.

صدر گم شدہ…وزیر اعظم باہر!

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ظاہر ہے کہ ’’یوم شہدا‘‘ اچانک تو آیا نہیں، اِس کی پہلے سے ایک تاریخ مقرر تھی اور ہے، قوم نے وطن کی آبرو پر مر مرٹنے والے شہیدوں کو یکایک یاد کرنا شروع نہیں کیا بلکہ یہ محفل اب ایک قومی دن اختیار کرچکی ہے …ویسے بھی فوج کے ادارہ ٔ تعلقاتِ عامہ (انٹر سروسز پبلک ریلیشنز) کے زیراہتمام اتنی بڑی، فقید المثال اور عظیم الشان تقریب’’ناگاہ‘‘ نہیں تھی بلکہ اِس کے انعقاد کی تیاریاں بھی یقیناً کئی ماہ سے جاری ہوں گی اور یہ بات صدر مملکت اور وزیراعظم کے علم میں بھی لائی گئی ہو گی...اِس پر بھی غور کرلینا چاہئے کہ پاکستان اِن دِنوں غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے، چند ماہ سے فوج اور دفاعی اداروں کے اہل کاروں پر دہشت گردوں کے تابڑ توڑ حملوں اور مسلسل شہادتوں نے فوج کو سیاسی قیادت کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ’’اُن کا مؤقف کیا ہے ؟‘‘...اسی طرح چند ہی روز گزرے ’’فارغ ہونے والے‘‘ ایک جماعت کے سربراہ کی جانب سے ’’شہید‘‘ کی بحث نے ملک بھر میں جو ہیجان اور طوفان بپا کر دیا تھا وہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور باغیوں سے مذاکرات کے معاملے پر افواجِ پاکستان کا نظریہ بھی خفیہ نہیں...دوسری جانب بھارتی انتخابات کے نتائج بھی سامنے آنے ہی والے ہیں جس میں ممکنہ طور پر اسلام اور پاکستان دشمن نریندر مودی کے وزارتِ عظمیٰ کی طرف بڑھتے ہوئے قدم پاکستان کی فوجی اور سول قیادت کو ’’متحد‘‘ ہونے کا پیغام دیتے نظر آتے ہیں...اور اِس کے علاوہ بھی اذہان میں کلبلاتے کچھ ایسے ہی بے شمار نکات ہیں جن کی بنیاد پر یہ یقینی نظر آتا تھا کہ یوم شہدا کی اِس پر وقارتقریب میں وہ ’’ایک پیج‘‘ نظر آہی جائے گا جو اب تلک صرف حکمرانوں اور بعض وفاقی وزرا کو تو واضح دکھائی دے رہا ہے مگر عوام رویت ہلال کمیٹی کی مدد کے باوجود اُسے دیکھنے سے اب تک محروم ہیں!!!

مگر صاحب! ’’پیج‘‘ ہوتا تو دکھائی دیتا نا! یہ صفحہ تو اُسی وقت پھاڑ دیا گیا تھا جب عوام کی اُمنگوں کے خلاف ’’گفت و شُنید‘‘ کا ماحول بنا کر ’’امیر المومنین‘‘ کے منصب کے لئے ساز باز کی خاطر ’’بعض،خاص‘‘ سامنے لائے گئے اور جب ’’ناکامی‘‘ نظر آنے لگی تو اپنے ’’شاہ باز‘‘ کے ساتھ لندن کے ’’طے شدہ‘‘ دورے پر عین اُسی دن روانہ ہونے کی ٹھانی گئی جس دن دھرتی اپنے شہیدوں کو یاد کرنے کے لئے وزیراعظم کی راہ تَک رہی تھی۔

