.

ہیرو یا منافق؟

انجم نیاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج امریکہ بھر کے طلبہ کسی بھی رہنما کو، چاہے وہ اقتدار میں ہو یا اس سے باہر، کو ہیرویا اس کے برعکس قرار دینے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ ان کی مرضی کہ وہ کسی رہنما کو سچا سمجھ کر سنیں یا منافق کہہ کر رد کردیں۔ ان کے پاس طاقت ہے کہ وہ یونیورسٹی میں خطاب کرنے کے لیے آنے والے کسی مقرر کو روک دیں کہ وہ اسے نہیں سننا چاہتے۔ وہ ایسے مقرر پر ہوٹنگ کرنے کی آزادی(اور مہارت) بھی رکھتے ہیں جو انہیں خطاب کرنے پر بصد ہو۔ وہ اس نصیحت کو سننے کے لیے تیار نہیں کہ جب وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی زندگی میں آئیں گے تو ان سے کس رویے کی توقع کی جاتی ہے کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان سے خطاب کرنے والے کی اپنی زندگی ایسی نہیں۔ نصیحت کا حق منافقین کو نہیں دیا جا سکتا۔

سابق امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ گونڈولیزارائس کو Rutgers Universityنیوجرسی میں اپنا خطاب اس وقت ملتوی کرنا پڑا جب ان کی آمد پر طلبہ نے شدید احتجاج کیا۔ طلبہ نے الزام لگایا کہ اُنھوں نے 9/11 کے بعد صدر بش کو عراق پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا تھا اور ان کے اس مشورے کی وجہ سے وہ ملک تباہی و بربادی سے دوچار ہو ا اور انسانی خون بہا۔ 2010 میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا نے امریکہ میں اسرائیلی سفیرمائیکل اورن(Michael Oren) کو تقریر کی دعوت دی لیکن یونیورسٹی کے مسلم طلبہ یونین کے احتجاج کے باعث اُنہیں اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر ہی جانا پڑا۔ اس پر بعد میں یونیورسٹی کواسرائیل سے معذرت بھی کرنا پڑی جبکہ ہنگامہ آرائی کرنے کے الزام میں گیارہ طلبہ کو گرفتار بھی کیا گیا۔ 2007 میں یونیورسٹی آف واشنگٹن میں مسٹر ڈکس (Dicks) پر اُس وقت آوازے کسے گئے جب اُنھوں نے اپنی خوبیاں اور طلبہ کی خامیوں کی نشاندہی کرنا شروع کی۔

مہمان مقریرین پر طلبہ کی جانب سے ہوٹنگ کرنا یا ان کی تقریر کو ہنگامہ آرائی برپا کرتے ہوئے روک دینا یا ان کو یونیورسٹی میں داخل ہی نہ ہونے دینا یقیناًناروا رویے کے زمرے میں آتا ہے، لیکن دوسری طرف مقریرین کو بھی اپنی توصیف اور طلبہ کی تحقیر سے باز رہنا چاہیے ۔ کسی تعلیمی پروگرام میں بلائے گئے مہمان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اُنہیں اچھے مستقبل کی نوید سنائیں۔ دراصل طلبہ کسی بھی شخصیت کے کارنامے سننے کے موڈ میں نہیں ہوتے، اس کام کے لیے میڈیا کوا ستعمال کیا جانا ہی بہترین حکمتِ عملی ہے کیونکہ اس میں سامعین اور مقریرین کے درمیان ایک محفوظ فاصلہ موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ طلبہ منافقت اورد روغ گوئی کو بھی برداشت نہیں کرپاتے۔ جب نیویارک کی ایک یونیورسٹی نے سابق سی آئی اے ڈائریکٹرڈ، جنرل یوڈ پیٹریاس کو ہفتے میں تین کلاسز لینے کے عوض ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالر معاوضہ دیا تو اس پر طلبہ نے شدید احتجاج کیا۔ اس احتجاج کی وجہ سے یونیورسٹی کو مسٹر پیٹریاس کی تنخواہ کم کرکے ایک لاکھ ڈالر کرنا پڑی۔ اور جب جنرل صاحب پہلی کلاس لینے آئے تو شنید ہے کہ طلبہ کی طرف سے اس طرح کے جملے بھی سننے کو ملے …’’آپ کے ہاتھوں سے خون کی بو آرہی ہے۔‘‘میر تقی میر سے واقفیت ہوتی تو یہ بھی کہہ دیتے…’’دامن پہ کوئی داغ نہ خنجر پہ کوئی چھینٹ، تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔‘‘

جب جنرل پیٹریاس سی آئی اے چیف تھے تو پاکستان میں ان کا طوطی بول رہا تھا۔ہر ٹی وی اینکر، ہر ٹی وی پروگرام میں شرکت کرنے والا مہمان ایسے دعوے کرتا گویا جنرل صاحب سے ذاتی شناسائی ہے اور وہ بات بات پر انہیں کسی خفیہ فون نمبر پر اطلاع دیتے رہتے ہیں(ان میں اکثر ڈیوڈپیٹریاس کے نام کو بھی درست ادا نہیں کرسکتے تھے)۔ عامل باباوں اور نجومیوں کو اپنا کام ٹھپ ہوتا محسوس ہورہا تھا کہ یکایک سوانح عمری لکھنے والی پاؤلا کا افیئر منظرِ عام پر آ گیا۔ اس امریکی میڈیا میں ایک طوفان سا برپا ہوگیا۔ پاؤلا براڈویل کے بھائی، جس کے گھر میں اس نے پناہ لے لی تھی، نے بتایا…’’وہ بہت شرمسار ہے کہ اس کی وجہ سے اس کے خاندان او ر پیٹریاس کے خاندان کو ذہنی اذیت سے گزرنا پڑا۔‘‘

ان واقعات کو دہرانے کا یہ مقصد ہے کہ اگرچہ ہم امریکہ کو ایک آزاد خیال معاشرہ سمجھتے ہیں (اور وہ یقیناًہے) لیکن یہاں کے طلبہ اور میڈیا خاص طور پر اپنے رہنماؤں کے بارے میں بے لچک رویہ رکھتے ہیں۔ وہ ان سے قانون اور اخلاقی رویوں سے ہلکی سی سرتابی بھی برداشت کرنے کے روادار نہیں۔ اس سیکس فری معاشرے میں سی آئی اے چیف اور ایک صدر (بل کلنٹن ) کی زندگی کو ایک جنسی سکینڈل ہلا کررکھ دیتا ہے۔ یہ ہے میڈیا اور سول سوسائٹی کا دباؤ!امریکی میڈیا تو اپنے رہنماؤں کی ذاتی زندگی کی ٹوہ میں رہتا ہے ، اور وہاں اسے کوئی حرج نہیں سمجھا جاتا۔ جب آپ سیاسی رہنما ہیں تو آپ ایک تنی ہوئی رسی پر چل رہے ہیں۔ آپ کے ذاتی مشاغل ختم، آپ کی زندگی عوام کے ہاتھ گروی رکھی جاتی ہے۔ ہلکی سی اخلاقی خامی اور آپ کے لیے اس زندگی میں ہی جہنم کے دروازے وا۔ امریکی میڈیا نے اہم شخصیات اور سیاسی رہنماؤں کی زندگی کا کھوج لگانے کا فن جان لیا ہے۔ وہ اپنے رپورٹرز کو اس کام کے لیے تیار کرتے ہیں اور ان کی پشت پناہی بھی کرتے ہیں۔ اسی سے خبر بھی بنتی ہے اور ان رہنماؤ ں کے سر پر تلوار بھی لٹکی رہتی ہے۔ اس پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ میڈیا ریاست کو مضبوط کرنے والا چوتھا ستون ہے۔ اگر ایسا نہیں ، تو پھر محض شورو غوغا اور ہنجان خیز ی اور ذہنی تناؤ… سب ریٹنگ کا چکر اور ، جیسا کہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے اس اخبار میں اپنے کالم میں لکھا…’’جچا تلا رسک‘‘۔

میر ی خواہش ہے کہ پاکستان میں بھی ایسا ہو اور میڈیا اہم شخصیات کو ان کی حدود میں رہنا سکھائے۔ جب تک خوف نہیں ہوگا، قانون کی پابندی نہیں کی جائے گی اور قانون کے بغیر بہتری کا تصور ناممکن۔ ہمارے بہت سے سیاست دان، جنرل ، ایڈمرل اور چیفس کی زندگی کے بہت سے گوشے منظرِ عام پر آنے ہیں، لیکن میڈیا کے سر پر لٹکائی جانے والی تلوار ہٹانے کی ضرورت ہے۔ ہمارا میڈیا ہیجان خیزی سے تمام تر ’’رغبت‘‘ کے باوجود اب تک حکمرانوں کے صرف دو جنسی سکینڈل ہی بے نقاب کرسکا … ایک فیلڈمارشل ایوب خان کا انگریز عورت کرسٹین کیلر کے ساتھ آفیئر اور دوسرا 1971 کی جنگ کے دوران جنرل یحییٰ خان کا جنرل رانی کے ساتھ راز ونیاز۔ کیا اس کے بعد ہم پر فرشتوں نے حکومت کرنا شروع کر دی تھی؟ایوب خان کی انیس سالہ کرسٹٰن کیلر سے لارڈ اسٹر کی جاگیرCliveden پر ہونے والی ایک پارٹی میں ملاقات ہوئی ۔وہ ایک پول پارٹی تھی اور مس کیلر کا لباس مرزاغالب کے مصرع…’’ہر چند کہیں کہ ہے ، نہیں ہے‘‘ سے بھی قدرے کم تھا۔

ایوب خان کو مغربی میڈیا نے زبردست کوریج دی۔ اس کے بعد پھر پاکستانی اخبارات نے بھی ڈرتے ڈرتے ممنوعہ میدان میں قدم رکھ لیا۔ کچھ معمر اور سنجیدہ صحافیوں کی طرف سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ جنرل صاحب اُس انیس سالہ لڑکی کے اتنے قریب کیوں تھے۔ مضمون کا زور ’’کیوں ‘‘ پر تھا۔ ایوب خان کی اور بات تھی، جنرل یحییٰ خان نے اپنے بارے میں ہونے والے انکشافات کا کبھی برا منایا اور نہ ان کی پروا کی… اُنھوں نے صرف اپنے ’’کام سے کام ‘‘ رکھا ،یہاں تک جنگ ہار گئے۔

دراصل نوے کی دھائی میں ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات بدلیں تو میڈیا نے بھی اپنا رخ ہونے والی مالی بدعنوانی کی طرف موڑ لیا۔ دفاعی اقدامات کے طور پر پاکستانی حکمرانوں نے مالی بدعنوانی کو سیاسی الزامات قرار دے کر نظرانداز کرنا شروع کردیا، یہاں تک کہ آج یہ جرم نہیں روایت بن چکا۔ پھر سوچ آتی ہے کہ اگر امریکی طلبہ اور میڈیا طاقت ور شخصیات کو آڑھے ہاتھوں لے سکتا ہے تو ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے کیوں بیٹھے ہیں۔ خیر آج تو یہ سوال بھی کھڑا ہوگیا ہے کہ پاکستانی میڈیا ہیرو ہے یا ولن؟ یہ بہت حوصلہ شکن صورتِ حال نہیں ، کیونکہ بھونچال اور سیلاب (اگرچہ تباہ کن ہوتے ہیں) کے بغیر زرخیز ززمین کی تہہ نہیں بنتی۔

بشکریہ روزنامہ "دنیا"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.