.

چھ گولیاں اور سات راتیں

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کراچی پاکستان کا سب بڑا شہر ہے لیکن کچھ لوگ اسے پاکستان کا سب سے خطرناک شہر بھی سمجھتے ہیں، 2002ء میں پاکستان کے سب سے بڑے ٹی وی چینل جیو ٹی وی نے اپنے سفر کا آغاز کراچی سے کیا تو میں بھی ٹریننگ کیلئے تین ماہ تک کراچی میں مقیم رہا۔ اسی ٹریننگ کے دوران ایک صبح امریکی قونصلیٹ کے قریب ایک زور دار بم دھماکہ ہوا، میں دھماکے کی جگہ سے کچھ دور ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں اپنے ٹریننگ سیشن میں موجود تھا، دھماکہ اتنا شدید تھا کہ بہت سے شیشے ٹوٹ کر مجھ پر گرے، اس واقعے کی دہشت نے مجھ سمیت کئی ساتھیوں کو ایک انجانے خوف میں مبتلا کر دیا، ہم نے اسی انجانے خوف کے سائے میں اپنی ٹریننگ مکمل کی۔

میں جیو ٹی وی اسلام آباد کے بیورو چیف کی حیثیت سے کراچی سے واپس دارالحکومت آیا تو اس وقت کی حکومت کے اعلیٰ حکام میرے پیچھے پڑ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیو ٹی وی ملک دشمن چینل ہے اور مجھ جیسے محب وطن پاکستانی کو اس ملک دشمن چینل سے دور رہنا چاہئے، میرا جواب بڑا سادہ تھا میں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت ایک آرمی چیف چلا رہا ہے اگر حکومت کے پاس جیو ٹی وی کی ملک دشمنی کا کوئی ثبوت موجود ہے تو مجھے دکھایا جائے میں یہ ادارہ چھوڑ دوں گا، مجھے کوئی ثبوت نہ دکھایا گیا البتہ حب الوطنی کے علمبردار مجھ سے ناراض ہو گئے، پاکستان میں پرائیویٹ الیکٹرانک میڈیا کا آغاز اتنا خوشگوار نہ تھا، حکومت وقت پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتی تھی تاکہ اکتوبر 2002ء کے عام انتخابات میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر سکے۔ پرویز مشرف کی حکومت نے مغرب کو خوش کرنے کیلئے ایک طرف پاکستان میں میڈیا کو آزادی دینے کا ڈرامہ شروع کیا دوسری طرف پاکستان میں صحافیوں کیلئے خطرات بڑھنے لگے۔ شدت پسندوں اور خفیہ اداروں کا محبوب ترین ٹارگٹ صحافی تھے، کچھ صحافی حب الوطنی کے نام پر خفیہ اداروں کے ترجمان بن گئے، کچھ نے اسلام کے نام پر شدت پسندوں کی حمایت شروع کردی، کچھ قوم پرستوں کے چنگل میں پھنس گئے اور آزاد صحافت کیلئے قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان میں جگہ تنگ ہونے لگی۔صحافیوں کا قتل اور اغواء پاکستان میں ایک معمول بن گیا، میڈیا انڈسٹری عدم تحفظ کا شکار ہو گئی، 2007ء میں جنرل پرویز مشرف کی ایمرجنسی نے پاکستانی میڈیا کو دو واضح دھڑوں میں تقسیم کر دیا، ایک دھڑا پاکستان کے طاقتور خفیہ اداروں کے ہاتھوں میں کھلونا بن گیا، دوسرا دھڑا اپنی حق گوئی کے باعث غدار اور ملک دشمن قرار پایا، یہ تقسیم صرف میڈیا میں نہیں بلکہ سیاست میں بھی نظر آتی ہے، سپریم کورٹ کے حکم پر پرویز مشرف کے خلاف آئین سے غداری کے مقدمے کا آغاز ہوا تو سیاست و صحافت میں اس تقسیم نے محاذ آرائی کی صورت اختیار کر لی، مشرف کے ٹرائل نے پاکستان کے کئی اہم مسائل کو پس منظر میں دھکیلنا شروع کردیا، پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے، کچھ لوگ کہتے تھے کہ اگر پاکستان میں ڈرون حملے بند ہوجائیں تو دہشت گردی بھی ختم ہو جائے گی، ڈرون حملوں میں وقفے کو100 دن پورے ہوچکے تھے لیکن دہشت گردی ختم نہ ہوئی، کچھ لوگ کہتے تھے کہ اگر طالبان سے مذاکرات کئے جائیں تو سب ٹھیک ہو جائیگا، ڈرون حملے بند ہونے کے بعد طالبان سے مذاکرات جاری تھے لیکن دہشت گردی جاری تھی۔

جیو ٹی وی نے اس اہم معاملے پر ایک خصوصی مباحثے کا اہتمام کیا اور میں اس مباحثے کیلئے19 اپریل کی دوپہر اسلام آباد سے بذریعہ ہوئی جہاز کراچی روانہ ہوا، میں کراچی میں لاتعداد ٹی وی پروگرام کر چکا ہوں لیکن سچ یہ ہے کہ کراچی کے سفر کا آغاز ہمیشہ ایک انجانے خوف سے شروع ہوتا ہے، خفیہ اداروں کے ناپسندیدہ صحافیوں کو کراچی میں ٹارگٹ بنانا بہت آسان ہے لیکن مجھ جیسے صحافی کراچی کو خطرناک سمجھ کر وہاں نہ جائیں تو عوام کے جذبات کی ترجمانی کے دعویدار کیسے بن سکتے ہیں؟ بس یہی سوچ کر میں نے کراچی کے حوالے سے پرانے خوف پر حاوی ہونے کی کوشش کی اور اپنی اہلیہ سے کہا کہ کالے بکرے کا صدقہ دیدیا جائے، مجھ جیسے کمزور صحافی غریبوں میں گوشت بانٹنے کو ہی اپنی سیکورٹی سمجھتے ہیں، ہفتہ کی صبح کالے بکرے کے صدقے کے بعد میں کراچی روانہ ہو گیا، کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ کرتے ہی مجھے اپنی ساتھی پروڈیوسر کا پیغام ملا کہ کل کے خصوصی مباحثے میں تحریک انصاف کی طرف سے اسد عمر کو آنا تھا انہوں معذرت کر لی ہے۔ میں نے جواب میں کہا کہ تحریک انصاف کے رہنما شاہ فرمان کو پشاور سے بلا لیا جائے۔

میں اسی مسئلے سے الجھتا ہوا ایئرپورٹ سے باہر آیا، گاڑی میں بیٹھا اور ڈرائیور سے پوچھا کہ سیکورٹی گارڈ کہاں ہے؟ ڈرائیور نے کہا کہ وہ ایئرپورٹ کے باہر کھڑا ہے، کچھ دیر میں سیکورٹی گارڈ بھی گاڑی میں بیٹھ گیا، گاڑی ایئرپورٹ سے باہر آ گئی، میں نے دوبارہ پروڈیوسر کو پیغام لکھنا شروع کیا کہ کل کے لائیو شو کی میٹنگ کتنے بجے ہو گی اس دوران فائرنگ کی تڑتڑاہٹ سے میں ہڑبڑا گیا، میری نظروں نے گاڑی کے دائیں شیشوں کو ٹوٹتے دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ ٹارگٹ میں ہوں کیونکہ ایک گولی میرا دایاں کندھا چیر چکی تھی، میں نے فورًا ڈرائیور سے کہا گاڑی بھگائو لیکن ہم ٹریفک کے طوفان میں پھنسے ہوئے تھے، فائرنگ جاری تھی، گولیاں میری ٹانگوں میں پوست ہورہی تھیں، سڑک پر موجود گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے سواروں نے جب دیکھا کہ ایک گاڑی فائرنگ کی زد میں ہے تو انہوں نے ہمیں راستہ دینا شروع کیا، فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا، ایک اور گولی مجھے کمر کے بائیں حصے میں پیوست ہوتی محسوس ہوئی تو میں نے کلمہ پڑھنا شروع کر دیا، حملہ آوروں کا پیچھا جاری تھا، وہ مسلسل فائرنگ کر رہے تھے اور ہم آگے کو بھاگ رہے تھے، میں نے دفتر میں ساتھیوں کو فون پر بتانا شروع کیا کہ میں فائرنگ کی زد میں ہوں، ڈرائیور سے کہا کہ ہسپتال کی طرف بھاگو، اس دوران مزید دو گولیاں میرے پیٹ میں گھس چکی تھیں اور میرے ماتھے پر پسینہ آ رہا تھا، حملہ آوروں کی فائرنگ اور ٹریفک کے طوفان سے ٹکراتے ہوئے ہم آغا خان ہسپتال کی ایمرجنسی میں پہنچ چکے تھے۔ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا چکا تھا، ہمت کر کے گاڑی سے نکلا اور ایک اسٹریچر پر گر گیا پھر مجھے نہیں پتہ کیا ہوا؟ حملے کے تیسرے دن ہوش آیا تو ڈاکٹروں نے آہستہ آہستہ بتانا شروع کیا کہ آپ کو چھ گولیاں لگی ہیں لیکن آپ بچ چکے ہیں، یہ سوچ رہا تھا کہ جس شخص نے مجھ پر اندھا دھند گولیاں برسائیں اس کا مجھ سے کیا اختلاف تھا؟

