.

جھگڑا کس بات کا؟

عارف نظامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان آج اسلام آباد کے ڈی چوک کو ''التحریر سکوائر'' بنانے کے لیے پرُ عزم ہیں۔ اور اب دھرنا دینے کے بجائے وہ جلسہ عام سے خطاب کریں گے اور گزشتہ برس 11 مئی کو عام انتخابات کے موقع پر مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کر یںگے۔ ''گریٹ خان'' کے مطابق وہ پنجاب کے چند حلقوں میں ووٹروں کے انگوٹھوں کی تصدیق اور دوبارہ گنتی چاہتے ہیں۔ان کے مطابق اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کے ایماء پر ریٹرننگ افسروں نے دبا کر دھاندلی کی جبکہ افتخار محمد چوہدری نے عمران خان کے الزام کا جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صوبہ پنجاب جہاں عمران خان اپنے سونامی کے باوجود انتخابات میں قیادت کا تاج سر پر نہ سجا سکے اور بقول ان کے نگراں وزیراعلیٰ نجم سیٹھی نے 35 پنکچر لگائے ،کیا خیبر پختونخواہ میں جہاں ان کی اپنی حکومت بنی وہاں ''ستے ای خیراں'' رہیں؟۔ یعنی میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھوتھو۔

دوسری طرف علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری ٹورنٹو میں بیٹھ کر نہ صرف حکومت کے خلاف بلکہ بقول اپنے اس غیر منصفانہ اور کرپٹ جمہوری سسٹم کے ہی خلاف اپنے ''انقلاب'' کا ازسرنوآغازکر رہے ہیں۔ کینیڈین شہری کی باسی کڑھی میں اس ابال کو میڈیا خوب ہوا دے رہا ہے۔ آج کا دن تو یوم جمہوریت کے طور پر منایا جانا چاہیے تھا کیونکہ گزشتہ برس اسی روز پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جملہ خرابیوں کے باوجود ایسے انتخابات پایہ تکمیل کو پہنچے جن کے نتیجے میں اقتدار پرامن طور پر اور بغیر کسی تیسرے فریق کی رخنہ اندازی کے دوسری جمہوری حکومت کو منتقل ہوا۔ لیکن اس بات کا کیا کیا جائے کہ وزیراعظم نواز شریف حکومت،غیر ملکی دوروں اور فوج سے اپنے خراب تعلقات کار کو بہتر بنانے میں اتنے مگن ہیں کہ ان کی پارٹی کی فعالیت اگر کچھ تھی تووہ بھی نظر نہیں آرہی۔

اس میں کیا امر مانع تھا کہ نوازشریف 11 مئی کو جمہوریت اور جمہوری اداروں کی فعالیت کا دم بھرتے اور اس ضمن میں پیپلز پارٹی سمیت ایسی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر جو جمہوری نظام مستحکم کرنا چاہتی ہیں یا الگ ہی سہی تقریبات منعقد کرتے لیکن ایسا لگتا ہے کہ میاں صاحب اور ان کے حواری اقتدار کے نشے میں اتنے سرشار ہیں کہ انھیں زمینی حقائق کا پوری طرح ادراک ہی نہیں۔ گزشتہ روزمیاں صاحب نے احتجاج کر نے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کو ئی بات نہیں کہ ''کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیواں گے''۔ وزیراعظم ہاؤس آئیں، چائے پیئں، کافی پیئں، بیٹھ کر بات کریں۔ لیکن تحریک انصاف نے میاں صاحب کی دعوت کو غیر سنجیدہ قرار دے کر قبول نہیں کیا۔

عمران خان کہتے ہیں وہ کسی بھی صورت جمہوری نظام کو پٹٹری سے اتارنے کے حق میں نہیں اور نہ ہی اس میں فریق بنیں گے تو پھر جلتی پر تیل چھڑکنے کے پیچھے کیا منطق ہیں ؟ ویسے دھاندلی کے بارے میں حکومت ان کی شکایات دور کیوں نہیں کرتی؟۔ اس حوالے سے نادرا کے چیئرمین طارق ملک کو برطرف کر کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کوئی نیک نامی نہیں کمائی تھی۔ الیکشن کے دوران نگران وزیراطلاعات کے طور پر بھی میں نے یہ محسوس کیا تھا کہ آزاد الیکشن کمیشن کا تجربہ اتنا کامیاب نہیں رہا۔ چیف الیکشن کمشنرکے طور پر جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم کی تقرری میں عمران خان کی مکمل اشیرباد شامل تھی۔ لیکن عملی طور پر وہ بطور چیف الیکشن کمشنر الیکشن کی تیاریوں کے دوران ہی عضو معطل بن چکے تھے۔ اور الیکشن کمیشن کے صوبائی ممبر زاپنے اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا تھے بالخصوص پنجاب کی طرف سے ممبر جسٹس (ر) ریاض کیانی کے بارے میں کافی شکوک وشبہات پائے جاتے تھے۔

اب وزیراعظم نوازشریف کو الیکشن کمیشن کی ہیئت ترکیبی پر ازسرنو اپوزیشن اور دوسری سیاسی جماعتوں سے مشاورت کر نی چاہیے۔ چیف الیکشن کمشنر ایسا نہیں ہونا چاہیے جو بڑھاپے میں اللہ اللہ کر نے یا صرف گالف کھیلنے کے ہی قابل رہ گیا ہو۔ اس ضمن میں بھارت کے الیکشن کمیشن کے سڑکچر سے بھی استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ بہرحال 11مئی 2013 کے انتخابات میں الیکشن کمیشن کی فعالیت سوالیہ نشان ہے۔

معروف تجزیہ نگار اور اینکر حامد میر پر حملے کے بعد جیو کے حوالے سے آئی ایس آئی کے حق میں تحریک کچھ عجیب سا رنگ اختیار کر گئی ہے اور بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی ہیں۔ ایسے عناصر جن کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا تھا کہ یہ آئی ایس آئی نواز ہیں کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید، علامہ طاہر اشرفی، سنی تحریک اور دیگرنام نہاد گروپ اور شخصیات جلو سیاں نکال رہے ہیں اور ادھر چوہدری شجاعت، شیخ رشید اور جماعت اسلامی کے جید رہنمابھی حسب توقع کھل کر فوج اور آئی ایس آئی کی وکالت کر رہے ہیں اور ایم کیو ایم سندھ میں پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود حسب روایت ایک طرف بیٹھی ہوئی ہے۔

جیو کا گناہ اپنی جگہ، آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ جنرل ظہیرالاسلام کی کردار کشی کا معاملہ اپنی جگہ لیکن فوج اور آئی ایس آئی کے حق میں اتنے تواتر سے کمپین چلانے کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے۔ ایسا شاید صرف 65ء اور 71ء کی جنگوں کے موقع پر ہو ا ہو گا۔ کارگل کے مس ایڈونچر پر بھی اتنی ہذیانی کیفیت پیدا نہیں کی گئی تھی تو کیا اب فوج اور حکومت کے درمیان پرا کسی جنگ شروع ہو چکی ہے؟ اس معاملے میں دونوں فریقوں کو تحمل اور بردباری سے کام لینا چاہیے۔

میاں نواز شریف تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے فوج سے اپنے معاملات درست کریں بالخصوص ایسے موقع پر جب ملک ایک بڑے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف بھرپور آپریشن نوشتہ دیوار بنتا جارہا ہے۔ نیز یہ کہ گورننس اور اقتصادی بحالی کے معاملات حکومت کی بھرپور توجہ کے متقاضی ہیں اور ملک کو اندرونی طور پر مستحکم ہو نا چاہیے۔ میاں نوازشریف اور جنرل راحیل شریف کے درمیان اگر اعتماد کا فقدان ہے تو اس خلیج کوختم کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ فوج جو قیام پاکستان سے اب تک سکیورٹی کے حوالے سے بعض معاملات میں ہمیشہ اپنے فیصلوں کو اٹل سمجھتی رہی ہے بیک جنبش قلم اس روش کو تبدیل کر دیگی۔ لہٰذا سول قیادت کی طرف سے بھی اگر فوج کو ''فتح'' کرنے کی کوئی کوشش ہو رہی ہے تو اسے بھی فی الفور ترک کر دینا چاہیے۔ اور نہ ہی فوج اس پوزیشن میں ہے یا اتنی اہلیت رکھتی ہے کہ عنان اقتدار پر بزور طاقت قبضہ کر لے اور کامیابی سے حکومت کر سکے۔ تو پھر جھگڑا کس بات کا ہے؟۔

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.