.

دہشت گردی،جمہوریت اور شہ رگ

طارق محمود چوہدری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دہشت گردی کا خونی عفریت، تھکی ماندی، کمزور سسکتی جمہوریت ،دُشمن کے انگوٹھے تلے دبی شہ رگ ۔ یہی وہ تین بنیادی مسئلے ہیں جو پاکستان کے وجود کو بلا بن کر چمٹے ہوئے ہیں۔ سپہ سالار اعلیٰ نے شہدا ء کی یادگار پر کھڑے ہو کر وہی کہا جو اس دن کے تقدس کا تقاضاتھا۔ جی ایچ کیو کے برقی قمقموں سے جگمگاتے پنڈال میں شہداء کے لواحقین، گوادر سے چکوٹھی تک ٹی وی سکرنیوں کے سامنے جمے بیٹھے عام پاکستانی ان کی زبان سے وہ سب سننے کے منتظر تھے جو اس روز ان کے خطاب میں تھا۔ خطاب میں وضاحتیں بھی موجود تھیں۔علامتی انداز بھی ،اشارے بھی،خوش فہمیاں پالنے والے دشمنوں کے لیے تنبیہ اور وارننگ بھی ۔دہشت گردی کو ریاست کے خلاف ہتھیار بنا کر لڑنے والے باغیوں کو تنبیہ ،ملک دشمنوں کووارننگ ،اس فرد کو جو اپنی طاقت کے زعم میں ادارہ بننے کے خواب دیکھ رہا ہے،ہلکا سا اشارہ،قوم کو یقین دہانیاں اور وضاحتیں۔سب کچھ ،ایک جامع اور مکمل خطاب۔

یوم شہداء تو خیر شہیدوں کا قرض چکانے کا دن تھا۔اُن شہیدوں کا قرض،جنہوں نے ارض پاک اور دشمن کے درمیان اپنے گلاب رنگ لہو کی فصیل کھڑی کر رکھی ہے۔ دشمن اس فصیل کو گرائے بھی تو کیونکر۔ ان شہیدوں نے قوم کا آنے والا دن محفوظ بنانے کے لیے اپنا آج قربان کر دیا۔ شہیدوں کا قرض تو خیر کیسے ادا ہوتاقوم عقیدت کے پھول اور آنسوؤں کے موتی لے کر نکلی اوریہ نذرانے مرقدوں پر نچھاور کر دی ۔ ریلیاں،جلوس نکالے،شہیدوں کو یاد کیااور ان کے اہل خانہ کو پیغام دیا کہ وہ تنہا نہیں۔

دہشت گردی کے خلاف بارہ سال سے جاری جنگ میں پچاس ہزارمعصوم بے گناہ شہری اللہ کو پیارے ہوئے۔ پانچ ہزار فوجی جوان جام شہادت نوش کر گئے ۔ ستر ارب ڈالر کا مالیاتی خسارہ ہوا۔جس سے معیشت کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی۔ قوم کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی اور ریاست کے خلاف باغی ہیں قوم کا دوسرا مسئلہ وہ جمہوریت ہے جس کے حصول کے لیے آج تک چو مکھی لڑائی جاری ہے۔

آرمی چیف کا خطاب ایسے موقع پر ہوا جب 9ستمبر 2013سے مذاکرات کا طویل دورانیہ کا کھیل جاری ہے یہ سلسلہ پانچ ماہ سے تسلسل کے ساتھ کسی نتیجے کا منتظر ہے۔ قوم کا شائد ہی کو ئی ایسا فرد،شائد ہی کو ایسی سیاسی جماعت ہو، جس نے مذاکراتی عمل کو مکمل طور پر سپورٹ نہ کیا ہو۔ اس کے باوجود کے عوام الناس دہشت گرد باغیوں کے خلاف بھرپور کاروائیوں کے منتظر تھے۔ان اعصاب شکن پانچ مہینوں میں وزیراعظم کے دفتر سے لے کر، فرنٹیرہاؤس، اکوڑہ خٹک سے شکتوئی کے گھنے جنگلوں تک مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے۔ حکومت کی جانب سے قیدیوں تک کو رہا کیا گیا۔ عرصہ سے حجرہ نشین سمیع الحق،ہمہ وقت سکرین پر جلوہ گر ہونے کے خواہش مند پروفیسر ابراہیم اور مولانا یوسف شاہ نے خوب ریٹنگ لی۔ چند ہفتے عرفان صدیقی بھی دل و جان سے قومی فریضہ سمجھ کر حق ادا کرتے رہے۔ تاحیات سپاہی میجرعامر طویل بیماری کی اذیت چھپائے ،جان ہتھیلی پر لیے مذاکرات کی کامیابی کے لیے سرگرداں رہے۔ لیکن نتیجہ آج بھی صفر سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ آرمی چیف کے خطاب سے چند روز پہلے قومی سلامتی ودفاعی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ جس میں باغیوں کو صاف اور واضح پیغام دیا گیا کہ اب پانی میں مزید مدہانی نہیں چلے گی۔ مذاکرات کو آگے بڑھنا ہے توان کو جلد نتیجے تک لے جانا ہو گا۔ دہشت گردوں کی جانب سے پھر بھی کوئی جواب نہ آیا آخرکار یوم شہدا پرعساکر پاکستان کے سربراہ نے دو ٹوک الفاظ میں وہ کہہ ڈالا جو وقت کا تقاضا تھا۔ پیغام بالکل واضح،غیرمبہم، الفاظ کا چناؤ نہایت موزوں۔ سپہ سالار کہتا ہے ’’پاکستان کے خلاف سرگرم تمام عناصر غیر مشروط طورپر آئین اور قانون کی مکمل اطاعت قبول کر کے قومی دھارے میں آ جائیں،بصورت دیگر ریاست کے باغیوں سے نمنٹے کے معاملے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں‘‘اگلا فقرہ اس سے بھی زیادہ واضح ہے کہ قوم اور فوج ایسے عناصر کو کیفرقردار تک پہنچانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

اس خطاب کے صرف ایک دن بعد وزیرداخلہ نے ٹی وی سکرین پر تصدیق کر دی کہ بداعتمادی کی فضا میں مذاکرات مزید آگے نہیں بڑھ سکتے۔ دفاع وطن کے ضامنوں کی رائے بالکل واضح ہے۔ مذاکرات ضروری لیکن کسی واضح ٹائم فریم کے ساتھ ،مذاکرات ضروری،لیکن ان کو نتیجہ خیز بنایا جائے۔ مذاکرات لازم لیکن غیرمشروط ،کوئی علاقہ خالی کیا جائے گا نہ کوئی بے سروپا شرائط تسلیم کی جا سکتی ہیں۔ باغی آئین کی چھتری تلے آجائیں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اتوار کی صبح جب یہ سطریں لکھی جا رہیں تھیں تو جنوبی وزیرستان سے جھڑپوں کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی تھیں۔ آخری اطلاعات تک دو درجن سے زائد باغی ہلاک کیے جا چکے۔ لیکن اس کے باوجود ابھی ایک آخری موقع باقی ہے اگلے دو سے چار روز میں منظر واضح ہو جائے گا۔غیر مشروط مذاکرات یا پھر آپریشن۔

30مئی کو یوم شہدا پر آرمی چیف کا خطاب تو ہونا ہی تھا۔ اس مرتبہ خطاب سے پہلے افواہ ساز فیکٹریوں کو ڈبل شفٹ میں کام کرنا پڑا۔اب یہ معلوم نہیں کہ کاریگروں کو کتنا اوور ٹائم ملا۔ بہرحال یہ پراڈکٹ مارکیٹ میں چند روز چینی مال کی طرح خوب بکی اور دو نمبر مال کی طرح کچھ روز بعد ہی کاٹھ کباڑ میں پہنچ گئی۔ افواہ تھی کہ’’ آج غالب کے اُڑیں گے پرزے‘‘لیکن ایسا نہ ہواوہ جو جمہوریت کے خلاف کسی جارچ شیٹ کے منتظر تھے، نہ تمام ہی رہے آرمی چیف نے ببانگ دہل کہا کہ افواج پاکستان جمہوریت کے استحکام آئین و قانون کی بالا دستی اور اس کی پاسداری پر کاربند ہیں۔ شائد آئین اور قانون کی پاسداری کا عزم ہے کہ وہ اپنے خلاف ابلاغی حملے پر حصول انصاف کے لیے قانون کا راستہ اپنا کر خاموشی سے فیصلے کی منتظر ہیں۔قانون کے مطابق، پیمرا کے ذریعے انصاف۔

مسئلہ کشمیر طویل عرصے سے حکمرانوں کی میمری سے ڈیلیٹ ہو چکا تھا آرمی چیف نے باوردی شرکاء ،سوٹوں اور شیروانیوں میں ملبوس مہمانوں کی موجودگی میں یادداشت کی کن پٹی پر ہلکی سی دستک دی۔ یاد دلایا ہے کہ 18کروڑوں پاکستانیوں کی شہ رگ اغیار کے قبضے میں ہے ۔آرمی چیف نے تو یاد دہانی کروادی ۔مجھے یقین ہے کہ حکمرانوں کو یہ بات نہیں بھولی ہوگی کہ شوق تجارت پورا کرنے سے پہلے اپنی شہ رگ خونی پنجہ سے واگزار کرانا ضروری ہے ۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.