پاکستان اور امریکہ ۔ دشمن یا دوست

ڈاکٹر منظور اعجاز
ڈاکٹر منظور اعجاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

عام طور پر واشنگٹن کے تھنک ٹینک ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر کسی ایک اسپیکر کو ایک تھنک ٹینک نے بلا لیا تو دوسرے اسے بلانے سے اجتناب کرتے ہیں۔ اس لئے غیر جانبدار مبصرین کے لئے یہ حیرت کی بات ہے کہ کئی تھنک ٹینکوں نے یکے بعد دیگرے کارلوٹا گال کی کتاب ’’غلط دشمن سے جنگ‘‘ کی رونمائی کی۔

اس کتاب کا لب لباب یہ ہے کہ امریکہ کا اصل دشمن افغانستان نہیں بلکہ پاکستان ہے۔ واشنگٹن کے تھنک ٹینک حلقوں کی اس کتاب کی پذیرائی سے تاثر ملتا ہےکہ مستقبل میں امریکہ پاکستان کو شمالی کوریا کی طرح کا راندہ درگاہ ملک قرار دے گا لیکن حقائق اس کے الٹ ہیں اور اب پاک امریکہ تعلقات میں بہت ٹھہراؤ آگیا ہے۔

کارلوٹا گال کی کتاب میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ پر کئی طرح کے الزامات لگائے گئے ہیں مثلاً یہ کہ آئی ایس آئی کے دفتر میں باقاعدہ ایک ڈیسک صرف اسامہ بن لادن کی حفاطت کے لئے وقف تھا۔ اسی طرح یہ بھی الزام لگایا گیا ہے آیمن الظواہری کو کافی وقت تک کوہاٹ میں ایک سابق گورنر کے گھر پر رکھا گیا۔ اس کے علاوہ حقانی نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ بہت سی دوسری جہادی تنظیموں کی پشت پناہی کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کارلوٹا گال کی کتاب میں بڑے بڑے الزامات کے ٹھوس شواہد پیش نہیں کئے گئے اور صرف کسی ایک وسیلے سے ہی کام لیا گیا ہے۔

کار لوٹاگال کی کتاب کی امریکی حلقوں میں پذیرائی سے ایک بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ واشنگٹن کے دانشور حلقوں میں پاکستان کے بارے میں گہرے شک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ زیادہ تر حلقوں کی رائے ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز جمود کا شکار ہیں اور وہ اپنے رویوں کو کبھی تبدیل نہیں کریں گے اس لئے اس کا بہترین حل یہی ہے کہ پاکستان کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ مطلب یہ پاکستان کو کسی طرح کی امداد دینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ کبھی امریکی پالیسی کی حمایت نہیں کرے گا۔لیکن ہمارے خیال میں پاکستان کی پالیسیوں کے جمود کے بارے میں غلط مفروضہ قائم کیا گیا ہے۔ قطع نظر کارلوٹا گال کے دعوئوں کے درست یا غلط ہونے کے عنوانات بتا رہے ہیں کہ پاکستان نے علاقے کی بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر اپنی پالیسیوں کو نئے سرے سے ترتیب دیا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے صدارتی انتخابات میں مکمل غیر جانبداری کا ثبوت دیا اور اپنی سرحدوں کو مکمل طور پر بند رکھا۔ پاکستان کی اسی غیر جانبداری کی وجہ سے کسی صدارتی امیدوار نے پاکستان پر نکتہ چینی نہیں کی۔

پاکستان کی پالیسیوں میں سب سے بڑی تبدیلی خود اس کا طالبان کے بارے میں نقطہ نظر ہے۔ ماضی میں پاکستان افغانستان میں اسٹریٹجک گہرائی حاصل کرنے کے لئے طالبان کے ساتھ اتحاد کو لازم قرار دیتا تھا۔ اس حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی کی طرف وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے واضح اشارہ دیا تھا۔ انہوں نے جنوری 2014ء میں واشنگٹن میں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے موقع پر بیان دیا تھا کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کی حکومت کے حق میں نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے امریکیوں کو یہ بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی کرنے کے لئے تیار ہے۔ غالباً اس نوع کی یقین دہانیوں کے بعد ڈرون حملوں کو معطل کیا گیا۔

پاکستان کے بنیادی پالیسی ساز اداروں میں تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں بنیادی تبدیلی کے آثار نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے کارپردازوں کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ جب تک ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ نہیں کیا جاتا تب تک پاکستان میں معاشی ترقی ناممکن ہے۔ پاکستان معاشی ترقی کی دوڑ میں اپنے ہمسایہ ملک بھارت سے بہت پیچھے رہ گیا ہے اور اگر یہ فرق اسی طرح ہی بڑھتارہا تو پاکستان کی علاقائی حیثیت میں بہت کمی آجائے گی۔ اس وقت پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر دس ارب ڈالر کے قریب ہیں جبکہ بھارت کے یہ ذخائر تین سو ارب اور چین کے چار کھرب ڈالر ہیں۔ حتیٰ کہ بنگلہ دیش کے ذخائر بیس بلین ڈالر ہیں۔ اس سے پاکستان کی ناگفتہ بہ حالت کا اندازہ ہوتا ہے لیکن اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ موجودہ حکومت معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ پاکستان کی انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اس مرتبہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی واشنگٹن میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف میں کافی آؤ بھگت ہوئی۔ پاک امریکہ تعلقات کے بہتر ہونے میں کچھ دوسرے عوامل بھی شامل ہیں۔ مثلاً اب چین بھی افغانستان میں اسٹریٹجک شراکت دار بننے پر تیار ہو چکا ہے۔ اس سے پیشتر چین کو افغانستان کی معدنیات میں دلچسپی تھی اور وہ اس کے سیکورٹی کے معاملات کو نظر انداز کرتا تھا لیکن اس سلسلے میں امریکہ کے مذاکرات کے نتیجے میں چین افغانستان کے سیکورٹی اداروں کی تربیت اور ترقیاتی منصوبوں میں حصہ لینے کے لئے تیار ہو چکا ہے۔

چین کو ڈر ہے کہ مشرقی ترکمانستان اسلامی تحریک کے شدت پسند جو اس کے صوبہ زنجیانگ میں آزاد مملکت کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں طالبان کے علاقوں سے تربیت حاصل کر رہے اور اگر افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہو گئی تو چین میں شدت پسندی بڑھ جائے گی۔ اس لئے چین بھی پاکستان کو طالبان کے خلاف کارروائی کیلئے مشورہ دے رہا ہو گا۔ چین پاکستان پر بھارت کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کے لئے بھی زور دیتا رہا ہے۔ چین اور بھارت کے مستقل سرحدی تنازعات ہیں لیکن اس کے باوجود چین بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ نوازشریف حکومت بھی مسلسل اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح سے بھارت کے ساتھ تجارتی اور صنعتی روابط قائم ہو جائیں۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پاکستان کے بھارت کے افغانستان میں اثر و رسوخ کے بارے میں تحفظات میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے۔ اس طرح سے امریکہ پاکستان تعلقات میں بھی بہتری آسکتی ہے کیونکہ ابھی تک پاکستان کو شکایت ہے کہ امریکہ افغانستان میں بھارت کا غلبہ قائم کرانا چاہتا ہے۔ اگر پاک بھارت تعلقات میں مثبت پیشرفت شروع ہو جائے (جس کے کافی امکانات ہیں)تو پاکستان اور امریکہ کی افغانستان پالیسی میں بُعد کم ہو جائے گا۔

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ امریکہ 2014ء کے آخر تک اپنی بہت ساری فوجوں کا انخلاء کر لے گا لیکن پھر بھی اس کے آٹھ سے بارہ ہزار فوجی افغانستان میں موجود رہیں گے۔ ان فوجیوں کے لئے رسد پاکستان کے راستے سے ہی ہوگی۔ اس کے علاوہ ان فوجیوں کی کامیابی کے لئے پاکستان کا تعاون اشد ضروری ہو گا۔ اس لئے واشنگٹن پاکستانی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں میں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ امریکی فوجوں کے افغانستان سے انخلاء کے بعد کولیشن سپورٹ پروگرام قائم نہ رہے لیکن امریکی حکومت کسی نہ کسی عنوان سے پاکستان کی امداد کو بحال رکھنا چاہے گی۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ پاک امریکہ تعلقات آئیڈیل ہو رہے ہیں لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ واشنگٹن کے تھنک ٹینک امریکی حکومت کی پالیسی کے آئینہ دار نہیں ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں