.

اگلا افغان صدر۔ کون اور کیوں؟

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جوں جوں وقت گزرتا ہے توں توں اسلام آباد ‘ماضی کے اس بغداد سے زیادہ مماثل بنتا جا رہا ہے جس پر جب تاتاری حملہ آور ہو رہے تھے تو وہاں نان ایشوز پر مناظرے برپا تھے۔ خطے کی صورت حال بدل رہی ہے۔ مشرقی سرحد پر ہندوستان بدل رہا ہے تو مغربی سرحد پر افغانستان بدل رہا ہے۔ خطے میں ایران اور خلیجی ملکوں کی لڑائی جس کا میدان پاکستان بھی ہے‘ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ چین عالمی اور علاقائی قوتوں سے متعلق اپنی پالیسی میں تبدیلیوں کے راستے پر گامزن ہے جبکہ روس نئی انگڑائی لے رہا ہے۔

اس تناظر میں خطے کا ہر ملک نئی صف بندی کر رہا ہے اور نئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے قومی سطح پر ہم آہنگی اور یکسوئی کے ساتھ اپنی بقا اور مفادات کے تحفظ کے لئے غور و خوض میں مصروف ہے لیکن ہم پاکستانی‘ جنہوں نے خطے میں سب سے زیادہ متاثر ہونا ہے اور جن کے لئے ابھرنے والے چیلنج خطے کی کسی بھی قوم سے زیادہ سنگین ہیں‘داخلی لڑائیوں میں مگن ہیں۔ ادارے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مگن ہیں جبکہ میڈیا میں ’’تو غدار تو غدار‘‘ کا کھیل زوروں پر ہے۔ سردست افغانستان کے محاذ پر متوقع تبدیلیوں میں سے صرف ایک تبدیلی یعنی صدارتی انتخابات کے تذکرے پر اکتفا کرتا ہوں جو غیر متوقع طور پر ماضی کے انتخابات کی بہ نسبت زیادہ پُرامن طریقے سے منعقد ہوئے‘ جن میں حزب اسلامی جیسی امریکہ اور کرزئی مخالف جماعت کے وابستگان نے بھی حصہ لیا اور جس کے نتائج بعض حوالوں سے حیران کن ہیں۔ انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا اور 26اپریل کو الیکشن کمیشن نے پہلے مرحلے کے نتائج کا اعلان کر دیا۔ ابتدائی نتائج کے مطابق اڑسٹھ لاکھ بانوے ہزار آٹھ سو سولہ(6892816)افغانوں نے ووٹنگ میں حصہ لیا جن میں چھیاسٹھ لاکھ سترہ ہزار چھ سو چھیاسٹھ (6617666)درست قرار پائے۔ ان میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے چوالیس اعشاریہ نو فی صد (44.9%)‘ ڈاکٹر اشرف غنی احمد زئی نے اکتیس اعشاریہ پانچ فی صد (31.5%) ‘ ڈاکٹر زلمے رسول نے گیارہ اعشاریہ پانچ فی صد (11.5%) ‘عبدالرب رسول سیاف نے سات اعشاریہ ایک فی صد (7.1%)‘قطب الدین ہلال نے دو اعشاریہ سات فی صد (2.7%)‘شفیق گل آغا شیرزئی نے ایک اعشاریہ چھ فی صد (1.6%) ‘ دائود سلطان زئی نے اعشاریہ پانچ فی صد (0.5%)‘جبکہ ہدایت امین ارسلا نے اعشاریہ دو فی صد (0.2%) ووٹ حاصل کئے۔

یوں اب یہ واضح ہو گیا کہ اگلے مرحلے میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور ڈاکٹر اشرف غنی کے مابین مقابلہ ہو گا اور ان دو میں سے ہی کوئی ایک افغانستان کا اگلا صدر قرار پائے گا۔ پہلے مرحلے کے نتائج کے مطابق عبداللہ عبداللہ کے ووٹ اندازوں اور تجزیوں کے مطابق ہی رہے البتہ ڈاکٹر اشرف غنی کی غیرمعمولی مقبولیت اور زلمے رسول جو کہ حامد کرزئی کے نامزد امیدوار سمجھے جاتے تھے‘ کی طرف سے صرف گیارہ اعشاریہ پانچ فی صد ووٹوں کا حصول حیران کن اور تجزیوں کے خلاف رہا۔ ڈاکٹر زلمے رسول کے مقابلے میں ڈاکٹر اشرف غنی کی سبقت کے حوالے سے دو سازشی تھیوریاں بھی گردش کر رہی ہیں۔ ایک یہ کہ افغان صدر حامد کرزئی نے عالمی قوتوں اور ملک کے اندر مختلف کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کھیلا ہے۔ ان کی اصل ہمدردیاں ڈاکٹر اشرف غنی کے ساتھ تھیں اور درپردہ گٹھ جوڑ بھی ہوا تھا لیکن ظاہری طور پر وہ ڈاکٹر زلمے رسول کو سپورٹ کر رہے تھے۔ اس کے برعکس دوسری سازشی تھیوری یہ گردش کررہی ہے کہ امریکیوں نے حامد کرزئی کو سبق سکھا دیا ہے اور یہ کہ ان کے ایماء پر حکومتی مشینری کے بڑے حصے نے ڈاکٹر اشرف غنی کے لئے کام کیا ہے۔ زلمے خلیل زاد اور امریکہ کے ساتھ قربت رکھنے والے بعض دیگر افغانوں کی طرف سے ڈاکٹر اشرف غنی کی حمایت سے اس نظرئیے کو مزید تقویت ملتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی کی پانچ سال کی مسلسل محنت اور حامد کرزئی کی حکومت کی خراب کارکردگی یا پھر انتخابات کے حوالے سے غلط حکمت عملی ہی سب سے بڑی وجہ ہے۔

حامد کرزئی صاحب آخری وقت تک اپنا امیدوار سامنے نہیں لاسکے ۔ پہلے یہ تاثر دیا گیا کہ ان کے بھائی قیوم کرزئی ان کے امیدوار ہوں گے لیکن وہ اپنے آپ کو منوا نہیں سکے اس لئے آخری وقت میں حامد کرزئی نے انہیں دستبرداری پر آمادہ کیا۔ کرزئی صاحب نے اپنے نصف درجن سے زائد قریبی ساتھیوں کو لالی پوپ دے رکھا تھا کہ وہ صدارت کے لئے ان کے امیدوار ہوں گے لیکن جب آخری وقت میں انہوں نے فیصلہ تبدیل کیا تو ان سب کا دل ٹوٹ گیا۔ دوسری طرف انہوں نے یہ اعزاز زلمے رسول صاحب کو بخشا جو ان کے قریبی ساتھیوں میں سب سے بڑھ کر غیر عوامی آدمی تھے۔ وہ پختونوں کے کوٹے میں سے تھے لیکن پشتو نہیں بول سکتے تھے۔ وہ ایک اینٹیلکچول ہیں اور انتخابی جلسوں میں بھی لکھی ہوئی تقریر پر گزارا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور ڈاکٹر اشرف غنی کے مقابلے میں ان کی انتخابی مہم بالکل بے جان رہی۔ اس کے برعکس ڈاکٹر اشرف غنی نے گزشتہ صدارتی انتخابات میں اپنی شکست سے خاطر خواہ سبق لیا اور ان کے فوراً بعد سے اپنی انتخابی مہم میں لگ گئے تھے۔ امریکی یونیورسٹیوں میں پروفیسر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے کی وجہ سے وہاں کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے تعلقات پہلے سے بہتر تھے جبکہ پاکستان اور دیگر پڑوسیوں کے بارے میں انہوں نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران رویہ سخت رکھنے کے بجائے مصالحانہ رکھا۔ وہ نیٹو فورسز سے سیکورٹی معاملات افغان انتظامیہ کو سپرد کرنے کے عمل کے انچارج تھے اور اس حیثیت میں انہوں نے نہ صرف نیٹو ممالک کے اہم کارندوں کے ساتھ مراسم مستحکم کئے بلکہ اس ذمہ داری کے دوران ہر صوبہ اور ہر ضلع میں اپنے لئے حامی بھی بنا لئے تھے۔ اسی طرح انہوں نے افغانستان کے چھ شمالی صوبوں میں گہرا اثرورسوخ رکھنے والے ازبک لیڈر عبدالرشید دوستم کو اپنے ساتھ سینئر نائب صدر نامزد کر کے ازبک ووٹ کو اپنی طرف کھینچ لیا۔

انہوں نے پیر گیلانی کی محاذ ملی اور افغان ملت پارٹی کی حمایت بھی حاصل کی تھی۔ ہزارہ کمیونٹی کے اہم لیڈر کریم خلیلی اور اسماعیلی فرقے کے منصور نادرے بھی ان کے ساتھ تھے۔ سابق وزیر داخلہ علی احمد جلالی بھی ان کو سپورٹ کررہے تھے۔ انہوں نے انتخابی مہم کے لئے بین الاقوامی سطح کی کمپنیوں کی خدمات حاصل کی تھیں جبکہ سوشل میڈیا پر انتخابی مہم کے حوالے سے وہ سب سے آگے تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے نوجوان افغانوں کے سامنے اپنے آپ کو تبدیلی کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ دوسرے مرحلے میں کیا ڈاکٹر اشرف غنی‘عبداللہ عبداللہ کو ہراسکیں گے یا نہیں؟ بظاہر دیکھا جائے تو پہلے مرحلے میں عبداللہ عبداللہ کے ووٹوں کا تناسب ان کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

دوسرے مرحلے میں نتائج کا انحصار اس پچیس فی صد ووٹ پر ہے جو مذکورہ دونوں امیدواروں سے ہٹ کر باقی امیدواروں کو پڑا ہے ۔ ان میں سات فی صد ووٹ حاصل کرنے والا عبدالرب رسول سیاف‘ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی حمایت کرے گا۔گیارہ فی صد ووٹ حاصل کرنے والا زلمے رسول چونکہ حامد کرزئی سے ناراض ہیں اور امکان یہ ہے کہ وہ اگر عبداللہ عبداللہ کی حمایت نہ کریں تو ڈاکٹر اشرف غنی کی بھی نہیں کریں گے۔ اس لحاظ سے عبداللہ عبداللہ کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے لیکن یہ تصویر کا ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ استاد سیاف کو ووٹ دینے والا ووٹر ان کے کہنے پر اپنا ووٹ عبداللہ عبداللہ کو بھی ڈالے۔ پہلے مرحلے میں امریکہ اور پڑوسی ممالک نے زیادہ مداخلت نہیں کی اور غالب امکان یہ ہے کہ ایران اور وسط ایشیائی ریاستوں کے سوا باقی عالمی اور علاقائی طاقتیں اشرف غنی کا ساتھ دیں گی۔ حامد کرزئی صاحب کے بارے میں بھی یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ دوسرے مرحلے میں ان کا ووٹ عبداللہ عبداللہ کے مقابلے میں ڈاکٹر اشرف غنی کے پلڑے میں پڑے گا۔ انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹنگ لسانی بنیادوں پر نہیں ہوئی کیونکہ ہر پینل میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ موجود تھے تاہم اگر دوسرے مرحلے میں پختون اور غیرپختون کا عنصر کارفرما ہو گیا تو اس کا فائدہ ڈاکٹر اشرف غنی کو ہو سکتا ہے کیونکہ اس صورت میں پختون‘ہزارہ اور ازبک ووٹ کی اکثریت ان کے پلڑے میں آئے گی ۔پہلے مرحلے میں تاجک ووٹ تقسیم نہیں ہوا لیکن باقی سارے امیدوار چونکہ پختون تھے اس لئے وہ بیس فی صد ووٹ جو دیگر امیدواروں کو پڑا پختون ووٹ ہی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.