.

آج کی بڑی خبر کیا ہے؟؟؟

بشریٰ اعجاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج کی بڑی خبر کیا ہے؟ حکومت طالبان مذاکرات؟ شیخ الاسلام مولانا طاہرالقادری کی پاکستان بچاؤ مہم کا مئی کے وسط میں آغاز؟ تحریک انصاف اور منہاج القرآن کے اس موقع پر الحاق کے امکانات؟ بھارتی انتخابات کے نتائج کا بی جے پی کی جانب جھکاؤ اور اس انتہاپسند جماعت کے پاکستان کے بارے میں غلط عزائم؟ حامد میر پر قاتلانہ حملہ، آئی ایس آئی پر الزامات کی تردید نہ کرتے ہوئے جیو اور جنگ کا اپنے سابقہ مؤقف پر قائم رہنا اور حامد میر کا جے ٹی آئی کو بیان ریکارڈ کرانے سے انکار؟ یا پھر ایک گھِسی پٹی پرانی خبر، ملک بھر میں ہونے والی طویل لوڈشیڈنگ، جس نے گرمی شروع ہوتے ہی ہر جانب کہرام برپا کر دیا ہے۔! حالانکہ میرے خیال کے مطابق یہ آج کی بڑی خبر ہرگز بھی نہیں۔۔۔ ہاں اک ایسی پرانی خبر ضرور ہے جو پرانی مہلک بیماری کی طرح ہمارے ساتھ عرصۂ دراز سے چمٹی ہوئی ہے۔۔۔ جس کا معقول علاج نہ مشرف حکومت نے کیا نہ زرداری حکومت نے۔۔۔ اور نہ ہی نوازشریف حکومت نے۔! چنانچہ وقتی علاج معالجہ، نیم حکیم، گولی ٹیکہ۔۔۔ ٹائپ حیلوں بہانوں سے سب نے اس بیماری کو ٹالنے کے علاوہ اپنے اپنے وقت میں اور کچھ نہ کیا۔۔۔ سو نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔۔۔

اتنی بڑی بیماری اور سپشلسٹ صرف فیصل آباد کے عابد شیر! جن کا سارا زور بجلی چوروں کی ٹیمیں بنانے، چور پکڑنے کے بجائے باعزت چھوڑنے، نادہندگان کی فہرستیں جاری کرنے (جو حسن اتفاق سے ان کی مخالف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں)، فیول ایڈجسٹمنٹ، گردشی قرضوں، فرنس، تھرمل اور پاور ہاؤسوں کو ایندھن کی سپلائی نہ ہونے جیسی وجوہات کے علاوہ کچھ ایسے پیچیدہ اعدادوشمار کا تانابانا ہوتی ہیں جنہیں حکومت اور اس کے چند عالی دماغوں کے علاوہ کوئی اور سمجھنے کی قابلیت رکھتا ہے نہ جرأت، چنانچہ یہ فیثاغورث ٹائپ مسئلہ گزرتے سالوں کی کوتاہیوں اور صریحاً بددیانتیوں کی وجہ سے اب اس مقام پر آ چکا ہے کہ سورج نے موسم کی پہلی تپش کیا دی ملک کے طول و عرض میں حال دہائی مچ گئی!شیر کی اصلیت اور عابد شیر کی اہلیت نے ہر جانب سماں باندھ دیا! گرمی سے مرنے اور بے ہوش ہونے والوں کی تعداد سے اندازہ ہوتا ہے آگے چل کر جب موسم اپنی شدت پر آئے گا تو اس ماتم کی ڈگری میں کس قدر اضافہ ہو گا۔۔۔ مگر دھن حوصلے ہیں ہمارے تاجر حکمرانوں کے۔۔۔ جو ہمیں ہنوز سسٹم میں ہزاروں میگاواٹ بجلی کے اضافے کی خوشخبریاں سنا رہے ہیں ۔۔۔ اگر یہ اضافے جاتی عمرہ تک محدود نہیں تو پھر انہیں کون اغوا کر رہا ہے؟ ابھی چند روز پہلے ہی تو وزیراعظم اور خادمِ پنجاب نے اس برس اندھیرے دور ہو جانے کی نوید عوام کے کانوں میں انڈیلی تھی۔۔۔ اور ارشاد فرمایا تھا! اس برس لوڈشیڈنگ میں خاطر خواہ کمی واقع ہو گی۔۔۔ ابھی عوام اس خوشخبری سے پوری طرح سنبھلے بھی نہ تھے کہ اندھیروں اور گرمی کا شب خون شروع ہو گیا۔! غالبؔ ہوتے تو اس صورتحال پر برملا کہتے!

حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

اس قیامت کی گرمی میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے پیچھے اگر ’را‘، ’موساد‘ اور ’سی آئی اے‘ کا ہاتھ نہیں تو پھر ایسی نادیدہ قوت کون ہے جو اس مسئلے کو اب اس نہج پر لے آئی ہے کہ وہ بلائے جان کی طرح حکومت اور عوام سے چمٹ گیا ہے؟۔ ایک ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق تھرمل اور فرنس آئل سے چلنے والے کئی پاور پلانٹس ایندھن کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں، یہ وہ پاور پلانٹس ہیں جو تقریباً 2200 میگاواٹ بجلی جنریٹ کرتے تھے، اس کے علاوہ قرضوں میں اضافہ اور نادہندگان بھی اس لوڈشیڈنگ کا باعث ہیں۔۔۔ مگر یہ وہ وجوہات ہیں جو ہم عرصۂ دراز سے لمبی چوڑی تاویلوں کی حاشیہ آرائی سے حکومت، حکومتی نمائندوں اور سوکالڈ ماہرین کی منہ زبانی سنتے آ رہے ہیں۔۔۔ حکومتیں چاہے نیم فوجی رہیں، جمہوری یا عوامی۔۔۔ بجلی یعنی لوڈشیڈنگ کے معاملے میں ان کے ہاں جو اتفاقِ رائے دیکھنے میں آتا ہے وہ حیران کن ہے۔۔۔ اگر ایسا اتفاق رائے قومی معاملات میں ان کے ہاں پایا جاتا تو شاید آج اس ملک کا بڑا مسئلہ، بڑی خبر اس ملک میں رہنے والا وہ عام آدمی ہوتا جو نوّے روپے کلو آلو خرید رہا ہے۔۔۔ 50 روپے کلو پیاز۔۔۔ اور دو ہزار سے 22 سو روپے من آٹا! وہ جس کی پھٹی ہوئی جیب اور پھٹی ہوئی ایڑیاں ان سیاسی جماعتوں کی مہربانی ہیں، جو ان کے زخموں پر مرہم رکھنے۔۔۔ اور چاک گریبان سینے کا دعویٰ لئے آتی رہیں اور جاتی رہیں۔! آج ایک ہیوی مینڈیٹ زدہ جمہوری حکومت کے زیرسایہ پلنے والے عوام سستے ڈالر اور مہنگے آلو کا حساب کتاب لگانے سے تو قاصر ہیں کہ بے چارے ناخواندہ اور نیم جاہل ہیں۔!

بجلی کی طویل بندش اور ہر ماہ لمبے چوڑے بل انہیں حال کی حقیقت بتانے کے لئے کافی ہیں۔ بڑے نادہندگان اور عادی چوروں کا بوجھ چھوٹے صارفین کی کمر پر لادنے والی جمہوری حکومت چھوٹے بجلی چور اور چھوٹے نادہندہ کے خلاف جس تیزی سے حرکت میں آ کر اسے ملزم، مجرم اور نجانے کیا کیا بنا دیتی ہے اگر اسی طرح بڑے نادہندگان اور ہیوی ویٹ بجلی چوروں سے بھی یکساں رویہ رکھتی تو آج کسی چھوٹے نادہندہ، چھوٹے بجلی چور کو اپنی سفیدپوشی اور کم لباسی کا بھرم ٹوٹنے کا شکوہ نہ ہوتا۔۔۔ کوئی حکومت اس کے نظامِ انصاف، اس کے کارندوں اور کلف زدہ کالروں والوں کی اکڑی ہوئی سریا زدہ گردنوں سے اس قدر نفرت نہ کرتا، مگر شیر کے ہمراہ بکری کو ایک ہی گھاٹ پر پانی پلانے کا وعدہ کر کے جمہور کے کندھوں پر سواری کرنے والی موجودہ حکومت جو سلوک اس وقت ’’بکریوں‘‘ سے روا رکھے ہوئے ہے۔۔۔ وہ ان کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔!

بجلی پر سبسڈی ختم کرنے اور طویل بندش کے باوجود عام صارفین سے لاکھوں کے بل وصول کرنے والی حکومت اس مہلک اور پرانی بیماری کے اگر اس وقت شافی علاج کی بابت سنجیدہ نہ ہو گی تو آلو، پیاز اور آٹے کی مہنگائی سے عاجز، گرمی سے جلے بھنے، لمبے بلوں سے تنگ، پھٹی ایڑیوں اور پھٹی جیبوں والے نہ کسی نوازشریف کو پہچانیں گے اور نہ ہی خادمِ پنجاب کی کارسرکار کے سڑک بناؤ، میٹرو بڑھاؤ منصوبے کو خاطر میں لائیں گے، کہ خالی پیٹ اور خالی جیب لے کر سبزی کی ریڑھی پر رکھی سبزیوں اور آٹے کی دکان پر آٹے کی بوریوں کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ کر گھر لوٹنے اور بھوکے بچوں اور انہیں جھوٹے وعدوں سے بہلاتی، چڑچڑی بیویوں کا سامنا کرنے والے میٹرو نہیں بنیادی ضرورتوں کے طلب گار ہیں کہ ان کے بغیر زندہ رہنا جس دل گرے اور ضبطِ نفس کا کام ہے اسے تجار کی حکومت ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ان کے حواری، وزراء، مشیر اور دیگران ارب کھرب پتی نہیں جانتے۔۔۔ ہرگز نہیں جانتے۔! ہاں خلیفہ دوئم سیدنا عمرؓ ابن خطاب، کہ رات کی تاریکی میں آٹے کی بوری سر پر لادے بھوکے بچوں کی ماں کے پاس پہنچتے ہیں جو دیگچی میں پانی کے اندر پتھر ڈالے بچوں کو بہلا رہی ہے۔۔۔ ہم سے اچھا تو فرات کے کنارے بیٹھا بھرے پیٹ کا وہ کتا تھا جس کے متعلق سیدنا عمرؓ ابن خطاب نے کہا تھا، اگر وہ بھی بھوکا رہا تو عمرؓ سے اس کا حساب لیا جائے گا۔! خدا جانے وہ کون لوگ تھے جو مخملی جائے نمازوں پر پیشانیاں گھِسا کر، لمبے چوڑے محراب ڈال کر مرغ مسلم اور حلوے ڈکارنے والے یہ نسبتیں بھی اپنے نام الاٹ کروا بیٹھے۔۔۔ چنانچہ ہم کوری پیشانیاں، فتویٰ زدہ وجود لئے۔۔۔ نہ تو روشن لوگوں سے اپنی کوئی نسبت جوڑ سکتے ہیں، نہ ہمارا تعلق اس طبقۂ اشرافیہ سے ہے جو دھڑلے سے بجلی چوری کرتا ہے، کروڑوں کے بل شانِ رعونت سے قدموں تلے روندتا ہے۔۔۔ اور خود کو عوام کا نمائندہ، عوام کا نجات دہندہ بھی گردانتا ہے۔۔۔ خدا جانے آج کی بڑی خبر کیا ہے؟؟؟

بشکریہ روزنامہ"نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.