.

اوباما کا ایشیائی محور

ڈاکٹر ملیحہ لودھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر بارک اوباما کا ایشیا کا 4 ملکی دورہ کس بات کی نشاندہی کرتا ہے؟ کیا یہ اس کے اتحادیوں کی خطے سے متعلق امریکی وعدوں کے بارے میں بے چینی کو دور کرنے کے لئے ایک تسلی دینے والا دورہ تھا؟ یا یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ واشنگٹن کی محوری حکمت عملی حقیقی ہے محض اعلانیہ نہیں؟ یا محور میں غیر موجود معاشی جہت کو داخل کرنے کی کوشش تھی ایک 12 ملکی تجارتی بلاک کو فروغ دے کر جس میں چین شامل نہیں؟ یا ایک ایسا دورہ جس میں چین کا توڑ کرنے کی امریکی صلاحیت کا اظہار کیا گیا لیکن ساتھ ہی بیجنگ کے ساتھ تعلقات بگاڑنے سے بھی گریز کیا گیا؟

کسی حد تک یہ دورہ ان سب باتوں سے بڑھ کر تھا جس کی نشاندہی چند خبروں سے بھی ہوئی ہے۔ دوبار ملتوی ہونے والا دورہ ایک ایسے وقت کیا گیا جب امریکی محور کی ساکھ کے بارے میں اس کے اپنے ہاں بھی اور ایشیائی ساتھیوں میں بھی نئے خدشات جنم لے چکے ہیں۔

2011ء میں صدر اوباما نے ایشیا کے گرد منصوبہ بند محور کے ذریعے تذویراتی پالیسی کی منتقلی کا اعلان کیا۔ اس کا مقصد امریکہ کے جغرافیائی تذویراتی ارتکاز کو مشرق وسطیٰ سے ایشیا کی طرف منتقل کرنا تھا اور فوجی، معاشی اور سفارتی وسائل کا دھارا دنیا کے سب سے متحرک معاشی خطے کی طرف پھیرنا تھا لیکن محور کا غیر اعلانیہ مقصد چین کے عروج کو روکنا تھا۔ بیجنگ کے ساتھ ساتھ متعدد دیگر ممالک نے بھی امریکی پالیسی کو اسی نگاہ سے دیکھا، باالخصوص اس لئے کہ امریکہ نے اپنے 60 فیصد بحری فوجی اثاثے ایشیا کی طرف منتقل کرنے کے ارادے کا اعلان بھی کیا۔ واشنگٹن نے بعدازاں اس پالیسی کو ایشیا میں توازن کی درستی کا نام دیا۔امریکہ نے اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ وہ چین کا گھیراؤ کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے لیکن اس کی چند حرکتیں دوسرا تاثر دیتی ہیں۔ اپنے ایشیائی اتحادیوں کو جنوب بحیرہ چین میں بیجنگ کے خلاف سرحدی دعوے کرنے پر اکسا کر واشنگٹن نے اس تاثر کو پروان چڑھایا کہ وہ براعظم میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ پر نظر رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بیجنگ کے اپنے اقدامات اور وسیع سمندری حدود کے دعووں نے علاقائی کشیدگیاں بڑھانے میں کردار ادا کیا اور جاپان کے ساتھ تیزی سے کشیدہ ہوتے تعلقات کو مزید خراب کر دیا۔

امریکی تردید جو صدر بارک اوباما نے دورے کے دوران ان الفاظ میں دہرائی کہ ہم چین کا گھیراؤ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے،کو بیجنگ میں شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اس کا ثبوت نیشنل پیپلز کانگریس کے ترجمان کےتازہ بیانات سے ملا۔ انہوں نے کہا امریکہ نے کھلے عام یہ بات کہی ہے کہ اس کا چین کا گھیراؤ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور ایشیا کے گرد اس کے محور کا نشانہ چین ہرگز نہیں ہے لیکن ہم قول کو عمل کی بنیاد پر پرکھنا چاہتے ہیں۔ چین کے سرکاری میڈیا نے بھی اوباما کے دورے کے موقع پر انہی بنیادوں پر خطے میں امریکی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ دریں اثناء امریکہ اور یورپ میں پالیسی برادری نے بھی واشنگٹن کی توازن درست کرنے کی حکمت عملی پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا لیکن مکمل طور پر مختلف وجوہات کی بنیاد پر۔ کئی نے پوچھا کہ آیا یہ پالیسی حقیقت سے زیادہ زبانی جمع خرچ ہے۔ اس تشکیک میں اوباما کے دورے سے قبل بڑھوتری آ گئی۔ متعدد مغربی تبصرہ نگاروں نے شکوک کا اظہار کیا کہ کیا یوکرائن اور مشرق وسطیٰ میں پھنسے ہوئے امریکہ میں اپنے دوستوں اور حریفوں کو قائل کرنے کی قابلیت ہے کہ اس کی توازن درست کرنے کی حکمت عملی حقیقی ہے۔ ایک تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اس پالیسی پر عمل درآمد گمراہ کن اور مبہم ہوگا۔ دوسرے تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ لوگ پوچھتے ہیں محور کہاں ہے (کیونکہ) وہ اس سے بے خبر ہیں۔

دی اکانومسٹ کا کہنا ہے کہ حالیہ امریکی رویے سے ایشیا میں اس سوچ نے جنم لیا ہے کہ امن برقرار رکھنے کی امریکی بھوک دم توڑ رہی ہے اور ایسا کرنے کی اس کی صلاحیت میں بھی کمی واقع ہورہی ہے۔ چند ناقدین نے نشاندہی کی ہے کہ امریکہ ایک ساتھ محور کا قیام اور دفاعی اخراجات میں کمی نہیں کر سکتا کیونکہ حکومتی بجٹ میں کٹوتیاں جاری ہیں۔ان سب کے نتیجے میں محور کے بارے میں اہم سوالات جنم لیتے ہیں لیکن کچھ دیگر توجہ طلب عوامل بھی موجود ہیں جو محوری پالیسی پر اثر انداز ہوئے ہیں جن کا نتیجہ اس کے ناہموار اور بے ربط تعاقب کی صورت برآمد ہوا ہے۔ ان عوامل میں اوباما کی ملکی ترجیحات میں گہری مصروفیت شامل ہے اور اس سے بڑھ کر ان کی میراث، ان کا نظریہ کہ ان کی اصولی بین الاقوامی ذمہ داری بدلے ہوئے عالمی ماحول میں امریکی مصارف میں تخفیف کو خوش اسلوبی سے سنبھالنا ہے اور معاشی اہداف کا امریکی تعاقب جو ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کا توڑ کرنے کی حکمت عملی سے متصادم نظر آتا ہے۔

حتیٰ کہ اپنی دوسری مدت میں بھی اوباما نے ایک خارجہ پالیسی والا صدر بننا پسند نہیں کیا۔ گھر میں قوم کی تعمیر و ترقی کی ضرورت سے متعلق اکثر و بیشتر دہرائے جانے والے ان کے اعلان نے ان کی حکومت کی ترجیحات اور سوچ کو شکل دی ہے۔ ان کی نگاہیں مکمل طور پر ان کے مقامی ایجنڈے پر مرکوز ہیں جس کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی میراث کا فیصلہ کرے گا۔ اپنی پہلی مدت میں ان کی توجہ 2008ء کے مالی بحران کے بعد ملک کی معیشت کی بحالی پر مرکوز تھی جو کہ 1930ء کے عظیم مالی بحران کے بعد امریکہ کا سب سے بدترین بحران تھا لیکن انہوں نے اپنی دوسری مدت میں بھی ملکی ترجیحات خارجہ پالیسی پر غالب رکھیں۔ان کا نمایاں ملکی سیاسی کارنامہ قابل استطاعت ہیلتھ کیئر بل بھونڈے پن کے ساتھ نافذ ہوا ہے اور سیاسی سمجھوتوں کے باعث بے اثر ہو گیا لیکن اس میں اوباما نے اپنی بہت ساری توانائی صرف کردی۔ اوباما حکومت کی ہمت بڑھانے والی قوت ان کی میراث ہے جس سے متعلق تشویش اس پر اتنی ہی مرکوز ہے جتنی امریکہ کو معاشی بحران سے نکالنے اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے احیاء کے راستے پر واپس ڈالنے کا ان کا ریکارڈ تھا۔ ان ملکی مصروفیات نے اس وقت اور سرمائے کو محدود کردیا جسے اوباما عالمی امور بشمول محور پر خرچ کرنے کے قابل رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے اپنی میراث کے تغیراتی پہلو کو جلا دینے کے لئے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے میں انتہائی دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور پھر دیگر غیرملکی پالیسی معاملات میں مصروف ہوگئے۔ ایران کے معاملے میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہونے کے باعث دیگر امور نے اتنی زیادہ توانائی نہیں لی سوائے شام اور یوکرائن کے تنازعات کے جنہوں نے واشنگٹن کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔

اوباما کی عالمی حکمت عملی بیان کرنے والا ایک دوسرا پہلو ان کا وہ نظریہ ہے جس کے مطابق بدلتی ہوئی عالمی طاقت کی حرکیات کے وقت ان کا مرکزی کردار امریکہ کی کفایت شعاری کو سنبھالنا ہے۔ جیسا کہ ڈیوڈ سانگر نے حال ہی میں نیویارک ٹائمز میں انکشاف کیا ہے کہ اوباما اعتراف کرتے ہیں کم از کم نجی محفلوں میں کہ وہ امریکی اصلاحات کے دور کو سنبھال رہے ہیں۔ نئی عالمی حقیقتوں کو تسلیم کرنے اور ملکی مسائل سے نمٹنے کے لئے امریکہ کے عالمی کردار میں کمی کا مطلب یہ بھی ہے کہ اوباما نے جنگوں اور بیرونی ناکامیوں سے بیزار ملک میں خارجہ پالیسی کو رائے عامہ سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ وہ بہت پہلے ہی اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ امریکہ اپنی گھریلو طاقت بحال کئے بغیر موثر عالمی کردار ادا نہیں کر سکتا۔

ایک سابق امریکی سفارت کار اسٹیفن سسٹانووچ نے اپنی تازہ کتاب بعنوان میکسی مالسٹ میں کفایت شعاری پر بصیرت افروز بحث کی ہے جس کا اشارہ اوباما کی محدود اخراجات اور کم لاگت والی بین الاقوامی سوچ سے ملتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک ایسے وقت جب ملک استطاعت سے زیادہ مقروض ہے اوباما پہلے امریکی صدر نہیں ہیں جنہوں نے کم خرچ اور زیادہ پائیدار خارجہ پالیسی کے حصول کی کوشش کی ہے۔ جنگ کوریا کے بعد آئزن ہاور، جنگ ویتنام کے بعد نکسن اور سرد جنگ کے بعد جارج بش اول نے بھی یہی روش اپنائی تھی۔ زیادہ اہم اسٹیفن سسٹانووچ کا وہ مشاہدہ ہے جس کے مطابق ایک سکڑتے ہوئے مادے کی اساس پر متحرک خارجہ پالیسی کا برقرار رہنا مشکل ہے۔ وہ پیش گوئی کرتے ہیں کہ وسائل اوباما کی کفایت شعار حکمت عملی بشمول ایشیا کے گرد ان کے محور کا امتحان لیں گے۔

سوم، ایک بالکل مختلف نوعیت کا عنصر جو محور پر اثر انداز ہو گا حکمت عملی میں وہ واضح تفاوت ہے جس کے ذریعے ایشیا میں چینی غلبے کا توڑ کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے اور ساتھ ہی امریکہ کے لازم و ملزوم معاشی ہمراہی کے ساتھ تعلقات کو خراب ہونے سے بھی بچایا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا سالانہ حجم کھربوں ڈالر ہے اور ان بڑھتے ہوئے باہم منحصر تعلقات میں محض یہی اکیلی معاشی مساوات نہیں ہے۔ چینی سفارت کار اکثر اس پالیسی تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں اور دلیل دیتے ہیں کہ امریکہ کے چین کے ساتھ فروغ پاتے معاشی تعلقات نے ، جن میں خود غرضی کا عنصر کارفرما ہے، ایک ایسے ملک کو طاقتور بنانے میں مدد دی ہے جس کا وہ محاصرہ بھی کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ اس کا مقصد چین کے عروج پر نظر رکھنا ہے لیکن امریکہ نے چین کے ساتھ مزید معاشی تعلقات کو فروغ دینے کا سلسلہ اور اس پر مزید انحصار بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سے یہ بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ یہ حکمت عملی قابل عمل ہے بھی یا نہیں،اس حکمت عملی کو بعض اوقات ایک نامناسب اصطلاح(Congagement) کے طور پر بھی پہچانا جاتا ہے جس کے معنی ہیں کہ چین کا گھیراؤ بھی کرنا اور اس سے بنا کر رکھنے کی کوشش بھی کرتے رہنا۔ کیا یہ حکمت عملی بیجنگ کے ساتھ مستحکم تعلقات استوار کرنے کی امریکی معاشی ضرورت سے مطابقت رکھتی ہے؟

اوباما کے دورے سے متعلق میڈیا رپورٹس نے اس مشکل متوازن کردار پر روشنی ڈالی ہے جو انہوں نے علاقائی اتحادیوں کو سہارا دینے اور چین کو ناراض کرنے والی کسی بھی حرکت سے گریز کرنے کی درمیانی راہ نکالنے کے لئے ادا کرنا تھا لہٰذا اس دورے اور محوری حکمت عملی سے مستقبل میں یہ سوال اٹھے گا کہ کیا اس حکمت عملی پر عمل پیرا ہو کر امریکہ کہیں کا نہیں رہے گا اور دونوں دنیاؤں سے تعلقات خراب کرلے گا۔ نہ تو اپنے اتحادیوں کو مطمئن کرپائے گا اور نہ ہی بیجنگ کے ساتھ اپنے تعلقات میں کشیدگی کو روک پائے گا۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.