.

الیکشن کمشن اور اٹھارہویں ترمیم

نجم الحسن عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں عمران خان چاہی جانے والی شخصیت ہیں۔ ان سے لوگوں کی اس چاہت کا تعلق دیرینہ ہے۔ کسی پہلو سے یہ چاہت اور محبت انمٹ بھی ہے اور انمول بھی۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ فرشتہ ہیں اور ان کی ہر بات سے اتفاق لازم ہے اور ان کے ساتھ عوامی چاہت و محبت کا ہر پہلو امر ہے۔ ایک پلے بوائے طرز کی کھلنڈری زندگی سے موڈی نوجوان تک، اور پھر جوانی کے نشیب سے کھیل اور سیاست کے فراز تک ان کی زندگی کے بہت سے رنگ ہیں اور ان کے بارے میں عوام کی سوچ اور اپروچ کے بھی کئی رنگ ہیں۔ لیکن جہاں دوسروں کو ہر طرح سے پوتر دیکھنے کے خواہشمند بے شمار ہیں وہیں ایسے حقیقت پسندوں کی بھی کمی جو سومجھتے ہیں کہ نہیں زندگی میں اچھے اور برے موڑ ہر ایک ہاں آتے ہیں اسے لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ حتمی فیصلہ کسی شخص کی مجموعی خدمات کے حوالے سے ہوتا ہے۔ اس لیے عمران خان ہماری عمومی زندگی کا ہی ایک کردار ہے۔ اس کی سوچ ، عمل اور ترجیحات میں بہتری قابل ستائش ہونی چاہیے۔ اگرچہ ان کی سیاسی زندگی کے تازہ ابال پر نقد ونظر کی گنجائش ہے۔

لیکن اگر اس ملک میں جمہوریت لازم ہے اور ملکی استحکام و ترقی جمہوریت سے وابستہ کر دی گئی ہے تو اس کی تمام تر قباحتوں کا ادراک اور ان کی اصلاح کیلیے کردار ادا کرنا ضروری ہے۔ ممکن یہ اصلاح کی کوششیں جمہوری حکومت کے نام پر شخصی حکومت کے خواہشمندوں، اور جمہوریت کے نام پر اپنی جماعت کی ملوکیت قائم کرنے والوں کیلیے قابل قبول نہ ہو ۔ لیکن یہ کوششیں کرنا لازم ہے۔ تاکہ نئی نسل کو پاکستان میں بہترماحول دینے کی ذمہ داری سے اپنی اپنی حد تک سبکدوش ہوا جا سکے۔ لہذا عمران خان کی ایک بات ماننا پڑے گی کہ الیکشن کمیشن آزاد ہو۔ اس مقصد کیلیے الیکشن کمیشن کو اپنی خواہشات کے چنگل سے آزاد کرنا ہوگا۔

موجودہ الیکشن کمیشن کیلیے ذاتی اور جماعتی خواہشات کا نیا اور خوفناک چنگل اٹھارہویں ترمیم کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ بلا شبہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے کچھ گوشوں میں بہتری لانے کی خواہش بھی آگے بڑھی ہے۔ لیکن اس پر دو جائز اعتراضات کی گنجائش ضرور موجود ہے۔ اولا یہ کہ اس اٹھارہویں ترمیم میں بنیادی طور پرسیاسی جماعتوں کی قیادتوں نے اپنی جماعتوں کے اندر آمریتوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ثانیا یہ کہ جن جن معاملات پر حکومت اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت لازم قرار دی گئی ہے ان اداروں کیلیے با معنی مشاورت سے زیادہ باہمی مفاہمت، باہمی مفادات اور بقائے باہمی کے عوامل غالب نظر آتے ہیں۔ ان میں نیب اور الیکشن کمیشن کے سربراہوں کی تقرری اور عملی نتائج کو اعتراض کناں با آسانی دلیل کے طور پر استعمال کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ تاہم ان سطور میں صرف الیکشن کمیشن کا احوال زیر بحث لانے کی کوشش کی جائیگی۔

ملک کے قانون سازوں کا اٹھارہویں ترمیم کرنے کا استحقاق سر آنکھوں پر۔ کہ جمہوری دنیا میں اس نوعیت کی ترامیم کی ہمہ وقت ضرورت رہتی ہے ۔ ایسی ترامیم کیلیے اساسی اور اتمامی طور پر ترجیح اداراتی نظم و نسق کی بہتری، اداراتی فعالیت ، عوامی جذبات کی ترجمانی کی عملی شکل سامنے لانا نیز ملک کو جمہوری حوالے سے اس طرح مستحکم کرنے کی کوشش کرنا ہوتا ہےتا کہ سیاسی شعور اور ملکی جمہور دونوں مضبوط ہوں۔ اداروں کے معاملات میں شفافیت آئے، دفتری چکر بازیوں کا قلع قمع ہواور قانونی موشگافیوں کو کوئی طالع آزما [ سیاسی ہو یا غیر سیاسی] اپنے مفادات کیلیے استعمال نہ کر سکے۔ اداروں کے ذمہ داروں کی تقرریاں سچے میرٹ پر ہوں تاکہ ان سرکاری عمال کی کارکردگی صرف آئین اور قومی مفاد کے تابع ہو۔ اداروں کے ذمہ داروں کا ویژن واضح ہو، حرص، خوف ان کی پہچان نہ ہو اور دباو ان کے فرائض منصبی میں آڑے نہ آئے۔ حاصل یہ کہ انہیں ان کے کام سے پہچانا اور جانا جائے کسی اور نسبت سے نہیں۔ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کم از کم اٹھارہویں ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کی تشکیل ایسا تاثرابھارنے میں ناکام رہی ہے۔

صرف معترضین کے ہاں نہیں خود الیکشن کمیشن کے اندر بھی یہ ایک کھلا راز ہے کہ چاروں صوبوں سے تعلق رکھے والے قابل احترام ممبران ایک ایک پارٹی کے رسمی خوشہ چین نہیں تو کم از کم عملی طور پر مفادات کے محافظ ضرور سمجھ لیے گئے ہیں۔ محترم ریاض کیانی پر مسلم لیگ نواز کی طرف داری کا الزام لگایا جاتا ہے۔ جناب روشن عیسانی پر پیپلز پارٹی کی طرف جھکاو کا الزام ہے، قابل احترام شہزاد اکبر کو اے این پی کے مفادات کی نگہداشت کے الزام کا سامنا رہتا ہے اور قبلہ فضل الرحمان جے یو آئی [ف ]کے حامی گردانے جاتے ہیں۔ ان سب پر اگلا اعتراض یہ ہے کہ سابق جج ہونے کے باوجود ججی کا روائتی رکھ رکھاو بھی متاثر ہے، بڑے ناموں والے وکلاء حضرات سے مرعوبیت کے مسائل اس کے علاوہ ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ ذاتی میلانات، اجتماعی التفات اور گروہی مفادات کی بھول بھلیوں میں آئین کے آرٹیکل 219 اور آرٹیکل 220 میں دیے گئے الیکشن کمیشن کے اختیارات کھو جاتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ اعلی عدالتوں سے فیصلوں کی صورت میں موجود آئینی تشریح و تعبیر بھی الیکشن کمیشن کے معزز ارکان کا ہتھیار نہیں بن پائے۔ جہاں بولنا ہوتا ہے وہاں خاموش ہوجانا مجبوری بن جاتی ہے۔ شیخ رشیداحمد بنام وفاق 2010 کے مقدمے کا فیصلہ اور الیکشن کمیشن آرڈر 2002 کا سیکشن چھ عملی طور پر متشکل نہ ہو سکنے کی وجہ بھی اسی اٹھا رہویں ترمیم کا چنگل ہے۔

اٹھارہوں ترمیم ہی کی وجہ سے الیکشن کمیشن کا سربراہ عملا بے اختیار اور ممبران کی اکثریت کے سامنے لاچار بن کر رہ گیا ہے۔ الیکشن کمیشن جو کہ اپنے معاملات میں سپریم کورٹ ہی کی طرح با اختیار اور آزاد ادارہ ہے ۔اپنی حیثیت کو منوالے میں ناکام ہے ۔ پچھلے برس صدارتی انتخاب کے انعقاد کی تاریخ مسلم لیگ نواز کے رہنما راجہ ظفرالحق کی درخواست پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی رائے لیے بغیر تبدیل کر دی تو فخرالدین جی ابراہیم کو اپنے کام میں مداخلت محسوس ہوئی۔ انہوں نے ایک نوٹ تحریر کیا اور ممبران کے ساتھ مشورہ کیا کہ سپریم کورٹ کو اپنا موقف باور کرایا جاسکے۔ لیکن صبح سے شام تک کی غیر رسمی مشاورت کے بعد بھی ممبران نے چیف الیکشن کمیشنر کو اس کی اجازت نہ دی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے مئی 2013 کے عام انتخابات سے پہلے ریٹرننگ افسروں سے بلا جواز خطاب کیا تو الیکشن کمیشن اوراس کے سربراہ نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔

صوبہ سندھ میں انتخابی عمل کے دوران جاگیر دارانہ پس منظر کی حامل پیپلز پارٹی کی وحیدہ شاہ نامی امیدوار نے انتخابی عملے میں شامل خاتون کی مارپیٹ کی توالیکشن کمیشن نے اس معاملے میں غیر جانبدار رہنے کو ترجیح دی۔ وجہ یہ رہی کہ پیپلز پارٹی کی طرف مبینہ جھکاو رکھنے والے ممبر سندھ اور چیف الیکشن کمیشنر دونوں ہی اس کے حق میں نہ تھے کہ سیاسیوں کو ناراض کیا جائے۔ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد ، والا معاملہ رہا۔ اٹھارہویں ترمیم کا مرحلہ آیا تو الیکشن کمیشن سے پیشگی رائے لی گئی نہ الیکشن کمیشن نے زباں کھولی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے کرائے گئے عام انتخابات کیسے کیسے ہوتے رہے اور اس میں مداخلت کس کس طرح کی جاتی رہی یہ موقع نہیں کی ایک لا متناہی تفصیل چھیڑی جائے ایکشن کمیشن نے اپنے قیام کے پہلے سال 1956 سے لے کر آج 2014 تک توہین عدالت کے ان اختیارات کا ایک مرتبہ بھی استعمال نہیں کیا۔ گویا الیکشن کمیشن کا اسلوب عمل یہی رہا

بھنور سے الجھنے کی ہمت نہیں ہے
چلا جا رہا ہوں کنارے کنا رے

ایک سوال۔۔۔۔۔۔ پاکستان کے اداروں میں جس طرح یہ روش چلی ہے کہ ہر کام کلی مفاہمت اور اتفاق رائے سے کیا جائے کہیں چور اور کتی کو باہم مل جانے کا قانونی اور اخلاقی جواز مہیا کرنے کیلیے تو نہیں تلاش کر لیا گیا ؟

ایک اور سوال ۔۔۔۔۔۔ اگر پاکستان کے صوبے چار سے زائد ہوتے تو کیا الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعداد بھی اسی کے حساب سے ہوتی۔ اگر جواب ہاں میں تو کیا وجہ ہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن کے چیف الیکشن کمشنر سمیت کل تین ارکان ہیں۔ اس کے باوجود تقریبا 81 کروڑ 70 لاکھ ووٹروں کو بھارتی الیکشن کمیشن بہ احسن ڈیل کرتا ہے۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کا حل کیا ہے؟ سب سے پہلے اداروں کو ذاتی اور جماعتی مفادات کے تابع رکھنے کی کوشش کے بجائے حقیقی معنوں میں قومی مقاصد اور ملکی آئین کے تابع کرنے کیلیے سیاسی قائدین کو اپنی نیتوں کی تطہیر کرنا ہو گی۔ اس کے بعد یہ کہ الیکشن کمیشن کی ورکنگ کو قانونی اور عدالتی ذمہ داری نہیں بلکہ انتظامی ذمہ داری کے طور پر دیکھنا ہو گا ۔ اسے بہترین انتظامی صلاحیتوں کے کھرے اور کھردرے ہی نہیں بلکہ صاف اور ستھرے کردار کے حامل اعلی افسران یا سابق اعلی افسران کے ذمہ کرنے کا سوچنا ہوگا۔ اتفاق سے بھارت میں بھی سابق اعلی افسران کو الیکشن کرانے کیلیے ذمہ داری سونپی جاتی ہے اور یہی اس کے ارکان کے طور پر کام کرتے ہیں۔

اگر یہ ممکن نہ ہو تو یہ ذمہ داری سپریم کورٹ کے سینئیر ترین دو یا تین ججوں کے سپرد کر کے چیف الیکشن کمیشنر کو واقعی چیف بنایا جائے۔ رہا یہ سوال کہ سپریم کورٹ کے اعلی ترین ججوں کے پاس اتنا وقت کہاں سے آئےگا۔ الیکشن کمیشن کی ورکنگ کو جاننے والے خوب آگاہ ہیں کہ زیادہ وقت صرف الیکشن کے دنوں میں چاہیے ہوتا ہے عام دنوں میں نہیں۔ یقینا یہ موقع ہر سال یا ہر روز نہیں ہوتا ۔اس دوران الیکشن کمیشن کے اپنے سٹاف کو اس کی تربیت کے ہر ممکن اہتمام اور دوسرے ملکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھا نے سے بہتر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ بھی سوچا جانا چاہیے کہ ایک ہی دن میں الیکشن کرانا اگر بڑا انتظامی چیلنج ہے تو آس پاس کی مثالیں سبق حاصل کرنے کیلیے اچھی اور مفید ہو سکتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کو آزادانہ کام کا موقع دے کر جمہوریت پر عوام، سیاسی کارکنوں اور سیاسی جماعتوں کا اعتماد بڑھایا جا سکتا ہے۔

بصورت دیگر آج الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کی بات ہو رہی ہے تو کل کلاں پورے نظام کو ہی بدلنے کی آوازیں بلند ہو سکتی ہیں۔ لیکن سب سے پہلے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن کے باوقار ممبران اس بداعتمادی کے ماحول میں خود کو قومی اور جمہوری مفاد کے محافظ ثابت کرتے ہوئے اور اپنی عزت ووقار کو اپنی ترجیح جتاتے ہوئے اس نوٹ کے ساتھ استعفے دے دیں کہ حکومت ، پارلیمنٹ اور عدلیہ ایک آزاد الیکشن کمیشن کو قبول کرنے کیلیے دل بڑا کریں، اسی راستے سے الیکشن کمیشن کے سابق ہونے والے عہدیدار سے بھی فخر سے جی سکیں گے اور جمہوریت کا پودا مفادات کے گملوں سے نکل کر تناور درخت بن سکے گا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.