.

فرد سے ناراض ہوا جا سکتا ہے ! نظریئے سے نہیں!

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈیلی نیوز میں اور پھر اس کے بعد جنگ میں ترجمے کی صورت میں شائع ہونے والا ایاز امیر کا کالم اپنی خوبصورت نثر اور بعض اوقات موضوعات کی اہمیت کی وجہ سے میرا پسندیدہ کالم ہے، اس کے علاوہ کالم نگار کے ساتھ میرے نیازمندانہ تعلقات بھی ہیں، کالم نگار مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے رہے ہیں۔ اس بار بدقسمتی سے انہیں ٹکٹ نہیں ملا۔ میں نے گزشتہ روز ان کا کالم پڑھا تو مجھے لگا کہ اپنی زندگی کے مشکل کاموں میں سے ایک کام مجھے کرنا پڑے گا۔ مشکل کام کسی دوست سے سرِعام اختلاف کرنا ہے کہ ان دنوں یار لوگوں نے اختلاف کو ’’مخالفت‘‘ کا ہم معنی سمجھ رکھا ہے۔ میں اس کالم پر اپنی رائے بعد میں دوں گا پہلے اس کا ایک اقتباس ملاحظہ فرما لیں، یہ اقتباس قدرے طویل ہے جس کے لئے معذرت خواہ ہوں۔ اقتباس:

’’حکمراں ایک مرتبہ پھر فوج کے ساتھ کبیدہ خاطر اور 1999 کے سائے ایک بار پھر منڈلاتے ہوئے۔ قسمت کی ستم ظریفی سمجھ لیں کہ پاکستان کو با ر بار اُنہیں راہوں پر آبلہ پائی کرنا پڑتی ہے جن سے وہ کچھ دیر پہلے گزر کر پائوں لہولہان کرا بیٹھا تھا۔ کیا ایک بار پھر ....’’اک رستہ، دو راہی‘‘.... والا معاملہ درپیش ہے؟ کیا دفاعی اداروں نے ہنوز اپنی حدود میں رہنا نہیں سیکھا یا پھر موجودہ حکمراں ہی ’’مریض ِ لادوا‘‘ ہیں۔ اگر حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ ان کا مسئلہ فوج نہیں، وہ خود ہی ہیں۔ دراصل وہ کسی ایسے شخص کے ساتھ نباہ کر ہی نہیں سکتے جو ان کی جی حضوری میں نہ لگا رہے۔ زیادہ تر انسانوں کی طرح، وہ بھی قدیم ترین بشری کمزوری ، خوشامد، کا شکار ہیں اور.....’’یہ وہ پھل ہے جو جنت سے نکلواتا ہے آدم کو۔‘‘جب سے وہ بازار ِ سیاست میں قسمت آزمائی کر رہے ہیں..... اور یہ اسّی کی دہائی کی بات ہے جب اُس وقت کے پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی نے موجودہ وزیراعظم کو پنجاب کا فنانس منسٹر بنایا، وہ چاپلوس اور چرپ زبان سرکاری افسروں کے درمیان گھرا رہنا پسند کرتے ہیں۔ اب جبکہ وہ تیسری مدت کے لئے وزارت ِ عظمیٰ پر فائز ہیں، یہ رجحان ہنوز تبدیل ہونا باقی ہے۔ دوسری طرف فوج کے ساتھ مسئلہ یہ کہ اس کے چیف، چاہے وہ کتنی ہی دھیمی طبیعت اور معتدل مزاج کیوں نہ رکھتا ہو، کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے باس کی خوشامد کو اپنا معمول بنا لے۔ وہ کسی درباری شاعر کی طرح وزیر ِاعظم کی تعریف و توصیف کو اپنا فن نہیں بنا سکتا۔ سیاست دان، سرکاری افسر اور مصاحب ، خاص طور پر جو آج کل وزیر اعظم کے ارد گرد دکھائی دیتے ہیں، اس وصف میں یدِطولیٰ رکھتے ہیں لیکن دنیا کی مضبوط ترین فوج میں سے ایک کے سپہ سالار ، جس کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی کنجی بھی ہو، سے چرب زبانی کی توقع کرنا زیادتی ہو گی۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ آرمی چیفس فطرتاً سیزر یا سکندر ہوتے ہیں، بلکہ اس عہدے کے حامل افراد کو زیب نہیں دیتا کہ وہ خارا شگافی کی جگہ شیشہ سازی کرتے دکھائی دیں۔ پنجاب کے موجودہ آئی جی پولیس خان بیگ کو حکمران فرائض کے علاوہ بھی کچھ کرنے کا حکم دے سکتے ہیں اور وہ خدمت بجا لائیں گے لیکن انہی بیگ صاحب کو آرمی چیف بنا دیں تو پھر کچھ کہہ کر دیکھ لیں۔ عہدہ سنبھالتے ہی ان کا مزاج بدل جائے..... اور پھر وزیراعظم کہیں گے کہ سازش ہو گئی۔‘‘

یہ تو ایاز امیر کے کالم کی دیگ کا ایک دانہ ہے جو میں نے آپ کو چکھایا ہے، باقی کالم بھی کم و بیش اسی نوعیت کا ہے۔ مجھے ایاز امیر کے بہت سے کالم پڑھ کر مسرت کا احساس ہوتا ہے ان کی زبان، ان کا لہجہ اور ان کا تجزیہ اکثر دل کو چھوتا ہے ، مگر نہ جانے اس کالم میں وہ اتنے غصے میں کیوں دکھائی دیتے ہیں، غصہ انسان کو اس کی بہت سی خوبیوں سے محروم کر دیتا ہے۔ آپ یقین کریں مجھے یقین نہیں آ رہا کہ ایاز امیر کے قلم سے ایک منتخب جمہوری حکومت اور فوج کے اختیارات اور رویوں کا موازنہ اس سوچ کے تحت بھی ہو سکتا ہے جو اس کالم میں نظر آتی ہے۔ گزشتہ دنوں فوج اور حکومت (دونوں کا علیحدہ علیحدہ ذکر وقت کی سفاکی ہے) ایک صفحے پر نظر نہیں آتے تھے مگر اب بعض تجزیہ نگاروں اور حکومتی حلقوں کے مطابق ان کے درمیان تنائو ختم ہو گیا ہے۔ میں نہیں جانتا اصل صورتحال کیا ہے کہ حکومت سے میرا کوئی رابطہ نہیں، البتہ فوج کے محکمے آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل عاصم باجوہ میرے مہربان ہیں مگر ان سے بھی بہت دنوں سے بات نہیں ہو سکی۔ تاہم حالات بظاہر اچھے نظر نہیں آ رہے۔ وزیر اعظم ہائوس، جی ایچ کیو اور میڈیا میں کچھ ایسے لوگ یقیناً موجود ہیں جن کے مشورے حالات کو نارمل نہیں ہونے دیتے۔ میں نہیں سمجھتا کہ حکومت سے کوئی غلطی نہیں ہوئی، ہوئی ہے اور مشیرانِ کرام جن میں فواد حسن فواد ایسے خودسر افسر بھی موجود ہیں حالات کی نزاکت کا خیال نہیں رکھ رہے۔ وزیر اعظم نے تو اپنے طور پر بھڑکتے شعلوں کو بجھانے کی بہت کوشش کی ہے اور دوسری طرف سے بھی اس حوالے سے کچھ مثبت اشارے ملتے ہیں تاہم ایک طبقہ کہیں نہ کہیں ایسا موجود ہے جو ایک بار پھر پرانا کھیل دیکھنے کا خواہشمند ہے۔

بہرحال صورتحال جو بھی ہو برادرم ایاز امیر اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ پاکستان کا کوئی وزیر اعظم آرمی چیف سے خوشامد کی توقع نہیں رکھتا، بلکہ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اسے پوری عزت دی جائے۔ چنانچہ گزشتہ دنوں وزیر اعظم نواز شریف نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بارے میں جو کلمات کہے وہ شاید اس سے پہلے انہوں نے کبھی نہ کہے ہوں۔

ان کے بارے میں نواز شریف کے کہے گئے جملوں کو اگر کوئی خوشامد کی زبان میں سمجھے تو یہ اس طرح کی زیادتی ہو گی جس طرح کی زیادتی یہ سمجھنا کہ وزیر اعظم دفاعی اداروں سے چاپلوسی اور خوشامد کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ معافی چاہتا ہوں یہ زیادتی برادرم ایاز امیر سے سرزد ہوئی ہے۔ ان کا یہ جملہ ملاحظہ فرمائیں :’’کیا دفاعی اداروں نے ہنوز اپنی حدود میں رہنا نہیں سیکھا؟‘‘ یہ ان کا سوال تھا اور اس کا جواب میرے ذہن میں کچھ اور تھا مگر ایاز امیر نے اپنا جملہ اس طرح مکمل کیا : ’’ کیا دفاعی اداروں نے ہنوز اپنی حدود میں رہنا نہیں سیکھا یا پھر موجودہ حکمراں ہی ’’مریضِ لادوا‘‘ ہیں۔ اگر حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ ان کا مسئلہ فوج نہیں، وہ خود ہی ہیں۔‘‘ یہ جملہ اس شخص کا ہے جو جمہوری قدروں کا علمبردار رہا ہے۔ اسے اگر کہیں نقص نظر آ رہا ہے تو صرف جمہوری حکومت کے وزیر اعظم میں، دوسری طرف راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ ایک جملہ مزید ملاحظہ فرمائیں:’’دوسری طرف فوج کے ساتھ مسئلہ یہ ہے (میں سمجھا شاید اب وہ اس کی کوئی خامی گنوائیں گے) کہ اس کے چیف، چاہے وہ کتنی ہی دھیمی طبیعت اور معتدل مزاج کیوں نہ رکھتا ہو، کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے باس کی خوشامد کو اپنا معمول بنالے۔ وہ کسی درباری شاعر کی طرح وزیر ِاعظم کی تعریف و توصیف کو اپنا فن نہیں بنا سکتا.... دنیا کی مضبوط ترین فوج میں سے ایک کے سپہ سالار ، جس کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی کنجی بھی ہو، اس سے چرب زبانی کی توقع رکھنا زیب نہیں دیتا۔‘‘نہ جانے پاکستان کا وہ کونسا احمق وزیر اعظم ہے جس نے اپنے دل میں کبھی یہ خواہش پالی ہو کہ ان کا آرمی چیف ان کی خوشامد کرے، جبکہ ہمارے ایسے ملک میں وزیر اعظم کی اپنی وزارت عظمیٰ، دفاعی اداروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے، وہ چاہیں تو وزیر اعظم کو پھانسی کے تختے پر لٹکا دیں، وہ چاہیں تو وزیر اعظم کو زنجیروں سے باندھ دیں اور اس کے علاوہ بھی وہ جو چاہیں جب چاہیں، کر کے دکھا دیں۔

برادرم ایازامیر کے کالم کے حوالے سے کئی کالم لکھے جا سکتے ہیں اور ان کے ہر اعتراض کا دوسرا رخ دکھایا جا سکتا ہے لیکن دل میں یہ خدشہ موجود ہے کہ کچھ ’’آبگینوں‘‘ کو کہیں ٹھیس نہ لگ جائے۔ آخر میں صرف ایک چھوٹی سی بات ! ہر انسان کسی بھی موقع پر کسی بھی فرد سے ناراض ہو سکتا ہے لیکن یہ ناراضگی فرد سے ہو، اس نظریئے سے نہیں، جس کے پرچار میں اس نے اپنی ساری عمر صرف کی ہو۔ دفاعی اداروں کی حرمت، عزت اور وقار ہم سب کا فرض ہے مگر بالادستی صرف اس کی ہے جسے پوری قوم نے اس ذمہ داری کے لئے منتخب کیا ہو!

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.