یہ بھارتی کون ہوتے ہیں

عبدالقادر حسن
عبدالقادر حسن
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ہم پاکستانی مانیں یا نہ مانیں بھارت اپنی طاقت کے اس زعم اور گھمنڈ میں آ چکا ہے کہ اس نے پاکستان میں اپنے آدمیوں کے تحفظ کا مطالبہ شروع کر دیا ہے اور وہ بھی براہ راست ہمارے وزیراعظم سے۔ بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات کے طلب گار اور بھارت پسند وزیراعظم کو اب بھارت کے سابقہ وزراء بھی ہدایات دینے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے۔ ہمارا ایک متنازعہ صحافی جسے بھارت متنازعہ نہیں بلکہ واضح کرنے پر تلا ہوا ہے جب کہ ہم اس پر کچھ پردہ ڈالنے کی کوشش میں ہیں، بھارت کو اس کی سلامتی مطلوب ہے۔ یعنی اس پاکستانی کی سلامتی اور صحت پاکستان سے زیادہ بھارت کو مطلوب ہے۔ کیا وہ بھارت کو ہم سے زیادہ اچھا لگتا ہے۔

بھارت کے سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا نے وزیراعظم پاکستان نواز شریف کو خط لکھا ہے کہ صحافی حامد میر کو پاکستان کے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر سے خطرات لاحق ہیں اس لیے ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ بھارت کے معروف اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں پاکستان میں میڈیا اور صحافیوں پر حملوں پر تشویش ظاہر کی گئی ہے اور ان کی حفاظت کی درخواست کی گئی ہے۔ بھارتی سابق وزیر خارجہ نے جیو ٹی وی کے لائسنس کے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اس طرح ہم نے اپنے دوست کے بھارتی تعلق اور تعارف کو جتنا کچھ چھپاپا تھا بھارت نے اسے اتنا ہی برملا کر دیا ہے۔

حامد میر صاحب نے پاکستان کو توڑنے کی جدوجہد میں اپنے والد اور اپنی طرف سے جو خدمات سر انجام دی تھیں ان کا ایوارڈ بھی پاکستان دشمن بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کے ہاتھ سے وصول کیا تھا مگر ہم نے ان کی ان حرکات پر ہمیشہ پردہ ہی ڈالا کیونکہ اس میں ہماری اپنی سبکی اور بے عزتی تھی۔ میں یہ ناگوار سطریں ہرگز لکھنا نہیں چاہتا تھا لیکن سوال یہ ہے کہ بھارتیوں کو یہ جرات کیسے ہوئی کہ وہ ہمارے وزیراعظم کو اس طرح کا خط لکھ سکیں لیکن جب ہم دونوں ملکوں کے درمیان کی دیواریں توڑنے کی خواہش کریں گے اور اس کے نعرے لگائیں گے اور کاروبار کے نام پر دونوں ملکوں میں یگانگت کی بات بار بار کریں گے تو بھارت جو شروع دن سے ہمارے جداگانہ وجود کا دشمن ہے ایسے خط کیوں نہیں لکھے گا۔

زیادہ مدت نہیں گزری آپ یاد کریں اور نئی نسل کو لازماً بتائیں کہ یہ کاروبار اور باہمی تجارت تو پاکستان بننے سے پہلے بھی چل رہی تھی لیکن اسے ختم کر کے ہی ہم نے دو قومی نظرئیے کی بنیاد پر یہ نیا ملک بنایا تھا اگر کاروبار وغیرہ پہلے جیسا ہی رہنا تھا تو پھر معاف کیجیے یہ پاکستان والا پنگا لینے کی ضرورت ہی کیا تھی، ہزاروں کو شہید کیوں کیا گیا اور برصغیر کے مسلمانوں نے اتنی قربانیوں کے بعد اپنی الگ شناخت کیوں قائم کی۔ قیام پاکستان کی تحریک اور جدوجہد میں کون سی قربانی تھی جو پیش نہیں کی گئی۔ ’لے کے رہیں گے پاکستان‘ کے نعرے پر ہم نے اپنا بہت کچھ قربان کر دیا اور قربان کرتے چلے جا رہے ہیں۔

بھارت کے خلاف جنگیں کیوں کی گئیں اور ہم اپنے تحفظ کے لیے کیوں اس قدر بے چین رہتے ہیں۔ اس لیے کہ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ہمارا پڑوسی ہم سے زیادہ آبادی اور وسائل والا ملک ہے اور ہمیں ختم کر کے اپنے میں ضم کر لینا چاہتا ہے یعنی وہی صورت حال بنانا چاہتا ہے جو قیام پاکستان سے پہلے کی تھی۔ ہندو ایک خطرناک قوم ہے اور سازش میں اس کا جواب نہیں ہے چنانچہ وہ ہمارے اندر مداخلت سے باز نہیں آتا اور اس کا کوئی نہ کوئی راستہ نکالتا رہتا ہے، ادھر ایک مدت سے بھارت نے پاکستان کے اندر بدامنی کے لیے دھماکے شروع کر رکھے ہیں اور پاکستان میں ایسے گروہ بنا رہا ہے جو تخریب کاری پر تیار ہوں۔

یہ تو سب سامنے کی باتیں ہیں اصل بات یہ ہے کہ اس سازش نے ہمارے حکمرانوں کو بھی مسحور کر رکھا ہے۔ ہمارے سابقہ وزیر داخلہ رحمان ملک نے آخر تک تسلیم نہ کیا کہ بھارت یہ تخریب کاری کر رہا ہے جب وہ چلا گیا تو اس نے بتایا کہ یہ سب بھارت کرتا تھا۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے لیکن ہمارے حکمران بھارت کے بارے میں کسی خوش فہمی میں ہیں یا خوفزدہ کہ اسے مورد الزام نہیں ٹھہراتے بلکہ اس کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے میں مصروف ہیں۔ جب قومی سطح پر مزاحمت بڑھ جاتی ہے تو وہ خاموش ہو جاتے ہیں جب تک کہ حالات پھر سے ساز گار نہیں ہو جاتے۔

بات صرف اتنی ہے کہ بھارت تو اپنے ارادوں اور ذہنوں پر کوئی پردہ نہیں ڈالتا کیونکہ وہ ہماری کمزوری کی وجہ سے شیر بنا ہوا ہے لیکن میں پاکستانیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ بھارت پاکستان اور سابق حکمرانوں یعنی مسلمانوں سے بہت ڈرا ہوا ہے۔ پہلے کی بات ہے کہ ایک بار بھارت کی معروف شخصیت جناب نورانی نے دوران گفتگو کہا کہ اگر ہم مسجد میں سفیدی بھی کرا لیں تو پڑوسی ہندوئوں میں پریشانی پیدا ہو جاتی ہے۔ ہندو بہادر قوم نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ راجواڑوں پر آپس کی جنگوں میں ہی داد شجاعت دیتے لیتے رہے ہیں۔ ان کی تاریخ مفتوح قوم کی تاریخ ہے وہ عمر بھر محکوم رہے ہیں صرف ایک ہزار سال تو مسلمانوں کے غلام رہے، اندرا نے ڈھاکہ کے سقوط پر یہی تو کہا تھا میں نے مسلمانوں سے ایک ہزار برس کی غلامی کا بدلہ لیا ہے۔

دکھ کی بات تو یہ ہے کہ یہ بدلہ بھی نیم بھارتی مسلمان حکمرانوں کے دور میں لیا ورنہ کمزور مسلمان حکمران بھی یہ موقع نہیں دے سکتا تھا۔ برطانیہ نے بیچ میں آ کر مسلمانوں کے اقتدار میں مداخلت کی اور پورے برطانوی دور میں ہندو، انگریز حکمرانوں کے ساتھ رہے اور انھیں مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہے۔ تقسیم ہند جو انگریزوں نے کی تھی برطانوی جانبداری کی ایک واضح علامت ہے، بہر کیف اب برطانیہ بھی نہیں اور ہم آزاد بھی ہیں، ان حالات میں پاکستانی حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ پاکستان کی عزت پر حرف نہ آنے دے۔ ہم ہندو سے شکست نہیں کھا سکتے اگر میر جعفر و صادق سے محفوظ رہیں۔ بہر کیف بھارت کو ایسے خط لکھنے کی جرات نہیں ہونی چاہیے۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں