.

200 ارب ڈالر کی واپسی، نیا قومی ہدف

ڈاکٹر مجاہد منصوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کون محب وطن اور کون غدار؟ پاکستان میں بغدادی طرز کی یہ بحث آج کل زوروں پر ہے۔ سابق صدر اور پاک آرمی کے سابق سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف اور کچھ ممتاز صحافی غداری کے مقدمات و الزامات کی زد میں ہیں۔ کوئی ساڑھے آٹھ سو سال قبل جب بغداد دنیا کے مہذب ترین شہروں میں شامل ہوتا تھا اور جہاں ہاتھ سے تحریر کردہ کتابوں کا دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ تھا اور مدرسہ مستعریہ (جو اصل میں وقت کی بہترین یونیورسٹی تھی) میں دور دور سے علم کے متلاشی فیض یاب ہونے آتے تھے۔ ان کے قیام کے لئے شاندار قامت گاہ تھیں جس طرح آج کل بڑی یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی اسکالرز کو تمام سہولتوں کے ساتھ یہ سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

اسی عباسی دور میں فنون لطیفہ بھی اپنے عروج پر تھے لیکن علم و تہذیب کے گہوارے بغداد میں ابلاغی سرگرمیوں کارخ چوٹی کی عالمانہ بحثوں سے عوامی سطح کی کج بحثی تک پھیل گیا۔ اوپر کی بحثیں خدائی طاقت کے نوری یا ناری ہونے جیسے موضوعات پر ہونے لگیں تو گلی محلوں میں بحثوں کا معیار اتنا محدود تھا کہ کوّاحلال ہے یا حرام۔ مقامی سطح کے بغدادی رائے ساز سمجھے جانے والے (ملّا) آمنے سامنے گھروں کی بالکونیوں میں بیٹھ جاتے اور عشا کے بعد مناظرے ہونے لگتے کہ کوّا حرام ہے یا حلال اور اتنے ہی محدود دوسرے موضوعات۔ نیچے گلی میں بیٹھے محلے دار دو حصوں میں تقسیم ہو کر واہ واہ اور اوئے اوئے میں مست ہوتے یوں صبح ہو جاتی تو اذان ہی اس محفل کو توڑ دیتی۔

ذرا سوچئے! جس ملک کے فوجی سربراہ اور مقبول صحافیوں پر ہی غداری کے مکمل سنجیدگی سے الزامات لگ جائیں اور انہیں غدار قرار دلانے کے لئے ملکی اعلیٰ عدالتوں سے سرگرمی سے رجوع کیا جارہا ہو، سوشل میڈیا بغدادی محلہ بن جائے وہاں پھر محب وطن کون ہوگا؟ وہ عوام جنہوں نے فوجی سربراہ کے ملکی سربراہ بننے پر بھنگڑے ڈالے اور دیگیں پکائی تھیں؟ یا وہ صحافی جو انہی عوام میں مقبول ہیں جنہوں نےاکتوبر 1999 میں آئینی و غیر آئینی کی پروا کئے بغیر پارلیمینٹ میں دوتہائی اکثریت کی حامل منتخب نواز حکومت کا تختہ ہونے پر بحیثیت مجموعی اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ ان ’’غدار عوام‘‘ میں صرف گلی محلے کے ووٹرز ہی نہیں تھے اللہ بخشے محترمہ بینظیر بھی تھیں تو بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان بھی، خودغیرآئینی طور پر معزول کئے گئے وزیراعظم نواز شریف کے وزرا اور کئی قریبی ساتھی بھی اسی بہتر آمریت کی آمدیا بدتر جمہوریت کی رخصتی پر خوش ہوئے اور اپنے قائد اور ان کے دکھوں بھرے قافلے کے رخصت ہوتے ہی، جناب نواز شریف کے دورِ اقتدار کے یہ وفادار ساتھی، نئے مسیحا کے ہم رکاب تھے۔

آج جبکہ بھارت نے افغانستان میں کسی سفارتی جواز کے بغیر آٹھ قونصل خانے پاک افغان سرحد کے ساتھ ساتھ شہروں اور مزار شریف تک کھولے ہوئے ہیں۔ صدارت کا تگڑا ہندو انتہا پسند اور مسلمانوں کا قاتل امیدوار نریندر مودی انتخاب جیت کر اپنے ’’ملزم‘‘ پاکستان سے پکڑ کر واپس بھارت لانے کے لئے سرجیکل لسٹرائیک کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ بلوچستان میں بھارت کی دہشت گردی کے ثبوت بھارتی وزیراعظم کو پاکستانی وزیراعظم ڈھائی سال قبل مہیا کرچکا ہے۔ طالبان سے مذاکرات کی کامیابی سے زیادہ ان کے خلاف آپریشن کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔ پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں پر دہشت گردوں کے حملے بدستور جاری ہیں۔

برسوں سے جلتا کراچی خود بھی خون میں لت پت ہے اور ملک کے دوسرے علاقوں کے لئے اور دہشت کے مراکز کراچی کے لئے مسلسل فلیش پوائنٹ بنے ہوئے ہیں۔ گویا ’’ہلاکو خان‘‘ آ نہیں رہا، ادھرسے ادھر سے آیا ہوا ہے۔ دھڑلے سے اور تیزی سے نہیں خاموشی سے آیا ہے۔ جتنا نادیدہ ہے اس کے پاس دہشت گردوں کے لشکر اتنے ہی خطرناک ہیں۔ سوات پر ایسے ہی حملہ آور ہوا کہ پاکستان کی یہ جنت بےنظیر ہاتھوں سے نکلتے نکلتے بچی۔ پاکستان آرمی بروقت اور بھرپور کارروائی نہ کرتی تو سوات ہمارے ہاتھ سے نکل نہ گیا تھا؟ اور پھر کوہستان، گلگت اور کوئٹہ میں پے در پے ہوتا رہا اور امریکہ کی کابل سے رخصتی کے بعد جو خطرات جنوب (ہماری) طرف منڈلا رہے ہیں یہ کافی نہیں کہ ہم غداری غداری کا کھیل بند کردیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں کوئی غدار نہیں ہاں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حمام میں سب ......ہیں۔

ہماری تو کج بحثی بھی بہت حساس ہے۔ ملٹری اور میڈیا کی ، حکومت اور میڈیا کی اور میڈیا کی میڈیا سے۔ کوئی ہوش ہے کہ ہم سب کہاں جارہے ہیں؟ چند روز یا ہفتوں کے لئے دہشت گردی کے واقعات کم ہوتے ہیں تو ہم خود اندرونی خلفشار کی کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتے ہیں جس کی زد میں کبھی عدلیہ اور پارلیمینٹ آ جاتی ہے تو کبھی صدر مملکت کاآئینی عہدہ بھی متنازع بن جاتا ہے اور میڈیا کو بھی خطرات لاحق ہونے لگتے ہیں اور تو اور اپنے حساس ترین اداروں کو پریشان کردیتے ہیں۔ ہم یہ نہیں سمجھ پا رہے کہ ’’ہلاکو خان‘‘ کے نادیدہ دہشت گرد ہمارے اندر بھی موجود ہیں اور سرحدوں کے چاروں طرف بھی۔ لیکن ہم نے حب الوطنی پر اجارہ داری اور غداری کے الزام کو آسان تر بنا دیا ہے۔ یہ شکوک، لاحاصل بحثیں اور بے مقصد عدالتی کارروائیاں ہماری توانائی بری طرح برباد کر رہی ہیں۔ قوم کو جب سب سے زیادہ اتحاد و تنظیم اور ایمان کی ضرورت ہے اسی وقت ہم قائدؒ کے اس فرمان سے اتنا دور ہو رہے ہیں۔

خدارا خطرناک کج بحثی کو ختم کیا جائے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور آئین کے سربراہ جناب صدر ممنون حسین ہی آگے بڑھیں۔ وہ وزیراعظم نوازشریف، چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف اور سیاسی گروہ بندی سے آزاد دوچار بااعتماد محترم بزرگ صحافیوں کو کھانے وانے پر بلائیں۔ انہیں دو چار دن ایوان صدر میں ٹھہرانا پڑے تو اس کا اہتمام کریں اور قوم کو خوشخبری سنائیں کہ ’’ہم سب محب وطن ہیں‘‘ پاکستان کے لئے ہر دم قربانی دینے کےلئے تیار اور آزادی ٔ صحافت کے حقیقی علمبردار کہ تحریک ِ پاکستان کی نتیجہ خیز کامیابی میں ایک بڑے فیصد کے ساتھ ’’پین پاور‘‘ نے کام دکھایا تو حساس اداروں کے عظیم قومی فریضے کی کمال ادائیگی کے بغیر پاکستان ایٹمی طاقت نہیں بن سکتا تھا۔ رائے عامہ بالکل واضح فیصلہ دے چکی ہے کہ وہ دونوں کو پاکستان کا قومی اثاثہ سمجھتی ہے۔

ہاں! ایک بہت بڑا نیا قومی ہدف سامنے آیا ہے۔ ہم محب وطن ہیں تو اس کے حصول کو یقینی بنا کر پاکستان کے اتحاد و استحکام کو یقینی اور خطے کا سب سے خوشحال ملک بھی بنائیں۔ جس کے حالات یوں پیدا ہوگئے کہ: گزشتہ روز حکومت نے قومی اسمبلی میں اعلان کیا ہے کہ ’’پاکستانی شہریوں کے 200 ارب ڈالر سوئس بنکوں میں ہیں، چوری کا پیسہ واپس لائیں گے۔ پاکستانی بیوروکریٹس اور سرمایہ داروں نے غیرقانونی طریقوں سے اربوں ڈالر سوئس بنکوں میں جمع کر رکھے ہیں‘‘ وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ و اقتصادی امور رانا محمدافضل خان نے کہا ’’سوئس حکام سے ملاقات کے لئے پاکستانی وفد 26 اگست کو سوئٹزرلینڈ جائے گا۔ ہمیں اکائونٹس ہولڈرز کے نام اور اکائونٹس کی تفصیلات مل جائیں گی۔ اس کے لئے دوطرفہ معاہدہ پر نظرثانی کی جائے گی۔ سوئس قوانین غیر قانونی اثاثوں اور رقوم سے متعلق سوئس بینکنگ انڈسٹری کو متعلقہ ممالک سے خفیہ معلومات کے تبادلے کی اجازت دیتا ہے۔‘‘

یہ سرمایہ دار اور بیوروکریٹ پاکستان کے اصل غدار ہیں جن کے 200 بلین ڈالر بلا ٹیکس و جواز ملک سے باہر ٹھکانے لگانے سے پاکستان غربت کی کھائیوں میں گر گیا اور ہم آج ساری دنیا میں کشکول اٹھائے پھررہے ہیں۔ ورلڈ بنک نے ہمیں غریبوں کے آٹا الائونس کے لئے کوئی 350 ارب دیئے اور سانس نکلتے نکلتے ہمیں سعودی عرب نے ایک بلین ڈالر کا تحفہ دیا تو حکمران بغلیں بجانے لگے کہ ’’سانس چل رہا ہے‘‘ ہمارے 72 لاکھ بچے سکول سے محروم اور 12 لاکھ بے گھر ہو کر سٹریٹ چلڈرن بن گئے۔

اجتماعی خودکشیاں اور ماں باپ کے ہاتھوں فاقہ زدہ بچوں کا قتل اور ان کی فروخت کا گراف بڑھتا جارہا ہے۔ 40 فیصد ملکی آبادی کو پینے کا صاف پانی نصیب نہیں اور غدار مزے میں۔ اب جبکہ حکومت نے پوری ذمہ داری سے ملک کے سب سے بڑے اور منتخب ایوان میں قوم کو حقائق بتا دیئے ہیں تو قوم کو بھی چاہئے کہ وہ ساری بحثیں، جھگڑے اور مطالبے چھوڑ کر پاکستان کے 200 ارب ڈالر واپس لانے کو ہی واحد اور فوری قومی ہدف بنائے۔ اس کے لئے ایک ڈی چوک تو کیا ہر شہر میں التحریر چوک بنانا پڑے تو بلا تاخیر بنا دیاجائے۔ ’’غداروں‘‘ کو انتباہ کر دیا جائے کہ وہ ازخود قوم کا لوٹا ہوا یہ سرمایہ واپس لے آئیں۔ نہیں لاتے یا اب حکومت کوئی حیلا بہانہ یا نااہلی کا ارتکاب کرتی ہے تو قوم اپنے 200 ارب ڈالر واپس لانے کے لئے نکل کھڑی ہو۔ روپے میں سے چونی بھی آگئی سب دکھڑے ختم، پاکستان، پاکستان کی راہ پر چل نکلے گا۔ ساری قوم کی ایک ہی صدا، ایک ہی ہدف 200 ارب ڈالر واپس لائو۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.