکولرزم کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ثابت ہو۔ بی جے پی مخالف جماعتیں اس ضمن میں بھارت بھر میں اپنی سرتوڑ کوششیں کر رہی ہیں کہ بھارت کے عوام کو ایک سیکولر نظام لانے کی طرف متوجہ کیا جائے ۔

یہ ایک نہایت ہی مشکل لڑائی ہے کیونکہ ایک گروہ کو دولت مند طبقے کی حمایت حاصل ہے جبکہ دوسرا طبقہ بکھرا ہوا ہے اور وہ اپنی جھوٹی انا کے حصار میں گرفتار ہے اور وہ انتخابی اتحادوں کی طرف توجہ نہیں دے رہا۔ اگر پہلا طبقہ جیت جاتا ہے تو یہ اس وجہ سے نہیں ہوگا کہ ووٹروں کی تعداد 30 فیصد سے کہیں زیادہ ہو گئی بلکہ اس کی وجہ یہ ہوگی کہ بقایا 70 فیصد رائے دہندگان بکھرے ہوئے اور متذبذب ہیں کہ کسے ووٹ دیں۔

بشکریہ ' دی ایکسپریس ٹریبیون '
ترجمہ: ریاض محمود انجم

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.