پاکستان،انڈیا اور افغانستان یکساں غیر یقینی پن کا شکار

احمد رشید
احمد رشید
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

پاکستان میں آج کے معروضی حالات میں جنرل راحیل شریف صاحب کی بطور آرمی چیف تعیناتی کو عالمی سطح پر بہت اہمیت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ یہ وہ وقت ہے جب بھارت اور افغانستان میں نئی حکومتیں قائم ہونے جارہی ہیں جبکہ پاکستان بھی انتہا پسندوں کے ساتھ بے سمت مذکرات میں مگن ہے۔ اس عالم میں ایک تاثر ابھر رہا ہے جیسے سول حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان اس مسلے پر کچھ اختلاف پایا جاتا ہو۔ یہ تاثر زیادہ درست نہیں، تاہم طرفین کچھ محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ دفاعی اداروں کی سابقہ حکومت( پی پی پی حکومت) کے ساتھ تناؤ کی کیفیت موجود تھی۔ وہ آج بھی پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سابق آرمی چیف پرویز مشرف کی وجہ سے کچھ تناؤ کا خدشہ محسوس ہوتا ہے۔ اس صورتِ حال میں پاکستان کی سیاسی قیادت کوئی واضح حکمتِ عملی اپناتی دکھائی نہیں دیتی۔

اس وقت زیادہ تناؤ والی صورتِ حال موجود نہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فوجی قیادت طالبان کے ساتھ نرمی کی پوزیشن سے بات کرنے کے عمل کو پسند نہیں کرتی۔ درحقیقت فوج کی موجودہ قیادت طالبان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہتی ہے،اس لیے اسے احساس ہوتا ہے کہ سیاسی حکومت نے مذاکرات کا عمل شروع کر کے اس کے ہاتھ باندھ دیے ہیں۔ دوسری طرف طالبان بھی جنگ بندی کے معاہدے پر عمل پیرا نہیں۔ وہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں لیکن حملوں کا سلسلہ جاری اور خون بہہ رہا ہے۔ ایک اور فرق بھی محسوس کیا جا سکتا ہے کہ جنرل کیانی صاحب نے طالبان سے نمٹنے میں اتنی مستعدی نہیں دکھائی جتنی ان سے توقع تھی۔ سوات اپریشن کے سوا کہیں پر بھی طالبان پر ضرب نہیں لگائی گئی۔ وہ انتہا پسندوں سے زیادہ امریکہ کو اپنا دشمن سمجھتے تھے۔ انھوں نے اپنے دور کے آخری دو برسوں میں عملی طور پر کچھ نہیں کیا جبکہ پاکستان کے ہاتھ سے بہت قیمتی وقت نکل گیا۔ طالبان پر فیصلہ کن ضرب لگانے کے لیے وہ بہترین وقت تھا جب امریکی اور نیٹو افواج افغانستان میں انتہا پسندوں کے تعاقب میں تھیں اور اس طرف پاکستان بھی ان کو کچلنے کے لیے اقدامات کر سکتا تھا۔ تاہم وہ موقع گنوا دیا گیا۔ اب اسے اکیلے ہی ان سے نمٹنا ہوگا۔ کوئی بھی اس کی مدد کو نہیں آئے گا۔

اس وقت پاکستان میں معاملات خاصے الجھے ہوئے ہیں۔ اب فوج طالبان کے خلاف کاروائی کرنا چاہتی ہے تو نواز حکومت ان کے ساتھ مذکرات کی میزپر مسائل حل کرنے کی امید لگائے ہوئے ہے، تاہم فوج کے سیاسی حکومت کے ساتھ تناؤکی صرف یہی واحد وجہ نہیں ، بلکہ نواز حکومت بھارت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات کی خواہاں تھی اور اب بھی ہے۔ دراصل اس نے بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے کچھ اقدامات بھی اٹھائے لیکن پھر فوج نے جیسے اس کوشش کو ’’ویٹو ‘‘ کردیا۔ حکومت کو بڑھے ہوئے قدم واپس اٹھانے پڑے۔ شاید عام حالات میں پاکستان کے دفاعی ادارے بھارت کے ساتھ تعلقات معمول کی سطح پر لانا چاہیں لیکن اس وقت افغانستان کے حوالے سے ایٹمی طاقت کے حامل یہ دونوں ہمسایہ ممالک ایک طرح کی رقابت کا شکار ہو رہے ہیں… اور یہ اس خطے کے لیے خوش آئند نہیں۔ اگرچہ حکومتِ پاکستان کو موجودہ انتخابات میں بی جے پی کے رہنما نریندر مودی کے اقتدار میں آنے پر تشوش لاحق ہو گی کیونکہ وہ پاکستان اور مسلمانوں کے بارے میں جارحانہ رویہ رکھتے ہیں اور ان کے دور میں گجرات میں مسلم کش فسادات بھی ہوئے ،لیکن اس کا دوسرا پہلو زیادہ حوصلہ شکن نہیں۔ یہ بی جے پی کے رہنما، اٹل بہاری واجپائی، ہی تھے جو نواز شریف کے گزشتہ دور میں لاہور آئے اور اس دورے سے بہت سی برف پگھلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس لیے مودی کو دہلی میں حکومت سازی کرتے دیکھنا پاکستان کے حوالے سے اتنا بھی مایوس کن نہیں جتنا سمجھا جاتا ہے۔ تاہم مودی کو ’’گرم تعاقب‘‘ کرتے ہوئے دھشت گردوں کے پیچھے پاکستان کا بارڈر عبور کرنے کی باتوں سے احتراز کرنا چاہیے۔ بھارتی انتخابات میں اگر یہی رجحان جاری رہا کہ سیاسی رہنما پاکستان کے خلاف بیانات دینے اور اسے سبق سکھانے کی باتیں کرتے رہے تو اسے افسوس ناک صورتِ حال قرار دیا جاسکتا ہے ۔ وہ دل سے جانتے ہیں کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان کا ایسا کوئی ارادہ ہے، لیکن بھارتی عوام کے جذبات سے کھیل کر ووٹ لینا یقیناایک مستحسن عمل نہیں۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ جب تک بھارت میں انتخابات کا مرحلہ مکمل نہیں ہوجاتا اور جب تک دہلی حکومت کا فیصلہ نہیں ہوجاتا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں کم از کم اگلے چھے ماہ تک انتظار کرنا پڑے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس دوران کوئی ناپسندیدہ واقعہ نہ پیش آ جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں معمول کے حالات میں دہلی اور اسلام آباد بتدریج آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ دونوں کے درمیان کشمیر ایک اہم مسئلہ ہے لیکن دونوں میں سے کسی کوئی بھی امید نہیں کہ اس کا راتوں رات کوئی قابلِ قبول حل نکل آئے گا۔ ان کے درمیان تجارت اور عوامی سطح پر تعلقات میں فروغ زیادہ اہم معاملات ہیں اور یہ دونوں ان پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم امریکی افواج کی خطے سے روانگی کے بعد افغانستان ایک معاملہ بن کر ان کے درمیان موجود ہو گا۔ واجپائی کے ساتھ ان کے تعلقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نواز شریف بھارت کے ساتھ امن کے خواہاں ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کی خواہش پوری ہوگی؟ کیا پاکستان کے طاقتور حلقے انہیں اس کی اجازت دیں گے؟ کیا افغانستان میں کوئی نیا کھیل تو نہیں شروع ہو جائے گا؟

درحقیقت اس وقت پاکستان کو بہت پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہے۔ اسے انتہاپسندوں کی طر ف بھی خطرہ ہے ، لیکن اس کے طاقتور حلقے افغانستان کے حوالے سے بھی تحفظات رکھتے ہیں۔ اگر وہ طالبان پر ضرب لگاتے ہیں تو خدشہ ہے کہ بھارت افغانستان میں قدم جمانے میں آسانی محسوس کرے گا۔ یہ بات اسلام آباد کے لیے قابلِ قبول نہ ہو گی۔ اس کے علاوہ اگر امریکی اور یورپی ممالک نے افغانستان کو مکمل طور پر نظر اندازکردیا…جس کا خدشہ پیدا ہوچلا ہے…تو اسی معیشت دم توڑ جائے گی۔ وہ صورتِ حال انتہائی نازک ہو گی۔ بھارت اس سے فائدہ اٹھا کر سرمایہ کاری کرے گا جبکہ پاکستان اسے باز رکھنے کی کوشش میں ہوگا۔ اگر ایسا ہوا تو ماضی کو دہرانے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

بہرحال موجودہ سال اس خطے کے لیے بہت سے امکانات بھی لا رہا ہے۔ پاکستان میں نئی سیاسی اور فوجی قیادت ہے جبکہ بھارت اور افغانستان میں ایسا ہونے جا رہا ہے۔ اس سے یہ تینوں ہمسایہ ممالک ایک نئے سفر کا آغاز کر سکتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت ایسا کرنا چاہتی ہے لیکن کیا یہ طالبان کے پیدا کردہ مسائل پر قابو پا سکے گی ؟فی الحال کابل میں غیر یقینی پن کی گردچھائی ہوئی ہے اور امریکی انتظامیہ کو بھی علم نہیں کہ وہاں کیا ہونے جا رہا ہے۔امریکی افغانستان میں تیرہ سال گزارنے کے بعد روانہ ہورہے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ اس ملک میں ان کے جانے کے بعد کیا ہو گا۔ اب وہ فتح یا تعمیر نو کی بات نہیں کر رہے۔ وہ بس یہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔ آج سے ایک عشرہ قبل کوئی اس صورتِ حال کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔

بشکریہ روزنامہ "دنیا"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں