.

اسلام پسند اتاترک

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ ہفتے میں نے اتاترک کی زندگی کے اُس پہلو پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی تھی جس کے بارے میں پاکستانی کچھ زیادہ معلومات نہیں رکھتے یا پھر اتاترک کی زندگی کا یہ پہلو اُن کی نظروں سے اوجھل تھا۔ اتاترک کی زندگی کے اِس پہلو کو جان بوجھ کر اندھیرے میں رکھا گیا۔ اس کی ایک وجہ پاکستانی قارئین کی طرف سے زیادہ تر انگریز مصنفین کی کتابیں یا ان کتابوں کا ترجمہ پڑھنا ہے اور بات عیاں ہے انگریز جنہوں نے زندگی میں پہلی بار اتاترک کے ہاتہوں شکست کھائی تھی انہوں نے اپنی ان کتابوں میں اتاترک کی شخصیت کو جان بوجھ کر داغدار کرنے کی کوشش کی اور اتاترک کے مذہبی پہلو کو جان بوجھ کر غلط انداز میں پیش کیا تھا مقصد ہندوستان کے مسلمانوں کو جو اتاترک کو اپنا رہبر و رہنما سمجھتے تھے انگریزوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنے سے روکنا تھا۔

دوسری اہم وجہ ہمارے تمام مصنفین کا جنہوں نے اتاترک سے متعلق کتابیں تحریر کیں، ترکی زبان سے نابلد ہونا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے ترکی زبان کے مواد سے استفادہ کرنے کے بجائے فرنگیوں کے مواد پر بھروسہ کیا۔ ترک جو ہندوستان کے مسلمانوں کے سچے دوست تھے زبان کے فرق کی بنا پر آپس میں براہ راست رابطہ قائم کرنے سے قاصر رہے اور غیر ملکی زبان کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ قائم کئے رہے حالانکہ اس دور کے مسلمانوں نے جس طرح جذبات میں بہہ کر اتاترک کی شان میں نظمیں تحریر کرتے ہوئے اور پھر انہیں سُروں کے ساتھ گنگناتے ہوئے ترکوں کے لئے چندہ جمع کیا تھا (اس امداد کو ترک باشندے آج بھی فراموش نہیں کرسکے ہیں) اس کی دنیا میں کوئی نظیرنہیں ملتی ہے۔

پاکستان کے قیام کے طویل عرصے بعد تک لوگوں کے دلوں میں اتاترک سے محبت میں ذرہ بھر بھی کوئی کمی نہیں آئی تھی لیکن ضیاء الحق کے دور میں جس طرح ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دی گئی اور انتہا پسندوں کو پنپنے کا موقع دیا گیا اس کے نتیجے میں اتاترک کے سیکولر نظریات کو کافرانہ نظریات قرار دے دیا گیا ۔اتاترک اور قائد اعظم دونوں ہی سیکولرازم کو مسلمانوں کیلئے سب سے مناسب نظام تصور کرتے تھے اور اتاترک نے مسلمانوں ہی کی بہتری کے لئے اپنے ملک میں سیکولرازم کو متعارف کرایا تھا اور قائد اعظم اتاترک کے متعارف کردہ اس نظام سے بڑے متاثر ہوئے تھے لیکن ہمارے مذہبی حلقوں نے سیکولرازم کو کافرانہ نظام قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت شروع کردی حالانکہ سیکولرازم کافرانہ نظام نہیں ہے بلکہ مذہبی حلقے جان بوجھ کر سیکولرازم کا ترجمہ لادین (جس کا کوئی دین نہ ہو) کرتے رہے ہیں جبکہ سیکولرازم کی صحیح تعریف کچھ یوں ہے۔’’تمام مذاہب کے ساتھ رواداری ، غیر جانبداری اور ملکی نظم و نسق ،سماجی، تعلیمی اور سیاسی معاملات میں تمام مذاہب کے ایک ہی فاصلے پر کھڑا ہونے اور کسی بھی مذہب اور فرقے کو کسی دیگر فرقے اور مذہب پر برتری نہ دینے ، تمام مذاہب کے اور فرقوں کو مملکت کی نظر میں مساوی حیثیت دینے ہی کا نام سیکولرازم ہے‘‘۔ (اس سے قبل راقم کےچوبیس اپریل 2013ء، یکم مئی 2013ء اور بائیس مئی 2013ء کو سیکولرازم کے بارے میں تحریرکردہ تین کالم جنگ آرکائیو میں موجود ہیں ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے)۔

اتاترک جنہوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے دور میں اُس وقت کے شیخ الاسلام کو انگریزوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنتے اور ان کی خواہشات کے مطابق فتوے دیتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے اُسی وقت مستقبل میں شیخ الاسلام کو ملکی معاملات سے دور رکھنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اتاترک نے جدید جمہوریہ ترکی کے قیام کے فوراً بعد شیخ الاسلام کو نہ صرف ان کے عہدے سے معزول کر دیا بلکہ ان کے جاری کردہ تمام فتووں کو منسوخ کرتے ہوئے سیکولرازم کی بنیاد رکھ دی تھی۔ انہوں نے سیکولرازم ہی کے زیر سایہ محمد حامدی ایلمالیِلی کی قیادت میں عالمین کے وفد سےقران کریم کا ترجمہ کرایا جسے تمام فرقوں نے صدقِ دل سے قبول کرتے ہوئے آپس کے اختلافات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا۔ اتاترک نے مملکت کے اختیارات سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے حضرت محمد ﷺ کے اقوال اور احادیث پر مبنی پوسٹ کارڈ تیار کروا کر تمام ترک باشندوں تک انہیں پہنچا کرمذہب اسلام سے اپنے لگاؤ کا اظہار کردیا تھا۔اتاترک کی مذہب ِ اسلام اور قران کریم سے محبت کا اندازہ ان کے ان الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے۔’’قران کریم کی تلاوت سن کر طبیعت ہشاش بشاش ہوجاتی ہے اور ایسے لگتا ہے جیسے جسم میں نئی روح پھونک دی گئی ہو۔‘‘

اتاترک کو حضرت محمدﷺ سے اتنی گہری محبت تھی کہ 1926ء میں اُس وقت کی سعودی حکومت نے ملک بھر کے تمام مقبروں ،مزاروں اور درگاہوں کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے مسمار کرنا شروع کیا تو روضہ رسولﷺ کے حوالے سے اتاترک ڈٹ گئے اور انہوں نے فوری طور پر سعودی امیر کو ٹیلیگرام روانہ کرتے ہوئے روضہ مبارک کو مسمار کرنے سے باز آنے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں حجاز پر چڑھ دوڑنے کی دھمکی دی جس پر اُس وقت کے امیر نے فوری طور پر روضہ رسول کو مسمار نہ کرنے کے اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا۔ یوں اتاترک نے تاریخ ساز اقدام اٹھا کر مسلمانوں کے دل جیت لئے۔ (اتاترک کے اس ٹیلیگرام کی نقول ترکی کی قومی اسمبلی کی دستاویزات میں موجود ہیں) حضرت محمدﷺ سے اس قدر عقیدت، احترام اور محبت کا اظہار بھلا اور کیسے کیا جا سکتا ہے؟

اتاترک نے جب ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے انقلابات برپا کئے تو اس وقت ایک فرانسیسی اخباری نامہ نگار نےاپنے دورہ ترکی کے دوران اتاترک سے انٹرویو لیتے ہوئے جب اتاترک سے یہ سوال کیا کہ ’’آپ کے برپا کردہ انقلابات کیا مذہب کی نفی نہیں کرتے ہیں؟‘‘ تو اتاترک نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا ’’نہیں ہرگز نہیں،یہ انقلابات دراصل ترک عوام کو اسلام کی صحیح اور اصلی روح کے مطابق عمل کرنے کا موقع فراہم کریں گے اور ترک باشندے پہلے سے بہتر مسلمان بن کر نکلیں گے اور اس وقت وہ جن خرافات پر عمل درآمد کر رہے ہیں ان سے کنارہ کشی اختیار کرنے اور اسلام کے کس قدر سادہ مذہب ہونے سے آگاہی حاصل ہوگی‘‘۔اتاترک نے محکمہ مذہبی امور قائم کرتے ہوئے ملک میں فرقہ واریت کو جڑ سے ہی اکھاڑ پھینکا تھا۔یہ ادارہ آج بھی ترکی میں تمام مذہبی امور، مساجد کے اماموں کی تعیناتی اور حج کے امور ادا کرتا ہے۔

اتاترک بلاشبہ انتہاپسندی اور ریڈیکل ازم کے سخت خلاف تھے۔ اتاترک کواُس وقت اِن حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا جن حالات سے اِس وقت پاکستان گزر رہا ہے۔ اس لئے پاکستان کے موجودہ حالات کو دیکھ کر تمام لوگ اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اتاترک نے ملک میں انتہا پسندی کو ختم کرنے اور پاپائیت کی گرفت کو ختم کرنے کے لئے ان سے چھٹکارا کیوںکر ضروری سمجھا تھا۔ اُس وقت بالکل پاکستان کی طرح سلطنتِ عثمانیہ پر بھی انتہا پسندوں نے اپنی گرفت قائم کر رکھی تھی اور پھر یہی انتہا پسند ہی سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کا بھی باعث بنے تھے۔

اتاترک نے سات فروری 1923ء میں بالک ایسر کی پاشا جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے مذہب اسلام کو دنیا کا ایک مثالی مذہب قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی نصیحت کی تھی۔ اتاترک کا یہ خطبہ اتاترک کے مذہب کے معاملے میں کس قدر حساس ہونے کی بھی واضح عکاسی کرتا ہے۔ اتاترک نے جمعہ کی نماز کے موقع پر خطبہ دے کرتاریخ میں ہمیشہ کے لئے اپنا نام رقم کرلیا۔ کیا اس سے بہتر اسلام پسندی کی کوئی مثال دی جا سکتی ہے؟

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.