حالات کو عورتوں کی نگاہ سے دیکھیں

منو بھائی
منو بھائی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فرانس کی موقر خبر رساں ایجنسی AFP کے مطابق یہ حقیقت خوشگوار حیرت کی وجہ بن سکتی ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے دنیا کی خوفناک ترین اور سب سے بڑی جنگی طاقت امریکہ کے حملوں کی زد میں آئے ہوئے دنیا کے پس ماندہ ترین اور سب سے زیادہ رجعت پسند سمجھے جانے والے افغان معاشرے میں حالیہ صدارتی انتخابات کے تازہ ترین مرحلے میں وہاں کے ایک کروڑ 35 لاکھ رجسٹرڈ بالغ ووٹروں میں سے نصف سے زیادہ، 70 لاکھ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے اور ووٹ ڈالنے والوں میں 36 فیصد افغان خواتین بھی شامل ہیں۔

اتنی بڑی تعداد میں افغان ووٹروں نے آج تک کبھی ووٹ نہیں ڈالے ہوں گے اور اتنی بڑی تناسب افغان خواتین ووٹروں کی بھی پہلے کبھی پولنگ بوتھوں میں دیکھنے میں نہیں آئی ہو گی۔ کرۂ ارض پر پھیلی ہوئی ابن آدم کی تاریخ میں بہت سے عجیب و غریب حقائق بھی موجود ہیں ان میں سے ایک حیران کر دینے والی حقیقت یہ بھی ہے کہ (بقول ٹراٹسکی) پسماندگی بھی ایک نعمت ہوتی ہے اس میں مبتلا لوگوں کو جب ترقی کا کوئی وسیلہ نصیب ہوتا ہے تو وہ معمول کی رفتار سے نہیں غیر معمولی رفتار سے ترقی کی زقندیں بھرتے ہیں چلنے کی بجائے دوڑتے اور اڑتے ہیں اور بعض اوقات سب سے آگے نکل جاتے ہیں۔ یہ انسان کی پیاس کی شدت ہوتی ہے جو کنوئیں کھودتی ہے اور یہ انسان کی ہوش کھو دینے والی بھوک ہوتی ہے جو اناج اگاتی ہے یہ صداقت ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے لوگوں نے تیر کمان اور نیزے پھینک کر بندوق اٹھائی ہے مگر یہ بندوق انہوں نے خود ایجاد نہیں کی تھی اور اس کی ایجاد کے مراحل سے بھی نہیں گزرے ہوں گے۔ جس طرح انہوں نے تختی اور سلیٹ کو چھوڑ کر کیلکولیٹر استعمال کیا تھا جس کی ایجاد میں ان کا کوئی دخل یا حصہ نہیں تھا۔ بلاشبہ پہیے کی ایجاد اور جراثیم تلف کرنے والی طبی دریافتوں تک دنیا کی تمام ایجادوں اور دریافتوں پر منڈی کی معیشت سے منافع کمانے والوں نے قبضہ کر رکھا ہے اور انسانوں کی سہولت کے لئے سوچی گئی ہر ترکیب منافع کمانے کے لئے استعمال کی جارہی ہے مگر ایجادوں اور دریافتوں کے یہ سلسلے جنیٹک کوڈ دریافت کرنے کے بعد بھی آگے چل رہے ہیں اور چلتے رہیں گے جب تک وہ اپنے اصل مقاصد کے حصول یعنی انسانی فلاح و بہبود کے لئے استعمال ہونا شروع نہیں کریں گے۔

بائیں بازو کے جس دانشور کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ہم دنیا کے حالات کو تبدیل کرنا اور مثبت انداز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہو گا کہ ہم ان حالات کو عورت کی نگاہ سے دیکھنے کی کوشش کریں۔ یہاں یہ سوچ ابھرتی ہے کہ کیا حالات کوعورت کی نگاہ سے دیکھنے اور مرد کی نگاہ سے دیکھنے میں کوئی فرق ہے؟ جی ہاں فرق ہے۔ مرد کی نگاہ میں تقویم کی جنتری کا ’’ہفتہ‘‘ ہوتا ہے اور عورت کی نگاہ میں اسے سات دن کہا جاتا ہے۔ اسی طرح مردوں کا مہینہ عورتوں کے تیس دنوں کا اور مردوں کا سال عورتوں کے بارہ مہینوں کا ہوتا ہے۔ عورت دھوبی کے کپڑوں، دودھ کے لیٹروں کے علاوہ اپنے بطن میں دھڑکنے والی زندگی کے دنوں کا حساب بھی رکھتی ہے اوراس کی پیدائش سے پہلے اپنے سینے کے خزانوں میں اس کی خوراک کا انتظام بھی کرتی ہے اور دونوں موسموں کی مناسبت سے ان کے کپڑے بھی تیار کر لیتی ہے۔ اگرچہ بھوک اور غربت میں اضافہ کے ذریعے اس ماں کو مارنے کی بے شمار کوششیں ہو چکی ہیں مگر ماں جیسی انسٹی ٹیوشن کی موت وقوع پذیر نہیں ہوسکی۔ یہ ماں ہی اپنی اولاد کی نجات کا ذریعہ بن سکتی ہےاور اپنے ہاتھوں سے اپنی اولاد کی ضرورت کی جنت تعمیر کر سکتی ہے۔ افغانستان کے معاشرے کے ساتھ منڈی کی معیشت نے جو بدسلوکی کا بدترین مظاہرہ کیا ہے اس کا تدارک بھی افغانستان کی مائوں کی نگاہوں سے دیکھا جائے گا تو دکھائی دے گا۔

چودہ سالوں کی تباہی اور بربادی کے بعد اگر 37 فیصد افغان عورتیں انتخابی بوتھوں تک پہنچ پائی ہیں تو کل سو فیصد بھی پہنچ سکتی ہیں اور حالات کو مثبت انداز میں تبدیل کر سکتی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں