.

پاکستان کی خارجہ پالیسی کو درپیش چیلنج

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ افغانستان سے نکل رہا ہے تو روس، افغانستان اور بھارت تہرے معاہدے میں منسلک ہو کر افغانستان میں امن وامان کے قیام اور خانہ جنگی سے بچنے، طالبان کے خطرے سے نمٹنے اور پاکستان کی ممکنہ مداخلت کو روکنے کے لئے متفق ہو گئے ہیں۔ افغانستان کی ایک نئی شکل سامنے آ رہی ہے، اگرچہ پاکستان کے تمام سابقہ تصورات خواب ہوئے کہ افغانستان اس کی زمینی گہرائی ہے، اگرچہ زمینی گہرائی کے معاملے سے تو پاکستان بہت پہلے تائب ہو گیا تھا، اس کے بعد اُس کی خواہش تھی کہ کابل میں ایک دوست حکومت کا قیام عمل میں آ جائے اور بھارت کا رنگ وہاں نہ جمے تو یہ پاکستان کے لئے اچھا ہو گا۔ کہا جاتا ہے کہ اِس کا وعدہ بھی کیا گیا تھا تو ہی پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے لئے زمین ہموار کی تھی، اِس کے بعد وہاں بہت کچھ ہوا، یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ اور طالبان میں اِس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ وہ روس کو سابق سوویت ریاستوں میں زچ کرے، افغانی اپنا خون دے کر روس کیلئے مشکلات پیدا کریں اور ایک نئی کشمکش پیدا ہو، ایک نئی ریاست فرغانہ کو معرضِ وجود میں لانے کیلئے۔

دوسری طرف اس نے روس، بھارت اور افغانستان کے اتحاد کو قائم ہونے دیا تاکہ روس میں مداخلت کا جواز ملے مگر کیا طالبان اِس پوزیشن میں ہیں کہ موجودہ افغان حکومت اور اُس کی روسی اسلحہ سے آراستہ تربیت یافتہ فوج کا مقابلہ کرسکیں، بھارت روس سے اسلحہ خریدکر افغان افواج کے حوالے کررہا ہے، جو نہ صرف طالبان بلکہ پاکستان کیلئے بھی خطرے کا باعث ہے، یہی نہیں بلکہ پاکستان کو اندرونی طور پر مشکلات کا شکار رکھنے اور پاکستان کے اداروں کو الجھائے رکھنے کا میکنزم بھی تیار کر رہا ہے کہ اُس کے ادارے دور تک نظر نہ رکھ سکیں، وہ الجھے ہوئے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں اور بے بسی کا منظر پیش کررہے ہیں۔ پاکستان کے پاس کوئی ہمہ وقتی وزیر خارجہ نہیں ہے، سرتاج عزیز محترم شخصیت ہیں، اُن کے ساتھ مگر کئی الجھنیں ہیں جن میں سے ایک اُن کی عمر کا تقاضا ہے دوسرے وزارت خارجہ میں طارق فاطمی صاحب کو اُن کے ساتھ نتھی کر کے اختیارات کو محدود کردیا گیاہے۔ اصل میں وزارت خارجہ اور وزارت دفاع دونوں وزارتیں عملاً وزیراعظم کے پاس ہیں اور وزیراعظم کے پاس وقت نہیں اور نہ ہی اُن کو خارجہ امور کی باریکیوں سے آگاہی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو پاکستان مکمل طور پر گھیرا جا چکا ہے، سوائے چینی سرحد کے، ایرانی سرحد پر جو حالات چل رہے ہیں اور اگر ان پر جلد توجہ نہ دی گئی تو یہاں بھی مسلح افواج تعینات کرنا پڑیں گی۔ چین کے حوالے سے کھیل کی تبدیلی کا تصور اچھا ہے مگر جان لیوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک تاجر وزیراعظم اس کے چیلنجوں سے نمٹنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ نہیں بلکہ چین اور ہر جگہ سے کمیشن درکمیشن کے دھویں کی لپیٹ میں منظرنامہ دھندلا چکا ہے۔ اس کے علاوہ وزارت خارجہ کے افسران میں تحریک و تدبر کا فقدان ہے۔

امریکہ اور نیٹو کے 2014ء میں نکلنے کے ساتھ امریکہ نے وہ چال چلی ہے جس کے اثر سے دانتوں میں انگلی چبائی جا سکتی ہے۔ اس نے روس اور بھارت کو افغانستان کی سیکورٹی کی ذمہ داری دے کر افغانستان کی معیشت اور اِس کی حفاظت کا بندوبست کر دیا ہے۔ اس نے بھارت کے ذریعے روس سے ہلکے اور بھاری توپ خانہ اور دوسرا سامانِ حرب خرید کر افغانستان کے حوالے کرنے کا اہتمام کردیا ہے۔چین کو صرف تجارت تک محدود کر دیا اور پاکستانی بھائی کو آنکھیں دکھا دیں۔ ایک افغان دفاعی اہلکار نے کہا کہ یہ تہرا اتحاد دُنیا کے لئے کوئی تعجب کی بات نہیں ہونا چاہئے۔ اس لئے کہ ہمیں موجودہ حالات کو برقرار رکھنا اور افغانستان کو آگے لے جانا ہے۔ اس لئے یہ اسٹرٹیجک اتحاد معرضِ وجود میں لایا گیا ہے کہ آس پاس کے ممالک چھوٹے موٹے فتنے کھڑےکریں تو اُن کا موثر جواب دیا جا سکے۔ افغانستان نے پاکستان اور ایران جیسے ممالک سے نمٹنے کیلئے درجنوں ممالک سے اسٹرٹیجک شراکت داری کر ڈالی ہے، اِن میں بھارت بھی شامل ہے۔ بھارت کی شراکت داری کا اولین مقصد یہ ہے کہ وہ افغانستان نیشنل آرمی کی جارحانہ صلاحیت کو بڑھائے۔ جو طالبان سے نمٹے، روس اور بھارت دونوں طالبان کی موجودگی کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گئے ہیں۔ یہ نہ جانتے ہوئے کہ امریکہ اس طرح کیا کھیل کھیل رہا ہے۔

ممکن ہے کہ افغانستان کے طالبان بھارت میں اپنی خصوصی ہیئت کی بنا پر بھارت میں نیٹ ورک نہ رکھتے ہوں مگر سابق سوویت یونین ریاستوں میں ضرور رکھتے ہیں اور روس سابقہ سوویت یونین کو بحال کرنا چاہتا ہے۔ صرف یوکرائن ایک پھانس رہ گئی ہے، اس کو بھی وہ ہیرپھیر کے ساتھ نکال دے گا۔امریکہ نے سابق سوویت ریاستوں ازبکستان، کرغیزستان اور تاجکستان سے اپنے اڈے خالی کر دیئے ہیں اور روس کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیا ہے۔ پاکستان کو امریکہ گھیرے میں چھوڑ کر جارہا ہے کیونکہ خود طالبان بھی پاکستان پر حملہ آور ہیں جو نیا کھیل امریکہ نے کھیلا ہے اس سے کئی ممالک کو چھٹی کا دودھ یاد آگیا ہوگا اور خصوصاً پاکستان تو سب کا ہدف ہے بشمول طالبان کے، ناسمجھ طالبان نے اپنے ہی ملک کا حلیہ بگاڑ دیا ہے اب بھارت، افغانستان، روس پر مشتمل اتحاد امریکہ کا کچھ بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھا لے گا۔

بھارت نے افغانستان پر حملے کے وقت امریکہ کا ساتھ دیا تھا اور اب تک وہ دو بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ پاکستان اس سے ضرور مشکلات کا شکار ہونے جارہا ہے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گا مگر اس مرتبہ افغانستان اور روس بھی اُس کے ساتھ ہوگا۔ ایران کا وزن کس پلڑے میں گرے گا یہ دیکھنے کی بات ہے۔ سوال یہ ہےکہ پاکستان اتنے زیادہ چیلنجوں کا سامنا کرے گا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جہاں افغانی اور بھارتی افواج پُراعتماد ہیں وہاں پاکستانی مسلح افواج سوالات کی زد میں ہیں۔ حکومت اور اُن کے درمیان کشمکش ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے یہ صورت حال پیچیدہ سفارت کاری کی دعوت دیتی ہے اور موجودہ صورتِ حال سے کیسے نبردآزما ہوا جائے اس پر سوچ بچار کا موقع فراہم کرتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ چین کی پشت کے علاوہ پاکستان خطے میں اپنے اطراف میں دوستوں کو کہاں سے تلاش کرے جبکہ اس کیلئے سارے ممالک کانٹے بوتے رہے ہوں اور وہ خود غیرمتحرک خارجہ پالیسی کا داعی رہا ہو۔ بظاہر اگر پاکستان کی پالیسی کے جو خدوخال نظر آتے ہیں، اس سے تو مایوسی ہوتی ہے اور خارجہ پالیسی مکمل ناکامی کا شکار نظر آتی ہے۔ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا یہ کہنا کہ پاکستان کا دشمن اُن کا دشمن ہے، ایک سراب اور بہکاوا ہے۔ اِن تلوں میں تیل نہیں اور نہ ہی پاکستان کی قیادت اتنی زیرک ہے کہ جال میں جکڑے پاکستان کو آزاد کر سکے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.