.

اختلافات کا حل ۔ تصادم نہیں مذاکرات

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دس سال سے بھی زیادہ طویل افغان جنگ نے امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی ملک پاکستان کو دہشت گردی، بدامنی، اندرونی خلفشار اور اس کی بقا کو لاحق خطرات سے اس قدر شدید دوچار کر دیا ہے کہ پاکستانی معاشرہ اور ادارے مذہبی اور علاقائی بنیادوں پر افقی (Horizontal) دراڑوں کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ کنفیوژن کے اس معاشرے کو اور اس کے سیاسی اور دیگر قائدین کو اب عمودی (Vertical) انداز کی دراڑوں اور اختلافات کا شکار بنایا جا رہا ہے جہاں سیاستدان، میڈیا، حکومتی ادارے، برسر اقتدار حکومت اور اپوزیشن آپس میں دست و گریبان، الزامات اور جوابی الزامات کی مہم میں مبتلا ہو چکے ہیں اور خود ہی عوام اور عالمی برادری کی نظر میں اپنی ساکھ اور امیج کھونے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

ممکن ہے کہ اس افسوسناک اور زہریلی صورت حال میں مبتلا متحارب فریقوں اور عوام کو خطرات اور انجام کا اندازہ نہ ہو مگر تاریخ تو اس بارے میں بہت سی مثالیں پیش کرتی ہے۔پاکستان کو داخلی چیلنجوں کے ذریعے گرانے کی کوششیں اور منصوبے کارفرما ہیں اور ہمارے قائدین آنے والے کل کی فکر کئے بغیر سیاسی، معاشرتی اور معاشی خلفشار کو مزید فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ موجودہ نظام سے بجا طور پر مایوس ہونے والے اس نظام کو تباہ یا تبدیل کرنے کا نعرہ تو لگا رہے ہیں لیکن یہ تو اسی وقت ہو گا جب اس موجودہ نظام کی تباہی یا تبدیلی کے بعد صورت حال ان کے کنٹرول میں ہو گی۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) سویلین اور سیاسی حکومتیں تو مشرف دور حکومت، امریکہ کی افغان جنگ، سرحدی صورتحال، پاک بھارت تعلقات، معاشی اور معاشرتی مسائل پر نہ تو قابو پا سکیں اور نہ ہی کنٹرول کر سکیں تو موجودہ نظام کی تباہی یا تبدیلی لانے کا دعویٰ کرنے والے بھی تو عوام کے سامنے صرف تبدیلی کا نعرہ لگا رہے ہیں۔

متبادل نظام کا منصوبہ اور ڈھانچہ کہاں ہے؟ پاکستان کے اس اندرونی خلفشار اور انتشار میں اپنے اپنے مقاصد کے لئے تصادم اور کشمکش میں مصروف سیاستدان، قائدین معاشرہ، بیوروکریسی، صحافی اور دیگر عناصر کو عالمی افق پر اپنے پاکستان کو مستقبل میں ناخوشگوار موسم کی صورت حال دیکھنے اور سمجھنے کی فرصت ہی نہیں۔ ماضی قریب کی تاریخ کے مطابق پاکستان کے اس داخلی انتشار کی صورت حال میں پاکستان کو تو نقصان پہنچے گا مگر اس داخلی خلفشار میں کوئی بھی نہیں جیتے گا اور نہ ہی کوئی اس تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے گا۔ پاکستان کا یہ تمام تر خلفشار عوام کے نام پر حکمران طبقہ نے بے قصور معیشت اور ناخواندگی کے مارے ہوئے معصوم عوام پر مسلّط کیا ہے اور اس کی سزا بھی عوام اور پاکستان کو مل رہی ہے۔ اگر متصادم فریق حالات کی نزاکت کا پاس رکھتے ہوئے اپنے اختلافات کا مذاکرات کی میز پر آ کر ان کا کوئی حل ڈھونڈ نکالیں اور پاکستان کی بحرانی کیفیت اور انتشار سے نکلنے تک صبر و انتظار کر لیں تو علامہ طاہرالقادری اور عمران خان کے معتقد اور کارکن بھی اپنی انرجی آنے والے وقت میں اپنی عوامی تحریک اور تحریک انصاف کو مضبوط کرنے پر صرف کر سکیں گے اور پہلے ہی سے مسائل کا شکار پاکستان بھی کسی بڑے بحران سے بچ جائے گا۔

اگر خدانخواستہ پاکستان کو نقصان پہنچا تو پھر عمران خان اور علامہ طاہر القادری کہاں اور کس نظام کی تبدیلی کی مہم چلائیں گے؟ ہمارے میڈیا والے بھائی بھی جان لیں کہ اگر جنگ اور جیو کو کسی صحافتی غلطی یا کوتاہی پر دشمنی اور انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو آج ہم کل تمہاری باری ہے کے مصداق باقی میڈیا کو بھی ایسے ہی انتقامی رویّوں کے لئے تیار رہنا ہو گا ۔ امریکہ کے پڑوس کینیڈا میں آباد علامہ طاہر القادری اور عمران خان سمیت تمام اتحادیوں اور متصادم قائدین کو سوچنا چاہئے کہ عالمی افق پر پاکستان کیلئے حالات کا موسم ٹھیک نہیں۔ گزشتہ بارہ سال سے مسلسل دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف پاکستانی فوج پر ایک ہی وقت میں داخلی انتشار اور سرحدوں کی حفاظت کا بوجھ بڑھانا بھی درست نہیں ہے۔ آئی ایس آئی کو خارجی دشمنوں پر توجّہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ملکی اور علاقائی صورت حال کا بھی یہی تقاضا ہے۔ آنے والے وقت میں مزید بڑے خارجی چیلنج پر توجّہ مرکوز کرے۔

عالمی افق پر پاکستان کے لئے آنے والے وقت میں موسم سازگار نہیں ہے، مشکلات ہیں حتّیٰ کہ داخلی مشکلات نے ملکی بقا کے مسائل بھی پیدا کر دیئے ہیں۔ پولیو کے حوالے سے بیرون پاکستان سفر کرنے پر عارضی پابندی محض ابتداء ہے حالانکہ جنگ زدہ افغانستان میں بھی پولیو کے زمینی حقائق افغانستان سے مختلف بھی نہیں ہیں۔ پاکستان کے لئے موجودہ ناموافق عالمی صورت حال کو وزیراعظم نواز شریف کے دورۂ برطانیہ سے ناپنے کے بجائے امریکہ کے سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی کمیٹیوں کے سامنے ذمہ دار امریکی حکام کے بیانات اور دیگر چند نشاندہی کرنے والے عوامل کے چند نمونے قارئین کے سامنے پیش کر کے دعوت فکر و تدبر کا خواستگار ہوں۔ پاک فوج اور امریکی پینٹاگون میں تعلقات اور اعتماد کی وہ فضا اب نہیں رہی جو پہلے کبھی ہوا کرتی تھی۔ افغانستان میں امریکی جنگ کے خاتمے پر پاک، امریکہ تعلقات میں اہم تبدیلی آئی ہے۔

-1 امریکی محکمہ خارجہ میں اسسٹنٹ سیکرٹری برائے جنوبی اور سینٹرل ایشیا کے اہم منصب پر فائز بھارتی نژاد 45 ؍سالہ خاتون نیشا ڈیسائی بسوال نے 30؍اپریل ایوان نمائندگی کی کمیٹی کے سامنے جو بیان دیا ہے اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’’اکیسویں صدی کی کہانی کا بیشتر حصّہ جنوبی ایشیا کے اسی علاقے میں لکھا جائے گا‘‘۔ انہوں نے سینٹرل ایشیا کے افغانستان، پاکستان اور بھارت کے ’’کنکشن‘‘ کو بہت اہم تو قرار دیا ہے مگر بھارت میں انتخابات کے بعد مضبوط بھارتی قیادت کو اس کے لئے مفید اور خوش آئند قرار دیا ہے جبکہ امریکہ پاک چین سلک روٹ کو یکسر نظر انداز کر کے سینٹرل ایشیا سے ملانے والے راستے کو ’’نیا سلک روٹ‘‘ قرار دیتا ہے۔

ملاحظہ کیا آپ نے کہ نریندر مودی کی بھارتی قیادت اندرونی خلفشار کا شکار پاکستان اور بھارت کے زیر اثر افغانستان سینٹرل ایشیا اور اکیسویں صدی کی کہانی میں کن آپشنز اور حیثیت سے کیا رول ادا کریں گے؟ یہ آپ کے سوچنے کی بات ہے۔-2 امریکی سینیٹ کی سب کمیٹی کے سامنے 30؍اپریل کو ہی ایک اور ذمہ دار امریکی افسر فاطمہ سومار نے افغانستان کے حوالے سے جو بیان دیا ہے اس سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ افغانستان کو بھی پاکستان سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے اور پاکستان سینٹرل ایشیا ’’کنکشن‘‘ میں رکاوٹ ہے۔ دہشت گردی کی جنگ کے دوران پاکستانی حکمرانوں کے لئے قصیدہ نما امریکی بیانات اب غائب ہیں۔-3 صدر اوباما کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان و پاکستان کے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران سرکاری ٹی وی کو تفصیلی انٹرویو بھی بہت کچھ بتا رہا ہے۔ ہمارے قائدین پاکستان پر رحم کرتے ہوئے تصادم سے باہر آئیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.