.

غداری کے الزام میں اخبار کی بندش

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب ملک پر قائد اعظم کی مسلم لیگ حکمران تھی۔ اپریل 49 میں وزیر اعظم لیاقت علی خان دولت مشترکہ کے اجلاس میں شریک ہوئے۔

لاہور کے ایک انتہائی پرانے انگریزی اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ نے اپنے نمائندہ مقیم دہلی کے حوالے سے خبر دی کہ پاک بھارت وزرائے اعظم نے کشمیر کی تقسیم کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس خبر کی اشاعت کو ملکی میڈیا نے بیک آواز غداری قرار دیا۔ سبھی نے ایک ہی مطالبہ کیا کہ سول اینڈ ملٹری گزٹ کی اشاعت پر پابندی لگائی جائے۔اس اخبار نے سنگین الزام اور ایکشن سے بچنے کے لئے اگلے ہی روز خبر کی اشاعت پر معافی بھی مانگی اور اپنے دہلی کے نمائندے کو برطرف کر دیا، اس کے باوجود حکومتی اقدام عمل میں لایا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ غداری کے سنگین جرم کی کوئی معافی نہیں۔

اب سول اینڈ ملٹری گزٹ کی بندش کے بارے میں کچھ تاریخی جھلکیاں ملاحظہ فرمایئے۔

14 مئی 1949 کی ایک شائع شدہ خبر کے مطابق حکومت پاکستان کی وزارت داخلہ نے روز نامہ سول اینڈ ملٹری گزٹ کی اشاعت بند کر دینے کے سلسلے میں ایک طویل بیان دیا جس میں بتایا گیا کہ کن وجوہ کی بنا پراس اخبار کی اشاعت تین ماہ کے لئے روک دی گئی ہے۔ تقسیم کشمیر کے سلسلے میں نئی دہلی کے اشارے سے جو خبر شائع ہوئی، اس پر عوام میں سخت غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ مغربی پنجاب اور کراچی کی پریس مشاورتی کمیٹیوںنے سفارش کی کہ اخبار کی اشاعت فی الفور روک دی جائے۔ کہا گیا ہے کہ اس اخبار میں مدت سے اس قسم کی تحریریں شائع کی جا رہی تھیں جس سے مملکت کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتارہا۔ خصوصا ایسے مضامین کا سلسلہ شروع کیا گیا جو مفکر کے قلمی نام سے شائع کئے جاتے تھے۔ اخبار کی پالیسی سے صاف ظاہر ہے کہ یہ اخبار تخریبی کاروائیاں کرتا تھاجس سے نفرت کے جذبات پیدا ہوتے تھے۔

اب ملاحظہ فرمایئے وہ اداریہ جو ملک کے بارہ اخبارات میں بیک وقت اور ایک عنوان غداری کے ساتھ شائع ہوا۔

سول اینڈ ملٹری گزٹ نے 5 مئی کے پرچے میںصفحہ اول پر اپنے نامہ نگار مقیم دلی کی طرف سے خطر ناک حد تک غلط بیانیاں کی ہیں۔ اس کے دو نمونے یہ ہیں: غیر مصدقہ خبروں میں کہا گیا ہے کہ رائے شماری کا مسئلہ اب ختم ہو چکا ہے اور موجودہ تقسیم کی بنیاد پر سمجھوتے کی کوشش کی جائے گی۔

دوسری غلطی: دونوں ملکوں کی حکومتیں فوجی ماہرین کی مدد سے اپنے موجودہ مقبوضات کی حد بندی کا کام شروع کرے گی۔

سول اینڈ ملٹری گزٹ نے ایک ایسے نامہ نگار کی بھیجی ہوئی خبر شائع کی ہے جو جو خود انگلستان سے آمدہ پرائیویٹ معلومات پر انحصار کرتا ہے اور تسلیم کرتا ہے کہ یہ سب کچھ غیر مصدقہ ہے۔

ہم ایڈیٹر سول اینڈ ملٹری گزٹ کی طرح اخبار نویس ہونے کا دعوی کرتے ہوئے بلا تامل یہ اعلان کرتے ہیں کہ اخبار نے ایک ایسی خبر کی اشاعت سے اخبار نویسی کی بنیادی اخلاقیات کی خلاف ورزی کی ہے جس کی تصدیق کے فقدان کو وہ خود تسلیم کرتا ہے۔

پیشہ ورانہ غلط روی سے قطع نظر ہماری رائے میں اس اخبار نے ریاست کے خلاف غداری کا ارتکاب کیا ہے۔

ہم جان بوجھ کر غداری کا لفظ استعمال کر رہے ہیں کیونکہ پاکستان کے ذمہ دار وزرا کئی بار حتمی طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ کسی صورت میں ریاست جمو ں و کشمیر کی تقسیم کے سوال پر غور نہیں کریں گے۔

مسٹر مشتاق احمد گورمانی جو کشمیر کے امورسے براہ راست تعلق رکھتے ہیں،ابھی کل ہی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں تقسیم کی تجویزپیش کرنا غداری کے برابر ہے۔ ان حقائق کا پورا علم ہونے کے باوجود اخبا ر نے نہ صرف تقسیم کی تجویز پیش کی بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ کہ موجودہ مقبوضات کی بنیاد پروزیر اعظم بٹوارے پر متفق ہو گئے ہیں۔ یہ خبر نہیں ہے۔ یہ بیرونی اشارے پر دیدہ دانستہ اور سوچ سمجھ کر ففتھ کالمسٹ پراپیگنڈہ ہے۔ہمیں یقین ہے کہ اس قت اس قسم کی خبر اس لئے شائع کی گئی ہے کہ پاکستان کے لوگوں میں خطرے اور مایوسی کااحساس پیدا کیا جائے۔ ایک ہندوستانی کی ملکیت میں اس اخبار نے اس آزادی اظہار کا غلط استعمال کیا ہے جو اسے حاصل ہے۔ ہم پوری ذمہ داری کے ساتھ اس پرزور دیتے ہیں کہ ہماری ریاست اور ہمارے عوام کے خلاف اس تجویز کو نظر انداز کرنا ٹھیک نہیں۔ اور ہم مطالبہ کرتے ہیںکہ گورنر پاک پنجاب، سول اینڈ ملٹری گزٹ کے خلاف فوری تعزیری کاروائی کریں اور ایک مناسب میعاد کے لئے اس کی اشاعت معطل کریں۔ اگر گورنر ایسا نہ کر سکیں توہم مرکز سے مداخلت کی اپیل کرتے ہیں۔انہیں اس کا اختیار حاصل ہے۔

یہ ایڈیٹوریل نوائے وقت، ڈان ،پاکستان ٹائمز، امروز، زمیندار، غالب، نظام جدید، سندھ آبزرور، الوحید، انجام، سفینہ میں بیک وقت شائع ہو رہا ہے۔

اب دیکھئے کہ خبر کیا تھی۔

لندن سے جو پرائیویٹ خبریں آ رہی ہیںان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان و ہندوستان کے درمیان کوئی سمجھوتہ ہو گیا ہے جب مسڑ لیاقت علی خان اور پنڈت جواہر لال نہرو کراچی و دہلی پہنچیں گے تواپنی اپنی حکومتوں سے بحث و گفتگو کے بعد اس سمجھوتے کوعمل میںلانے کی تدبیریں اختیار کریں گے۔ بیان کردہ سمجھوتے کے متعلق غیر مصدقہ خبروں کا خلاصہ یہ ہے۔

رائے عامہ دریافت کرنے کا سلسہ ترک کر کے موجودہ تقسیم کی بنا پر فیصلے کی صورت پیدا کی گئی ہے۔

امیر البحر ٹمز جو استصواب کے ناظم مقرر ہوئے تھے، اب اس کام کے لئے ہندوستان و پاکستان نہیں آئیں گے، ہندوستانی سفارت خانے کی معرفت انہیں یہ پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔

مسٹر لیاقت علی خان اور پنڈت نہرو واپس آ جائیں گے تو انجمن اقوام کے کشمیر کمیشن کے ممبروں سے کہہ دیا جائے گا کہ ہندوستان و پاکستان کی حکومتیں انکی تجاویز مصالحت کو نہیں مان سکتیں۔

یہ ممبر اپنے ہیڈ کوارٹر میں جا کر ایک بیان شائع کریں گے کہ گفت و شنید کو جاری رکھنے کا کا کوئی مفید نتیجہ بر آمد نہیں ہو سکتا۔

اس کے بعد ہندوستان و پاکستان کی حکومتیں فوجی ماہروں کی امداد سے اپنے اپنے مقبوضات کی حد بندی کرائیں گی۔

قوی امکان ہے کہ کشمیر کا مسئلہ سردیوں سے پہلے ختم ہو جائے گا۔

اس قضیہ کے تصفیہ کے بعد دونوں حکومتوں کے تعلقات بہت دوستانہ اور خوشگوار ہو جائیں گے اور پناہ گیر آزادانہ ایک حکومت سے دوسری حکومت میں آ جا سکیں گے۔

اور اب آخر میں ملاحظہ فرمایئے مشہور انقلابی اور آزادی تحریرو تقریر کے چیمپئن ایڈیٹر پاکستان ٹائمز جناب فیض احمد فیض کا رویہ۔

مغربی پنجاب پریس مشاورتی کمیٹی کی قرارداد پر سول اینڈ ملٹری گزٹ کی اشاعت بند کی گئی، اس کمیٹی کا ایک اجلاس 12 مئی کو ہوا۔اس کی صدارت فیض احمد فیض کررہے تھے۔ بسٹن نے کہا کہ جب میرا اخبار اس مسئلے پر معافی مانگ چکا ہے تو پھر مزید سزا کیوں۔ اجلاس کے صدرفیض احمد فیض نے ان دلائل کو رد کر دیا جس پر بسٹن اجلاس سے واک آئوٹ کر گئے۔

میں نے ساری کہانی اس کے سیاق و سباق میں جان بوجھ کر نہیں لکھی، جہاں جو مناسب تھا، اس کا ٹانکا لگا دیا۔

بشکریہ روزنامہ ' نوائے وقت '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.