.

ٹمپریچر بڑھانے کا فائدہ؟

عارف نظامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملک اس وقت عجیب ہزیانی کیفیت کا شکار نظر آ رہا ہے۔ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری 11مئی کو عام انتخابات کی پہلی سالگرہ کے موقع پر احتجاج کر رہے ہیں ۔عمران خان کا احتجاج کچھ حلقوں میں دھاندلی کے خلاف اور کچھ حلقوں میں انگوٹھوں کی تصدیق اور دوبارہ گنتی کرانے کے لیے ہے۔ لیکن امام غائب پروفیسر ڈاکٹر علامہ محمد طاہر القادری جو کینیڈا کے شہری اور اس کے پا سپورٹ ہولڈر ہیں اور ایک لحاظ سے ملکہ الزبتھ کے احکامات پر کورنش بجا لانے کے پابند ہیں،ملک میں مروجہ جمہوری نظام کو تہ وبالا کرنے کے درپے ہیں۔ وہ کینیڈا کی ٹھنڈی فضائوں سے ایک بار پھر پاکستانی قوم کو اپنے مخصوص درشت لہجے میں لیکچر دے رہے ہیں کہ وہ کس قسم کے غیر منصفانہ اور ظالمانہ نظام کے تحت زندگی بسر کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ معاملہ جو حامد میر پر سفاکانہ حملے کے بعد جنگ جیو گروپ کی جانب سے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانے سے شروع ہوا تھا اب فوج کے حق میں باقاعدہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر گیا ہے۔اس لڑائی کے پیچھے کون”فرشتے”ہیں سب کو بخوبی علم ہے۔انواع اقسام کی تنظیمیں اور سیاسی ومذہبی گروپس اس کی آڑ میں اپنا اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں اور جنگ جیومخالف میڈیا چینلز اور اخبارات اس معاملے کو خوب ہوا دے رہے ہیں۔

عمران خان جیو کے تجزیہ کار اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی پر انتخابات میں 35پنکچر لگانے کا الزام پہلے ہی لگا رہے ہیں۔ اب انہوں نے جیو اور جنگ گروپ کو 11مئی 2013ء کے عام ا نتخابات میں نوازشریف کی دھاندلی کا فریق قرار دے دیا ہے۔میں نے اپنے ٹی وی پروگرام میں تحریک انصاف کے رہنما حامد خان سے سوال کیا کہ ایک میڈیا گروپ کس طرح انتخابات میں دھاندلی کر سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف نے دس پندرہ حلقوں سے انتخابی نتائج آنے پر ہی اپنی فتح کا اعلان کر دیا تھا اور ان کی اس تقریر کو جیو نے ٹیلی کاسٹ کیا تھااس پروگرام میں شریک مسلم لیگ (ن) کے رہنما جعفر اقبال نے جب یہ کہا کہ میاں صاحب کی تقریر تو تمام چینلز نے نشر کی تھی اس کا حامد خان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران خان کہتے ہیں کہ وہ جمہوری نظام پر مکمل یقین رکھتے ہیں لیکن وہ یہ سب کچھ محض اپنے مربیوں کو خوش کرنے اور سنٹر سٹیج پر رہنے کے لیے یا خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت کی کارکردگی یا عدم کارکردگی سے توجہ ہٹانے کے لیے کر رہے ہیں۔

جہاں تک طاہرالقادری کی پاکستان عوامی تحریک کا تعلق ہے اس کا مسئلہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمدسعید بھی اپنے ہر اول دستوں کے ہمراہ میدان میں اتر آئے ہیں وہ قوم کو حب الوطنی اور فوج کی حمایت کا درس دینے کے ساتھ ساتھ بھارت کے خلاف خوب برس رہے ہیں حالانکہ معدودے چند کے سوا کوئی بھی بھارت کی گود میں بیٹھنا نہیں چاہتا۔ جنگ جیو کے امن کی آشا پروگرام کے بارے میں بہت سے حلقوں کے تحفظات ہیں۔ فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دے کر بی جے پی کے لیڈر نریندر مودی کا موڈ خراب کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا بھی پاکستان کے پیچھے پنجے جھاڑ کر پڑ گیا ہے۔ یقینا پاکستان کو مقبوضہ کشمیر کے بارے میں معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے لیکن اس وقت بھارت میں انتخابات ہو رہے ہیں اور ہم دہشت گردی سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم بھارت کے خلاف حالت جنگ میں ںہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کا امکان ہے پھر اس نازک مرحلے پر سیاسی ٹمپریچربڑھانے کا کیا فائدہ؟

مسلم لیگ (ق) بھی میدان میں اتر آئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے گھوڑوں پر مشتمل اس جماعت نے پرویز مشرف کی کوکھ سے جنم لیا ۔اس کا مسئلہ تو میاں نوازشریف ہیں۔ لیکن قوم کا یہ مسئلہ نہیں ہے۔ میاں نوازشریف ایک منتخب وزیراعظم ہیں اور انہیں جمہوری انداز سے حکومت کرنے کا حق حاصل ہے جیسا کہ اپوزیشن کا ان کی پالیسیوں پر تنقید کا۔ یہاں یہ بات بھی غورطلب ہے کہ ان کے علاوہ بھی بہت سی غیر معروف نام نہاد تنظیمیں اور شخصیات فوج کے حق میں میدان میں نکل آئی ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون پاکستانی فوج کے خلاف ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی قربانیوں کی معترف ہے۔ لیکن فوج کے ماضی میں بالواسطہ یا بلاواسطہ سیاست میں رول کے خلا ف کچھ تحفظات ضرور ہیں۔ اس مرحلے پر اسٹیبلشمنٹ کے پولیٹیکل سیل کو متحرک کرنے سے فائدہ سے زیادہ نقصان ہو سکتا ہے یہ حکمت عملی Throwing the baby with the bathwaterکے مترادف ہے۔ بالخصوص جبکہ فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے حال ہی میں یوم ِشہداء کے موقع پر اپنے پالیسی بیان میں آئین اور قانون کی پاسداری اور جمہوری عمل کی آبیاری کا واضح پیغام دیا ہے۔

اس وقت ملک کی کلیدی اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلزپارٹی اس سارے معاملے میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا بھرپور ساتھ دے رہی ہے۔ قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ہم سسٹم کو غیر مستحکم کرنے میں فریق نہیں بن سکتے۔ اس طرح پیپلز پارٹی پر بھی یہ الزام لگ سکتا ہے کہ وہ فرینڈلی اپوزیشن ہے بالکل ایسے ہی جیسے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں میاں نوازشریف پر لگتا تھا۔اس دور میں میاں نوازشریف فاختائی پالیسیاں اپنائے ہوئے تھے جبکہ شہباز شریف عقابی۔ ان کی طرف سے مصر کی طرز پر ملک میں التحریر سکوائر بنانے، زربابا اور چالیس چوروں کو سڑکوں پر گھسیٹنے کے نعرے لگائے جاتے تھے۔ لوڈ شیڈنگ کے خلاف مینارپاکستان کے سائے میں کیمپ آفس میں ہاتھ سے پنکھا جھلنے کے قصے سب کو یاد ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کی کمزوریوں سے وقتی فائدہ اٹھانے کے بجائے جمہوری نظام کو مستحکم کرنے کی پالیسی پر ہی کا ربند رہے گی۔ کیونکہ اسی سے سب سیاستدانوں کا مفاد وابستہ ہے۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.