برطانیہ کی یورپی یونین میں شمولیت کا سیاسی پہلو

عرفان حسین
عرفان حسین
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

جس دوران یورپی یونین اسمبلی کے انتخابات قریب آ رہے ہیں، برطانیہ کی روایتی سیاسی جماعتوں کی صفوں میں نمودار ہونے والی گھبراہٹ کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں۔ چند دن پہلے، لیبر ، لبرل ڈیموکریٹس اور کنزرویٹو پارٹیوں کے لیے ایک تجویز پیش کی گئی کہ یہ تینوں قومی جماعتیں مل کر نیگل فاریج(Nigel Farage) کی ’’یو کے آئی پی‘‘(یونائیٹڈ کنگڈم انڈیپنڈنٹ پارٹی) کو نسلی پرستی کے جذبات کی ترجمانی کرنے والی تنظیم قرار دیں۔ اس کی وجہ یہ کہ بائیس مئی کو یورپی یونین اسمبلی کے لیے ہونے والے انتخابات میں ’’یو کے آئی پی‘‘ کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔ اگرچہ کچھ عرصہ پہلے تک وہ انتخابی دوڑ میں لیبر پارٹی سے پیچھے تھی لیکن اس کو اچانک عوامی حمایت حاصل کرتا دیکھ کر سیاسی اسٹبلشمنٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

دراصل یورپی یونین کے انتخابات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا، اس لیے ان میں ٹرن آؤٹ روایتی طور پر بہت کم ہوتا ۔ تاہم انتہا پسند جماعتیں، جنہیں عام انتخابات میں پذیرائی نہیں ملتی، اپنے محدود مگر پرعزم حامیوں کو باہر نکل کر ووٹ ڈالنے کے لیے قائل کر لیتیں جبکہ لیبر اور ٹوری پارٹیوں کے حامی گھروں پر ٹھہرنا ہی پسند کرتے ۔ اس کے علاوہ ان انتخابات کو حکومت کی پالیسوں کے خلاف عوامی احتجاج کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’یو کے آئی پی‘‘ کے بہت سے ارکان یورپی پالیمنٹ کے رکن ہیں حالانکہ انھوں نے برٹش پارلیمنٹ میں کبھی ایک نشست بھی نہیں جیتی۔

تاہم اس مرتبہ کچھ سنجیدہ معاملات درپیش ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اگلے سال برطانیہ کے پارلیمانی انتخابات میں بھی کچھ سیاسی معروضات تبدیل ہو سکتے ہیں۔ نیگل فاریج برطانوی ووٹروں تک اپنا پیغام پہنچا رہے ہیں کہ ’’برطانیہ صرف انگریزوں کا ‘‘۔ تاہم وہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ نسلی پرستی کے اس جملے کو نسل پرستی کے پیرائے میں نہ دیکھا جائے ، لیکن بہت سے ناقدین ان کی طر ف سے تارکینِ وطن کے خلاف چلائی جانے والی مہم کو نسل پرستانہ جذبات کے اظہار کے طور پر ہی دیکھتے ہیں۔ حالیہ دنوں میڈیا پر چلائی جانے والی ایک اشتہاری مہم پر لبرل حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی۔ اس اشتہار میں ناظرین کے لیے ایک پیغام دیا گیا تھا…’’یورپ میں چھبیس ملین افراد کو روزگار کی تلاش۔ یہ لوگ کن کا حق چھینیں گے؟‘‘اس اشتہار میں دیا گیا پیغام واضح ہے کہ یورپی یونین کے اراکین کو آزادی ہے کہ وہ یورپ کے تمام ممالک میں جاکر کام کرسکتے ہیں۔ان ممالک میں پولینڈ بھی شامل ہے اور یورپی یونین میں بلاروک ٹوک کام کرنے کی اجازت کی مخالفت کرنے والے ان کی مثال دے کر کہتے ہیں کہ برطانوی جاب مارکیٹ کو مشرقی یورپ سے آنے والوں سے خطرہ ہے۔

