.

ٹونی بلیئر اور اسلام مخالف مہم

عرفان حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیاست دان پیدائشی طور قدرے ڈھیٹ ہوتے ہیں اور انکے جینز میں شرمندہ ہونے کے وصف کا ثبوت تاحال کسی سائنسی تحقیق سےنہیں ملا اور نہ ہی ایسا کوئی احتمال پایا جاتا ہے۔ تاہم ڈھیٹ ہونے کا معیار سب میں یکساں نہیں ہوتا۔ کئی سیاستدان اپنی محنتِ شاقہ سے اسے اوجِ کمال تک پہنچا دیتے ہیں، اس پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ " ایں سعادت بزورِ بازو' است"" ۔ سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر ان نابغہ روز گا رہستیوں میں سے ایک ہیں جن کے دم قدم سے بے شرمی، ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کو نئے معانی ملے ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ بہت سے سروے پول ظاہر کرتے ہیں کہ ایک تہائی برطانوی شہری انہیں جنگی مجرم قرار دیتے ہیں، لیکن وہ اپنے خبطی خیالات کی ترویج سے باز آنے کا نام نہیں لے رہے۔

انکی تازہ ترین یا وہ گوئی بلوم برگ میں ایک عوامی مقام پر کی جانے والی تقریر سے سامنے آئی جب انہوں نے مغرب پر زور دیا کہ وہ اسلامی انتہا پسندوں کا مقابلہ کرنے کیلئے روس اور چین کے ساتھ اتحاد کر لے۔ مسٹر بلیئر کے مطابق یہ انتہا پسندی عالمی امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں لیکن مغرب نے ان سے چشم پوشی کی پالیسی اپنائی ہوئے ہے۔ انہوں نے مغربی دارالحکومتوں پر زور دیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشمکش میں فریق بنتے ہوئے ان معتدل مزاج قوتوں کے ہاتھ مضبوط کریں جو بنیاد پرستوں کے خلاف صف آراء ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر مصر میں فوجی حکومت کی وکالت کرتے ہوئے اسکی اخوان کے خلاف کارروائیوں کی حمایت کی۔ یہ ہیں مسٹر بلیئر کے جمہوری تصورات۔

بنیادی طور پر انکی تقریر صدر بش کی طرف سے شروع کی جانے والی دہشتگردی کی نہ ختم ہونے والی جنگ کا "ازسر نو احیاء" کرنے کی درخواست تھی۔ اگر گزشتہ عشرے سے دنیا میں پیش آنے والے واقعات نے ہمیں کچھ سکھایا ہے اور اگر ہم سیکھنے کیلئے تیار ہیں تو حقیقت ہے کہ دنیا میں کوئی قدامت پسندانہ نظریات رکھنے والا اسلامی لشکر مارچ نہیں کر رہا، ایسے کسی لشکر کا کوئی وجود تک نہیں ہے۔ ہاں، دنیا کے مختلف خطوں میں کچھ انتہا پسند گروہ ہیں جن کے کچھ اپنے ایجنڈے ہیں، لیکن انہیں اسلامی لشکر قرار دینا درست نہیں۔ ان گروہوں کو مقامی طور پر سیاسی عمل اور جہاں ضرورت ہو فوجی کارروائی سے قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ ان گروہوں کے وجود میں آنے کی زیادہ تر وجوہ مقامی ہیں اور انہیں مقامی طور پر ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ انکے حل واشنگٹن یا لندن سے نہیں آئیں گے اور نہ ہی انکے بالمقابل مغرب ، چین اور روس پر مشتمل کوئی الائنس بنانے کی حماقت کی ضرورت ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ القاعدہ اور اس سے ملحق گروہ عالمی سطح پر موجود ہیں لیکن یقینا وہ خلا میں معلق کوئی طاقت نہیں۔ نوجوان مسلمانوں کو ایسے گروہوں میں شمولیت سے روکنے کیلئے ایک جاندار مکالمے کی ضرورت ہے، لیکن ٹونی بلیئر جیسے رہنما جنکے اپنے ہاتھ خون سے آلودہ ہوں، ایسے مکالمے کو غیر موزوں قرار دیتے ہیں لیکن کوئی انکی بات سنے گا اور نہ ہی سمجھے گا۔ انہوں متعددبار سیاسی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا، سیاست دانوں کو شرمندہ ہونے کی صلاحیت ودیعت ہی نہیں کی گئی۔

میں نے گزشتہ ایک کالم میں لکھا تھا کہ برطانیہ میں ایک تشویش کی لہر ابھر رہی ہے کہ نوجوان برطانوی مسلمان شام میں اسد حکومت کے خلاف لڑنے کیلئے انتہا پسندوں کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں۔ کچھ دن پہلے شام میں 16سالہ برطانوی مسلمان نوجوان ہلاک بھی ہو گیا تھا۔ پولیس نے برطانیہ میں رہنے والی مسلمان خواتین سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ اپنے بچوں، بھائیوں یا شوہروں میں کوئی ایسی تحریک، جذبات یا سرگرمی دیکھیں جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ وہ شام کی صورتِ حال میں دلچسپی لے رہے ہیں،یا انہیں مسٹر اسد ناپسند ہیں یا وہ ترکی جانا چاہتے ہیں تو وہ پولیس کو آگاہ کریں۔ تاہم برطانوی مسلمانوں کو پولیس پر اتنا اعتماد نہیں کہ خواتین اپنے خاندان کے مردوں کی سرگرمیوں کے بارے میں پولیس کو آگاہ کردیں۔ پہلے ہی برطانیہ کے مسلمان شہری یہ محسوس کرتے ہیں کہ حکام اور میڈیا انکے ساتھ غیر منصفانہ سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔ اب اس پر مستزاد ، خواتین کو کہا جارہا ہے کہ وہ اپنے مردوں کی نگرانی کریں۔ اس اقدام کا مقصد برطانوی مسلمانوں کو شام جا کر لڑنے سے روکنا ہے لیکن اپنائے جانے والے طریقے کی کامیابی مشکوک ہے۔

آجکل میڈیا کی توجہ ایک کیس پر مرکوز ہے جسکے مطابق ایک اسلامی گروہ برمنگھم کے پچیس سکولوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ تحقیقات ایک گمنام خط ملنے سے شروع کی گئی جس میں لکھا تھا کہ ان سکولوں میں صرف اسلامی اقدار کی تعلیم ہی دی جاتی ہے۔ الزام لگایا گیا کہ ان سکولوں میں تعلیم دینے والے سیکولر ٹیچرز کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ یہاں جنسی تعلیم ممنوع اور لڑکوں اور لڑکیوں کو الگ پڑھایا جاتا ہے۔ اب سیکرٹری تعلیم مائیکل گود نے معاملے کی تحقیقات کیلئے انسپکٹرز بھجوانے کے علاوہ پیڑ کلارککو جوسکاٹ لینڈ یارڈ کے انسداد دہشتگردی سیل کے سابق سربراہ ہیں، مقرر کیا ہے تاکہ دیکھا جائے کہ اس تنظیم کا کسی انتہا پسند گروہ سے تو کوئی تعلق نہیں۔ تاہم اس پیش رفت پر مقامی پولیس چیف نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان تحقیقات کا برمنگھم کی مسلم کمیونٹی پر جو پرامن شہری ہیں، منفی اثر پڑے گا۔ سیمس ملن " دی گارڈین" میں لکھتے ہیں:" مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مسلمان خاندان ، چاہے انکا تعلق لبرل طبقے سے ہو یا روایتی خاندانوں سے، وہ اپنے بچوں کو "اسلام مائز"کرنے کی بجائے بہتر تعلیم دلانا چاہتے ہیں، لیکن جو شور مچایا جارہا ہےاس سے عام مسلمان خاندانوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور وہ عام سماجی زندگی میں حصہ لینے سے کترائیں گے کہ مباداانہیں انتہا پسند سمجھا جائے ۔"

مسٹر ملن برطانوی حکومت کی متضاد پالیسی کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جو مسلمان رضاکار شام میں اسد حکومت کے خلاف لڑنے جاتے ہیں انہیں واپسی پر گرفتار کرنا ناانصافی ہے اس لیے کہ :" ایک طرف ان برطانوی مسلمانوں کو جو شامی حکومت کے خلاف لڑنے گئے، دہشتگردی کے الزام میں گرفتار کیا جارہا ہے ، لیکن بہت سے برطانوی شہری لیبیا میں قذافی حکومت کے خلاف لڑنے گئے تھے لیکن انہیں اس طرح کے الزام میں گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔ کیا صریحا منافقت نہیں کہ ہماری حکومتوں نے گزشتہ ایک صدی سے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی اور آمرانہ حکومتوں کی حمایت کی٫؟ درحقیقت 2001ء کے بعد اسلامی انتہا پسندی اور جہادی سرگرمیوں میں اضافے کا باعث یہی منافقانہ پالیسیاں ہیں۔" اس وقت حقیقت یہ ہے کہ مغربی ممالک کے علاوہ خود مسلمان ممالک بھی انتہا پسندوں کے ہاتھوں زک اٹھا رہے ہیں۔ اگرچہ مغربی ممالک نے سخت قوانین بناتے ہوئے اس مسئلے کا تدارک کر لیا ہے لیکن پاکستان جیسے اسلامی ممالک میں اس پر قابو پانا ابھی باقی ہے۔ یہ سب مسئلے اپنی جگہ پر، لیکن دنیا کو ٹونی بلیئر کے اخلاقی خطبات کی کوئی ضرورت نہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "دنیا"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.