.

احسان کا بدلہ

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہ منفرد پاکستانی سیاستدان ہیں اور یوں ان کا احسان کا بدلہ چکانے کا انداز بھی منفرد ہے۔ ان کے اس منفرد انداز کی داستان بہت طویل ہے لیکن میں وہاں سے شروع کرتا ہوں جہاں سے انہوں نے کوچہ سیاست میں قدم رکھا۔

تب ماڈل ٹائون لاہور کے ای بلاک کے ایک چھوٹے سے گھر کے ایک چھوٹے سے مہمان خانے میں جنرل حمید گل ‘ محمد علی درانی ‘ ڈاکٹر محمد فاروق خان اور جاوید احمد غامدی ان کے ساتھ مغزکھپائی کرتے تھے۔ یہ تینوں انہیں سیاست میں آنے کا جبکہ غامدی صاحب انہیں نہ آنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ محمد علی درانی اور جنرل حمید گل اس وقت سمجھ گئے لیکن ڈاکٹر محمد فاروق خان سادگی اور اخلاص میں مار کھا گئے۔ وہ اپنے کلینک سے کمائی ہوئی رقم ان کی سیاست کی نذر کرتے رہے۔ ان کی جماعت کا پہلا دستور بھی انہوں نے لکھا۔ ۹۷ء کے انتخابات میں وہ ان کے ساتھ کراچی تا مینگورہ گھوم کر اپنی تقاریر کے ذریعے انہیں انقلابی ثابت کرنے اوران کے حق میں لوگوں کا لہو گرمانے کی کوشش کرتے رہے۔

کچھ عرصہ بعد وہ حقیقت جان گئے لیکن ایک مہذب انسان ہونے کے ناتے کبھی اپنے سابقہ دوست اور لیڈر کے خلاف زبان نہیں کھولی۔ جب تک وہ زندہ رہے‘ یہ صاحب ان کا نام احترام سے لیتے رہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ کئی معاملات کے رازدان ہیں۔ دو سال قبل انہیں مردان میں عسکریت پسندوں نے گولیوں کا نشانہ بنایا۔ قاضی حسین احمد جن کی جماعت کو ڈاکٹر محمد فاروق خان بہت پہلے چھوڑ چکے تھے‘ جن کی جماعت نے ڈاکٹر فاروق خان کے خلاف بدترین پروپیگنڈا کیا تھا اوراس جماعت کے خلاف انہوں نے سینکڑوں صفحات سیاہ کئے تھے ‘ اسی دن ان کی لاش کا دیدار کرنے ان کے گھر پہنچے لیکن اس منفرد سیاستدان نے ان کے جنازے پر جانا گوارا کیا اور نہ ان کے اہل خانہ سے فون پر تعزیت کی زحمت اٹھائی۔ کچھ عرصہ بعد میری ملاقات ہوئی اور میں نے ڈاکٹر محمد فاروق خان مرحوم کا ذکر چھیڑ دیا تو انہوں نے ان پر تبرا بھیج کر انہیں خود غرض قرار دیا(پشاور کے معروف صحافی عقیل یوسف زئی اس نشست کے گواہ ہیں) تب تو جوابی دلائل سے میں نے ان کے ساتھ حساب برابر کیا لیکن میں ان کی اس روایت پسندی اور احسان کے بدلے کے اس منفرد انداز کا مزید قائل ہو گیا۔ جب جنگ گروپ نے ان کے ساتھ مل کر سیلاب زدگان کی امداد کے لئے مہم چلانے کا آغاز کیا تو میں نے خود اپنی انتظامیہ سے شکایت کی کہ ایک میڈیا گروپ کا کسی سیاسی جماعت کے ساتھ کسی بھی معاملے میں نتھی ہونا درست نہیں۔ مجھ جیسے مزدور کی تو خیر کیا سنی جاتی لیکن جنگ گروپ کے اس اقدام پر ایم کیو ایم کے قائد تحریک الطاف حسین صاحب بھی برہم ہو گئے اور اپنی ناراضگی اپنے مخصوص انداز میں جنگ گروپ کی انتظامیہ تک براہ راست پہنچائی۔

میاں نوازشریف صاحب نے اپنا ردعمل جنگ گروپ کی انتظامیہ کو ان الفاظ کے ساتھ پہنچا دیا کہ اس کام کے ذریعے وہ ان کے ساتھ براہ راست دشمنی کا ارتکاب کر رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے بھی اسی طرح کا ردعمل ظاہر کیا لیکن جنگ گروپ ان دونوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کی ناراضگی مول لے کر اس بنیاد پر ڈٹا رہا کہ اس منفرد سیاستدان کو وہ زبان دے چکے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ اشتراک کار اس وقت ہو رہا تھا کہ جب جنگ گروپ کی طرف سے ’’امن کی آشا‘‘ بھی چل رہا تھا اور وائس آف امریکہ کا پروگرام کا کنٹریکٹ بھی جیو کے پاس تھا جو بعدازاں ایک اور چینل اور پھر ایک اور چینل کے پاس چلا گیا۔ پھر جس انداز میں جیو نیوز پر اس منفرد سیاستدان اور ان کی جماعت کی کوریج ہوتی رہی ‘ اس پر مجھ سمیت جیو کے اکثر اینکرز معترض تھے۔ الیکشن کے دن سے ایک روز قبل بھی میاں نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے ٹیلی فون پر دو مرتبہ شکایت کی تھی کہ ہمارا چینل ان کے مقابلے میں اس منفرد سیاستدان کا ساتھ دے رہا ہے۔

آج اسی جنگ گروپ اور جیو نیوز پر مشکل وقت آیا تو وہ منفرد سیاستدان اس کے خلاف میدان میں نکل آیا۔ اب احسان کے بدلے کا اس سے بہتر طریقہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ ۔ احسان کا بدلہ منفرد انداز میں دینے کی ایک اور تابناک مثال ہمارے دوست اور سینئر اینکر جناب حامد میر ہیں ۔ پچھلے سالوں میں انہوں نے جتنی جگہ اپنے پروگرام میں اس منفرد سیاستدان کو دی ‘ کسی اور کو نہیں دی ۔ انتخابات سے قبل جب یہ منفرد سیاستدان حادثے کا شکار ہوئے تو حامد میر کی وہی کیفیت تھی جو ایک سچے دوست اور سگے بھائی کی ہو سکتی ہے ۔ وہ اپنے تمام کام چھوڑ کر ان کے پاس لاہور پہنچے۔ اگلے دن ’’کیپٹل ٹاک‘‘ اسی اسپتال سے ان کے چاہنے والوں کے ساتھ کیا لیکن اب جب اس حامد میر کا بدن چھ گولیوں سے چھلنی ہو گیا اور جنہیں موت سے اللہ نے معجزانہ طور پر بچایا تو ان کی مزاج پرسی کے لئے جانے کی بجائے یہ منفرد سیاستدان ان کے زخموں پر نمک پاشی میں مصروف ہو گئے۔ ایک طرف چوہدری اعتزاز احسن ہیں ‘ جن کو جنگ گروپ کے ہمارے بعض ساتھیوں نے بہت دکھایا اور جو اس وقت جنگ گروپ کے مخالف گروپ کا وکیل ہے‘ حامد میر کے مزاج پرسی کے لئے حاظر ہوئے۔ وہ ان کے سامنے کھڑے ہو کر روتے رہے اور پھر باہر نکل کر ایک جینوئن جمہوریت پسند کی طرح حامد میرصاحب اور جنگ گروپ کے حق میں بیان دے دیا۔ یہ ہے اس منفرد سیاستدان کے احسان کا بدلہ دینے کا منفرد طریقہ ۔ یہ داستان بہت طویل ہے ۔ یہ حفیظ اللہ نیازی سے شروع ہوکرملک ریاض سے ہوتا ہوا شوکت یوسف زئی تک سینکڑوں محسنوں کا احاطہ کرتا ہے۔

اسی نوع کے سینکڑوں قصے میرے پاس ہیں۔ زندگی رہی تو اور بھی داستانیں رقم کرلوں گا۔ شوکت یوسف زئی کا واقعہ تازہ ہے ‘ اس لئے ان کا حق پہلے بنتا ہے اور یہ داستانیں کیوں نہ لکھوں۔ اب کی بار تو انہوں نے میرے اوپر بڑا احسان کیا ہے ۔ وہ یہ کہ اپنے اس آخری اقدام کے ذریعے انہوں نے مجھے اپنے گروپ کی انتظامیہ‘ ان کی حمایت کرنے والے درجنوں صحافی دوستوں ‘ حامد میر صاحب اور ان کی جماعت کے مخلص کارکنوں کے سامنے سرخرو کیا ۔ میں ایک عرصے سے ان لوگوں کو بتاتا رہا کہ اس منفرد سیاستدان کی ڈوریں کہیں اور سے ہلتی ہیں لیکن وہ ماننے کو تیار نہیں تھے ۔ اب وہ سب سمجھ گئے کہ حقیقت حال کیا ہے ۔ الحمدللہ ثم الحمد للہ ۔ ان میں سے کئی ایک میرے سامنے اعتراف کر چکے کہ سلیم تم ٹھیک کہتے تھے۔ اگر انہوں نے اپنا طریقہ نہ بدلا اور اسی منفرد طریقے سے احسان کا بدلہ دیتے رہے تو انشاء اللہ عنقریب باقی ماندہ لوگوں پر بھی حقیقت واضح ہو جائے گی۔ تب تک وہ اور ان کے چاہنے والے مجھے جتنی گالیاں دے سکتے ہیں ‘ دے دیں۔ بقول مولانا مودودی زمانہ بڑا بے رحم صراف ہے اور وہ کھرے اور کھوٹے کو جدا کرکے ہی چھوڑتا ہے۔ شاید شیکسپئر نے کہا تھا کہ تم کچھ لوگوں کو ساری زندگی کے لئے اور ساری دنیا کو کچھ وقت کے لئے بے وقوف بنا سکتے ہو لیکن ساری دنیا کو ساری زندگی کے لئے بے وقوف نہیں بنا سکتے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.