2004 میں جب لیبر حکومت نے پولینڈ کے باشندوں کو برطانیہ میں کام کرنے کی اجازت دی تو توقع تھی کہ اُس نئی پالیسی کے تحت تیرہ ہزار کے قریب پولینڈ کے باشندے ہی اس سہولت سے استفادہ کر پائیں گے لیکن اس وقت مشرقی یورپ کے اس ملک سے تعلق رکھنے والے پانچ لاکھ اسّی ہزار باشندے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ ملک بھر میں مہم چلاتے ہوئے فاریج ان اعدادوشمار کو عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں اور چونکہ بیروزگاری ایک مسلۂ ہے، اس لیے اُنہیں عوام کی حمایت بھی مل رہی ہے۔ ایک حوالے سے دیکھا جائے تو ’’ یو کے آئی پی‘‘ ون مین پارٹی ہے کیونکہ اس میں کوئی اور قابلِ ذکرشخصیت موجود نہیں، لیکن فاریج اس کی کمی محسوس نہیں ہوتے دیتے۔ وہ ہرآن میڈیا میں رہنے کا گُر جانتے ہیں۔ان کی تصاویر، بیانات، انٹرویوز اور ان کے بارے میں لکھے جانے والے مضامین (تنقید ی یا توصیفی) نظر سے اوجھل نہیں ہوتے۔ ان کا دوستانہ اور مسکراتا ہوا چہرہ ہر جگہ موجود ہوتاہے ، خاص طور پر پبلک بار ز میں ، جہاں ان کے ہاتھ میں بیئر کا گلاس ہوتا ہے اور وہ عوام سے مسکرا کر باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔

حال ہی میں مشہور اخبار ’’دی ٹائمز ‘‘ نے فاریج پر الزام لگایا کہ وہ اپنے اخراجات کے حوالے سے غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں ۔ چند سال قبل بدعنوانی کے اس طر ح کے الزامات کی زد میں آکر چند ایک برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ جیل کی سیر بھی کرچکے ہیں جبکہ درجنوں کو سرزنش کا سامنا کرنا پڑا، لیکن فاریج کا کہنا ہے کہ ویسٹ منسٹر کے قوانین کے برعکس یورپی یونین کے اراکین کو ایک فکس الاؤنس ملتا ہے جسے وہ اپنی مرضی سے خرچ کرسکتے ہیں۔ جو بھی حقیقت ہو، فاریج نے اپنے پروں پر پانی نہیں پڑنے دیا۔ مرکزی جماعتوں کے سیاست دانوں کو شکوہ ہے کہ اُنہیں برطانوی سیاسی روایات کے مطابق ایک خاص معیار ملحو ظِ خاطر رکھنا ہوتا ہے جبکہ فاریج غیر روایتی حربے اپنارہے ہیں۔ تاہم فاریج کے حامیوں کا کہناہے کہ وہ کوئی غلط کام نہیں کررہے ۔ ایک حوالے سے برطانوی سیاسی منظر نامے میں مایوسی کا پہلو بڑھ رہا ہے۔ ووٹر دیکھتے ہیں کہ سیاست دان کسی حد تک ان کے مسائل سے لاتعلق رہتے ہیں۔ تارکینِ و طن کی برطانیہ آمد انگریزی محاورے کے مطابق ’’کمرے میں ہاتھی ‘‘ کو جگہ دینے کے مترادف ہے۔ اگرچہ چانسلر کے بلندو بانگ دعووں کے مطابق معیشت میں ٹھہرا آچکا لیکن مشرقی یورپ سے آنے والے تارکینِ وطن کی وجہ سے برطانوی باشندوں کی تشویش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دراصل یہ افراد معمول سے کم تنخواہ پر کام کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں، جبکہ برطانیہ کے مقامی باشندے ایسا نہیں کرپاتے۔ اس لیے اُنہیں بے روزگاری کا سامنا ہے۔

فاریج کی سیاسی پذیرائی اسی تشویش کا عملی اظہار ہے۔ ’’یو کے آئی پی‘‘ کا پیغام ملک بھر میں پھیل رہا ہے ۔ عام برطانوی افراد کے علاوہ فاریج دیہی علاقوں میں دولت مند زمینداروں اور کسانوں ، جو روایتی طورپر کنزرویٹو پارٹی کے حامی ہیں، تک بھی رسائی حاصل کررہاہے۔ جس دوران کیمرون اور ٹوریز نے لیبر پارٹی سے مرکز چھینا اور مرکز میں آ گئے تو ان کے روایتی حامی یہ محسوس کرنے لگ گئے کہ ان کو ان کی جماعت نے نظر انداز کردیا ہے۔ اس کے علاوہ شہروں کے باسی، جو لیبر پارٹی کے حامی تھے، بھی ’’یو کے آئی پی‘‘ کو ایک تبدیلی کی علامت سمجھ کر اس میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

اس طرح فاریج اسی خلا کا فائدہ اٹھا کر اپنی جگہ بنا رہے ہیں جو برطانوی معاشرے میں پیدا ہو رہا ہے۔ اگرچہ ڈیوڈ کیمرون نے اُنہیں ایک ’’مسخرہ ‘‘ قرار دے ان کی سیاسی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا لیکن حقیقت یہ کہ اُنھوں نے برطانوی روایتی سیاسی جماعتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔لبرل ڈیموکریٹس سے تعلق رکھنے والے نک کلگ (Nick Clegg) سے زیادہ یورپی یونین کا شاید ہی کوئی حامی ہو، چنانچہ جب اُنھوں نے برطانیہ کے یورپی یونین میں شمولیت کے سوال پر فاریج کو ٹی وی پر مباحثے کا چیلنج کیا تو توقع تھی کہ وہ ’’یو کے آئی پی‘‘ کے رہنما کو آسانی سے زیر کرلیں گے لیکن جب مباحثے کا وقت آیا تو وہ ہونے والے پول سروے کے مطابق وہ دونوں مباحثوں میں شکست کھا گئے۔ فاریج نے بہت وزنی نکتہ اٹھایا کہ برطانیہ کو یورپی یونین میں شامل کرتے وقت اس کے شہریوں کو اس حقیقت سے بے خبر رکھا گیا تھا کہ ان کی خود مختاری کو برسلز کے افسران کے ہاتھ گروی رکھ دیا جائے گا۔کئی سالوں سے یہ دیکھنے میں آیا کہ یورپی یونین کے بہت سے قوانین اس کے رکن ممالک کے کمرشل، لیگل اور پرسنل معاملات میں دخل انداز ی کرتے محسوس ہوئے۔ برطانوی شہری بجا طور پر محسوس کرتے ہیں کہ ان کی روایات اور قوانین کو نظر اندازکیا جا رہا ہے۔

ان تاثر کو زائل کرنے کے لیے کلگ اور یورپی یونین کے حامی دیگر سیاست دانوں نے اس کی رکنیت کے فوائد گنوائے، لیکن لگتا ہے کہ روایت پسند برطانوی شہری یورپی یونین سے باہر رہنا ہی بہتر سمجھیں گے۔ ڈیوڈ کیمرون نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 2017 میں اس مسلے پر رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم کا انعقاد کریں گے لیکن ابھی یہ بات یقینی نہیں ہے کہ ایسا کرنے کے لیے وہ اگلی بار حکومت سازی کرپائیں گے یا نہیں۔اب ایک بات طے لگتی ہے کہ نیگل فاریج اپنے موقف کو قومی ایجنڈے کے پیرائے میں پوری طاقت سے بیان کریں گے۔

بشکریہ روزنامہ "دنیا"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں