.

مضطرب ساتھی

ڈاکٹر ملیحہ لودھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوں لگتا ہے جیسے ان دنوں امریکہ میں شائع ہونے والی ایسی کتابوں کی کوئی کمی نہیں جن میں امریکہ کو چین سے لاحق بڑھتے ہوئے چیلنج کا یا پھر دنیا پر اسے حاصل ہوتے غلبے کا انتباہ کیا جاتا ہے۔ ان کتابوں کے مبالغہ آمیز عنوانات مغربی ممالک میں سوچ کے ایک خاص زاویے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ شو ڈاؤن، دا کمنگ کنفلکٹ ود چائنا، ہیجی مون اور کنٹیسٹ فار سپرمیسی محض چند مثالیں ہیں۔

لائنل وائرون کی چائنا تھریٹ نے اس رجحان کو نہیں اپنایا ہے اور ڈرانے والی بلکہ زیادہ تر متعصب تحاریر کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا ہے۔ اس میں اس نظریہ کے ساتھ اتفاق کیا گیا ہے جس کی خصوصاً ہنری کسنجر نے ترویج کی ہے جس میں مغربی حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ دنیا کی نئی عالمی طاقت چین کے ساتھ حصے دار کا رویہ اپنایا جائے اور اسے دشمن سمجھ کر تصادم سے گریز کیا جائے کیونکہ خودغرضی یہ راستہ سُجھاتی ہے۔سابق فرانسیسی سفارت کار اور صحافی وائرون نے چین کے عروج کو عالمی معاشی پاور ہاؤس کی طرح بیان کرنے پر نظریں مرکوز کی ہیں اور بتایا ہے کہ اس سے کیونکر مغربی عوام کے درمیان شکوک و شبہات اور مغربی حکومتوں میں مخفی دشمنی نے جنم لیا ہے۔

مصنف یہ کتاب لکھنے کا اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ مغرب میں چین کی طرف برستے تنقید کے تیروں کی وجوہات جاننا چاہتے تھے، جس نے کئی بار ہم آہنگ عالمی معاشرے اور قوموں کے درمیان باہمی توقیر کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ مصنف نشاندہی کرتے ہیں کہ ہر ہفتے عالمی استحکام کو چین سے لاحق خطرات کے دعووں کا ایک نیا دور سامنے آتا ہے۔ ان کے استدلال کے طور پر چین کی اپنی کرنسی میں ہیر پھیر، اس کی دھمکانے والی فوجی جدیدیت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور تبت سے روا رکھی جانے والی پالیسی جیسے الزامات لگانے کے علاوہ چند مثالیں بھی بیان کی جاتی ہیں۔

وائرون لکھتے ہیں کہ ابتدائی طور پر ترقی کرتی چینی معیشت سے پیش کردہ مواقع نے مغرب کے زیادہ تر ہیجان کو ابھارا لیکن اس نے چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت کے غیرمتوقع اثرات کے بارے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو راستہ دیا ہے۔ چین کے ساتھ مغرب کی منفیت کا موسم 2008ء میں اپنی انتہا کو پہنچ گیا تھا جب چین نے اولمپک کھیلوں کی میزبانی کی تھی، ایک ایسا سال جو وائرون کے مطابق ایک نئے عالمی دور میں داخل ہوا تھا لیکن یہ منفیت تب سے امریکہ اور چند یورپی ممالک بشمول اس کے اپنے ملک میں برقرار ہے۔ مصنف نے بسا اوقات میڈیا میں مہم کا روپ دھار لینے والی اس منفیت کے پیچھے چھپے تصورات اور معنی خیز مقاصد دونوں کا جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے اس کا موازنہ 20ویں صدی میں یورپین حق کے رویّے سے کیا ہے جس کی بنیاد یورپ کے ہاتھ سے عالمی زمام کار نکلنے اور امریکہ کے ہاتھ میں آنے سے تھی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ چین سے یہ بہیمانہ دشمنی خصوصاً امریکہ کے قدامت پسند اور جارح مزاج حلقوں میں اسی طاقت چھن جانے کے احساس کی علامت ہے۔ وائرون کہتے ہیں کہ اس دشمنی کے اظہار کے لئے نظریاتی اور معاشی دونوں وجوہات موجود ہیں۔ پہلی کا تعلق سرد جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد مغرب کی مقصدیت کی تلاش سے ہے۔ اس تلاش نے عارضی طور پر اسلامی دہشت گردی پر توجہ مرکوز کی لیکن تاریخ کے پیمانے پر اس کی مختصر سے اہمیت نے امریکہ اور یورپ کو ایک نیا شکار تلاش کرنے پر مائل کیا۔ چین اس معیار پر پورا اتر گیا۔ چین کی ترقی سے مغربی بے چینی میں اس وجہ سے بھی اضافہ ہوا ہے کہ معاشی لبرل ازم اور پارلیمانی جمہوریت کے مغربی ماڈل کے غلطی سے پاک ہونے کے مفروضہ کا پردہ چاک ہو گیا ہے۔ وائرون اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ چینی انداز کی ترقی کی بڑھتی ہوئی کشش ان مغربی طاقتوں کے لیے ایک خطرہ بن کر سامنے آئی ہے جنہوں نے تقریباً 2 صدیوں تک دنیا پر حکمرانی کی ہے، جو تیسری دنیا کے ممالک اور ان کے رہنماؤں کو نتائج کے پروانے تھمایا کرتی تھیں۔

چین کا عالمی ترقی کے انجن کی حیثیت سے ابھرنا اور 30 کروڑ افراد کو غربت کی دلدل سے باہر نکالنے میں اس کی غیرمعمولی کامیابی معاشی ترقی کے ایک تیسرے راستے کو ظاہر کرتی ہے جو مغربی ماڈل کی نفی کرتا ہے۔ مصنف معاشی وجوہات کو ایک مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چین کی ایشیاء میں جغرافیائی مرکزیت اور عروج براعظم ایشیاء میں امریکی چوہدراہٹ کے لیے ایک قدرتی چیلنج ہے اور اس امر سے بخوبی آگاہ چین سمجھتا ہے کہ وہ براعظم ایشیاء میں امریکی طاقت پر نظر رکھنے میں حق بجانب ہے اور امریکی فیصلوں کی غلطیوں (مثلاً افغانستان میں سوویت مخالف گوریلوں کی حمایت جس نے بعدازاں مذہبی انتہاپسندی میں اضافہ کیا) اور اڈوں سے اپنے خلاف اقدامات پر فکرمند بھی ہے اور اپنی مغربی سرحدوں میں وقت کے ساتھ ساتھ قائم ہونے والی اس امریکی موجودگی پر بھی جس میں باالخصوص نائن الیون کے بعد اضافہ ہوا ہے۔ وائرون نے کئی بار صدر جارج ڈبلیو بش کی ایک تقریر کا حوالہ بھی دیا ہے جس کا ان کے مطابق بیجنگ کی تذویراتی سوچ پر گہرا اثر ہے۔ 1999ء کی انتخابی مہم کے دوران بش نے کہا تھا کہ ان کی حکومت آئی تو امریکہ کی پالیسی چین کو دھمکانے والی نہیں بلکہ اس پر نظر رکھنے والی ہو گی اور پھر بش حکومت نے کلنٹن حکومت میں چین کو دیئے گئے تذویراتی ساتھی کے درجے کے برعکس اسے تذویراتی مدمقابل کا درجہ دے دیا۔ اگرچہ کتاب میں 2011ء سے امریکہ کے ایشیاء پر ارتکاز اور بیجنگ کے لئے اس کے نتائج کی اعلانیہ پالیسی کا کوئی مخصوص حوالہ نہیں دیا گیا ہے لیکن مصنف نے تفصیل سے ان وسیع خدوخال پر بحث کی ہے جسے وہ واشنگٹن کی چین کے گرد گھیرا ڈالنے والی پالیسی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے پھر چین کے ردعمل اور دو طرفہ و کثیر فریقی اتحاد تشکیل دینے کے لئے اس کی کوششوں کا تجزیہ کیا ہے۔ اگرچہ شنگھائی تعاون کی تنظیم اس کی بہترین مثال ہے لیکن اس کے علاوہ روس کے ساتھ مفاہمت کی کوششیں اور دیگر ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات حل کرنے کے اقدامات بھی نمایاں ہیں۔ اپنی توانائی کی سفارت کاری پر عمل پیرا ہونے میں چین اپنی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اتنا جت گیا ہے کہ اسے وائرون نے اس علاقے میں امریکہ کی اجارہ داری کی حکمت عملی سے تشبیہ دی ہے۔ اس کے نتیجے میں افریقہ کی طرح ایشیاء میں بھی چین براہ راست اثرانداز ہوا ہے، اکثر ٹھیکوں میں مغربی کمپنیوں پر سبقت حاصل کی ہے اور مغرب کو عالمی وسائل پر قبضے کے جھگڑے سے متعلق خدشات میں مبتلا کر دیا ہے۔

لیکن کیا چین اور امریکہ میں تصادم ناگزیر ہے؟ وائرون کا واضح جواب انکار میں ہے۔ اس سوال کے متضاد جوابات کا اعتراف کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ چین تصادم نہیں چاہتا۔ اسی لئے 2003ء میں اس کے رہنماؤں نے پریشان مغربی طاقتوں اور ان کے ایشیائی اتحادیوں کو یقین دلانے کے لئے چین کے پرامن عروج کا تصور پیش کیا اور اشارہ دیا کہ بیجنگ اپنے حصے داروں کے خدشات کو سمجھتا ہے۔ انہوں نے چین کو مغرب کے لئے خطرہ نہ سمجھنے کی کئی وجوہات بیان کی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ چین کی سوچ اور عمل میں ین اور یانگ کا متبادل دھاروں والا اصول کارفرما ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا کا تصور پیش کرتا ہے جو ایک دوسرے پر منحصر تعلقات کا مسلسل جال ہے جس میں کوئی دوسرے سے بالاتر نہیں۔ اس تناظر میں امریکہ اور چین دونوں کی اس کثیر قطبی دنیا میں جگہ ہے۔

امریکہ چین کا متضاد نہیں بلکہ دنیا میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے والا ملک ہے۔مزید برآں وائرون استدلال کرتے ہیں کہ امریکہ اور سابق سوویت یونین کے برخلاف چین کو اپنی اقدار برآمد کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ بیجنگ میں اپنے طویل مدتی مفادات پر سمجھوتہ کئے بغیر بحران سے نمٹنے کی قابلیت بھی موجود ہے۔ یہ عناصر تصادم سے گریز کی چینی حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں اور چین کو اپنی معاشی پیشرفت جاری رکھنے کے لئے بھی امن و مفاہمت کا ایک عالمی ماحول بنانے کی ضرورت ہے۔لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ چین پوری قوت سے اپنے مفادات کا دفاع نہیں کرے گا یا واشنگٹن کی حصار میں لینے کی پالیسی سے بچاؤ کی کوشش نہیں کرے گا۔ مصنف کہتے ہیں کہ چین کی مستقبل کی حکمت عملی میں استقامت اور لچک دونوں خصوصیات شامل ہوں گی۔

وائرون کی جانب سے چین کی نمایاں معاشی کامیابیوں کی واضح پذیرائی کے باوجود انہوں نے ملک کو درپیش معاشی، سیاسی اور سماجی چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی ہے جن میں آبادی کی عمر رسیدگی، توانائی کی ضمانت اور اقلیتوں سے روا سلوک بھی شامل ہیں۔ سنکیانگ کے چیلنج نے نمایاں توجہ حاصل کی ہے، ساتھ ہی ترکی کے کردار کو بھی جو اس شورش زدہ خطے میں بیرونی اثر و نفوذ میں شامل ہے۔ اس سے ایک ایسے مسئلے کا مفید ادراک ہوتا ہے جس کے بارے میں بیجنگ کی پریشانی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ سمجھنے میں کہ مغرب کو چین سے کوئی خطرہ لاحق نہیں مصنف نے بیجنگ اور اس کے مغربی ناقدین دونوں کو اہم مشوروں سے نوازا ہے۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ چین نافرمانی کے قوم پرست ردعمل کے خلاف چوکنا رہے اور بحیرہ جنوبی چین کے سرحدی تنازعات میں انتہائی سخت موقف اختیار کرنے سے بھی گریز کرے کیونکہ اس سے اس کے اور دنیا کے درمیان غلط فہمیوں میں مزید اضافہ ہی ہوگا اور اس کے دشمنوں کے بنائے گئے کیس کو مزید فروغ ملے گا۔ اسے چاہیے کہ ایک ہم آہنگ عالمی معاشرے کے اپنے ہی نعرے سے جڑا رہے اور بہتر ابلاغ کرنا سیکھے۔ وہ مغرب کو مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ گھیراؤ یا رابطہ کاری اور جنگ یا تعاون کے مابین یورپین اور امریکیوں کو ایک ایسی پالیسی کا انتخاب کرنا چاہئے جو ان کے دیرپا مفادات کے حق میں زیادہ بہتر ہو۔ ان کی رائے میں وہ پالیسی چین کو برابر کا ساتھی سمجھنے کی ہوگی۔ آخر میں وہ دونوں پر زور دیتے ہیں کہ ایک دوسرے سے تجارت کو محدود کرنا چھوڑدیں کیونکہ اس سے بالآخر دونوں کو اور نہ ہی دنیا کو کوئی فائدہ پہنچے گا۔ یہ ایک ضرور پڑھنے والی اور بصیرت افروز کتاب ہے تاہم اس میں کافی تجدید کی ضرورت ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.