پھر میں نے سوچا کہ اصل ملزم گولیاں چلانے والا نہیں بلکہ حملے کی منصوبہ بندی کرنے والا ہے، منصوبہ بندی کرنے والے کئی چہرے میری آنکھوں کے سامنے لہرائے، میں اپریل کے پہلے دو ہفتوں کے واقعات کی روشنی میں آپ کو کئی کہانیاں سنا کر نفرتوں کے نئے الائو بھڑکا سکتا ہوں جس میں بہت کچھ جل سکتا ہے لیکن پھر مجھ میں اور دہشت گردوں میں کیا فرق رہ جائے گا؟ جن لوگوں نے2002ء میں جیو ٹی وی کو غدار کہا وہ آج پھر جیو ٹی وی کو غدار کہہ رہے ہیں، ان کے پاس نہ پہلے کوئی ثبوت تھا نہ آج کوئی ثبوت ہے میں یہ معاملہ اپنے اللہ اور عدالتوں پر چھوڑتا ہوں، آپ کو صرف یہ بتانا ہے کہ چھ گولیوں کے زخموں کے ساتھ آغا خان ہسپتال میں اس خاکسار نے جو سات راتیں گزاریں ان میں درد اور تکلیف کے کئی مرحلے آئے لیکن اس درد اور تکلیف نے اللہ تعالیٰ پر ایمان اور میرے عزم و حوصلے کو پہلے سے زیادہ مضبوط کیا، میں ان سب لوگوں کا شکرگزار ہوں جو اس مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑے ہوئے اور میری صحت یابی کی دعائیں کرتے رہے، یہ سطور لکھتے ہوئے بھی کافی درد محسوس کر رہا ہوں لیکن یہ درد محض اس لئے اٹھا رہا ہوں کہ آپ سے وعدہ کرنا ہے کہ چھ گولیوں نے میرے جسم پر جو داغ لگائے ہیں میں ان داغوں سے ایسے اجالے سجانے کی کوشش کروں گا جو پاکستان میں شعور و آگہی پھیلائیں۔ چھ گولیوں اور آغا خان ہسپتال میں گزری سات راتوں نے مجھے احساس دلایا ہے کہ پاکستان میں اقتدار اور اختیار کے اصل مالک عوام نہیں کوئی اور ہے۔

حقیقی آزادی کی منزل ابھی بہت دور ہے لیکن مایوسی گناہ ہے، آخری فتح عوام کی ہو گی، عوام کو فتح کی منزل تک پہنچانے کیلئے ابھی مزید قربانیوں کی ضرورت ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.