.

حکومت و اداروں میں اختلاف خطرناک موڑ پر

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کئی سیاسی سائنسداں اور سفراء موجودہ اقتدار کی کشمکش کو خطرناک طوفان سے تعبیر کررہے ہیں، وہ سمجھتے ہیں تین طاقتیں اِس کھیل میں نبردآزما ہیں، سیاستداں مقتدر ادارہ اور صحافی، بظاہر صحافی بٹے ہوئے ہیں مگر جیو گروپ کے خلاف کارروائی ہوئی تو سب یکجا ہوجائیں گے، کوئی صحافی یہ نہیں چاہے گا کہ کسی میڈیا گروپ پر پابندی لگے، اِس کی ایک وجہ تو یہ ہوگی کہ ایک دفعہ ایسا ہونا شروع ہوا تو ایک کے بعد دوسرے کی باری آجائے گی تاہم وزیراعظم نے واشگاف الفاظ میں یہ کہہ دیا ہے کہ کسی میڈیا گروپ پر پابندی نہیں لگے گی، لگتا ہے کہ حکومت نے اپنے موقف سے رجوع کیا ہے اور وزیر اطلاعات کہہ رہے ہیں کہ آزادی صحافت کا تحفظ فوج نے کیا جبکہ چینل کی بندش کا فیصلہ پیمرا کرے گا تاہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ صحافیوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگار ہو جائے گی۔

حکومت وقت ’’دودھ کا جلا چاچھ سے بھی ڈرتا ہے‘‘ کے مصداق خوفزدہ ہے، ممکن ہے کہ اُس کے خوف کی زمینی وجوہات بھی ہوں مگر وہ اِس سے پہلے بھی جنرلوں سے ڈسے جاچکے ہیں۔ اِس کے بعد بھی سیاسی پارٹیوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کئے تھے۔ جنرلوں کے خطرے سے نمٹنے کے لئے وہ متحد ہوئے اور ایک دوسرے کو برداشت کیا، یہاں تک کہ پانچ سال کی آصف علی زرداری کی کرپٹ حکومت کو مسلم لیگ (ن) برداشت کرتی رہی اور مسلم لیگ (ن) اب بھی سندھ کے معاملات میں دخل اندازی سے گریز کررہی ہے جبکہ اس وقت بھی سندھ میں کرپشن عروج پر ہے تاہم جب پرویز مشرف کا معاملہ آیا کہ اُن کو ملک سے جانے دیا جائے تو آصف علی زرداری اسلام آباد گئے اور میاں نواز شریف سے اظہار یکجہتی کیا۔

کشمکش اس وقت شروع ہوئی جب جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ ساری فوج اُن کے پیچھے ہے اور یہ کہ وہ عدالت میں جانے کے بجائے ایک فوجی اسپتال میں جا چھپے، اپنی بیماری کا بہانہ بنایا اور پھر والدہ کی بیماری کا۔ اس طرح شاید حکومت یہ چاہتی تھی کہ اگر خصوصی عدالت اُن کو جانے دے تو اُسے کوئی اعتراض نہیں ہو گا مگر خصوصی عدالت نے کہا کہ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا بلکہ حکومت نے ایسا کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کام انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم پر کیا۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے معاملے میں حکومت اور ایک مقتدر ادارے کے درمیان ڈیل ہوگئی تھی مگر پھر عدالت نے اجازت نہ دی تو مقتدر ادارے کے سربراہ کی پوزیشن خراب ہوئی اور یوں معاملات بگڑے، اِن معاملات کو درست کرنے کے لئے کئی اقدامات کئے گئے، میاں محمد نواز شریف جی ایچ کیو کے دورے پر گئے اور جنرل راحیل شریف چیف آف آرمی اسٹاف نے میاں محمد نواز شریف کو کاکول اکیڈمی پاسنگ آئوٹ پریڈ میں بلا لیا اور وہاں دل کھول کر راحیل شریف کی تعریف کی، جس سے اندازہ ہوا کہ معاملات بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں مگر اقتدار کی کشمکش کی زبان میں اچھا فریب بھی کہا جاسکتا ہے، مگر دس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ یہ کوشش غارت ہوگئی اور وہ طوفان اٹھا ہے جسے خطرناک کہا جا سکتا ہے۔

ہوا یوں کہ ’’جیو نیوز‘‘ کے مقبول ترین پروگرام کیپٹل ٹاک کے اینکر پرسن حامد میر پر کراچی آمد پر 19 اپریل کو شام سوا پانچ بجے کے قریب حملہ ہوگیا۔ انہیں چھ گولیاں لگیں اور جیو گروپ نے جس کو پہلے سے یہ اطلاع تھی کہ اُن پر حملہ ہوگا اور کہا جارہا تھا کہ اُن پر ایک ادارے کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں، جیو نے پیٹی بند بھائی کے طرز پر اپنے صحافی بھائی کی حمایت میں ایک ایجنسی کو موردِالزام ٹھہرایا جس پر خود حامد میر الزام لگا چکے تھے، جس نے انٹیلی جنس اداروں کو چراغ پا کردیا اور انہوں نے جہاں اِس کی تردید کی وہاں پیمرا میں وزارت دفاع کے ذریعے اِس کی شکایت بھی کردی۔ اس سے پہلے وزیراعظم پاکستان اور وزیراطلاعات دونوں حامد میر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اُن کی عیادت کر کے کر چکے تھے، وزارت دفاع نے جیو پر سنگین الزامات لگائے اور اِس کے بعد نیویارک ٹائمز نے ایک اسٹوری چھاپی جس میں یہ کہا گیا کہ جیو اور جنگ گروپ میں طالبان اور ولی بابر کے قاتلوں کا اثرورسوخ ہے، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ امریکہ کے اخبارات پاکستان کے اداروں اور پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے درمیان خلیج کو وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اُن کو پاکستان کے اندرونی معاملہ میں مداخلت کی کیا ضرورت آن پڑی ہے سوائے اِس کے کہ وہ انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔ اِس لئے وہ اِس قسم کی خبریں نکال رہے ہیں۔ دوسری طرف یہ کہا جارہا ہے کہ حامد میر کے معاملے میں کسی تیسری قوت نے کام دکھا دیا تاکہ مقتدر ادارے اور میڈیا آپس میں الجھ پڑیں اور سیاسی حکومت کو تحفظ مل جائے۔

یہ لڑائی کم نہیں ہورہی کیونکہ جب میاں نواز شریف حامد میر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کررہے تھے تو جنرل راحیل شریف نے آئی ایس آئی کا دورہ کرکے ایجنسی کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔ حکومت کی طرف سے غلیل کا اصطلاح کی تو مقتدر ادارے نے اپنی وقار کی آواز اٹھائی۔ جیو اور جنگ جواب پر جواب دے رہا ہے، مگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پتہ چلایا جائے کہ یہ کام کس نے کیا۔ جیو کی طرف سے یہ بات آرہی ہے کہ حامد میر پر حملہ کرنے والے پکڑے گئے تو معاملہ صاف ہوجائے گا کہ مقتدر ایجنسی اس میں ملوث نہیں ہے، تو حامد میر پر حملہ آوروں کو ضرور پکڑنا چاہئے چاہے وہ پاتال میں ہی کیوں نہ چلے گئے ہوں۔ یہ مقتدر ایجنسی کے لئے چیلنج ہے مگر ایک بات اور بھی کرنا چاہتا ہوں کہ جنرل آصف نواز نے مجھے ایک دفعہ بتایا تھا کہ دیکھو اب چیف آف آرمی اسٹاف بھی مشکوک ہوگیا ہے، کچھ ادارے میرا پیچھا کرتے ہیں، یہ بات اقتدار کی کشمکش کے حوالے سے تھی اور یہ بھی کہ یہ میاں نواز شریف کے دورِحکومت میں ہوا اور وہ شخص میاں صاحب کا ممنون تھا کہ انہوں نے اُن کو چیف آف آرمی اسٹاف بنایا مگر بعد غلام اسحاق خاں صاحب، صدر پاکستان نے ان کو وہ فائل دکھائی جس میں چیف آف آرمی اسٹاف بنانے کے لئے جو سمری آئی تھی اس میں جنرل آصف نواز چوتھے نمبر پر تھے۔ ممکن یہ بات غیرضروری ہو اور غیرضروری نہ ہو کہ معاملات کو سمجھنے میں یا راستہ نکالنے میں مددگار ثابت ہو۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ معاملے کو ٹھنڈا کیا جائے، جنگ اور جیو کو بند کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی مقتدر ایجنسی کے خلاف پروپیگنڈا قومی مفاد میں ہے۔ بات صلح جوئی سے کی جائے اور حکومت اِس سلسلے میں پیشرفت کرے اور صورتِ حال کو بگڑنے سے بچائے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.