.

حب الوطنی کا تعین کون کرسکتا ہے

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’دنیا میں تلوار ہی حتمی اور فیصلہ کن طاقت ہے‘‘ ڈیگال
قدیم اشتراکی نظریات کے مطابق سب سے جاندار مکالمہ بندوق کی زبان ہی ادا کرتی ہے، اور اس سے اختلاف کی جرأت حماقت۔ حب الوطنی کا حتمی تعین بھی اسے ہی زیب دیتا ہے جس کے ہاتھ میں تلوار ہو۔ سب کو اس کا فیصلہ سننا اور ماننا ہوتا ہے۔ جب پاکستان دولخت نہیں ہوا تھا تو پنجاب اور فوج مشرقی پاکستان کے لئے حب الوطنی کے پیمانے طے کرتے تھے، اور یقینا ہمارے بنگالی بھائیوں کو یہ فاصلاتی سبق کو پسند نہیں تھا۔ تاہم وہ اسے سننے پر مجبور تھے یہاں تک کہ حالات نے اُنہیں اپنی قسمت اپنے ہاتھ لینے کا موقع دے دیا۔

طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں، جہاں ر یاست ِ پاکستان کے ساتھ وفاداری کا ادنیٰ سا اظہار بھی کفر کے زمرے میں آتا ہے، میں حب الوطنی اور اخلاقیات کے تصورات زندگی کے کچھ اور حقائق سے مشتق ہیں… اور یقینا اس زندگی پر صدر ہزار ماتم جو ان کے نظریات سے سرتابی کرے۔ اس فیصلہ کن تلوار کی بہت سی شکلیں ہیں۔ دولت کی چمک کو بھی اساتذہ نے ’’سینہ ٔ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا‘‘ قرار دیا ہے۔ پیٹروڈالر، بینکنگ ، صنعت،انفارمیشن ، خاص طورپر ٹی وی، کے نیام میں سمائی رکھنے والی خیرہ کن طلسمی تلوار کی کاٹ بہت دور تک جاتی ہے۔ آج سچ سمجھا جانے والا ایک جھوٹ یہ بھی ہے کہ انفارمیشن کے اس دور ، جس کی علامت انٹرنیٹ ہے، نے ہمیں آزاد کر دیا، جبکہ حقیقت یہ کہ اس نے ہمیں زیادہ ’’فرماں بردار ‘‘بنا لیا ہے۔

2007 میں انصاف کے دفاع میں وکلابرادری سڑکوں پر تھی جبکہ نوخیز میڈیا بھی اپنا دم خم آزماتے ہوئے وکلامارچ کا ہم قدم۔ ’’کالا کوٹ اور کالا کیمرہ‘‘ کا امتزاج ایک فیصلہ کن طاقت کا حامل نکلا۔ انھوں نے اس وقت کی فوجی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کے ڈگمگاتے قدموں نے جمہوری حکومت کے لئے راہ ہموار کر دی۔ وکلا تحریک کے نتیجے میں بحال ہونے والی عدلیہ بھی طاقت کا فعال مرکز بن گئی۔ بحال ہونے والے محترم چیف جسٹس ریاست میں ایک طاقت ور شخصیت بن کر ابھرے۔ تاہم ہمیں محتاط رہتے ہوئے ایک بات کی تفہیم کرنا ہو گی کہ جس چیز نے اُنہیں طاقت ور انصاف کی علامت بنایا، وہ آئینی اور قانونی طریق ِ کار سے زیادہ وکلا برادری کی طرف سے ’’قدیم اور موثر ترین دلیل‘‘،یعنی مکوں اور گھونسوں (اور بوقت ِضرورت لاتوں) کے آزادنہ استعمال میں حاصل کردہ مہارت تھی۔ اُس دور میں کچھ احباب تو اس قدر ماہر ہو چکے تھے کہ وہ کورٹ روم کی بجائے لاس ویگاس میں قسمت آزمائی کا سوچ رہے تھے۔ کچھ کے لہجے کی گھن گرج مظہر شاہ کی یاد تازہ کرتی۔ انصاف کو مسند پر فائز کرنے والے بازو بھی فیصلہ کن شمشیر کی ہی ایک شکل تھے۔

آج جب ایک خفیہ ایجنسی اور میڈیا کے ایک طاقت ور دھڑے کے درمیان ہونے والی محاذ آرائی میں حب الوطنی کا تعین کون کرے گا؟ماضی میں تو ایسی صورت ِ حال کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا… کہ ایک میڈیا ہائوس اور آئی ایس آئی کو چیلنج ؟تاہم اب وقت بھی بدل گیا ہے اور بہت سے پرانے معروضات بھی۔ ماضی میں کسی کی پیشانی پر نمودار ہونے والی شکن بھی فیصلہ کن ہوتی تھی، آج نہیں۔ آج حکم چلانے کی بجائے بات اور دلیل سے قائل کرنے کا دور ہے، گو کبھی کبھار سخت لہجے میں تنقید بھی کر لی جاتی ہے۔

آج ایسا تاثر ملتا ہے کہ آئی ایس آئی نے نشانہ لگانے میں ترکش کو کچھ زیادہ ہی اُوپر تان لیا۔ پاکستان یقینا مصر نہیں… اور خدا کا شکر ہے کہ نہیں … اور اب یہاں میڈیا کے ایک حصے پر بھی چڑھائی کر دینا ممکن نہیں۔ آج دھونس دھمکی کا دور نہیں، اس لئے حب الوطنی کے پیمانے طے کرنے والوں کو اب معاملہ فہمی اور اعتدال کی راہ اپنانا ہو گی۔ دوسری طرف میڈیا کے ناخدائوں کے لئے بھی مقام فکر ہے کہ وہ موم کے پر لگا کر پرواز کرنے والے Icarus کی طرح سورج کے قریب ہونے کی کوشش نہ کریں۔ مستقبل میں سب کو قدرے محتاط رہنا ہوگا، لیکن ایک اور بات بھی طے کرنی ہو گی کہ اب ایک دوسرے پر حب الوطنی یا اس کے برعکس کے لیبل چسپاں کرنے کی بجائے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ چنانچہ وہ لوگ، جو آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ’’غالب کے اُڑیں گے پرزے‘‘، خاطر جمع رکھیں، ایسا کوئی تماشا نہیں ہونے جا رہا ۔ ہمارے معروضی حالات ، جیسے ہیں، کم و بیش ویسے ہی رہیںگے۔ زرداری صاحب پانچ سال نکال گئے، اب نواز شریف صاحب بھی اپنی مدت پوری کر جائیں گے۔ ہمارے سامنے اس کے سوا کوئی اور آپشن نہیں۔ 1970 کے انتخابات سے قبل، پاکستان میں نعرہ لگایا جاتا تھا کہ ہمارے ہاں جمہوریت نہیں ، وگرنہ ہمارے تمام مسائل حل ہو جاتے۔ آسمان نے ہمارے ہاں جمہوریت کی ریل پیل کر دی اور غالباً مسکراتے ہوئے کہا ہو گا…’’ہور چوپو‘‘۔

اب جمہوریت کی تو کوئی کمی نہیں ، لیکن جب اپنے سیاسی طبقے پر نظر جاتی ہے تو دل ڈوب جاتا ہے کہ لے دے کے پھر وہی چہرے۔ اصل مسلے کا سب کو علم ہے اور حقیقت پوچھیں تو اب جمہوریت کے نام پر باریوں کے اس کھیل سے لوگ تنگ آ گئے ہیں۔ گھوم پھر وہی لوگ جو حکومت کرتے چلے آرہے ہیں، ان کی ترجیح نہ عوامی صحت کے پروگرام ہیں اور نہ تعلیم اور نہ ہی وہ طاقت ور افراد سے ٹیکس وصول کر سکتے ہیں۔ پہلے سے ہی پسے ہوئے عوام پر بالواسطہ ٹیکس عائد کر کے ان کی رگوں میں بچا کھچا خون نچوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اہم جب ہمارے مالی حالات ابتر بھی ہوتے ہیں تو بھی ہم عظیم الشان منصوبے بنانے سے باز نہیں آتے… جڑواں شہروں میں میٹروبس کا منصوبہ (حالانکہ ان کے بہت سے دیگر مسائل حل ہو جاتے تو بہتر تھا) اور پھر مری کی پہاڑیوں سے مظفر آباد تک ریل کی پٹری بچھانے کی خواہش۔ اس پر عوام جتنا مرضی چیخ وپکار کر لیں، حکمران ان کی باتوں پر کان دھرتے دکھائی نہیں دیتے۔ اگلے چار سال تک ایسے منصوبوں سے مفر ممکن نہیں۔

پاکستان کی اس زرخیز دھرتی پر ہمارے سامنے مزید کون سے آپشن ہیں؟ لے دے کے طالبان ہیں اور ان کے انواع و اقسام کے گروہ۔ کسی اخبار میں ایک خبر نظر سے گزری جس کے مطابق فوج کے ایک سابق سرجن جنرل سے طالبان نے بھتہ طلب کیا۔ اگر خبر درست ہے تو وہ صاحب بھتے کی رقم پر راضی ہو گئے اور مطالبہ پورا کر دیا۔ اب ان سے مزید رقم طلب کی جا رہی ہے۔ اگر فوج کے سابق جنرل کو بھی طالبان کی بات ماننے میں عافیت نظر آتی ہے تو پھر باقی عوام کا تو اﷲ ہی حافظ ۔ کچھ عرصہ پہلے ایک اور کیس منظر عام پر آیا تھا کہ لاہور سے ایک فور اسٹار جنرل کے داماد کو اغوا کر لیا گیا اور اس کی رہائی بھی بھاری رقم کی ادائیگی کے بعد ہی عمل میں آئی تھی۔ تاہم یوم شہدا کے موقع پر جنرل راحیل شریف کے خطاب کو سن کر دل کو تقویت ہو جانی چاہئے کہ اُنھوں نے ریاست دشمن عناصر کو کڑی تنبیہ کر دی کہ وہ آئین پاکستان کو تسلیم کرتے ہوئے قومی دھارے میں شامل ہو جائیں ورنہ… چشم ِ تصور دیکھ سکتی ہے کہ ان الفاظ کو سن کر طالبان اور دیگر ریاست دشمن عناصر اپنی پناہ گاہوں میں چھپے تھر تھر کانپ رہے ہوںگے۔

پریس میں رپورٹ کیا گیا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے بہت سے دینی مدرسے طالبان کی طرف سے اغوا شدہ افراد سے تاوان کی رقم کی وصولی اور دیگر جرائم اور دہشت گردی میں معاونین کا کردار ادا کرتے ہیں۔ بڑے مجرموں سے تو ریاست بعد میں نمٹے گی، اگر ایسا کوئی ارادہ ہوا، پہلے کسی گائوں کے عام ملا سے لائوڈ اسپیکر کی آواز کم کرنے کا کہہ کرتو دیکھ لیں۔ جب ریاست اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ ایک ملا سے اسپیکر کی آواز کم نہیں کرا سکتی تو ریاست مخالف عناصر سے کیسے نمٹ سکتی ہے؟ایک بات اب تک تقریباً طے ہو چکی کہ موجودہ حکومت کو طالبان کے خطرے سے نمٹنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ سیاسی حکومت کی پشت پناہی کے بغیر فوج کا بھی کارروائی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

جس دوران ہم پیہم تذبذب میں گھرے دشمن کو مارچ کرتا ہوا دیکھ رہے ہیں، مسٹر اسد کو کریڈٹ دینا ہو گا کہ وہ شام کو مکمل تباہی سے بچانے کے لئے دشمنوں سے آخری دم تک لڑنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اگر وہ ثابت قدمی نہ دکھاتے تو اب تک شام بھی لیبیا جیسے انجام سے دوچار ہو چکا ہوتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شام میں بہت بربادی ہوئی ہے، بہت سا انسانی خون بہا ہے لیکن بنیاد پرستوں کے سامنے خم ٹھونک کر کوئی کھڑا تو دکھائی دیتا ہے۔ شام میں ایک مرد ِ دلیر حکومت کر رہا ہے، ہمارے ہاں ایسا کون ہے ؟اس وقت پاکستان کو کسی پیوٹن کی ضرورت ہے وہ مضبوط قدموں پر کھڑا دکھائی دے۔ دہلی میں حکومت تبدیل ہو رہی ہے، افغان بھی نئی منزل کا راستہ تراش رہے ہیں لیکن ہم انہی راہوں، جن پر ہمارے قدم گزشتہ تیس سال سے نقش ہیں، پر چلنے پر مجبور کیوں ہیں؟

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.