.

جہادیو، لڑکیوں کو واپس کرو!

عرفان حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آپ کو اُس اشتعال اور غم وغصے کا اندازہ لگانے کے لیے یورپ یا دنیا کے کسی اور حصے میں رہنے کی ضرورت نہیں جو مہذب دنیا باکو حرم کے بارے میں رکھتی ہے۔ نائیجریا سے تعلق رکھنے والا یہ انتہا پسند گروہ دقیانوسیت، سفاکیت اور درندگی میں پاکستانی اور افغان طالبان سے مشابہت رکھتا ہے۔ اگر آپ ٹوئیٹر یا دیگر سوشل میڈیا استعمال کریں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ لوگ نائیجریا کے ایک قصبے چی بک (Chibok) سے تین سو لڑکیوں کے اغوا پر کس طرح بپھرے ہوئے جذبات کا اظہار کررہے ہیں۔

آن لائن تبصروں کا سلسلہ جاری ہے اور زندہ ضمیر رکھنے والی دنیا انتہا پسندوں کی مذمت کررہی ہے، تاہم پاکستان میں ہم کنوئیں کے مینڈکوں کی طرح پانی سے باہر آنے اور پھر نہایت چابکدستی سے اس میں کودجانے کی مشق پر نازاں، ایسے واقعات پر بمشکل ہی اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ ڈان میں مہر علی کے چشم کشا کالم اور اسی اخبار کے اداریے، جس میں اسلامی دنیا پر زور دیا گیا کہ وہ مل کر اس گھناؤنے فعل کی مذمت کرے، کے علاوہ پاکستانی میڈیا بالعموم خاموش ہی رہا۔

جہاں تک ہمارے پرائیویٹ ٹی وی چینلز کا تعلق ہے تو اب اُنہیں ایک دوسرے کی ٹانگ کھنچنے، یا اس کارِ خیر سے پہلے، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے یا ہر دو کام بیک وقت سرانجام دینے سے ہی فرصت نہیں۔ اس ’’امورِ خانہ داری‘‘ سے اگر وقت نکل آئے تو وہ ائیرٹائم عمران خان، عدالتی معاملات اور انوع و اقسام کے ملاؤں کے بیانات کی نذر ہو جاتا ہے۔

تاہم اپنے داخلی معاملات کی دلدل میں جتنے بھی دھنسے ہوئے ہوں، ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ہم کسی خلامیں نہیں بلکہ انسانوں کی دنیا میں رہتے ہیں۔ اس میں ہونے والے تمام نہیں تو کچھ واقعات ہم پر اخلاقی ذمہ داری کا بوجھ ڈالتے ہیں۔ آج بھی پاکستان میں بہت سے لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر دنیا نے ملالہ یوسفزئی کو اتنی اہمیت کیوں دی۔ ایک ایسے ملک میں جہاں معصوم شہری ہر روز سفاکیت کا نشانہ بنتے ہوں، اس سوال کا جواز نکلتا ہے، لیکن ملالہ کو یہ شہرت اس لیے ملی (اور اس میں کوئی سازش نہیں) کہ اس نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز بلند کی۔ اسی طرح نائیجریا کی سکول کی تین سو طالبات، جن کو اغوا کیا گیا اور اب ان میں سے بہت کوجنسی غلام کے طور پر فروخت کردیا جائے گا، کے ساتھ پیش آنے والی درندگی نے دنیا کو لرزا کر رکھ دیا ۔

امریکہ اور برطانیہ نے اپنے غصے کو مثبت اور عملی شکل میں ڈھالتے ہوئے ان لڑکیوں کا کھوج لگانے اور انہیں رہائی دلانے کے لیے نائیجریا کی حکومت کی معاونت کرنے کے لیے امدادی ٹیمیں بھیجنے کی پیش کش کی۔ رپورٹ کے مطابق ان ممالک کے انٹیلی جنس آفیسرز اس افریقی ملک میں پہنچ بھی چکے ہیں۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر ممالک نے بھی مدد کی پیش کش کی ۔

نائجیریا اور پاکستان میں بہت سی مشترکہ قدریں موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے انتہا پسند جدید تعلیم سے نفرت کرتے ہیں۔ کیمرون کی سرحد تک نائیجریا کے شمال مشرقی علاقوں میں پھیلا ہوا گھنے جنگلات کی سلسلہ انتہا پسندوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرکے ان کے خلاف باقاعدہ فورسز کی کاروائی کو اسی طرح دشوار بنا دیتا ہے جس طرح ہمارے قبائلی علاقوں کے دشوار گزار جغرافیائی خدوخال طالبان اور دنیا بھر کے جہادیوں کے لیے جنت بنے ہوئے ہیں۔

اس موقع پر نائیجریا کے صدر گڈ لک جوناتھن کا رویہ بھی انتہا ئی پریشان کن اور اشتعال انگیز رہا کیونکہ اُن کی حکومت نے اغوا کے تین ہفتوں بعد اعلان کیا کہ جو بھی مغوی لڑکیوں کی موجودگی کی اطلاع دے گا، اُسے انعام دیا جائے گا۔ اُسی دن باکو حرم نے کیمرون کی سرحد کے نزدیک حملہ کیا اور تین سو افراد کو ہلاک کردیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نائیجریا میں اس گروہ کی کتنی دھشت ہوگی۔ حال ہی میں ملک کے دارلحکومت ابوجا (Abuja) میں ورلڈ اکنامک فورم کا اجلاس ہورہا ہے۔ نائیجریا کو افریقہ کی سب سے بڑی معاشی قوت ہونے کا درجہ بھی حاصل ہے، چنانچہ اس کے باشندے اپنی حکومت سے سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ ان کا تحفظ کرنے سے قاصر کیوں ہے؟ گزشتہ سال نائیجریا نے دفاعی بجٹ کی مدمیں چھے بلین ڈالر خرچ کیے۔ دراصل اس کی مسلم آبادی کی اکثریتی صوبوں میں ہونے والی بدعنوانی اور مجموعی طور پر ناقص حکومتی نظم و نسق کی وجہ سے باکو حرم کے سامنے عملی طور پر کوئی چیلنج نہیں۔

اب جبکہ مغربی ممالک کی سکیورٹی ٹیمیں نائیجریا کی حکومت کی معاونت کے لیے اپریشن کا آغاز کرنے والی ہیں تو مجھے یقین ہے کہ تمام اسلامی دنیا میں انتہا پسند مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ لبرل آوازیں بھی صدر اوباما کو ڈیوڈ کمیرون کی مذمت شروع کردیں گی کہ وہ ایک آزاد ملک کی خود مختاری کو پامال کررہے ہیں۔ کسی اسلامی ریاست نے سرکاری طور پر لڑکیوں کے اغوا کی مذمت نہیں کی کہ مبادا وہ اپنے مقامی انتہا پسندوں کو ناراض کر بیٹھیں، کیونکہ اکثر ریاستوں کے حکمران ان گروہوں سے جان کی امان پا کر ہی اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ ڈان کے حالیہ اداریے کے مطابق، ان ریاستوں کی خاموشی دراصل باکو حرم کے جرائم کی خاموش حمایت کے مترادف ہے کیونکہ باکو حرم تمام جرائم اسلام کے نام پر ہی کررہی ہے۔

اس دوران ہم یہ کہتے نہیں تھکتے کہ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے لیکن ہمارا رویہ غیر مسلموں کو اس سے اختلاف کرنے کا واضح جواز بھی فراہم کرتا ہے۔ ہم اس حقیقت کا سامنا کرنا پسندکریں یا شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپا رکھیں، حقیقت یہ ہے کہ اسلامی انتہا پسندوں نے دنیا بھر میں قتل وغارت کا بازار گرم کررکھا ہے۔ جب وہ ’’ اﷲ اکبر ‘‘ کا نعرہ لگا کر اپنے مخالفین کو گولیوں سے بھونتے ہیں یا ان کے سرقلم کرتے ہیں تو مغربی دنیا کو اس کی تشریح سے نہیں روکا جاسکتا۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ان میں زیادہ تر گروہوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، وہ اپنے مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کے لیے مذہب کا نام استعمال کرتے ہیں۔ یہ ان کی عسکری حکمتِ عملی ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ملک کا ایک بڑا طبقہ انہیں اسلام کے مجاہد سمجھتا ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب ہمارے گلی بازار ڈرون حملوں کی مذمت کے نعروں سے گھونج رہے تھے۔

درحقیقت اس منافقت نے اسلام کے نام کو داغدار کردیا ہے۔ افسوس، جس دوران امت مجموعی خاموش، بلکہ خوفزدہ تماشائی بنی ہوئی ہے، مغربی حلقے اس بات پر قائل ہوتے جارہے ہیں کہ اصل خرابی چند ایک مسلمان گروہوں (انتہا پسندوں) میں نہیں بلکہ مذہب میں ہے۔ افسوس، ہمارے رویے نے اُنہیں اس بات کا جواز فراہم کیا۔ جب بھی کوئی گروہ اسلام کا نام لے کر ظلم و ستم کا بازار گرم کرتا ہے، ہم اس کے افعال کا جواز گھڑنے میں لگ جاتے ہیں۔ باکو حرم کے درندہ صفت جنگجووں کی طرف سے لڑکیوں کے اغوا کا جہادی کیا جواز فراہم کریں گے؟ کیا اس فعل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت نہیں کی جانی چاہیے؟ یا پھر ان لڑکیوں کا اغوا اور آبروریزی بھی کسی ڈرون حملوں کا ہی ردِ عمل ہے ؟

بشکریہ روزنامہ ' دنیا '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.