بھئی میں ایک ’’جاہلِ مطلق‘‘ ہی سہی! تو پھر چلئے اِسی ’’اعزاز‘‘ کی بنا پر یہ جاننے کا حق تو رکھتا ہوں ناکہ برطانیہ سے آخر ایسے کیا اہم ترین معاملات طے ہونے جارہے تھے کہ روانگی کے دِنوں کے انتخاب میں اُسی دن کو ’’شرف و اکرام‘‘ سے نوازا گیا جس روز شہدائے پاکستان کے ذکر کا اہتمام کیا جارہا تھا؟...اگر آپ ’’ایک پیج‘‘ پر ہیں تو اِسے اِس قدر بے دردی سے پلٹا کیوں؟... کیا یہ اتنی ہی غیر اہم محفل تھی کہ جہاں سے کہیں سے کسی کو بھی ’’واضح پیغام‘‘ نہیں دیا جا سکتا تھا؟ یا پھر ’’پیج‘‘ کے دوسرے’’شریک‘‘ نے دو دن پہلے آپ سے ’’خوش گوار ملاقات‘‘ کے دوران اپنا ’’فیصلہ‘‘ سنادیا تھا اوراب آپ کے پاس اِس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں کہ بس خاموش رہا جائے!… حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ ’’بہت زیادہ خوشیاں انسان کو بزدل بنادیتی ہیں اور بہت زیادہ دکھ انسان کو بہادر!‘‘…لیکن بزدل میں آپ کو کہہ نہیں سکتا اور بہادر آپ ہیں نہیں ،غالباً اِسی بنا پر آپ نے برطانیہ جانے کو ہی بھلا سمجھا... ایک بار سوچئے تو سہی کہ کتنے دکھ اور رنج کا مقام ہے کہ ایسے وقت میں جہاں مسلح افواج کو ’’سویلین قائد‘‘ کی احتیاج ہے اور دنیا کو یہ بتلانے کی ضرورت بھی کہ ’’ہم ایک ہیں‘‘...آپ نے صدر سمیت اپنے آپ کو علیحدہ رکھ کر (معاف کیجئے گا) قوم کی کوئی خدمت نہیں کی...اب برائے مہربانی اِس کی وضاحت میں آپ کے ’’پیارے وزرا‘‘ پرانی دھن پر نئے اشعار کے ساتھ یہ گانے نہ گنگنائیں کہ ’’دورہ تو پہلے سے طے شدہ تھا،اِس کا اِس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ وزیر اعظم صاحب تقریب میں مدعو نہیں تھے یا شرکت ہی نہیں کرنا چاہتے تھے‘‘یایہ کہ ’’فوج ہمارے ماتھے کا جھومر ہے ،ٹیکا ہے، بالی ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت کے اعلیٰ عہدوں کی جانب سے اِس تقریب کا ’’غیر محسوس بائیکاٹ‘‘ کیا گیا جسے کم از کم میں نے ضرور محسوس کیا...وزیر دفاع یا وزیر داخلہ کی موجودگی سے یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ پوری حکومت وہاں موجود ہے ’’صدر مملکت کراچی میں اور وزیراعظم برطانیہ میں‘‘...یہ تاویل حلق سے نیچے اُتر نہیں پا رہی، کوشش تو بہت کر رہا ہوں مگر شواہد حقیقت کے بالوں کو مٹھیوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ رہے ہیں اور کہے جا رہے ہیں کہ ’’ایک پیج تو سراب ہے بچے!اِس کے پیچھے مت دوڑ ورنہ دوڑتا ہی رہے گا، یہاں تک کہ ہلکان ہو کر اپنے ہی آئین پر گر پڑے گا‘‘...یہاں توسوچ، فکر، نظریہ اور عمل سب ہی مختلف بلکہ اختلاف کی مٹی سے بنے ہیں ورنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ بَرّی فوج کے سربراہ تو سعودی عرب کے دورے سے واپس لوٹ آئیں مگر ’’بُری گورننس‘‘ کے نگہبان برطانیہ نکل جائیں...دال میں کچھ کالا نہیں پوری دال ہی کالی ہے جسے کِھلے ہوئے سفید چاولوں کے ساتھ کھانے میں یقیناً ٹوٹ پڑنے والوں کو بہت مزہ آئے گا...بہرحال موجودہ حکمرانوں کی کچھ عادات ایسی ہیں کہ اِنہیں ’’بدلنے‘‘ کے لئے ہر دور میں کسی ’’مسیحا‘‘ کا آنا لازمی ہے، اب اگر اِس مرتبہ پھر ’’مسیحا‘‘ آجائے توکسی کو الزام نہ دیجئے گا...ویسے ازراہِ تفنن عرض ہے کہ ہاتفِ غیبی سے تین ممالک کے سربراہان کو یہ آواز آئی کہ ’’بے شک اللہ ہے اور یہ دنیا جلد ختم ہونے والی ہے، آپ تینوں اپنی اپنی قوموں کو اِس کی اطلاع دے دیجئے‘‘...اُن سربراہانِ مملکت میں امریکہ کے صدر براک اوباما، چین کے صدر ژی جنپنگ اور پاکستان کے وزیر اعظم شامل تھے...

اوباما نے فوراً ہی اپنے ملک کے قومی ٹیلی ویژن پر یہ پیغام جاری کیا کہ ’’اے میری قوم کے لوگو! میرے پاس آپ کے لئے ایک اچھی خبر ہے اور ایک بری...اچھی خبر تو یہ ہے کہ ہمارا یقین درست تھا اِس کائنات کا ایک مالک ہے اور وہ بلاشبہ اللہ ہی ہے اور بری خبر یہ ہے کہ دنیا جلد تباہ ہونے والی ہے‘‘...چین کے صدر نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’میرے پاس آپ کے لئے دو خبریں ہیں، ایک بُری اور دوسری انتہائی بُری... بری خبر یہ ہے کہ ہم غلط تھے کہ ہمارا کوئی خدا نہیں ہے لیکن آج میں آپ سب سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بےشک اللہ ایک ہے اور وہی اِس پورے جہاں کا بلا شرکتِ غیرے مالک ہے جبکہ انتہائی بُری خبر یہ ہے کہ دنیا عنقریب ختم ہو جائے گی‘‘...نواز شریف صاحب نے قوم سے خطاب کے بجائے انتہائی مسرت کے عالم میں سب سے پہلے اپنے برادرِ محترم کو فون کیا اور اُن سے کہا کہ ’’میرے پاس تمہارے لئے دو خوش خبریاں ہیں‘‘…بھائی اُس وقت ’’لیپ ٹاپ سیزن2‘‘ اسکیم کے سلسلے میں ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے…اُنہوں نے جیسے ہی ’’پائیان‘‘ کی رَس گُھلتی آواز سنی تو فوراً ہی کمرے سے باہر نکل آئے اور کونے میں جا کر کہنے لگے…’’پائیان ! میں باہر آگیا ہوں اب آپ جلدی سے خوش خبریاں سنائیے‘‘…وزیراعظم نے تقریباً جھومتے ہوئے چھوٹے سے کہا کہ ’’پہلی خوش خبری تو یہ ہے کہ میں دنیا کے اُن تین خوش نصیب سربراہانِ مملکت میں شامل ہوں جنہوں نے ہاتفِ غیبی کی آواز سنی ہے ،میرے علاوہ صرف اوباما اور جنپنگ ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا ہے…‘‘اور پائیان دوسری؟‘‘ چھوٹے نے بے قراری سے پوچھا…پائیان نے کہا’’دوسری اچھی خبر یہ ہے کہ اب ہمیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں کہ کوئی ٹیک اوور کر لے گا کیونکہ یہ دنیا جلد ہی ختم ہونے والی ہے‘‘!!

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.