.

ترکی کے سمندر اور پہاڑی علاقے جہاں سرکاری بجلی نہیں ہے

خلیل احمد نینی تال والا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسلمان ممالک میں ترکی کا شمار سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔ اگر اس کا مذہب اسلام نہ ہوتا تو کب کا یورپی یونین میں شامل ہو چکا ہوتا۔ اس کی 2 وجوہات بہت نمایاں ہیں۔ اس کا ایک سِرا یورپ سے ملتا ہے تو دوسرا سرا ایشیاء سے ملتا ہے۔ ترکی کے حکمرانوں نے گزشتہ بارہ سالوں میں پوری کوششیں کر ڈالیں کہ یورپی یونین ممالک اُس کو بھی دیگر یورپی ممالک کی طرح یورپی یونین کا حصہ سمجھیں۔ یورپی یونین کے بہت سے مطالبات بھی اس نے تسلیم کر رکھے ہیں وہ اسرائیل سے بھی اچھے تعلقات رکھتا ہے جبکہ صرف چند مراعات اس کو خیرات اور تجارتی سہولتوں کی صورت میں دی گئی ہیں۔

ترکی کے موجودہ حکمرانوں نے اپنے ملک میں تعلیم کے میدان میں بڑی ترقی کی ہے اور معاشی طور پر وہ بہت سے یورپین ممالک سے آگے ہیں۔ معاشی میدان کے ساتھ اس نے سیاحت میں بھی بہت سے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے آپ اگر شینگین ویزہ یا پھر کسی بھی یورپی ممالک امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور سوئٹزر لینڈ کا ویزہ یا اقامہ رکھتے ہیں تو ترکی کا آن لائن ویزہ صرف 60 امریکی ڈالر میں گھر بیٹھے مل سکتا ہے۔ اس دفعہ گرمیوں کی چھٹیوں میں میری صاحبزادی اور ان کی فیملی جو لندن میں رہائش پذیر ہے انہوں نے لندن سے ترکی کے ایک ساحلی شہر جس کا نام ڈالامان (Dalaman) ہے۔ پانچ روزہ ٹور بک کرایا ہم بھی مع بیگم ان کے ساتھ لندن سے ترکی کے اس ساحلی شہر کی سیاحت میں شامل ہو گئے۔

ہوائی جہاز کا ٹکٹ صرف 150 برطانوی پائونڈ یعنی دو طرفہ کرایہ پاکستانی رقم میں 26000 روپے بنتا ہے 4 گھنٹے کی فلائٹ 5 اسٹار ہوٹل کا کمرہ 200 امریکی ڈالر ڈبل بیڈ مع ناشتہ، 2 وقت کا کھانا، چائے، مشروبات تمام دن مفت پانچ دن کیلئے گاڑی بڑی آرام دہ 8 سیٹر مع پیٹرول 150 برطانوی پائونڈ روزانہ صرف 750 برطانوی پائونڈ کا یہ پیکج لیا جو آن لائن بھی مل سکتا ہے۔ ہم جب ڈالامان ائیرپورٹ پہنچے تو رات کے 9 بج رہے تھے۔ ائیرپورٹ بہت خوبصورت پہاڑی علاقے میں اگرچہ چھوٹا تھا مگر ہماری گاڑی ائیرپورٹ کے باہر نکلتے ہی مل گئی چند منٹوں میں امیگریشن کائونٹر سے فارغ ہو گئے۔ سیدھے ہوٹل پہنچے، ہوٹل بہت ہی خوبصورت ہلٹن کی چین تھا، سیکڑوں ایکڑ پر پھیلا ہوا تھا جس میں 480 کمرے تھے تمام ریزارٹس کی شکل میں سمندر کے اوپر اور پہاڑوں کے درمیان جدید طرز کے ڈبل بیڈ تھے۔ لندن کے برعکس ڈالامان میں موسم بہت خوشگوار تھا۔ رات کھانا ہوٹل میں کھا کر سو گئے۔ صبح ناشتہ میں بھی تقریباً100آئیٹم تھے۔ طرح طرح کے پھل ترکی کے باشندے پنیر، اولیواور ڈبل روٹی ناشتے میں ہی نہیں بلکہ ہر کھانے کے ساتھ ضرور کھاتے ہیں۔ ناشتے سے فارغ ہوئے تو دھوپ نکلی ہوئی تھی لندن میں تو سردی اور بارش کا موسم چل رہا تھا جس سے سب بیزار تھے۔ یہاں دھوپ کیا ملی جنت مل گئی سب مرد و خواتین دھوپ سینکنے لگ گئے۔ ہوٹل میں بڑے بڑے6 قسم کے سوئمنگ پول تھے جو نہانے والوں سے بھرے ہوئے تھے سب ہی اس ریزارٹ پر چھٹیاں گزارنے آئے ہوئے تھے۔ ہر سوئمنگ پول پر کھانے اور پینے کا انتظام تھا دوسرے دن ہم نے جو رینٹ اے کار بک کرائی تھی دوسرے سمندری ساحل کی سیر جس کا نام فتایا تھا جو100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، آدھا دن وہاں گزارا۔ جس میں بچوں نے سمندر میں سوئمنگ بھی کی آگے ساحل سمندر کے کنارے شہر Bodrum تھا جو جنت سے کم حسین نہیں تھا ۔

اسی طرح پہاڑوں میں گرے ہوئے سمندر کے کنارے سیکڑوں ریزارٹس ، فلیٹس ،ہوٹل ہر طرح کے تھے یعنی ایک اسٹار سے لے کر فائیو اسٹار کے ہوٹل تھے وہاں بھی بہت اونچائی پر ہوٹل سے سمندر کا نظارہ بہت دلکش تھا ،لوگ کہتے ہیں کہ اگر ترکی میں Bodrum کا شہر سمندر کا ساحل نہیں دیکھا تو کچھ نہیں دیکھا۔ہم تیسرے دن دوسری سمت والے سمندر کی طرف روانہ ہوئے Marmirus شہر جو 125 کلومیٹر دور تھا راستے میں رکتے رکاتے اس سمندر اور پہاڑی علاقے میں پہنچے آپ یوں سمجھیں ہم پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کر ر ہے ہیں۔

ہمارے شمالی علاقہ جات میں پہاڑی علاقوں کے ساتھ ساتھ زیادہ تر جھیلیں اور دریا ہیں مگر ترکی کے ان علاقوں میں پہاڑ اور سمندر واقع ہیں تو ان کا مزہ موسم پر منحصر ہوتا ہے۔ بچے اور ہم سب کافی سفر کر کے انجوائے کرنے کے ساتھ ساتھ تھک بھی گئے تھے تو ہوٹل میں بہت آرام سے رہے یہاں بھی دھوپ مزہ دے رہی تھی۔ اب میں کچھ باتیں ترکی کے عوام کی بتاتا چلوں یہ بہت ہنس مکھ، ملنسار اور پاکستانیوں سے واقعی محبت کرتے ہیں۔ اگرچہ ہوٹل اور باہر کے ریسٹورنٹس میں وہ دیگر ممالک کی طرح کھانے کے بلوں میں ڈنڈی ضرور مارتے ہیں ڈالرز، پائونڈ یعنی کرنسی تبدیلی میں بھی 5 سے 10 فیصد تک کم دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ خریداری میں آپ بارگین 50 فیصد تک دکانداروں سے کر سکتے ہیں۔ دو نمبر مالوں کی بھی بھر مار ہے جو بہت اصل نظر آتا ہے مگر وہ اصل کر کے نہیں بیچتے البتہ زیادہ دام ضرور بتاتے ہیں یا پھر آپ بڑے بڑے اسٹورز، ڈیپارٹمنٹل چین میں جائیں وہاں دام بھی مناسب اور اصل مال ملے گا۔ بینک سے کرنسی تبدیل کرائیں۔ ریسٹورنٹس میں پہلے مینو ضرور منگوائیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ عام طور پر چونکہ ترک عوام گوشت خور، باربی کیوکے دلدادہ ہیں لیکن لبنانی، مصری اور عربوں کی طرح پھیکے کباب، بوٹیاں، شوربا کھاتے ہیں تو آپ اپنے ساتھ لال مرچ کی ٹسیکو ضرور رکھیں ورنہ ہر کھانے میں نمک، مرچ نہ ہو تو ہم سے کھانا حلق سے نہیں اترتا۔

سب سے اذیت ناک پہلو جو ترکی میں پایا جاتا ہے وہ تمام ہوٹلوں میں حرام گوشت ساتھ ہی رکھا ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ سیاحت کو بڑھانے اور یورپی یونین کی ڈیمانڈ ہے چونکہ ترکی میں غیرملکی غیرمسلم سیاح بھی ہوتے ہیں اور وہ سور کا گوشت بڑے شوق سے کھاتے ہیں تو لازماً انہیں رکھنا پڑتا ہے۔ شراب کو بالکل برا نہیں مانتے خود بھی بہت پیتے ہیں انگریزی سے نابلد ہوتے ہیں صرف ترکی کی زبان بولتے اور سمجھتے ہیں۔ ایک ڈالر میں صرف 2 لیرا اور 10 سینٹ آتے ہیں مگر دکاندار 2 لیرا دینے کی کوشش کرتے ہیں اس طرح وہ یورو جو ترکی کی کرنسی کے بعد سب سے زیادہ چلتا ہے اس میں بھی ڈنڈی مارنے سے باز نہیں آتے جبکہ یورپی یونین ممالک میں ایسا نہیں ہوتا اور نہ ہی یورپ میں اس قسم کی ہیرا پھیری ہوتی ہے۔ اس 4سو کلومیٹر کے شہر میں حکومت نے بجلی کا متبادل نظام سولر سسٹم بھی متعارف کرایا ہوا ہے جو ہر بلڈنگ کے اوپر نصب ہے۔ لاکھوں گھروں، مکانوں اور فلیٹوں میں یہ سسٹم رائج ہے۔ اگر ہماری حکومت چاہے تو ترکی کی طرح سولر سسٹم متعارف کرواکر بجلی کی 75 فیصد بچت کرسکتی ہے۔اس کیلئے سستے اور ڈیوٹی فری سولر کی امپورٹ کی اجازت دے۔ ہمارے بلڈر صاحبان خود بھی سستی بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.