’’ورلڈ پریس فریڈم ڈے ‘‘اور پاکستانی میڈیا؟

عظیم ایم میاں
عظیم ایم میاں
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

3مئی کو دنیا بھر میں ’’ورلڈ پریس فریڈم ڈے‘‘ منایا جا رہا ہے اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسکو آزادی صحافت کے حوالے سے دو روزہ عالمی کانفرنس کے انعقاد کے علاوہ ہمارے سینئر صحافی حامد میر جیسے خطرات اور مشکلات اور زندگی و موت کی کشمکش سے گزرنے والے کسی ایک بہادر صحافی کو عالمی ایوارڈ بھی دے گا۔

اقوام متحدہ میں یہ دن عالمی سطح پر منایا جائے گا۔ عالمی سطح پر میڈیا کی آزادی کے لئے ہر سال منائے جانے والے اس دن کے مقاصد ہماری پاکستانی صحافی برادری کے لئے قابل غور یوں ہیں کیونکہ ہمارے ہاں میڈیا کی آزادی ابھی نئی اور قدرے کمزور ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد پریس فریڈم کے بنیادی اصولوں پر اعتماد کا اظہار اور تشہیر دنیا میں پریس فریڈم کی موجودہ صورتحال، آزادی صحافت پر حملوں سے بچائو اور صحافتی فرائض کے دوران قتل، زخمی یا متاثر ہونے والے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ہے۔

دنیا کے بیشتر ممالک میں آزادی صحافت کو استحکام حاصل ہو رہا ہے مگر ہمارے پاکستان میں گزشتہ چند سالوں کے دوران استحکام اور آزادی اظہار حاصل کرنے والا پاکستانی میڈیا صرف ایک واقعہ کی بدولت ایسے انتشار اور خلفشار کا شکار ہو گیا ہے کہ جس نے ملک میں ذرائع ابلاغ کی آزادی کو ہی شدید نقصان نہیں پہنچایا بلکہ جمہوریت کو بھی خطرات لاحق کر دیئے ہیں امریکی اخبار ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ اور دیگر غیرملکی اخبارات نے بھی پاکستانی میڈیا کی اس تقسیم اور انتشار کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا ہے۔ ’’صحافی پر حملے نے پاکستانی پریس میں جنگ شروع کرا دی‘‘ کے عنوان سے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی یہ رپورٹ کسی بھی مکتبہ فکر یا گروہ سے وابستہ پاکستانی صحافی کیلئے نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ اب تک آزادی صحافت کے لئے دی جانے والی قربانیوں اور حاصل شدہ کریڈٹ پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے کہ محض ایک واقعہ نے صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کو نہ صرف تقسیم اور کمزور کر ڈالا بلکہ وہ صحت مندانہ صحافتی اصولوں اور طرز فکر کی بنیاد پر اختلاف رائے اور تنقید کے بجائے دیگر حوالوں سے گروہ بندی کر کے پروگرام کرتے رہے حتیٰ کہ اس قاتلانہ حملہ میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا اپنے ایک سینئر صحافی ساتھی حامد میر پر یہ الزام بھی لگا دیا کہ یہ حملہ انہوں نے خود اپنے اوپر کرایا ہے۔ اس ایک واقعہ نے پاکستانی میڈیا اور صحافتی امیج کو عالمی سطح پر وہ نقصان پہنچایا ہے کہ صحافیوں کے حقوق اور انسانی حقوق کے تحفظ کی علمبردار تنظیمیں بھی حیران ہیں اور مجھے تو خدشہ ہے کہ یہ تنظیمیں پاکستانی صحافیوں کی جدوجہد اور انہیں لاحق خطرات کے بارے میں جس تیزی اور جذبہ سے حمایت میں بیان اور پاکستانی صحافیوں کو بچانے کے لئے جو اقدامات کرتی رہی ہیں ان کے اس رویہ میں بھی تبدیلی آسکتی ہے۔

یہ عالمی تنظیمیں حقائق جاننے کے لئے وسائل رکھتی ہیں اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پاکستانی پریس کی حالیہ جنگ میں ’’جیو‘‘ کے خلاف گروہ بندی اور محاذ آرائی کے پیچھے پوشیدہ مفادات، اسٹیبلشمنٹ کے فوائد و محرکات اور دیگر عوامل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ حامد میر پر قاتلانہ حملہ کی تحقیقات، ان کے بھائی عامر میر کے الزامی موقف اور ’’جیو‘‘ کے خلاف داخل کردہ شکایت کے بارے میں کسی ایکشن یا فیصلہ سے قبل ہی اپنے اپنے پرجوش انداز میں فیصلے دے دینے سے کونسا مسئلہ حل ہو گیا ہے؟ جبکہ اس بارے میں شکایات اور جوابی موقف کے متن نشر کر دینے سے توازن اور پروفیشنلزم کے تقاضے بآسانی پورے ہو جاتے آج اگر ایک نیوز میڈیا کو گرانے کے لئے مہم چل سکتی ہے تو کل پھر قدرے کمزور میڈیا بھی ایسی ہی صورتحال کا شکار بآسانی ہو سکتا ہے عالمی سطح پر پاکستانی صحافت کے امیج کو نقصان پہنچا ہے جس پر غور و فکر اور اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے۔ قانون کی بالادستی، پیشہ ورانہ تقاضے اور حقائق کو آزادانہ انداز میں پیش کرنے میں اگر کسی صحافی یا ادارے سے کوئی کوتاہی ہو تو اس کی نشاندہی اور ازالہ کیلئے شخصی یا کاروباری مفاد ہم صحافیوں کا مسئلہ نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی ان بنیادوں پر گروہ بندی کی ضرورت ہے۔

دنیا میں ہر جگہ آزادی صحافت کے حوالے سے کچھ نہ کچھ مسائل موجود ہیں حتیٰ کہ امریکہ جیسے آزاد اور مستحکم جمہوری معاشرے میں بھی یہ مسائل ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے صحافی جیمز رائزن کو بعض خفیہ معلومات کو افشا کرنے کے الزام میں قانونی گرفت اور عدالتی مقدمہ کا سامنا اور جیل جانے کا خطرہ موجود ہے اور اس بارے میں ’’ورلڈ پریس فریڈم ڈے‘‘ کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان کی بریفنگ میں ایک امریکی صحافی نے سوال و جواب کی تکرار کے بعد ترجمان کو لاجواب کرتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ محکمہ خارجہ صرف بیرونی دنیا کے صحافیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک اور زیادتیوں کا نوٹس لیتا ہے۔ امریکہ میں صحافیوں سے سلوک اس کا موضوع نہیں۔ امریکہ کے صحافتی اور اشاعتی ادارے اور تنظیمیں صحافیوں کے حقوق کے لئے حمایت بھی کرتی ہیں اور اپنے کاروباری مفادات، مقابلے کے رجحانات اور ریٹنگ بہتر بنانے کے تقاضے بھی پورے کئے جاتے ہیں لیکن حامد میر پر قاتلانہ حملے کے افسوسناک واقعے کے بعد پاکستانی میڈیا کی تقسیم اور انتشار کا جو منظر پیش کیا گیا ہے وہ امریکی میڈیا کے لئے بھی حیران کن اور منفی رپورٹنگ کے لائق قرار پایا ہے۔

امریکی میڈیا بھی امریکہ کے قومی مفادات کا امین ہے امریکی فوج کے ساتھ جا کر (EMBEDED) کی جاتی ہے عراق، افغانستان اور دیگر جنگوں کی رپورٹنگ میں امریکی فوج اور امریکی مفادات و سیکورٹی کا پورا پورا لحاظ اور احترام کیا جاتا ہے مگر عراق کی ابوغریب جیل میں فوجی افسروں کی جانب سے قیدیوں کے انسانی حقوق کی پامالی کے بارے میں انکشافات بھی انہی امریکی صحافیوں نے کئے ہیں۔ پاکستان کے قومی مفادات، فوجی اداروں کے احترام اور اخفا کے ضابطوں اور ضرورتوں کا احترام ضرور کریں مگر ہر تنظیم ہر ادارے اور ہر لباس میں انسان ہی کام کرتے ہیں جو انسانی خوبیوں اور خامیوں کے حامل ہوتے ہیں۔ انسانی خامیوں کی نشاندہی اور محاسبہ ان اداروں کی کارکردگی اور امیج کو بہتر بنانے کے لئے کام آتا ہے۔ ’’جیو‘‘ جیسے مقبول، مؤثر اور مضبوط ٹی وی نیٹ ورک کو تحقیقات سے قبل ہی دیوار سے لگا کر مخالفانہ ماحول بنانے سے نہ تو ملک اور نہ ہی کسی میڈیا آرگنائزیشن کا بھلا ہے بلکہ عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا باعث ہوگا۔ ہمیں تو اس بات پر اپنے صحافی بھائی کی ہمت کی داد دینا چاہئے کہ وہ زندگی اور موت کی کشمکش سے نکل کر صرف سات دن بعد پھر اپنا قلم سنبھال کر اسپتال کے بستر سے ہی اپنے قارئین سے مخاطب ہو گیا ہے۔

حامد میر کی رائے سے اختلاف یا حمایت کا حق تو ہم سب کو ہے اس پر حملہ کی مفصل تحقیقات ہونی چاہئے اس کا موقف اور شکوک و شبہات بھی سامنے آنے چاہئیں تحقیقات اور قانون کا عمل بھی مکمل ہونا چاہئے اور سچ سامنے آنا چاہئے کیونکہ حقیقت اور سچ سامنے لانا ہی پیشہ صحافت کا کلیدی مشن و مقصد ہے 3مئی کو سالانہ ’’ورلڈ پریس فریڈم ڈے‘‘ کے موقع پر پاکستانی میڈیا کی اندرونی جنگ، ایک دوسرے کی ساکھ خراب کرنے اور گروہ بندی کرکے ریٹنگ اور مارکیٹنگ کا دوڑ کے ساتھ ساتھ جیو/جنگ پر ملک دشمنی کے الزامات کے بجائے ثبوت کے ساتھ قانون اور عدل کا ہی راستہ اپنانا چاہئے جو نیویارک ٹائمزکا صحافی جیمز رائزن اپنا رہا ہے۔ جب تک نظام عدل فیصلہ نہ کرے الزام صرف الزام اور متعلقہ شخص یا ادارہ بے گناہ اور معصوم کہلاتا ہے۔ امریکہ اور پاکستان دونوں کا قانون یہی ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں