.

رفسنجانی کی نصیحت پر کان دھرنا ہوں گے!

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

علی اکبر ہاشمی رفسنجانی ایران کے مشہور ترین اور منجھے ہوئے سیاستدانوں میں سے ایک ہیں۔ اتنے وسیع تجربے کے حامل اس ایرانی سٹیٹ مین کو ایران میں بطور سیاستدان اثرو رسوخ ملنا چایے تھا لیکن شومئی قسمت کہ محمود احمدی نژاد کے دور صدارت میں انہیں اذیت اور توہین آمیز سلوک کا سامنا رہا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ رفسنجانی آج بھی استدلال اور دانش کی آواز ہیں۔ حکومت میں نہ ہوتے ہوئے بھی ان کی رائے کی اہمیت رہی ہے۔ اگرچہ ایران ا بھی تک قدامت پسند انقلابی پارلیمانی اشرافیہ کے زیر نگیں ہے۔ یہ ایک طرح کی مذہبی حاکمیت ہے جسے فوج اور مذہبی لوگوں کی خدمات حاصل ہیں۔

احمدی نژاد کے دور میں پاسداران انقلاب نے اپنے اختیار کا دائرہ سرمایہ کاری کے مراکز تک پھیلا دیا تھا۔ تیل کے کاروبار سے متعلق کمپنیاں، سلامتی سے متعلق عسکری ادارے پہلے ہی ان کے زیر اثر تھے۔ تاہم ڈاکٹر حسن روحانی کے صدر منتخب ہونے کے بعد رفسنجانی اپنے اعتدال پسندانہ نظریات کے ابلاغ کے حوالے سے آسانی محسوس کرنے لگے ہیں۔ ایک ہفتہ پہلے ہی انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ تعاون کی آواز بلند کی ہے تاکہ علاقے میں کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہو۔

خطے کی موجودہ صورت حال کو دیکھا جائے تو رفسنجانی کی یہ نصیحت اہمیت کی حامل ہے۔ کیونکہ خطے کے باسی ایک طویل عرصے سے خوف اور سیاسی تشدد کا شکار ہیں۔ ممکن ہے ہاشمی رفسنجانی کی رائے ایران میں اس جنونی قیادت کیلیے قابل قبول نہ ہو، جو 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد خطے میں جنگیں ممکن بنانے کیلیے سرگرم رہی ہے۔ اسی وجہ سے ایران خطے میں جنگی مقاصد کیلیے اپنی مداخلت کی حدت کو آج محسوس کر رہا ہے۔ رفسنجانی اور روحانی جیسے سیاستدانوں نے اقتدار تک شاہی طاقت کے بغیر رسائی ممکن بنائی۔ لیکن فیصلہ سازی کے حوالے سے کلیدی کردار ہنوز انتہا پسند عناصر کے ہاتھ میں ہے۔ اس حوالے سے رفسنجانی کی خطے میں معاہدات اور معاملات کو بہتر بنانے کیلیے سامنے لائی گئی تجویز ایران کیلیے بہت مفید ہو سکتی ہے کہ ایران میں نا امیدی کا شکار لوگ اپنے مسائل کا ادراک کر سکیں۔

بلاشبہ ایک ملک کے طور پر ایران ایک عظیم قوم اور غیر معمولی طور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ایران کے ساتھ غالبا مسئلہ یہ ہے کہ ایک ایسے دور میں جب بہت بڑی طاقتیں بھی اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور ہوئیں اور انہوں نے مفاہمتی اپروچ اختیار کر لی۔ لیکن ایران ان معدودے چند ریاستوں میں سے ایک رہا ہے جو پرانے وقت میں ہی رہنا چاہتا ہے۔ بعض دیگر ریاستیں جو ایرانی انقلاب سے متاثر ہیں وہ بھی ایسے ہی خیالات رکھتی ہیں۔ ایرانی تصویر کا ایک پہلو یہ ہے کہ ایرانی غربت کا شکار ہیں اور عملا ایک محاصرے کی سی کیفیت سے دوچار ہیں۔ ایسے میں اگر ایران نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسے اپنے سیاسی نظریات میں تبدیلی لانا ہے اور خیالات میں وسعت لاتے ہوئے خطے کے ممالک کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی اختیار کرے گا تو لامحالہ ایران ہمیں ایک ایسی عظیم مملکت کے طور پر دکھے گی جس کی خطے میں زیادہ عزت اور دنیا میں زیادہ اثر ہو گا۔ اس ناطے ترکی ایک ماڈل ہو سکتا ہے۔

ترکی کے پاس ایران کے مقابلے میں کئی گنا کم وسائل ہیں، اس کے باوجود ایک ریاست کے طور پر ترکی اور اس کے شہری ایک خصوصی مقام کے حامل ہیں، نیز بہتر حالات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ وجہ یہ ہے ترکی نے کبھی اپنے کسی ایک بھی سپاہی کو یا قومی وسائل کو خطے کی کسی جنگ کی نذر نہیں کیا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایران محض اپنے لیڈروں کی پالیسیوں کی وجہ سے پچھلی تین دہائیوں سے مشکلات کا شکار ہے، ان مشکلات کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس کے لیڈر خطے میں اپنی بالا دستی کے خواب دیکھتے تھے۔

جیسا کہ ایران شام کی اسد رجیم، حزب اللہ، حماس ،مصر کی اخوان المسلمون، سوڈان کے آمر اور یمن کے حوثیوں کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ خلیج کے بعض باغیوں کی بھی مدد کرتا ہے۔ کیا کوئی ایسا ایرانی ہے جو اس پالیسی کے فوائد دیکھتا ہو، یقینا اس کا جواب نفی میں ہے۔ لہذا رفسنجانی کی سعودی عرب کے ساتھ مفاہمت کی اپیل ایران میں ہر شخص کیلیے مفید ہو گی۔ اس اپروچ سے لاکھوں اہل شام ، اہل لبنان، اہل یمن، اہل افغاستان کی پریشانیوں اور مصائب میں میں کمی آئے گی۔

یہ سوال ہو سکتا ہے کہ ایران ہی کیوں سعودی عرب کیوں نہ پہل کرے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ''یہ ایران ہے جس کے رہنما آتش بدست رہے ہیں۔'' مجھے پورا بھروسہ ہے کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ دوستی کیلیے تیار ہے ۔ سعودی عرب کے دورے کے دوران رفسنجانی کو بغیر کسی رکاوٹ کے ہر جگہ جانے آنے کی اجازت تھی، جس سے بھی انہوں نے چاہا ملاقات کی، ان گرم جوش تعلقات کے باوجود ایران میں موجود قیادت کسی حقیقی مفاہمت میں دلچسپی نہ رکھتی تھی، اسی وجہ سے رفسنجانی کے دور میں طے پانے والے معاہدات کا غلط استعمال کیا گیا۔ ایرانی ائیر لائین کے دفاتر کو ایرانی حکومت کی سرگرمیوں کے مراکز کے طور پر استعمال کیا گیا۔

ایرانی قیادت رفسنجانی کی اپیل کو نظر انداز کر کے اس موقع کو ضائع کر سکتی۔ وہ دن ضرور آئےگا، جب ایران کے لوگ مصائب کی زندگی اور جنگی مہم جوئیوں سے تنگ آ جائیں گے۔ خصوصا ان جنگوں سے جن کا حاصل محض کچھ لیڈروں کی شان بڑھانا ہو۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.